Islamic Artwork on a Mosque
Hagio Sofia Mosque

Bismillah 3
تحقیقِ بائبل
تحقیقِ بائبل

یعنی
بائبل مقدس کس طرح پیدا ہوئی
اوراس کی خاصیت کیا ہے؟

مارکس ڈاڈس کے اُن لیکچرز پر مبنی ہے جو آپ نے مختلف مقامات پر
کتاب مقدس کی صداقت کے بارے میں دیئے۔
مصنف : مارکس ڈاڈس
مترجم : علامہ طالب الدین
پنجاب رلیجس بک سوسائٹی
انار کلی ۔ لاہور
بار اول
١٩١١ء

Investigation of the Bible
Its Origin and Nature

By

Marcus Dods
(April 11, 1834 - April 26, 1909)

Noor-ul-Huda

 

دیباچہ

شائد کسی اور زمانہ میں بائبل کی نکتہ چینی ایسی باریک بینی سے نہیں کی گئی جیسی کہ زمانہ حال میں کی گئی ہے ۔ مخالفوں نے اس کی اصلیت اور معتبر ی پر طرح طرح کے حملے کئے ہیں ۔ اس کے طریق تدوین (یعنی کسینن آف سکریچر ) کشف۔ ریویلیشن ) اور الہام (انسپریشن ) ہر قسم قسم کے اعتراض اٹھا ئے ہیں۔ اس فوق العادت عنصر کو جو رنگ اعجاز کی صورت میں تمام کتاب میں چمک رہا ہے ۔ بازیچۂ اطفال قرار دیا ہے ۔ ان اہم اور مشکل مسائل کی توضیع اور حقائق کشف و الہام کی تصریح نامور ڈاکٹر اڈز نے بڑی خوبی اور خوش اسلوبی سے کی ہے ۔ اوران مسیحی صداقتوں کو جنہیں معترضوں نے اپنے حملوں کا آماجگاہ بنا رکھا ہے ایسے طور پرثابت کیا ہے کہ اہل فکر کو بہت سی باتوں میں ان کے ساتھ اتفاق کرنے میں کسی طرح کا مضائقہ نہیں ہو سکتا ۔ بعض بعض امور میں ان کے خیالات البتہ نہایت آزادانہ طرز پر پیش کئے گئے ہیں۔ تو بھی بائبل کی سچائی ۔ اصلیت اور معتبری ۔ اس کے کشف اور الہام کی حقیقت۔ اس کی اعجازی صداقت کو لائق مصنف نے نہایت مدلل صورت میں پیش کیا ہے ۔ امید ہے کہ ناظرین اس کتاب کے مطالعہ سے بہت فائدہ اٹھائیں گے۔

طالب الدین ۔ بی ۔ اے
پاسٹر ۔ نولکھا ۔ چرچ ۔ لاہور

بائبل کس طرح پیدا ہوئی اور اس کی خاصیت کیا ہے ۔

پہلا باب
بائبل اور دیگر متبرک کتابیں

محمد صاحب نے قرآن میں مسیحیوں کو اہل کتاب کہا ہے ۔ مگر یہ خطاب ان کے ساتھ خاص نہیں ہے ۔ کیو نکہ دنیا میں کئی قومیں ایسی گزری ہیں جو اہل کتاب ہونے کا دعوےٰ کرتی تھیں۔ اور اب بھی کئی موجود ہیں جو یہی دعویٰ کرتی ہیں ۔ محمد صاحب کے نمودار ہونے سے پیشتر کئی مذاہب ہستی کی سٹیج پر سے نا بو د ہو چکے تھے ۔ مثلاً اہل مصر اور اہل بابل کے مذاہب مفقود ہو گئے تھے۔ مگر وہ سب اپنے اپنے وقت پر الہا می نو شتوں کے رکھنے کا دعوےٰ کیا کرتے تھے ۔ اسی طرح روز استر ۔ بدھ اور کنفوشس کے پیرو۔ اور نیز اہل ہنود اور اہل اسلام اہل کتاب ہونے کا عودے ٰ کرتے ہیں ۔

لیکن یہ تعجب کی بات ہے ۔کہ زمانہ سلف میں جو اقنوم تالیف و تصیف کے فن میں گوے سبقت لے گئی تھیں۔ اور جن کے علم و ادب کی شہرت تمام دنیا میں ہو رہی تھی وہی ایسی قومیں تھیں جنہوں نے اہل کتاب ہونے کا دعوےٰ نہی ں کیا۔ تھا ۔ مثلاً اہل یو نا ن کو ئی لکھی ہوئی الہامی کتاب نہیں رکھتے تھے وہ غائب کی باتیں یا تو خاص خاص مندروں میں جا کر غائب واں پجاریوں کے وسیلے دریافت کیا رتے تھے ۔یا ان کا پتہ مختلف نشانوں اور شگوفوں سے لگایا کرتے تھے ۔ وہ روایتیں جو ان کی زندگیوں کو موثر کیا کرتے تھے وہ ہومر جیسے شاعروں یا افلاطون جیسے فلاسفروں کی کتابوں میں قلمبند تھے ۔ کچھ ایسا ہی حال اہل روم کا بھی تھا ۔ وہ بھی کسی الہامی کتاب کے رکھنے کا دعوےٰ نہیں کیا کرتے تھے مگر جب رومی قوم کے انداز مذہبی خیالات نے پیدا ہو کر یہ تقاضا شروع کیا کہ دینی ضروریات کو پو را کرنا چاہئے۔ تو الہامی کتاب کی جگہ ستوئیقی فلسفہ اور منادی نے لے لی ۔ ہمیں یہ بات ماننی پڑتی ہے ۔ کہ گو یو نا نی شعرا اور رومی فلاسفر الہام کا دعویٰ نہیں کرتے تھے ۔ تا ہم وہ کچھ لکھ گئے جو آج یورپ کی مذہبی زندگی کا ایک بڑا جزوسمجھا جا تا ہے ۔ ان کی کتابوں میں اخلاقی معاملات کے متعلق اور نیز اس رشتہ کی نسبت جو انسان اور اندیکھی شیزوں کے درمیان پا یا جا تا ہے ۔ بہت ایسی تعلیمات مو جو د ہ ہیں جو اب بھی بڑے ذوق و شوق اور دلچسپی کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔ مگر ان کوالہامی نہیں کہہ سکتے ۔

لیکن مشرقی مذاہب کو مقدس نوشوں کا مخزن سمجھنا چاہئے چند سال کا عرصہ ہوا کہ قرآن کو چھوڑ کر باقی سب متبرک کتابیں مردہ یا نا معلوم زبانوں کے کواڑوں کے اندرقید تھیں۔ژند ۔ سنسکرت۔ سنہالی اور چینی زبانوں سے لوگ بالکل ناآشنا تھے۔ لیکن اس زمانہ میں ان کتابوں کے مضامین سے واقف ہو نا آسان ہو گیا ہے ۔ چنانچہ پروفیسر سیکن میولر کی جانفشانی اور عر قریزی کے سبب سے آج کل انگریزی زبان میں کم از کم پچاس کتابیں ایسی تحریر ہو چکی ہیں ۔ جو مشرق کی مقدس کتابوں پر روشنی ڈالتی ہیں ۔ اور جن کے وسیلے سے ہم ان کا مطالعہ باآسانی کر سکتے ہیں ۔ اب یہ دیکھنے میں آتا ہے ۔ کہ ان کتابوں کو پڑھ کر بہت لوگ یہ کہنے لگ جاتے ہیں ۔ کہ ان میں اور بائبل میں کچھ فرق ہی نہیں ہے ۔ یوں کہیں کہ جو باتیں دین اور اخلاق کے متعلق ان کتابوں میں درج ہیں ان سے بڑھ کر بائبل کچھ نہیں سکھاتی ہے ۔ اس غلط خیال کی تصیح اور اصلاح کے لئے ان الفاظ پر غور کرنا چاہئے جو پروفیسر میکس میولر کے قلم سے نکلے ہیں اور جو اس دیباچہ میں پا ئے جا تے ہیں ۔ جو پروفیسر موصوف نے ان کتابوں کے سلسلے کے شروع میں چسپاں کیا ہے ۔ وہ کہتا ہے ۔ ’’میں اقرار کرتا ہوں کہ سالہاسال تک یہ بات میرے لئے ایک معما سا تھی اور بہت درجہ تک اب بھی ہے کہ یہ کس طرح ہوا؟ کہ مشرق کی متبرک کتابوں میں جہاں تک طرف بہت سی باتیں ایسی پائی جا تی ہیں ۔ جو بالکل تا زہ ۔ نیچرل ۔ سا دی خوبصورت اور راست معلوم ہو تی ہیں ۔ وہاں ان کے لمقابل ایسی باتیں بھی مو جو د ہیں جو نہ صرف سراسر مہمل ۔ مصنوعی اور پر حماقت ہی ہیں۔ بلکہ نہایت بھیانک اور نفرت انگیز بھی ہیں۔ ایک جگہ برہمناؤں کے بارے میں وہ یوں رقم طراز ہے ’’کتابیں اس لائق ہیں کہ آدمی ان کا مطالعہ اسی طرح کرے جس طرح حکیم کسی مخبوط الحواس کی بیہودہ گوئی اور دیوانوں کی بکواس کا مطالعہ کیا کرتا ہے ۔ اہل فکر ان کتابوں کو ایک مرجھائی ہوئی حشمت کا کھنڈر تصور کرتے ہیں ۔ یا ایک قسم کی پلند پروازی کی یادگار سمجھتے ہیں ۔ پر جب ہم ان کتابوں کو (برہمناؤں کو ) کو اپنی زبان (یعنی انگریزی ) میں ترجمہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھ کر حیرت آتی ہے ۔ کہ انسان نے اپنی زبان اور اپنے دماغ کو ایسی باتوں کے تحریر کرنے میں کس طرح صرف کیا۔ ‘‘

واقعی اور کسی کتاب کے مطالعہ سے پڑھنے والا اس قدر نہیں تھکتا جس قدر ان متبرک کتابوں کو پڑھتے پڑھتے تھک جا تا ہے ۔ کسی متبرک کتاب کو اس اصل زبان میں تھوڑی دیر کے لئے طوطے کی طرح رٹنا اور اسے باعث ثواب تصور کرنا اور بات ہے ۔ مگر اس کے ترجمے کو اپنے اپنے سامنے رکھنا اور اسے ایسا دلچسپ پا نا کہ اس کی تلاوت سے جی کبھی نہ اکتائے اور بات ہے ۔ اہل تحقیق بڑی برداشت کے ساتھ ان کتابوں کے ترجموں کو پڑھتے ہیں ۔ اور اس غرض سے کہ ان لوگوں کے دماغی قوےٰ کا موازنہ کریں جو یہ مانتے ہیں کہ ان ہی کتابوں میں اعلیٰ درجے کی تعلیم پا ئی جا تی ہے لیکن یہ ما نی ہو ئی بات ہے کہ جو لوگ مسیحی مذہب کے نوشتوں سے واقف ہیں اور زمانہ حال کے خیالات سے مس رکھتے ہیں وہ ان کتابوں سے کسی طرح کا مذہبی جوش یا فا ئد ہ بخش علم حاصل نہیں کرتے ہیں ۔ باوجود اس کے ہمیں یہ کہنا بلکہ شکرگزاری کے ساتھ یہ اقرار کرنا چاہیے کہ ان کتابوں میں بہت سی عمدہ اور اعلیٰ درجہ کی اخلاقی باتیں پا ئی جا تی ہیں ۔ بالخصوص کنفوشس اور بدھ کی کتابوں میں ۔ گو ہم ان کتابوں کو متبرک محض آدابِ تہذیب کے سبب سے کہتے ہیں کیو نکہ داراصل وہی کتاب پاک یا مقدس یا الہامی کہلانے کا استحقاق رکھتی ہے جو خدا اور روحانی حقائق کی قائل ہے ۔ مگر کنفوشس اور بدھ کی کتابیں ذاتِ باری کے متعلق خاموش ہیں ۔ کنفوشس تو اگناستک تھا ۔ چنانچہ اس کا مقصد یہ تھا ’’ہر ایک شخص کا حق البعاد کے متعلق اپنے فرائض ادا کرنے میں نہایت سرگرمی سے کام لینا ہے ۔ اور روحانی ہستیوں سے کچھ واسطہ نہیں رکھنا چاہئے ۔ گو ان کی تعظیم کرنا مناسب ہے ‘‘۔ یہ الفاظ اسی کے ہیں اور اس کی اصل حالت نقشہ نہیں پیش کرتے ہیں ۔ وہ نہ تو کھلے اور واضح الفاظ میں روحانی دنیا کا اقرار کرتا ہے۔ اور نہ صاف طور پر اس کا انکار ہی کرتا ہے ۔ معلوم ہو تا ہے کہ اس کا خیال یہ تھا کہ انسان کو ان باتوں سے جو اس زمین سے علاقہ نہیں رکھتی ہیں کچھ سروکار نہیں رکھنا چاہئے۔ پس کنفوشس کی کتابوں میں مذہب نہیں پا یا جا تا ہے کیونکہ مذہب جیسا ہم ہم اوپر اشارہ کر آئے ہیں وہ راہ ہے جو ہمیں وہاں تک پہنچاتی ہیں۔ لیکن مذکروہ بالا کتابوں میں خدا کے متعلق اور روحانی صداقتوں کے با رے میں ایک قسم کی خاموشی یاانکار نظر آتا ہے ۔ تا ہم ان میں عجیب قسم کے خالص اخلاق کی تعلیم ملتی ہے ۔ جب کنفوشس کے شاگردوں میں سے ایک شاگرد نے مختلف اصولوں اور قاعدوں سے تنگ آ کر اس سے دویافت کیا ’’کیا کوئی مختصر اصول یاقاعدہ ایسا بھی ہے جو تمام زندگی کے فرائض پر حاوی ہو کرعمر بھر کے لئے دستور العمل ہو سکے ‘‘؟ تو اس نے اسے یہ جواب دیا ۔ ’’کیا باہمی سلوک وہ بات نہیں ہے جو تم جاننا چاہتے ہو ؟ جو کچھ تم نہیں چاہتے کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں تم ان کے ساتھ نہ کرو‘‘۔ اب یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ بات اتفاق سے اس کے یہ اسے نگل گئی ۔ کیو نکہ یہ وہ خیال ہے جو اس کی تمام تعلیم میں ایک سرے سے دوسر ے سرے تک نظر آتا ہے ۔ اسی خیال کو اس اس نے کچھ عرصہ کے بعد اجلاس قابل یا وجملہ میں اداکیا جس سے بڑھ کر کوئی پر مطلب جملہ مغربی فلسفہ نے پیش نہیں کیا۔ ’’(اوروں کو فائدہ پہنچاناہی انسانیت ہے )‘‘ اس کے ایک ہم عصر فلاسفر نے اسی خیال کو لیا اور اس پرایک مطول رسالہ علم الاخلاق پر رقم کیا اور اس میں اس بات کے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ایک عالمگیر اور باہمی محبت تمام محامدو محاسن کی جڑ اور ہر طرح کی دی کا علاج ہے ۔

اسی طرح بدھ کی کتابوں میں بھی بہت عمدہ اخلاقی باتیں ملتی ہیں ۔ مثلاً جس طرح اس نے نیک چلنی اور محبت کو ظاہری رسمیات پر ترجیح دی ہے ویسی صفائی اور زور اور کسی شخص نے ترجیح نہیں دی ہے ۔ جس طرح اس نے خودرائی خود بینی ستائی اور خود پسندی کی بیخ کنی اپنے شاگردوں سے طلب کی ہے اس طرح رہی کسی اور نے کی ہے ۔ مثلاً وہ کہتا ہے ’’ہر شخص کو بدی پر نیکی سے غالب ہو نا چاہئے لالچی آدمی پر فیاضی سے غلبہ پاؤ ۔ جھوٹے کو سچائی سے مغلوب کرو۔ کیو نکہ نفرت کا خاتمہ نفرت سے نہیں ہو تا ۔ نفرت محبت سے معدوم ہوتی ہے ۔ ‘‘ وہاں بدھ کے نوشتوں میں سے ہم بآسانی ایسے اصول و قواعد جمع کر سکتے ہیں جو انسانی زندگی پر ایک دیر پا اثر پیدا کرتے ہیں ۔ ہم ان سے آداب اخلاق یا محاسن اخلاق کا ایک ایسا مجموعہ مرتب کر سکتے ہیں ۔ جو راستبازی کی راہ دکھانے میں عمدہ ہادی کا کا م دیتا ہے ۔ مگر باایں ہمہ بدھ مت نے بہت ہی کم درجہ تک سو سائٹی کو پاک و صاف کیا۔

بدھ مت کی نا کا می کی وجہ غالبا یہ ہے کہ وہ ہستی خدا کا منکر ہے اور آئندہ زندگی کا بھی انکار کرتا ہے ۔ پس بدھ مذہب ناامیدی کا مذہب ہے اور اس کی ناامیدی کی جڑ اس کا وہریہ پن ہے۔بدھ انسان کی زندگی کو بالکل خالی اور غم سے معمور اور خرابی کا مضفہ تصور کرتا تھا ۔ پس اس کے نزدیک نجات کا اصل طریق یہ تھا کہ انسان زندگی سے علیحدہ ہو جا ئے ۔ ہر طرح کی خواہش کو مغلوب کرنا گو یا زندگی پر غالب آنا تھا ۔ اور سب سے کامل فتح یہ سمجھی گئی کہ انسان نردان حاصل کرے یعنی کو پہنچ جائے جہاں نہ کسی طرح کا جذبہ محسوس ہو اور نہ زندگی یا کسی قسم کی حرکت ہے۔ اب بدھ اس نیستی کا کبھی قائل نہ ہو تا اگر و ہ خدا کی ہستی اور حیات پر ایمان لا تا ۔ اس کے اندر راستبازی کے اشتیاق سے ہزار ہا درجہ گہرا شوق خدا کے وصل کا پا یا جا تا ہے۔ پس خدا نہ ہو اور نہ وہ امید ہو جو خدا کی حضوری اور صحبت سے حاصل ہو تی ہے ۔ قوم (تہذیب اخلاق) تنہا کبھی بنی آدم کے دلوں میں قائم نہیں رہ سکتی۔ پس بدھ مذہب کو صفحات تاریخ پر نہایت جلی حروف میں ہمارے لئے یہی نصیحت رقم کرتا ہے کہ مذہب کے بغیر نیک چلنی اور نہ را ستی قائم رہ سکتی ہے ۔

واضح ہو کہ اگر ہم صرف یہی مانتے ہیں کہ بائبل اور دیگر متبرک کتابوں میں جو فرق پا یا جا تا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ بائبل کی اخلاقی تعلیم ان کتابوں کی اخلاقی تعلیم سے فعل ہے اور بس۔ تو ہم یاد رکھیں کہ جب ہم پر یہ بات ظاہر ہو جا ئے گی ۔ کہ دوسری کتابیں بھی بہت سے اعلیٰ اخلاقی اصول پائے جا تے ہیں تو ہم نہایت مغموم و ما یوس ہوں گے۔اور واقعی بہت لوگوں کا بعینہ یہی حال ہوتا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ یہ دیکھ کر مایوس ہوں ۔ کہ جیسا ہمارا خیال تھا اس سے کہیں زیادہ بنی آدم نے راستی اور پاکیزگی جیسی خوبی کو دیکھا اور محسوس کیا ہے ۔ اور الٹا جل مرتے ہیں۔ اگر انسان اپنے جسم میں اناٹومی (تشریح ) سے واقف ہو کر اس کی صحت اور شفا کے علاج کی صورتیں ریز کر سکتا ہے ۔ تو وہ بہت درجہ تک یہ بھی کر سکتا ہے ۔ کہ اپنی روحانی کمزوریوں کا پتہ لگائے ۔اپنی روحانی ضروریات کو محسوس کرے اور ان کی مرافعت کی تجویزیں سوچے۔ پس اگر ہم کسی کتاب میں جو متبرک ہو نے کا دعوےٰ کرتی ہے ۔ اچھی اور عمدہ اخلاقی باتیں دیکھیں تو ہم یہ نہ سمجھیں کہ ان کی اچھائی اور عمدگی کو مان لینے سے بائبل کی فضلیت جاتی رہے گی ۔ نہیں ۔ اس سے بائبل کی فضلیت دور نہیں ہو گی۔ کیو نکہ بائبل کی فضلیت محض اخلاقی تعلیم کی خوبی پر مبنی نہیں ہے گو اس میں شک نہیں کہ بائبل کی اخلاقی تعلیم کامل اور بے نقص ہے ۔ ہم اس بات پر بحث نہ کریں کیو نکہ اس بات پر بحث کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی چھوٹی سی بات کے فتح کرنے کے واسطے اپنے سارے سا ما ن جنگ کو صرف کرنا ہے ۔

بائبل کی فضلیت اس بات میں ہے ۔ کہ ہم اس میں خدا کی محبت اور راستی کا مکاشفہ ایک شخص میں پاتے ہیں ۔ اور نیز اس کے وسیلے سے خدا کا عرفان ہم کو نصیب ہو تا ہے ۔ اور وہ رشتے جو الجھے ہوئے تھے اس علم کے وسیلے جو ہم ذات باری کے متعلق اس کتاب کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔ سلجھ جاتے ہیں ۔ یعنی خدا ہمارا باپ اور انسان ہمارا بھائی بن جا تا ہے ۔ خدا کی ربونیت کا رشتہ اور انسان کی اخوت کا رشتہ پھر بحال ہو جا تا ہے ۔ یہ باتیں ہیں جن کے سبب سے بائبل اور کتابو ں پر فضلیت رکھتی ہے ۔ اور جہاں پر باتیں مو جو د رہوں گی وہاں چال وچلن اور اخلاق کی درستی آپ ہی آپ پیدا ہو جا ئے گی ۔

یہاں تک تو ہم نے صرف ان کتابوں کا ذکر کیا ہے ۔ جو محض انسان کے اخلاق اور چال چلن کی اصلاح کا بیڑا اٹھاتی ہیں ۔ مگر ان کے علاوہ اور کتابیں بھی ہیں جو اس سے زیادہ کا دعوےٰ کرتی ہیں ۔ یعنی انہی بگڑے ہوئے رشتوں کو جن کی طرف اوپر اشارہ ہو اصلاح پر لا نے کا دم بھرتی ہیں۔ مگر عام طور پر ان میں سے کئی ایک کی نسبت یہ کہا جا سکتا ہے ۔ کہ ان میں یہ قباحت پا ئی جا تی ہے ۔ کہ وہ اس وقت تحریر کی گئیں۔ جب لوگ ظاہری رسوم کو مذہب کا اعلیٰ حصہ تصور کرتے تھے ۔ پس جس مذہب کا نقشہ ان کتابوں میں پا یا جا تا ہے ۔ وہ ان لوگوں کے لئے جو مسیحی تعلیم کے وسیلے مذہب کو باطنی اور روحانی حقیقت سمجھنے لگ گئے ہیں ۔ دلکش پسندیدہ نہیں ٹھہر سکتا ۔ ایک ایک قدم پر ایسی ریتیں ایسی رسمیں مشاہدے سے گزرتی ہیں ۔ کہ نا گفتہ بہ ۔ خالص لفظوں کے دہرانے میں ایسی تاثیر یا جا دو تصور کیا جا تا ہے ۔ جسے کوئی روشن ضمیر قبول نہیں کر سکتا ۔ اور اسی قسم کی اور بہت سی ناقص اور نا مرغوب باتیں بھی معائنہ سے گزرتی ہیں جن کے سبب سے یہ کتابیں جو ریت و رسم پر زور دیتی ہیں ۔ روحانی مزاج اشخاص پر کچھ اثر پیدا نہیں کر سکتی ہیں۔

قرآن سے اچھی باتوں کی توقع کی جا سکتی تھی کوی نکہ وہ تو نئے عہد نا مے سے قریباً چھ سو سال بعد تحریر ہوا تھا ۔ مگر اس میں بھی ہمارے لئے چنداں دلچسپی نہیں پا ئی جا تی ۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اول تو وہ فقط ایک ہی آدمی کی تصنیف ہے ۔ اور پھر وہ ایک آدمی بھی ایسا آدمی تھا ۔ جو صرف ایک ہی بات پر زور دیا کرتا تھا ۔ اور وہ بات یہ تھی کہ خدا دنیا کا حاکم ہے ۔ اور ہمیں اس کی تابعداری کرنا چاہئے۔ اب کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ تعلیم درست نہیں ہے یا کہ اس پر زور دینا درست نہیں ہے ۔ بات غور طلب یہ ہے کہ بائبل میں خدا کی محبت ۔ عدل ۔ پاکیزگی اور دیگر صفات کی کامل تصویر سامنے آتی ہے۔ ماسوائے اس کے قرآن میں جا بجا کلام کی نرمی کی بجائے ایک قسم کی سختی پائی جا تی ہے ۔ قرآنی آیات پر جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو یہ دھمکی دی جا تی ہے ۔ یقیناًوہ جو ہماری آیتوں کو نہیں مانتے ہم انہیں آگ سے جلائیں گے ۔ اور جب ان کے چمڑے خوب جل چکیں گے تو ہم نئے چمڑے پیدا کردیں گے تا کہ وہ عذاب کا مزہ چکھیں ۔ اور پھر یہ بھی ہم دیکھتے ہیں ۔ کہ آنحضرت نے آخر کار ایسے مکاشفے تیار کرنا شروع کر دئیے جو آپ کے منشا کے مطابق اور آپ کی اغراض کی انجام دہی کے لئے خوب موزوں تھے۔

مگر قرآن میں سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ وہ ایک قسم کا رسمی اور شرعی مذہب پیش کرتا ہے ۔ اس میں خدا کی محبت اور فضل کا وہ کشف نظر نہیں آتا جو نئے عہد نا مہ کے صحفوں کو اپنی تجلی سے روشن کر رہا ہے ۔ برعکس اس کے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قرآن رسمی یا شرعی فرائض پیش کرتا ہے ۔ اور ان کی تکمیل کے لئے دھمکیوں اور وعدوں سے کا م لیتا ہے ۔ واضح ہو کہ ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ دھمکی یا وعدہ کے لئے جوکلام الہٰی میں جگہ ہی نہیں ہے ۔ اور نہ ہمارا یہ مطلب نہیں ہے ۔ کہ فرائض کا اظہار الہامی کلام کے شا یا ں نہیں ہو تا ۔ بائبل میں یہ سب باتیں کم و بیش پا ئی جا تی ہے تاہم اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ کہ جب ہم بائبل کو شروع سے پڑھتے ہوئے خاتمہ کی طرف بڑھتے ہیں ۔ تو یہ بات مشاہدہ سے گزرتی ہے کہ جس قدر الہام بندوں کی حالت اور ضرورت کے مطابق ترقی کرتا جا تا ہے اسی قدر کلام کے حرف پر زور کم اور روح پر زیادہ دیا جا تا ہے۔ ظاہری اور رسمی شریعت کے عوض روحانیت زیادہ واضح اور مکمل ہو تی جا تی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں اسی خیال کو یوں ادا کر سکتے ہیں ۔ کہ قرآن زیادہ تر چال و چلن پر زور دیتا ہے ۔ خصلت یاسیرت پر اتنا زور نہیں دیتا ۔ انجیل برعکس اس کے چل و چلن کو سچی سیرت کا پھل جتنا ان اصولوں اور صداقتوں کو پیش کرتی ہے ۔ جن کے وسیلے گرے ہوئے انسان کو نئے پیدائش اور نئی زندگی حاصل ہو تی ہے ۔ اور ہر منصب مزاج شخص کو یہ بات تسلیم کرنی پڑے گی ۔ کہ جو مذہب ہماری طبیعت اور مزاج کو بدلنے کی تجویز پیش نہیں کرتا اور ایسی روح ہمرے اندر پھونکنے کا دم نہیں بھرتا جو اپنے آپ کو راستبازی کی صورت میں خود بخود ظاہر کرے وہ کامل مزہب نہیں ہے ۔ پس ترقی تہذیب کی کسی خاص منزل پر محمدی مذہب نے بنی آدم کو مدد دی ہو تو ہو اور اگر ویسی ہی منزل پھر کسی جگہ سامنے آئے تو شائد وہی مدد پھر دے جو پہلے سی تھی۔ مگر ان لوگوں کے ئے جو مسیحی مذہب کو سمجھتے ہیں ۔ محمدی مذہب میں کسی طرح کی مدد نہیں پا ئی جاتی بخبر اس کے کہ وہ اعلیٰ منزل کو چھوڑ کر کر دین کی ابجد کو پھر شروع کریں ۔ پس محمدی مذہب مسیحی مذہب کے سامنے دو ہزار برس سے زیادہ پرانا معلوم ہوتا ہے ۔

جو فرق بائبل اور دیگر مقدس کتابوں میں پا یا جا تا ہے ۔ وہ اس وقت زیادہ سمجھ میں آ تا ہے۔ جب ہم بائبل کی اصل خاصیت اور ماہیت پر غور کرتے ہیں ۔ اور اسی بات کی طرف ہم اس وقت متوجہ ہوں گے ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جب ہم بائبل کو کھول کی سلسلہ تحقیق شروع کرتے ہیں ۔ تو کئی ابتدائی سوالات برپا ہوتے ہیں جن کا جواب دینا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ اس موقع پر ہم ان سوالات پر گہری نظر نہیں ڈال سکتے تا ہم ایک دو کی طرف اشارہ کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔ اول یہ سوال کیا جا سکتا ہے ۔ اور ان لوگوں کی طرف سے جو مذہب کی روحانیت کے اس قدر قائم ہیں کہ حد اعتدال سے تجاویز کر جا تے ہیں یہ سوال کیا بھی جا تا ہے ۔ کہ کتب ربانی کا ایک متبرک اور مستند لکھا ہوا۔ مجموعہ ایک ایسے مذہب کا جو سراسر روحانی ہو جائز اور ضروری جزو سمجھا جا سکتا ہے ؟ پرانے عہد نامہ کے لئے ایک لکھے ہوئے مجموعہ کا ہو نا لازمی امر تھا۔ مگر نئے عہد کے درمیانی نے کوئی ایسا حکم یا اشارہ نہیں کیا جس سے ظاہر ہو کہ نئے عہد کی شرائط کا کسی تحریری دستاویز میں قلم بند کیا جا نا ضروری امر ہے ۔ پس یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ زیبا نہیں کہ روحانی مذہب ایک لکھے ہوئے ظاہری قانون کا پابند ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جو کوئیکر یا سو سائٹی فرنڈزکے نام سے مشہور ہیں یہ کہتے ہیں کہ چو نکہ نوشتے خود چشمہ نہیں ہیں بلکہ چشمے محض ایک مظہر ہیں لہذاواجب نہیں کہ ہم صداقت اور عرفان کی سب سے اعلیٰ بنا تصور کریں اور نہ پو رے پورے طور پر ہم اسے ایمان اور چلن کا قانون قرار دے سکتے ہیں ‘‘۔ مطلب اس کایہ ہے کہ نوشتے دوسرے درجہ کا قانون ہیں یا یوں کہیں کہ روح سے دوسرے درجہ پر ہیں۔ اسی طرح روم کی کلیسیا بھی اول جگہ اس روح کو دیتی ہے ۔ جو اس کے وسیلے سے بولتی ہے ۔ جو اس زمین پر مسیح کا نا ئب قرار دیا جا تا ہے ۔ یعنی پوپ کے وسیلے سے ۔ واضح ہو کہ سو سائٹی اور فرنڈز بھی اور روم کی کلیسیا بھی اس خصوص میں اس صدا کی ایک گونج ے جو ہر مسیحی دل سے بر آمد ہوتی ہے ۔ اور وہ یہ کہ کلیسیا کو مجمتہً اور ہر شخص کو فرداً فرداً زندہ خدا وند کی راہنمائی سے بہرہ ور ہو نا چاہئے لہذا روشنی اور جوش کے لئے فقط پہلی صدی کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے ۔ اور اس میں شک نہیں کہ اگر بائبل اس صدا کو جو زندہ خدا کی راہنمائی کے لئے ہمارے دل سے پیدا ہو تی ہے ۔ خاموش کرتی ہے ۔ اور ہمیں مسیح کی روح کی مو جو د ہ اور پر اثر شخصیت پر تکیہ کرنے سے ہٹاتی اور محض لکھے ہوئے حرف پر بھروسہ کرنے کی ترغیب دیتی ہے ۔ تو وہ ہمیں بہت سا نقصان پہنچاتی ہے۔ مگر وہ ایسا نہیں کرتی ہے ۔

ہم اوپر عرض کر آئے کہ اگر بائبل کا یہ مقتضےٰ ہے کہ پڑھنے والا اس ہدایت اور رہنمائی کے متعلق جو مسیح کی زندہ روح کی مو جو د ہ تاثیروں کے وسیلے نصیب ہو تی ہے سست اعتقاد ہو جا ئے اور محض بائبل کے حرف پر تکیہ کرے تو اس سے بہت بھاری روحانی نقصان ہو گا ۔ مگر باوجود اس اعتقاد کے کہ خدا اپنی روح کے وسیلے اپنے بندوں کی ہدایت کرتا ہے ۔ خدا کے لکھے ہوئے کلام اور اس کی زندہ روح کے کام میں کسی طرح کی نامطابقت یا مناسبت نہیں پائی جا تی ہے ۔ اناجیل میں ہمیشہ کے لئے ایک مرتبہ مسیح کی تصویر کھینچی گئی ہے ۔ اور اسی طرح رسولوں کے خطوط میں ہمیشہ کے لئے ایک مرتبہ اس رشتہ کا نقشہ جو انسان کی روح مسیح کے ساتھ رکھتی ہے۔ اتا را گیا ہے ۔ اور یہی وہ وسائل ہیں جنہیں روح پاک کام میں لا تی اور جن کی وساطت سے بنی آدم کو مسیح کی رفاقت سے مشرف کرتی اور اس روشنی سے بھر دیتی ہے جوہمیشہ اس کے سچے علم کے ساتھ آتی ہے ۔ خد ا کی زندہ رو مسیح کی روح ہے ۔

لیکن جب یہ سوال برپا ہو تا ہے کہ بائبل کیا ہے تو اس کے ساتھ اس مسلے کی تحقیق کی ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے ۔ کہ بائبل کس طرح پیدا ہوئی ؟ یا یوں کہو کہ کس طرح اس نے مو جو د ہ صورت اختیار کی ؟ مختلف کتابیں جو اس میں درج ہیں ۔ کیو نکر لکھی گئیں؟

جب ہم اس تحقیق کی سلسلہ جبنانی شروع کرتے ہیں ۔ تو پہلی بات جو ہماری نظر سے گزرتی ہے ۔ یہ ہے کہ اس کتاب میں فقط ایک ہی کتاب نہیں ہے ۔ بلکہ کئی کتابیں شامل ہیں ۔ ۳۹ پرانے عہد نا مہ میں اور ۲۷ نئے عہدنا مہ میں پا ئی جا تی ہیں ۔ لفظ بائبل یونا نی لفظ ہے ۔ جو پہلے یو نا نی سے لاطینی میں اور پھر لاطینی سے انگریزی میں استعمال ہو نے لگا۔ اس کی لا طینی صورت ببلیا تھی ۔ جس کا تلفظ ہی رہا جو یو نا نی لفظ کا تھا مگر لفظ خود لاطینی حروف کے پیرایہ میں نظر آنے لگا ۔ یو نا نی صورت )۔۔۔۔( تھی ۔ جو جمع کا صیغہ ہے ۔ مگر واحد کے طور پر بھی استعمال کیا جا تا تھا ۔ اسی لئے انگریزی زبان میں واحد معنوں کے ساتھ داخل ہوا۔ یو نا نی لفظ (۔۔۔۔۔)(بمعنی کتاب) کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جس چیز پر ان دنوں کتابیں لکھی جا تی تھیں۔ وہ (۔۔۔۔) کہلا تی تھی۔ یہ مصری سر کنڈا تھا ۔ جس سے ابتدا میں کاغذ بنا یا گیا ۔ اسی لئے قدیم زمانہ میںیہودی اپنی متبرک اور مقدس کتابوں کو (۔۔۔) کہنے لگ گئے ۔ شروع شروع میں تو کوئی نہ کوئی کلمہ صفت برائے تحضیص اس لفظ کے ساتھ استعمال کیا جا تا تھا ۔ مثلاً ان کتابوں کو ’’مقدس کتابیں کہا کرتے تھے ۔ پھر ان کو وزڈم آف سرخ کے دیباچہ میں ’’تورات اور انبیا اور دیگر موروثی کتابیں ‘‘کہا ہے ۔ اس سارے بیان سے ظاہر ہو تا ہے ۔ کہ صیغہ جمع کے استعمال نے اس خیال کو مدت تک تروتازہ رکھا کہ اس مجموعہ میں محض ایک ہی کتاب نہیں پا ئی جا تی ہے ۔ بلکہ ایک سے زیادہ کتابیں درج ہیں ۔ لیکن کچھ عرصہ بعد وہ تمام صفتی کلمات جو اس مجموعہ کتب کے ساتھ استعمال کئے جا تے ہیں ۔ ساقط ہو گئے ۔ اور لفظ بائبل بصورت واحد استعمال ہو نے لگا ۔ تاہم قدیم آبا اور متوسطین نے اس خیال کو کبھی نظر انداز نہیں کیا کہ اس کتاب میں بہت سی کتابیں پائی جاتی ہیں ۔ چنانچہ وہ اکثر سے ’’الہٰی کتب خا نہ ‘‘ کہا کرتے تھے ۔

اب سوال برپا ہو تا ہے کہ وہ کونسا رشتہ ہے جو ان مختلف کتابوں کو ایک کتاب بنا تا ہے وہ کونسی صفت ہے جسے ہم وہ ما بہ الامیتاز قرار دیں جس کے سبب سے یہ سا ری کتابیں دیگر سب کتابوں سے تمیز کی جائیں اور جس کے سبب سے وہ آپس میں ایک ہی کتاب کے متفرق اجزا سمجھی جائیں ۔ گو یہ کتابیں وقت تصنیف اور طرز عبادت اورمصنفوں کے خواص و صفات کے اعتبار سے ایک دوسری سے بہت فرق رکھتی ہیں ۔ تا ہم یہ ضروری امر معلوم ہو تا ہے ۔ کہ کوئی نہ کوئی عنصر ان کے درمیان ایسا عام اور مشترک ہوجو تمام فرقوں پر غالب ہو اور جس کی وجہ سے یہ کتابیں ایک ہی کتاب سمجھی جائیں ۔ اس مجموعہ میں ہمیں وہ دھندلی سی رائیتں ملتی ہیں ۔ جو تواریخی زمانہ کے ماقبل زمانوں سے علاقہ رکھتی ہیں۔ وہ تاریخی باتیں نظر سے گزرتی ہیں ۔ جو ایسے نوشتوں پر مبنی تصور کی جا تی ہیں ۔ جن کا سراغ اب صحفہ ہستی پر کہیں نہیں ملتا ۔ وہ نسب نا مہ مشاہدے میں آتے ہیں ۔ جو ما بعد کی پشتوں کو نسل آدم کے قدیم آ با کے ساتھ مربوط کرنے ک بیڑا اٹھاتے ہیں ۔ ایسے سوانح عمری معائنہ سے گزرتے ہیں جن کے سبب سے وہ بہادر جن کی زندگیوں میں یہ سوانح سر زد ہو ئے ایسے غیر فانی ہو گئے ہیں ۔ کہ پیتل اور پتھر کی یا د گا روں کو وہ بقا حاصل نہیں جو انہیں حاصل ہے ۔ ا س مجموعہ میں فتح اور محبت کی غزلیں اور ان لوگوں کے نوحے جو ہر طرح کی مصیبت اور اہم میں مبتلا ہو ئے اور وہ مزامیر جن کے الفاظ میں ہر زمانہ حمد باری کا ترانہ یا تو بہ کا نا لہ یا ذات باری کے شوق و صال کا پر جوش کا اظہار کر سکتا ہے ۔ پا ئے جاتے ہیں۔اس میں دینوی حکمت کے امثال اور انبیا کے وہ الہامی اقوال مو جو دہیں ۔ جو کسی جگہ تنبیہ کسی جگہ سزا اور کسی جگہ حوصلہ افزا باتوں کو ہمارے سامنے لاتے ہیں ۔ اس میں ا نجیل کا ۔ سا دہ سا بیان ۔کلیسیاکے قدیم تاریخی حا لات اور وہ خطوط درج ہیں جو کلیسیا کے بانیوں کی طرف سے نصیحت اور محبت کی راہ سے کلیسیاؤں کی جانب از سال کئے گئے ۔ اگر صرف یہ غرض بد نظر ہوتی کہ ہمارے سامنے یہودیوں کے علم ادب کی وہ مختلف صورتیں پیش کی جائیں جو اس نے اس سارے عرصہ میں اختیار کیں ۔ جو اس قوم نے اپنے ملک میں کا ٹا تو ہماری رائے میں علم ادب کی اس سے زیادہ بو قلموں شاخیں ہمارے سامنے نہیں لا ئی جا سکتی ہیں ۔ اگر ہم ایک ہی جلد میں ناکس صاحب کی ’’تاریخ یفارمیشن ‘‘اور بنین صاحب کا ’’مسیحی مسافر‘‘ اور ’’سیوانروالا کے سرمن‘‘ اور’’ سموئیل جانسن کے اقوال ‘‘ اور ’’کوپر کے خطوط ‘‘اور شیکسپیر کا ہیلمٹ ‘‘ مدون کریں۔ تو یہ مجموعہ بھی عبارت اور شکل اور دیگر خصائص میں ا یسا بو قلموں نہیں ہو گا ۔ جیسا کہ وہ مجموعہ ہے جو بائبل میں مجلد ہے ۔

مگر باوجود ان تفرقات کے اس کتاب کا ایک ہو نا روز روشن کی طرح ظاہر ہے ۔ ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی خاص حسہ یا ٹکڑے کی نسبت یہ کہے کہ وہ کل کے ساتھ پوری پوری مطابقت نہیں رکھتا۔ ممکن ہے کہ کوئی غزل الغزلات یا واعظ کی کتاب یا دوسرے پطرس پر کچھ اعتراض کرے ۔ مگر جب ہم کل پر نظر ڈالتے ہیں ۔ تو ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس کتاب کی یکتائی اور یکجہتی میں کسی طرح کی چون وچرا کو جگہ نہیں اس کے ایک ہونے کو سب نے تسلیم کر لیا ہے ۔

یہاں ایک بات یاد رکھنے کے قابل معلوم ہوتی ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ یہ یکتائی وحدت (Unity)جو بائبل کی مختلف کتابوں میں نظر آتی ہے ۔ قصدی نہیں ہے اور نہ مصنوعی ہی ہے ۔ لکھنے والوں کو اس کی کچھ خبر نہ تھی ۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ ہم جو کچھ لکھ رہے ہیں وہ گویا وہ اجزا ہیں جن کی تدوین سے ایک کل پید ہو گا اور نہ ان کا یہ ارادہ ہی تھا ۔ کہ ایسا ہو مثلاً جب مزامیر کے مصنفوں نے اپنے نج کے اقرارات کو یا ان جذبات کو جو عشق الہٰی کے متعلق ان کے دل میں پیدا ہوئے کاغذکے حوالے کیا تو انہیں یہ ہر گز ہر گز معلوم نہ تھا کہ وہ ایک غیر فانی لترجی پیدا کر رہے ہیں۔ جب واعظ کے مصنف نے اپنی کتاب کو ختم کر کے اپنے قلم کو میز پر رکھا اس وقت اس کی مطلق یہ آرزو نہ تھی کہ اس کتاب کو ایسے بے نظیر مجموعہ میں جگہ ملے۔ اور جب پولس ایشیائے کوچک کی کلیساؤں کے پاس کسی آتے جاتے کے ہاتھ دو ستانہ خط بھیجا کرتا تھا تو اسے بالکل یہ خیال نہ تھا ۔ کہ دو ہزار برس کے کے بعد میری باتیں مبرا عن الخطا سمجھی جا ئیں گی ۔ تا ہم جب ان مختلف مصنفوں کی کتابیں ایک جلد میں جمع ہو کر مشاہدہ سے گزرتی ہیں ۔ تو ان کی وحدت میں کسی طرح کا احتمال نہیں رہتا ۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ وحدت یہ یکتائی کس بات میں پائی جاتی ہے ؟

بادی النظر میں یہ خیال گزرتا ہے ۔ کہ نوشتوں کی یہ وحدت شائد اس بات میں پا ئی جا تی ہے ۔ کہ بائبل میں ایک قوم کا تمام علم ادب جمع ہے ۔ لیکن یہ خیال محض سطحی سا ہے ۔ لہذا قبول کر نے کے لائق نہیں اول یہ بات یادر کھنے کے قابل ہے ۔ کہ بعض علما کی را ئے کے مطابق قدیم مصنفوں نے ایسے نوشتے استعمال کئے جو کبھیا س مقدس مجموعہ میں داخل ہی نہیں ہو ئے ۔دوم مابعد کے مصنفوں میں سے کئی ایک کے معاصرین کی کتابیں جواب بالکل مفقود ہو گئی ہیں ۔ یا بعض کے بعض حصہ اب تک مو جو د ہیں ۔ کبھی اس مجموعہ میں داخل نہیں کی گئیں ۔ فیلو نے کئی کتابیں لکھیں۔ جو دینی خیالات سے پر تھیں ۔ سب انہیں پڑھتے تھے ۔ وہ اخلاقی خیا لا ت و تاثیرات کے اعتبار سے لا ثانی سمجھی جاتی تھیں۔تا ہم کبھی کسی کے خیال میں یہ بات نہیں آئی کہ انہیں بائبل میں داخل کرے ۔ اسی طرح جو سیفس کی کتابوں کا حال ہے ۔ اب جو بات پرانے عہد نا مہ پر صادق آتی ہے ۔ وہ نئے عہد نامہ پر بھی عائد ہو تی ہے ۔ پس ہماری بائبل کی تدوین اس آسان طریق پر نہیں ہو ئی کہ یہودی قوم کا علم ادب ایک جلد میں جمع کیاجا ئے ۔

پھر شائد یہ خیال کیا جا تا ہے کہ جو عنصر با لا شتراک ان کتابوں میں پا یا جا تا ہے وہ یہ ہے کہ ان میں خدا ئے تعالےٰ کا خیال برابر پا یا جا تا ہے ۔ گویایہ خیال صحیح ہے ۔ کہ بائبل کے شروع سے آخر تک ایک قسم کی دیندارانہ جھلک اپنا جلوہ دکھاتی ہے ۔ تا ہم یہ خصوصیت بھی ان بے شمار کتابوں کی یکتائی اور وحدت کا باعث نہیں ہے۔

اس میں شک نہیں کہ گو صحائف بائبل میں طرح طرح کے مضامین پر بحث پا ئی جا تی ہے۔ تا ہم سب مصنفوں کے سامنے ایک ہی نشان مو جو د ہے ۔ ایک ہی قسم کا خیال ان کے د ل میں جاگزین ہے ۔ خواہ ہم کوئی زبور پڑھیں۔ خواہ کسی بہادر کی مردانگی اور شجاعت کے دل چلے کاموں پر نظر ڈالیں ۔ خواہ نکتہ چینیوں کا موازنہ کریں خواہ پولٹیکل انقلابوں کی نبوتوں یا با د شاہوں کے تاریخی بیانوں پر دھیان لگائیں ۔ بہر حال یہ بات دیکھنے میں آئے گی کہ ایک ہی خد ا کی طرف اشارہ کیا جا تا ہے ۔ اسی کے لئے وفاداری اور جاں نثاری طلب کر جاتی ہے ۔ اسی سے یہ امید رکھی جا تی ہے ۔ کہ وہ ایک دن راستی سے دنیا کا انصاف کرے گا ۔ مضامین مختلف ہوں تو ہوں کتابوں کی تصنیف کے اوقات مختلف ہوں تو ہوں ۔ مصنفوں کے حا لا ت مختلف ہوں تو ہوں مگر اس قسم کے تحائف اور تبائن کے بیچوں بیچ سے ایک ہی اعتقاد کا رشتہ گزرتا ہے ۔ آفرنیش کا ئنات کا حال اگر بیان کیا گیا ہے ۔ تو سائنس کی صورت میں نہیں کیا گیا ہے ۔ بلکہ مذہب کے پیرایہ میں یہودیوں کے کارنامے اگر قلمبندکئے گئے ہیں ۔ تو اس لئے نہیں کہ اس قوم ی حشمت اور بزرگی دو با لا ہو ۔ بلکہ اس لئے کہ وہ عام دنیوی تاریخ کے طور پر سمجھا جا ئے بلکہ اس لئے کہ وہ اس با ت کی مثال ٹھہرے کہ خدا نے کس طرح اپنے لوگوں کی تربیت کی ۔ نبی آتے ہیں اورملکی معاملات میں دخل دیتے ہیں ۔ پر محض اس واسطے کہ وہ اس بات پر گواہی دین کہ تاریخ کے ہر مشکل موقع پر نہ صرف انسانی طاقتیں کام کرتی ہیں بلکہ ایک شخص بھی ہے جو کا م کرتا ہے ۔ الحاصل یہ کتابیں واقعی مذہبی کتابیں ہیں۔ لاریب مقدس میں کیو نکہ ان میں ا ول سے آخرتک خدائے تعالیٰ کا ذکر پا یا جا ہے ۔

یہ بات نہایت دلچسپ ہے کہ سب لوگ مانتے ہیں کہ بائبل میں خدا کی شناخت اعلیٰ درجے تک پا ئی جا تی ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے بیانا ت میں ایک قسم کی عظمت اور بلندی محسوس ہوتی ہے اس بات پر گو اہی ان سب لوگوں سے ملتی ہے جو نہ تو بائبل کے طرفدار ہی ہیں اور نہ اس کے برخلاف کسی طرح کا تعصب ہی رکھتے ہیں ۔ اہل مغرب میں سے کار لا ئل ۔ امرسن ۔ رسکن ۔ ایوالڈ ۔کولرج ۔سر والٹر سکاؤٹ اور دیگر علما کی شہادت قابل لحاظ ہے ۔ اب اگر یہ بات سچ ہے جیسا کہ بے شمار اشخاص نے شہادت دی ہے کہ بائبل نے دنیا میں اعلیٰ زندگی کو ہر جگہ تقویت دی ہے ۔ اگر یہ درست ہے ۔ کہ اس نے لوگوں کے دلوں میں افضل قسم کے تصورات پید کئے ہیں ۔ اور انہیں سیرت کے اعلیٰ زینے تک پہنچایا ہے ۔ اگر اس نے ہر پشت میں قوموں کو ترقی بخشی اور اچھی سے اچھی تہذیب کو پیدا کیا ہے ۔ اگر وہ لوگوں کو موت کے وقت دلیری اور تسلی بخشتی ہے ۔ اگر اس نے فی الواقع آسمان کو زمین کے نزدیک لا کھڑ کیا ہے ۔ اگر وہ خدا کو ہم پر بطور پیارے باپ کے ظاہر کرتی اور نا امیدوں اور شکستہ دلوں اور خستہ دلوں کو تسلی اور اطمینان اور امید سے بھر دیتی ہے ۔ تو اس میں فی نفسہ وہ خاصیت مو جو د ہے ۔ جو اسے خدا کا کلام یا پیغام ثبت کرتی ہے ۔

لیکن یہ صفت بھی وہ رشتہ نہیں ہے ۔ جو ان کتابوں کو ایک کتاب بناتا ہے ۔ کیو نکہ اور بہت سی ایسی کتابیں ہیں جن میں یہی خاصیت پا ئی جا تی ہے ۔ خدا ہمارے ساتھ اور وسیلوں کے ذریعے سے بھی کلام کرتا ہے ۔ فطرت تاریخ انتظام پروردگار ی اور ضمیر وہ وسائل ہیں جن کی وساطت سے وہ ہم سے ہمکلام ہو تا ہے ۔ وہ ہر روز ہمارے ساتھ نیک لوگوں اور اخلاقی کتابوں اور خصوصاً ہمارے ہی تجربوں کے وسیلے نہایت واضح اور صاف طور پر باتیں کرتا ہے ۔ کئی ایک خدا تعالیٰ کی حضوری کا پہلا احساس کسی دوست کے نمونہ یا نصیحت کے وسیلے یا کسی عبرتناک سانحہ کو دیکھ کر حاصل کرتے ہیں ۔ اور وہ باتیں جو تجربہ سے پیدا ہوتی ہیں ۔ بار ہا نوشتوں کی نسبت زیادہ تاثیر اور صراحت کے ساتھ ہامرے دل پر جم جاتی ہیں ۔ پس خدا کا ہرطرح کا کلام الہامی نوشتہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

تا ہم خدا کے دیگر اقسام کے کلام کے درمیان بائبل کے نوشتے ایک خاص قسم کی ممتاز اور با اختیار جگہ رکھتے ہیں پس وہ کیا چیز ہے جس کے سبب سے ہم بائبل کو بالتخصیص خدا کا کلام کہتے ہیں ؟ جب ہم یہ مانتے ہیں کہ نیک لوگوں کی زندگیوں اور کتابوں میں سے وہی روح بولتی ہے۔ جو بائبل میں بولتی ہے ۔ تو کیا وہ ما بہ الامتیاز ہے ۔ وہ کیا معیار ہے جس کی وجہ سے ہم بائبل کے نوشتوں کو ان سے الگ کرتے اور ان پر ترجیح دیتے ہیں؟ اس کی وجہ صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ ’’ان کتابوں میں جو ہماری بائبل میں پا ئی جا تی ہیں یہ خصوصیت پا ئی جا تی ہے۔ کہ وہ خدا کے تواریخی مکاشفہ سے جو مسیح میں کامل ہوا خاص علاقہ رکھتی ہیں ۔ ‘‘

صرف یہی وہ بات ہے جو بائبل کو اور کتابوں سے الگ کر دیتی ہے ۔ یہی وہ گرہ ہے وہ باہم جکڑنے والا رشتہ ہے ۔ جوان کتابوں کو جو بائبل کے مجموعہ میں پائی جا تی ہیں ۔ ایک بناتا ہے ۔ مسیح وہ مر کز ہے ۔ جس سے نور کی شعاعیں اٹھتی اور سب نوشتوں کو روشن کرتی ہیں ۔ وہی وہ آفتاب ہے جو اس کتاب کے تمام حصوں کو اپنی کوشش سے با ہم ملائے رکھتا ہے ۔ پس بائبل ہی میں وہ کلام پا یا جا تا ہے جو خدا کی طرف سے اس کے بچوں کے لئے ہے ۔ جو اس زمین پر کلیسیا کی صورت میں بو دو با ش کرتے ہیں ۔ اسی میں کشف عامہ اور تا مہ مو جو د ہے جس میں سے تمام مسیحی رسوم اور امیدیں بر آمد ہوتی ہیں ۔ اور جن میں سب مسیحی با ہم مل سکتے ہیں ۔

بائبل کی یکتائی پر غور کرتے ہوئے اسی بات پر بہت زور دینا چاہئے ۔ مگر افسوس ہے کہ لوگ اکثر اسی بات کو بھول جا تے ہیں ۔ مثلاً ایک مشہور و معروف شخص جس کا نام گرٹے ہے ایک شخص کوو لکھتا ہے ہوا کہتا ہے ۔ ’’تمہیں انجیل سے بڑھ کر اور کوئی کتاب خوبصورت نظر نہیں ااتی ۔ لیکن میرے سامنے ہزارہا صفحہ متقدین و متاخرین کے لکھے ہوئے مو جو د ہیں ۔ کو خدا کی ہدایت سے قید کتابت میں آئے اور جس طرح وہ خداکی ہدایت سے تحریر ہوئے اسی طرح وہ خوبصورت اور مفید اور بنی آدم کے لئے ضروری بھی ہیں‘‘ ایک اور شخص یوں گو یا ہے ۔ ’’نہیں ! اے ازلی و ابدی خدا! تیرا کلام ابھی ختم نہیں ہوا۔ تیرا خیال ۔ وہ خیال جو تو اس دنیا کی نسبت رکھتا ہے ۔ ابھی پورے پورے طور پر منکشف نہیں ہوا وہ خیال اب تک تخلیق کے کام کا انجام دیتا ہے ۔ اور زمانوں تک جن کا شمار بنی آدم کے لئے محال ہے ۔ انجام دیتا رہے گا ۔ اسی طرح ایک اور شاعر جس کا نا م لوئل تھا ۔ یوں اپنے خیالات کو ظاہر کرتا ہے ۔ ’’بنی آدم کی بائبل آہستہ آہستہ لکھی جا رہی ہے ۔ لیکن نہ کاغذ کے اوراق پر اور نہ پتھر کی تختیوں پر ۔ ہر زمانہ اور ہر فرقہ اس میں نا امیدی یا امید ۔ خوشی یا رنج کی آیتیں جمرع کرتا جا تا ہے۔ جب تک سمندر میں تلاطم یا طیغانی آتی ہے ۔ جب تک پہاڑوں کو دھند ملفوف کرتی ہے ۔ جب تک رعد کی کڑک بادلوں کو تہ و با لا کرتی ہے۔ تب تک قومیں نبی کے پاؤں کے پاس بیٹھ کر سیکھتی رہیں گی ۔

اب جو بات اس قسم کے بیانوں میں نظر انداز کی جا تی ہے ۔ سو یہ ہے کہ گو خد کی ہدایتیں بند نہیں ہو ئی ہیں تا ہم اس کا تواریخی مکاشفہ مسیح میں کمال کو پہنچ گیا ہے ۔ اور جس طرح وہ سارئی باتیں جو اس سے پیشتر وقوع میں آئیں اس مکاشفہ کے لئے ایک قسم کی تیاری کا باعث تھیں۔ اسی طرح وہ سب باتیں کو اس کے بعد وقوع میں آ رہی ہیں ۔ وہ اس کے اظہار کو اور اس کے استعمال کے موقع کو پیش کرتی ہے ۔ لہذا ان کی درستی یا نا درستی کا فیصلہ اسی کی روشنی میں ہو نا چا ہئے ۔ بائبل کے ایک ایک ٹکڑے کو لینا اور یہ کہنا کہ ہم شیکسپئیر کی کتابوں میں سے وہ تمام عملی اور گہری حکمت اخذ کر سکتے ہیں جو امثال کی کتاب کے مطالعہ سے دستیاب ہو تی ہے ۔ یا یہ کہنا کہ ٹامس اکمپی یا اگسطن یا بنین کی کتابوں میں ایسے ایسے مقامات پا ئے جا تے ہیں ۔ جو لا ریب ایسے ہی منجانب اﷲ ہیں ۔ جیسے غزل الغزلات کے بعض مضامین ہیں بائبل کی فضلیت میں سر موفرق پیدا نہیں کرتا بائبل کی مقدرت ان باتوں سے نہیں ہے گو جو کچھ شیکسپئیر اور ٹامس اکمپی اور اگسطن اور بنین نے لکھا وہ اسی کی خوشہ نشینی کا نتیجہ تھا ۔ بائبل کی مقدورت اورمنزلت ان باتوں پر منحصر نہیں ہے ۔ کہ جو خوبی اور فضلیت اس میں پا ئی جا تی ہے۔ وہ اس تعلق سے صادر ہوتی ہے ۔ جو وہ مسیح سے رکھتی ہے ۔ مسیح خدا کا اعلیٰ اور انتہائی کشف ہے۔ اور بائبل جس میں یہ مکاشفہ قلمبند ہے ایسی ہی لاثانی اور نا قا بل تخریب کتاب ہے ۔ جیسے مسیح ود ہے ۔ اس میں کسی کو کلام نہیں ہے کہ ہر زمانہ میں عرفان الہٰی جلوہ گری کرتا رہا ہے ۔ خدا نے کسی جگہ اپنے تئیں بغیر گواہ کے نہیں چھوڑا ۔ فطرت اور ضمیر اور بالخاصہ اس مصیبت کے وسیلے جو گناہ کے ساتھ ملتی ہے ۔ خدا ہمیشہ تمام بنی نوع انسان کے ساتھ اور بالخصوص خاص خاص افراد کے ساتھ ایسی زبان میں باتیں کرتا رہا ہے ۔ کہ اس کی آواز کی حقیقت پر کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہو سکتا ۔ تا ہم اس قسم کے تمام مکاشفے مسیح کے بغیر نا تمام ہیں ۔ کوی نکہ اسی ایک مکاشفہ کی روشنی میں جو تمام مکاشفات کا سر تاج ہے ۔ سب باتیں صاف ہوتی ہیں ۔ اور خدا پورے پورے طور پر جا نا جاتا ہے ۔ پس یاد رہے ۔ کہ جو صفت بائبل کو اور کتابوں سے علیحدہ کرتی ہے ۔ یہ نہیں ہے کہ اس کا ہر حصہ خوبی اور فضلیت میں لا ثانی ہے ۔ اور نہ یہ کہ خدا صرف اسی کتاب کے وسیلے بنی آدم سے بو لا ہے ۔ اس کی وہ خصوصیت جو اس کے ارد گرد کتب کے مابین حد فاضل کھینچتی ہے ۔ یہ ہے کہ اس میں خدا کے عظیم مکاشفہ کا حال قلمبند ہے ۔

پس یہی وہ نکتہ ہیں جس میں ان کتابوں کی وحدت کے از کی کلید پا ئی جا تی ہے ۔ اور جسکے سبب سے یہ کتابیں مجموعہ کتب ربانی میں داخل ہونے کی سر فرازی کا حق رکھتی ہیں ۔اور یہ کلید زبان کی کوئی خصوصیت نہیں ہے اور نہ یہ کوئی ایسی صفت ہی ہے ۔ جو یہ کتابیں اور کتابوں کے ساتھ مشترک طور پر رکھتی ہیں ۔ یہ کلید وہ ہے جو اس کی اصل خصوصیت ہے ۔یہی وہ بات ہے ۔ جسے ان کتابوں کا مطلب اور ماہیت کہنا چاہئے۔ نوشتوں سے مقدم اور ان کی تہ میں یہ صداقت مو جو د ہے کہ خدا نے مکاشفہ اسرائیل میں اور سرائیل کو عطا فر ما یا ۔ بائبل ہمارے سامنے اسی مکاشفہ کا اظہار اور بیان اور تاویل پیش کرتی ہے ۔ بائبل کی وحدت خدا کے مقصد میں یا یوں کہیں یسوع مسیح میں جو مرکز ہے پائی جا تی ہے ۔ وہ خدا کے مکاشفہ کا کمال ہے ۔ اور سی میں بائبل کی وحدت کا مسلہ کا حل ہو تا ہے ۔ بائبل یا تو اسی کی زندگی کا بیان یا اسی کے مکاشفہ کی تصویر یا تفسیر یا اسی کی زندگی کا وعدہ یا اس کے نمودار ہو نے کی تیاری کا خاکہ ہے ۔ جس سے ظاہر ہو تا ہے کہ لوگ اس مکاشفہ کے کس قدر محتاج تھے ۔ اورر کس طرح اس عظیم مکاشفہ کا ظہور پذیر ہو نا ممکن ٹھہرا۔ پس نوشتوں کے ہر حصہ کی غرض یا کا م اس رشتہ سے رو شن ہو تا ہے جو وہ یسوع مسیح کے ساتھ رکھتا ہے۔

دوسرا باب

الہامی نوشتوں کا مجموعہ اور اس کی تدوین کے اصول و قواعد

انگریزی زبان میں جو لفظ الہامی صحائف کے مجموعہ کے لئے استعمال کیا جا تا ہے ۔ کیین ہے ۔ کیین یو نا نی لفظ ہے ۔ اور اس کے اصل معنی قاعدے یا قانون کے ہیں ۔ا بتدا میں اس لفظ سے وہ اصول یا قاعدہ مراد تھا ۔ جس کے وسیلہ سے کسی کتاب الہامی یا غیر الہامی ہونے کی حقیقت ظاہر ہو جا تی تھی ۔ یا یوں کہیں کہ یہ وہ کسوٹی یا معیار تھا ۔ جس کے ذریعے سے یہ معلوم ہو جا تا تھا ۔ کہ آیا فلاں کتاب منجانب اﷲہے یا نہیں ۔ مگر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اس لفظ کا اطلاق اس مجموعہ کتب پرہونے لگا جو کسوٹی پر کسے جا نے کے بعد ایک جلد جمع ہو گیا تھا ۔ پس اب ان کتابوں کے مجموعہ کو جو بائبل میں جمع ہیں اصطلاح میں کیین آف سکرپچیر (Canon of Scripture )کہتے ہیں جو کتاب اس مجموع میں شامل ہو اسے کینا نیکل (Canonical)اور یہ جوشامل نہ ہوں ۔ اسے ان کینا نیکل (Un Canonical )بولتے ہیں ۔ ان اصطلاحی الفاظ کو اور ان کے مفہوم کو اچھی طرح یاد کر لینا چاہئے۔ کیو نکہ اس باب میں سہولت کے لئے یہی الفاظ حسب موقع استعمال کئے جائیں گے ۔

اب جو سوال در پیش ہے ۔ وہ یہ ہے کہ کس اصول کے مطابق بائبل کا مجموعہ یعنی کیین آف سکرپچیر کا ذکر اوپر ہوا تیار کیا گیا ۔ وہ کون سی کسوٹی تھی ۔ جس کے وسیلے سے قدماء اس بات کے قائل ہوئے کہ جو کتب مقدسہ بائبل میں پائی جا تی ہیں ۔ وہ منجانب اﷲ ہیں اور قبول کرنے کے قابل؟ اس سوال کا جواب پانے کے لئے مناسب یہ ہے کہ ہم اس مناحثے پر غور کریں جو لوتھر اور علمائے کلیسیائے روم کے مابین واقع ہوا۔

اگر آپ کسی رومن کا تھولک سے پوچھیں کہ آپ فلاں فلاں کتاب کو کس بنا پر کینا نیکل مانتے ہیں ۔ تو وہ آ پ کو فوراً ایسا جواب دے گا جس کے سمجھنے میں آپ کو کسی طرح کی دقت پیش نہیں آئے گی ۔ چنانچہ وہ کہہ دے گا کہ میں ان کتابوں کو اس لئے کینا نیکل مانتا ہوں کہ کلیسیا مجھے اسی طرح ماننے کی تلقین کرتی ہے ۔ اور وہ کلیسا کے فیصلہ کو قبول کر کے انہیں کینا نیکل مان لیتا ہے ۔ لیکن اگر آپ یہی سوال کسی پراٹسٹنٹ سے پوچھیں کہ آپ کس بنا پر ان کتابوں کو جو آپ کی بائبل میں پائی جا تی ہیں۔ کینا نیکل مانتے ہیں ؟ وہ کونسا اصول ہے جس کے مطابق آپ نہ ان کتابوں سے زیادہ کو اور نہ کم کو الہامی قرار دیتے ہیں ؟ تو شاید ان میں سے مشکل سے ایک فیصدی آپ کو تسلی بخش جواب دے گا۔ پراٹسٹنٹ رومن تھولک کو نظر حقارت سے دیکھتے ہیں ۔ کیو نکہ وہ اپنی رومن تھولک کلیسیا کے فیصلہ اور اختیار پر تکیہ کرتے ہیں۔ لیکن قابل افسوس یہ بات ہے کہ پراٹسٹنٹوں میں بہت ایسے ہیں کو یہ نہیں بتلا سکتے کہ وہ خود کس کے فیصلہ پر تکیہ کرتے ہین ۔ پراٹسٹنٹوں کا یہ تکیہ کلام ہے ۔ ’’بائبل میں جو کتابیں پائی جا تی ہیں ۔ جو اس بات کو صفائی سے دکھا سکتے ہیں کہ ہماری بائبل میں جو کتابیں پائی جا تی ہیں ۔ فقط وہی الکتاب ہیں ۔ کہ ان میں سوائے کینا نیکل کتب کے اور کوئی کتاب نہیں ہے۔ اگر آپ پوچھیں کہ ثابت کرو کہ اس مجموعہ میں کوئی ان کینانیکل کتاب داخل نہیں کی گئی ۔اور نہ کوئی کینانیکل صحیفہ اس میں سے خارج کیا ہے ۔ تو وہ اس کا کیا جواب دیں گے؟ کس طرح اس عقیدے کو حل کریں گے ؟ اگر آپ ان میں سے کسی سے یہ دریافت کریں کہ آپ کس بنا پر پطرس کے دو سرے خط کو کینا نیکل مانتے ہیں ۔ حالانکہ قدیم کلیسیا کے بہت سے حصہ نے اسے کینا نیکل نہیں ما نا ہے ۔ اور کس طرح یعقوب کے خط کو کینا نیکل تسلیم کرتے ہو باوجود یہ کہ لوتھر جو ریفامیشن اور پرٹسٹنٹنرم کا بانی تھاخو د اس خط کی نسبت کئی شکوک اپنے دل میں رکھتاتھا؟ اگر آپ اس سے یہ سوال کریں تو وہ ان کا اور کیا جواب دے سکتا ہے بجز اس کے کہ میں ان خطوط کو اس لئے کینانیکل مانتا ہوں ۔ کہ اس کلیسیا نے جس کے ساتھ میرا تعلق ہے ان کو ایسا ہی تسلیم کیا ہے۔ تو پھررومن تھولک اور پراٹسٹنٹوں میں تدوین صحائف کے متعلق کیا فر ق ہوا؟ کیا اس صورت میں رومن تھولک اور پروٹسٹنٹ دونوں اپنی اپنی کینانیکل کتابوں کو کلیسیا کے فیصلہ کے زور پر قبول نہیں کرتے ؟

آؤ ہم تھوڑی دیر ے لئے غور کریں کہ آیا اس سوال پر کسی نواح سے روشنی گر سکتی ہے ۔ یا نہیں ۔ بہتر ہو گا اگر ہم پہلے تھوڑے عرصہ کے لئے اس بات پر غور کریں کہ رومن تھولک کلیسیا نے اس اہم مضمون پر ریفامیشن کے وقت کیا فیصلہ کیا ۔ کونسل آف ٹرنٹ (رومن تھولکوں کی کونسل عامہ ) کے سامنے لوتھر کی بدعت کے متعلق چاروں دعوے رکھے گئے تھے ۔ ان میں سے دوکا علاقہ بائبل ساتھ۔ پہلا یہ تھا کہ نوشتے ہی تعلیم کا اصل اور کامل چشمہ ہیں ۔ اور دوسرا یہ تھا کہ پرانے عہد نامہ کا عبرانی کیین (مجموعہ ) اور نئے عہد نا مہ کی مسلمہ کتابیں ہی فیصلہ کن مانی جائیں ۔ پس اپریل (۱۵۴۶ء (حکمنامہ یا فیصلہ کلیسیائے روم ی طرف سے نافذ ہوا۔ ’’ٹرنٹ کی پاک اور ایکیومینیکل (جس میں جگہ جگہ کے پریسٹ اور بشپ شامل ہوں ۔ سنڈ جو با قا عدہ طورپر روح القدس کے وسیلے فرام ہوئی اور جو ہمیشہ اس مدعا کی کار بند رہی کہ بدعتوں کو دور کرے اور اس انجیل کی اصل حقیقت کو بے داغ رکھے۔ جس کا وعدہ پہلے نبیوں اور پاک نوشتوں نے کیا اور بعد میں جس کی منادی پہلے ہمارے خدا وند یسوع مسیح ابن اﷲ نے کی اور پھر اپنے رسولوں کو حکم دیا کہ ہر مخلوق کے سامنے اس کی منادی کریں ۔ اور بتائیں کہ وہ ہر سچائی اور نجات بخش صداقت کا منبع ہے ۔ اور چل چلن کی ہدایت بھی اسی سے ملتی ہے ۔ اور (یہ کونسل ) اس با ت کو مانتی ہے ۔ ہ یہ صداقت اور ہدایت لکھی ہوئی کتابوں میں پائی جا تی ہے ۔ اور نیز ان ے لکھی حدیثوں میں مو جو د ہے جو یا ت رسولوں نے خود مسیح کی زبان سے سنی تھیں۔ یا روح القدس ان پر ظاہر کی گئی تھیں ۔ اور جو دست بدست ہمارے زمانہ تک پہنچ گئی ہیں ۔ اور (یہ کونسل )مسیحی عقائد کے پا بند آبا کے نقش قدم پر چل کر پرانے عہد نا مہ کی کتابوں کو نئے عہد نا مہ کی کتابوں کی مانند صدق اور ادب سے قبول کرتی اور ان کی تعظیم و تکریم بجا لا تی ہے۔ اور اسی طرح وہ ان حدیثوں کا بھی منصب ہے ۔ جو ایمان اور اخلاق سے متعلق ہیں ۔ جو مسیح کے منہ سے نکلیں یا روح القدس نے بتلائیں اور کتھولک کلیسیا میں بذریعہ مسلسل متواتر کے محفوظ ہیں ۔ تا کہ ان کتابوں کے متعلق کسی طرح کے شکوک و شبہات باقی نہ رہیں اور سب کو معلوم ہو جا ئے کہ وہ کونسی کتابیں ہیں بہتر معلوم ہو تا ہے ۔ کہ اس فیصلہ کے ساتھ بطور تتمہ ان کی فہرست مربوط کی جا ئے ‘‘ ۔ اس کے بعد کتابوں کی فہرست درج کی جا تی ہے ۔ جس میں پرانے عہد نا مہ کی کتابیں اور اپاکر افا اور نئے عہد نا مہ کی کتابیں شامل ہیں۔بعدازاں کونسل کا فیصلہ ایک لغت کے ساتھ ختم ہوتا ہے ۔ جو ان پر بھیجی جا تی ہے جو ان کتابوں کو یا ان کے حصوں کو مقدس اور کینا نیکل تصور نہیں کرتے ۔ ’’اس صورت میں جس میں کہ وہ کلیسیا میں پڑھے جاتے اور ولگیٹ کی پرانی لاطینی جلد میں درج ہیں ۔ ‘‘۔

اس سے پہلے بھی کونسلوں میں کینن کے مضمون پر غور کیا تھا ۔ اور اس پر اپنی رائے بھی دی تھی ۔ مگر یہ کونسلیں ایکیوں مینیکل نہ تھیں ۔ لہذا ان کے فیصلے قابل تقلید نہ سمجھے گئے ۔ جب ہم یہ دیکھتے ہیں ۔ کہ ٹرنٹ کی کونسل مجبور ہوئی کہ اس امر پر غور کرے اور اس کے متعلق کوئی پکا فیصلہ کرے تو اس سے آپ ہی آپ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کونسل کے پاس کسی الگی کونسل کا فیصلہ مو جو د نہ تھا ۔ جس کا حوالہ دیا جا سکتا پس اس وقت تک کینن کا معاملہ رواج پر معلق رہا۔ اصل بات یہ ہے کہ جیروم کا لاطینی ترجمہ جو ولگیٹ کہلاتا ہے ۔ عالمگیر طور پر مستعمل تھا۔ اور اس کا یہ اثر ہوا کہ مغربی کلیسیا نے انہی کتابوں کو جو اس میں پائی جا تی تھیں۔ کینن یعنی مجموعہ کتب مقدسہ مان لیا۔ لیکن جیروم ان کتابوں کے اندراج کے متعلق جو اس نے اپنے مجموعہ میں درج کی ہیں ۔ کوئی سائنٹیفک اصول اول سے آخر تک نہیں برتا ۔ بلکہ وہ اس رائے کا محکوم رہا جو عام طور پر ان کتابوں کے متعلق مروج تھی ۔ یعنی اس نے اس بات کی رعایت رکھی کہ قدیم کلیسیا کے خیال کو جدید زمانہ کی رائے پر ترجیح دی جا ئے ۔ اور قلیل گروہ پر کثرت رائے کو فوق حاصل ہو ۔

پس ریفامیشن سے پہلے کینن کا سوال ایک طرح التوا میں پڑا رہا ۔ اور کلیسیا نے عملی طور پر اس سوال کا فیصلہ جیروم کے لاطینی ترجمہ کے مطابق کیا ۔ یعنی جب دیکھا کہ لوگ اسے ہر جگہ قبول کر بیٹھے اور اسے بکثرت استعمال کرتے ہیں ۔ تو اسی کینن کا اندازہ سمجھ لیا اور جیروم نے اس کا فیصلہ اس رائے کے متعلق کیا جو اس کے زمانہ میں کلیسیا کے درمیان مروج تھی ۔ نہ کسی ایسے اصول یا معیار کے استعمال پر جو کینن کے فیصلہ میں کسوٹی کا کا م دینا مگر یہ ماننا پڑتاہے کہ کلیسیا کا فیصلہ بھی اور جیروم کا فیصلہ بھی اس بات پر مبنی تھا ۔ کہ جو کتابیں رسلووں نے لکھی ہیں وہی کینا نیکل مانی جائیں ۔ ا صول کا اظہار طر طولیان نے اچھی طرح کر دیا تھا ۔اور اگر بعض کتابیں کینا نیکل نہیں ما نی گئی تھیں ۔ تو اس کا یہ سبب تھا کہ ان کی نسبت یہ فیصلہ قطعی طور پر نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ رسولوں کی تصنیف ہیں۔

اس سوال کا یہ عملی حل کچھ عرصہ تک کافی سمجھا گیا ۔ یعنی جب تک بائبل محض روحانی زندگی کی تقویت کے لئے ایک ضروری کتاب سمجھی گئی یا عبادت کے اغراضکی انجام دہی کے لئے مستعمل ہوتی رہی تب یہ حل کافی تھا ۔ لیکن جب لوتھر اور اسے رفقا نے بائبل ہی کو تمام مذہبی اورکلیسیائی معاملات کے فیصلے کا ایک اکیلا قانون بنا یا ۔ اور یہ چا ہا کہ اس کی تعلیم اور ہدایت کی بنا پر ان تمام باتوں کو رد کریں جن کا بوجھ ان کے کندھوں پر کلیسیا نے ڈال رکھا تھا ۔ جب انہوں نے یہ تحریک شرو کر کی کہ بائبل ایسی شریعت ہے جو اکیلی ایمان اور زندگی کا قانو ن ہے ۔ تب اس بات کی ضرور پڑی کہ صفائی کے ساتھ اس بات کا فیصلہ کیا جا ئے کہ وہ کونسی کتابیں ہیں جن میں یہ شریعت پائی جا تی ہے ۔ اور انہوں نے یہ اختیار کہاں سے پا یا ہے ؟ ان سوالات کا جواب دینے میں رومن کتھولک کلیسیا کو کوئی دقت پیش نہ آئی ۔ کونسل آگ ٹرنٹ ابھی وقوع میں بھی نہیں آئی تھی کہ کلیسیا کے ایک تھیولوجین نے یہ سوال کیا ’’اگر تم کلیسیا کی گواہی کو نہ ما نو تو تم کس طرح جان سکتے ہو ۔ کہ نوشتے کینا نیکل ہیں ؟ ‘‘ ایک اور نے یہ کہا تھا ۔ ’’نوشتوں کو جو اختیار ہمارے درمیان حاصل ہے ضرور ہے کہ وہ کلیسیا کے اختیار ر مبنی ہو۔ ‘‘ کلیسیا ہی نے بعض کتابوں کو الہامی اختیار منسوب کیا ہے انہوں نے یہ اختیار نہ خود پا یا اور نہ ان کے مصنفوں نے انہیں دیا ۔ ‘‘ جب اَک (EK) نے پرگیٹوری (اعراف) کے اثبات میں دوسرے مکابیوں میں سے ایک مقام پیش کیا ۔ تو لوتھر نے اعتراض کیا کہ اور کہا کہ یہ کتاب الہامی یا کینانیکل نہیں ہے ۔ اَک نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ۔ ’’لیکن کلیسیا نے ان کتابوں کو کینن میں جگہ دی ہے ۔ ‘‘ لوتھر نے اس جواب کا یہ جوب دیا ’’کلیسیا کو یہ اختیار نہیں ہے کہ کسی کتاب کو وہ اختیار یا طاقت دے جو اس میں آگے مو جو د نہیں ہے ۔ کوئی کونسل کسی کتاب کو جو اپنی ذات میں الہامی نہیں ہے الہامی نوشتہ نہیں قرار دے سکتی ۔

مرقومہ بالا اقتباسات سے صاف ظاہر ہے کہ اس امر کے متعلق لوتھر اور رومن کتھولک میں زمین اور آسمان کا فرق تھا ۔ کلیسیا ئے روم نے یہ فیصلہ کیا کہ پرانے عہد نا مہ کی کتابیں جن میں اپاکر افا بھی شامل ہیں ) الہامی کلام کے طور پر قبول کی جائیں ۔ ان کے معتبری کی نسبت انہوں نے اور کسی طرح کی تحقیقکو روانہ رکھا ۔ اور اس معاملہ کی ساری بحث کو جیروم صاحب کے ترجمہ مو سو مہ ولگٹ کو قبول کت کے تہ کر دیا ۔ لیکن لوتھر ایسا آسان طریقہ اختیار نہیں کر سکتا تھا ۔ کیو نکہ اس نے کلیسیا کے اختیار کی عمارت کو گرا دیا تھا ۔ وہ مجبور تھا ۔ کہ صاف صاف طور پر دکھائے کہ وہ خود کس اختیار پر تکیہ کرتا تھا ۔ چونکہ وہ فقط خدا کے کلام کے تحکم کا قائل تھا ۔ اس لئے ضرور تھا کہ وہ دکھائے کہ خدا کا کلام کہاں پا یا جا تا ہے اور کس طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے اور یاں نہیں ہے؟ لوتھرکے سامنے دو سوال تھے جن کا جواب دینا ضروری تھا ۔ اول یہ کہ وہ کیا بات ہے جس کی بنا پر آدمی قائل ہو تا ہے کہ نوشتے خدا کا کلام ہیں ۔ لہذا اس کا فرض ہے کہ ان کے اختیار کو قبول کرے دوسرا سوال یہ تھا کہ وہ کونسی کتابیں ہیں جو پاک نوشتے قرار دی جا سکتی ہیں ۔ اس سوال سے پہلے کہ ’’الہامی نوشتوں کا کینن (مجموعہ ) کیا ہے ؟ ‘‘ یہ سوال آتا ہے کہ ’’الہامی نوشتے ہیں بھی ‘‘؟ اس سوال سے پیشتر کہ’’کونسی کتابوں میں خدا کا کلام درج ہے ‘‘؟ اس سوال کا جاب دینا پڑتاہے ۔ ’’کہیں خد اکا کلام ہے بھی ‘‘؟ جب تک ہم یہ نہ جان لیں کہ دوسرے سوال کے متعلق لوتھر کی کیا را ئے تھی تب تک ہم اس جواب کو جو اس نے پہلے سوال کے متعلق دیا اچھی طرح نہیں سمجھ سکتے ۔

اب لوتھر کے قول کے مطابق اس سوال کا جواب کہ کیا دنیا میں خداا کا کلام پا یا جا تا ہے ۔ یا نہیں ؟ کیا خدا بنی آدم سے ہمکلام ہوا یا نہیں اثبات کی صورت میں اور بڑے یقین کے ساتھ دیا جا سکتا ہے ۔ اور ہر ایک شخص جس پر خدا کا کلام اپنی الہٰی اصل اور اختیار کو ظاہر کرتا ہے اس سوال کا جواب بصورت اثبات دے سکتا ہے ۔ مگر جس پر خدا کے کلام کی الہٰی اصلیت اور اختیار آ شکارہ نہیں ہوا وہ اس کا جواب اثبات کی صورت میں نہیں دے سکتا۔

لوتھر بڑی صفائی سے بار بار یہی تعلیم دیتا ہے کہ خدا کا کلام اپنی شہادت اپنے میں رکھتا ہے۔ وہ اس بات کا محتاج نہیں کہ کوئی اور اس کی تائید کرے اس کا ثبوت خود اس کے اندر مو جو د ہے۔ اب ہم ان پر زور الفاظ کو سنیں گے ۔ جو اسکی زبان سے اس معاملے کے متعلق نکلے ۔ ایک جگہ پہلے وہ یہ کہتاہے کہ میرے اور رومن کتھولک کے درمیان بحث اس بات پر نہیں کہ آیا خدا کے کلام کی فرمانبرداریکرنی چاہئے یا نہیں ۔ اس بات پر ہم دونوں متفق ہیں ۔ ’’مگر رومن کتھولک کلیسیا کے لوگ کہتے ہیں ۔ کہ ہاں اس کے کلام کی فرمانبرداری تو کرنی چاہئے۔ مگر ہم یہ کس طرح دریافت کر سکتے ہیں کہ خدا کا کلام کہاں ہے اور یہ کیو نکر جان سکتے ہیں ۔ کہ یہ سچا کلام ہے اور یہ جھوٹا ہے ؟ اس بات کی خبر ہمیں پوپ سے یا کونسلو ں سے ملتی ہے ۔ اگر رومن کتھولک یہ ماننا چاہیں تو کریں ۔ مگر میں پھر بھی یہی کہتا ہوں کہ تو اپنا یقین ان پر یعنی پو پو ں وغیرہ پر ) قائم نہیں کر سکتا ہے ۔ اور نہ اس سے تیری ضمیر آ سو دہ ہو سکتی ہے ۔ اس بات کا فیصلہ تجھے خود کرنا ہے ۔ تیری اپنی گردن ۔ تیری اپنی زندگی معرض خطر میں ہے ۔ پس لا زم ہے کہ خدا تجھ سے تیرے ہی دل کے اندر بولے اور بتائے کہ یہ خدا کا کلام ہے ۔ ورنہ (باوجود پوپ کا کہنا ماننے کے ) یہ معاملہ تیرے لئے بغیر فیصلہ کے رہے گا ‘‘ دوسری جگہ یہ کہتا ہے۔’’تجھے اس بات کا کہ یہ خدا کا کلام ہے ایسا یقین ہو نا چاہئے ۔ کیو نکہ اسی فیصلہ پر تیری ضمیر کو تکیہ کر نا لا زم ہے ۔ اگر سب بنی آدم آئیں ۔ بلکہ فرشتے بھی اور ان کے ساتھ دنیا بھی آئے اورر کچھ فیصلہ کرے لیکن اگر تو خود کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا تو تو بر باد ہو چکا ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تجھے پو پ کے فیصلہ یا کسی اور شخص کے فیصلہ کو قبول نہیں کرنا چاہئے ۔ تجھے آپ ایسا ماہر ہو نا چاہئے ۔ کہ تو بتا سکے کہ ی خدا کا کلام ہے ۔ اور یہ نہیں ہے یہ درست ہے اور یہ درست نہیں ہے ۔ ورنہ تکالیف کا برداشت کر نا ممکن ہو جا ئے گا۔ کیا توپوپ پر یا کونسلیا پر قائم ہے ؟ اگر ایسا حال ہے تو یہ ممکن نہیں کہ شیطان آئے اور تجھے کہہ کر ورغلائے ۔ ’’اگر پوپ کی یہ بات جھوٹ ہو تو پھر تیرا کیا حال ہو گا؟ اگر اس نے غلطی کی ہے تو کہہ تو کیا کرے گا ‘‘؟ اس قسم کے شکوک اگر پیدا ہو جائیں تو تو بالکل پست خاطر اور بیدل ہو جائے گا۔ پس لازم ہے کہ تو خود اپنی ضمیر سے کام لے تا کہ تو بڑی دلیری اور زور سے کہہ سکے کہ یہ خڈا کا کلام ہے ۔ اس کے لئے میں اپنا بدن اور اپنی جا ن بھی قربان کر دو ں گا ۔ اگر لاکھ سر ہوں تو سب اس کے لئے دے دو ں گا ۔ کوئی شخص مجھے اس کلام سے منحرف نہیں کر سکتا جو خدا نے مجھے سکھا یا ہے۔ اس کا علم مجھے ایسے ہی یقین کے ساتھ ہو نا چاہیے ۔ جیسے یقین کے ساتھ اس بات کا علم ہو تا ہے کہ دو اور تین مل کر پانچ ہو تے ہیں ۔ اور کہ کل نصف سے بڑا ہو تا ہے ۔ یہ بات پکی اور یقینی ہے ۔ اگر سا ری دنیا مجھے اس کے برعکس کہے تو میں بھی نہیں مانوں گا کیو کنہ میں جا نتا ہو ں کہ اس کا نقیص صحیح نہیں ہو تا ۔ اب ان باتوں کی نسبت میرے لئے کون فیصلہ کرتا ہے ؟ کوئی آدمی فیصلہ نہیں کرتا ۔ سچائی خود میرے فیصلہ کو قائم کرتی ہے ۔ کیو نکہ وہ ایسی صریح اور یقینی ہے کہ کوئی اس کا نکار نہیں کر سکتا ‘‘۔

اب لوتھر اس پوائنٹ پر کیوں اتنا زور دیتا ہے ؟ وہ اس لئے اتنا زور دیتا ہے کہ وہ دیکھتا ہے کہ جو فرق میرے اور رومن کتھولکوں کے درمیان پا یا جاتا ہے وہ اسی مسلہ پر معلق ہے ۔ وہ جا نتا تھا ۔ کہ اگر میں نے اس بات کو ثابت کیا کہ سچائی میں یاں یوں کہیں کہ خدا کے کلام میں یہ قدرت پا ئی جاتی ہے ۔ کہ انسان کے ضمیر پر جو اس کے وسیلے سے جاگااٹھتی ہے سچا ثابت کرے تو میرا کچھ ٹھکا نا نہیں ۔ پس وہ بات جس کے سبب سے وہ پراٹسنٹٹ کہلا یا اور جس کے سبب سے اور لوگ پراٹسٹنٹ کہلاے ہیں یہی ہے کہ انسانی روح کو کسی شخص کی وساطت کی ضرور ت نہیں کہ اس کے وسیلے سے خدا اور خدا کی سچائی کے ساتھ پیوند ہو کیو نکہ نہ خدا اور نہ اس کی سچائی اس قسم کی وساطت کے محتاج ہیں ۔ وہ اپنی حقیقت کو آپ ہی آپ ہر متنفس پر ظاہر اور ثابت کرتے ہیں ۔ یاد رکھنا چاہئے کہ لوتھر انجیل کو اس لئے نہیں ما نتا تھا ۔ کہ وہ ایک الہامی کتاب ہے ۔ یا الہامی کتب کے مجموعہ میں داخل ہے یا خد اکا کلام ہے ۔ وہ اسے اس لئے نہیں مانتا تھا کہ اس کے وسیلے سے اس کی روح نے زندگی پائی تھی ۔ اور اس سے اس کا منجانب اﷲ ہو نا اس پر ظاہر ہو گیا تھا ۔ اس نے مسیح کو اس واسطے قبول نہیں کیا تھا کہ اس کا ذکر ان نوشتوں میں پا یا جا تا تھا ۔ جنہیں اس نے اس کو قبول کرنے سے پہلے تسلیم کر لیا تھا ۔ نہیں اس نے نوشتوں کو اسی لئے ما نا تھا کہ ان میں مسیح کی گواہی پا ئی جا تی تھی جس کے قبول کرنے کے لئے وہ مجبور تھا ۔ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ وہ نوشتوں کو خدا کا کلام اس صداقت کے سبب سے مانتا تھا جو ان میں قلمبند ہے ۔ وہ صداقت کو اس لئے نہیں مانتا تھا کہ وہ ان نوشتوں میں مندرج ہے ۔ جو اس کے نزدیک خدا کا کلام تھے ۔ وہ انہیں اس لئے مانتا تھا کہ خدا کے فضل کے اعلان نے اس کے اندر ایک نئی زندگی پیدا کر دی تھی اور اس سے اس نے جان لیا کہ وہ فضل کی خوشخبری جو نوشتوں میں د رج ہے ۔ خدا کی طرف سے ہے ۔

اب ہم نے دیکھا کہ رومن کتھولک اور پراٹسٹنٹوں میں جو بات حد فاضل کا کا م دیتی ہے۔ یہ نہیں ہے کہ رومن کتھولک اپنی کلیسیا کو مبرا عن الخطا سمجھ کر ایک با اختیار اور فیصلہ کن منصب قرار دیتے ہیں ۔ اور پراٹسٹنٹ کلیسیا کے عوض میں کلام الہٰی کو مبرا عن الخطا سمجھتے ہیں ۔ نہیں جس بات میں فرق پا یا جا تا ہے ۔ وہ اس سے کہیں گہری ہے ۔ کیو نکہ رومن کتھولک بھی پراٹسنٹٹوں کی طرح کلام اﷲ کے اختیار کے قائل میں پھر فرق کس بات میں ہے؟ فرق اس بات میں ہے کہ رومن کیتھولک نوشتوں کو خدا کا کلام اس واسطے مانتے ہیں ۔ کہ کلیسیا ایسا ماننے کا حکم دیتی ہے۔ لیکن پراٹسنٹٹ انہیں کلام الہٰی اس لئے مانتا ہے ۔ کہ خدا کہتا ہے ۔ کہ انہیں میرا کلام سمجھ کر قبول کرو۔ پراٹسنٹٹ دیکھتا ہے ۔ کہ خدا نے ان نوشتوں کے وسیلے سے میرے ساتھ ایسے طور پر باتیں کی ہیں کہ میں قائل ہوں کہ وہ خدا کی زبان مبارک سے نکلے ہیں ۔ یہی وہ محکم اور پختہ بنیاد ہے جس پر پراٹسٹنٹ از م قائم ہے ۔ انسان کی روح خدا کی اس آواز کو جو نوشتوں میں سے آتی ہے ۔ اور جو اپنا ثبوت اپنے میں رکھتی ہے سنتی ہے۔ اور اسے قبول کرتی ہے ۔ پس ایماندار کو اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ کلیسیا سے دریافت کرنے جا ئے کہ آیا بائبل کے نوشتے خدا کا کلام ہیں یا نہیں ۔ اس کی ضمیر اسے بتاتی ہے۔ کہ وہ خدا کا کلام ہیں ۔ اس سے گہری بنیاد ایمان و اعتقاد کے لئے میسر نہیں ہو سکتی۔ اور جو عقیدہ اس گہری بنا پر مبنی نہیں ہے ۔ وہ مضبوط اور مصمون نہیں ہے ممکن ہے کہ وہ ایک مدت تک قائم رہے اور ممکن ہے کہ انسان کو ضروری فوائد بھی اس سے دستیاب ہوں مگر اس میں شک نہیں کہ وہ دلیل سے ثابت نہیں کیا جا سکتا لہذا اس خطرے میں ہے کہ کسی نہ کسی وقت جنبش میں آ جا ئے ۔

پس لوتھر کا پہلا عقیدہ نوشتوں کی بابت یہی تھا اور اسی پر تمام پراٹسٹنٹ ازم مبنی ہے ۔ کہ ’’نوشتوں کے وسیلے سے خدا خود ایسے طور پر کلام کرتا ہے ۔ کہ انسان بغیر وساطت کسی خارجی ثبوت یا ہادی کے اس بات کا قائل ہو جا تا ہے ۔ کہ وہ خدا کا کلام ہیں ۔ انسان اس بات کا محتاج نہیں کہ کلیسیا اسے بتائے کہ وہ خدا کا کلام ہیں ۔ خدا خود اسے انہیں نوشتوں کے ذریعے بتا دیتا ہے کہ یہ میرا کلام ہیں ۔ اور یوں غیر کی وساطت غیر ضروری ثبت ہو جا تی ہے ۔

اس بات کے بعد ایک اور امر فیصلہ طلب سامنے آتا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ کونسے نوشتوں میں کلام الہٰی مندرج ہے ؟ کیا ہم کلام الہٰی کی شناخت کے لئے ہر حالت اور ہر صورت میں اصول مرتومہ با لا کو کام میں لائیں اوریہ کہیں کہ فقط وہی کتابیں الہامی نوشتے گردانی جائیں جو ہمارے اس ایمان کو جو ہم خدا کی نسبت پیشتر ہی سے رکھتے ہیں تا زہ اور مضبوط کر کے اپنے تئیں منجانب اﷲثابت کرتی ہیں ؟ کیا ہم فقط اسی اصول کو کہ خدا کا کلام اپنا ثبوت آپ ہے کینن آف سکرپچیر کا مسلہ حل کرتے ہیں وقت اپنا معیار سمجھیں ؟ یا ہم یہ کہیں کہ جو کتاب اس کلام سے جس نے پہلے پہل ہمارے اندر ایمان پید ا کیا مطابقت رکھتی ہے ۔ اور ہمارے سامنے وہی وش خبر ی اور وہی مسیح لا تی ہے ۔ وہ کینا نیکل ہے؟ (لوتھر یہی مانتا تھا مگر اصول کو صرف انہیں کتابوں پر چسپاں کرتا تھا ۔ جو رسولی حلقہ سے نکلتی تھیں۔ ) یا کیا ہم اس سوال کا جواب دیتے وقت اپنے ایمان کو معیار قرار دیں اور فقط یہ دریافت کریں ۔ کہ کون سی کتابیں رد کرنے کے قابل ہیں ۔ یعنی یہ فیصلہ کریں کہ وہ کتابیں جو اس ایمان کے ساتھ جس نے ہمیں روحانی زندگی بخشی مطابقت نہیں رکھتی ہیں ۔ یا اس کو رد کرتی ہیں ۔ ترک کی جائیں ۔ واضح ہو کہ تین صورتوں میں یہ سوال کیا جا سکتا ہے ۔

۱ )کیا میں یہ کہوں کہ وہ تمام کتابیں جو میرے دل میں ایمان پیدا کرتی ہیں کینا نیکل ہیں؟(

۲ ) یا میں یہ کہوں کہ وہ تمام کتابیں کینا نیکل ہیں جو میرے سامنے اسی مسیح کو لاتی ہیں ۔جس کے نظارے نے پہلے پہل میرے اندر ایمان کو پیدا کیا ؟(

۳ ) یا کیا میں یہ کہوں کہ وہ کتابیں الہامی نہیں ہیں جو اس ایمان سے جو میں مسیح پر رکھتا ہوں مطابقت نہیں رکھتی ہیں ؟ (

اب ہم اس سوا ل کا جواب لوتھر کے ان فیصلوں میں تلاش کریں گے جو اس نے ان کتابوں کے متعلق کئے ہیں ۔ جو ہمارے کینن میں داخل ہیں۔ جب ہم اس نئے عہد نا مہ کے ترجمہ کا ملاحظہ کرتے ہیں تو یہ بات ہماری نظر سے گزرتی ہے ۔ چار کتابیں یعنی عبرانیوں کا خط ۔ یعقوب کا خط۔ یہوداہ کا خط اور مکاشفات جنہیں وہ رسولی تصنیفات نہیں سمجھتا تھا۔ آخر میں ا یک جگہ اکٹھی رکھی گئی ہیں ۔ اور ان کے شروع میں بطور دیباچہ کے یہ معنی خیز الفاظ مرقوم کئے گئے ہیں ۔ ’’یہاں تک تو ہم نئے عہد نا مہ کی ان کتابوں پر غور رتے رہے جن پر کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہو سکتا او رجو خاص کتابیں نئے عہد نا مہ کی سمجھ گئی ہیں ۔ مگر ذیل کی چار کتابیں گزشتہ زمانہ میں مختلف قسم کا پہلو رکھتی تھیں‘‘۔ بعد ازاں وہ مختصر مگر مدلل طور پر اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ عبرانیوں کا خط پولس کی تصنیف نہیں اور نہ کسی اور رسول کا تصنیف کردہ ہے ۔ پہلے وہ ا س کی خوبیوں کی تعریف کرتا ہے ۔ اور پھر ان نقصوں کو جنہیں وہ نقص سمجھتا ہے ۔ ظاہر کر دیتا ہے ۔ اور بعد ازاں یہ الفاظ تحریر کرتا ہے ۔ ’’اگر چہ اس خط کا مصنف ایمان کی وہ بنیاد نہیں رکھتا جو رسولوں کا خاص کام ہے تا ہم وہ سو نے اور چاندی اور بیش قیمت پتھروں کے ردے لگاتا ہے ۔ اور گو وہ کہیں کہیں گھاس پھوس بھی ملا دیتا ہے ۔ تا ہم اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم اس کی تعلیم کو تعظیم کے ساتھ قبول نہ کریں ۔ گو یہ خط ساری باتوں میں رسولوں کے خطوط کے ساتھ مشابہت نہیں ر کھتا ۔ تو بھی مناسب ہے اس کی تعظیم کی جائے ‘‘۔

اس سے بھی زیادہ دلیری اور صفائی سے اس نے ان نکتہ چینیوں میں کام لیا ہے ۔ جو مکاشفات کی کتاب کے متعلق کی ہیں۔ مثلاوہ کہتا ہے ’’میری طبیعت اس کتاب کو کبھی پسند نہیں کرسکتی ۔ اوراس کی وجہ یہ ہے کہ میری رائے میں اس کتاب کے اندر مسیح کے بارے میں تعلیم نہیں پا ئی جا تی‘‘۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس کے رائے میں بڑی تبدیلی ہو گئی ۔ گو تا دم مرگ وہ اس بات کا قائل نہ ہوا کہ اس کتاب کا مصنف یوحنا رسول ہے ۔ تو بھی اس میں شکل نہیں کہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں وہ اس کتاب کے متعلق ایسی ہلکی رائے دینا نا مناسب سمجھتا تھا ۔ جو دپباچہ اس نے یعقوب کے خط پر لکھا ہے اس میں وہ معیار پیش کرتا ہے جس سے وہ کسی کتاب کے الہامی یا غیر الہامی ہونے کو جانچا کرتا تھا ۔ ہم اوپر عرض کرچکے ہیں ۔ کہ وہ اس خط کو نئے عہد نا مہ کی اصل کتابوں میں جگہ نہیں دیتا تھا ۔ اور نہ اسے کسی رسول کی تصنیف ہی سمجھتا تھا ۔ اس خیال کی تائید میں ذیل کے الفاظ تحریر کرتا ہے ۔ ’’تمام متبرک اور اصل کتابیں جس بات میں متفق ہیں وہ یہ ہے کہ وہ سب مسیح کی بشارت دیتی ہیں ۔ اور اسی کو ظاہر کرتی ہیں۔ میری رائے میں ہر کتاب کی حیقیت کے پرکھنے کا یہی کا ایک سچا معیار ہے پس ہمیں ہر کتاب کے متعلق یہی دیکھنا چاہئے کہ آیا وہ مسیح کو پیش کرتی ہے یا نہیں کیو نکہ سب نوشتے مسیح کی گواہی دیتے ہیں (رومی ۳: ۲۱) مقدس پولس تو مسیح میں ایسا محو تھا کہ وہ سوائے اس کے اور کچھ جاننا ہی نہیں سمجھتا تھا ۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی کتاب یسوع مسیح کو پیش نہیں کرتی وہ رسولی نہیں ہے ۔ خواہ وہ پطرس یا پولس ہی کی لکھی ہوئی کیو ں نہ ہو ۔ اور جو کتاب مسیح کی بشارت سے مملو ہے وہ رسولی ہے ۔ خواہ اس کا مصنف یہودا اسکریوطی یا انایا پلاطس یا ہیرودیس ہی کیوں نہ ہو ‘‘۔

صاف ظاہر ہے کہ کسی کتاب کے کینا نیکل ہوئے یا نہ ہونے کی تحقیق کے لئے جو معیار لوتھر پیش کرتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ آیا کتاب زیر نظر کا مرکز مسیح ہے یا کوئی اور چیز ہے ۔ ڈرانر صاحب بھی یہی بتلاتے ہیں ۔ کہ’’لوتھر کے خیال کے مطابق (جس سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔) کسی کتاب کے کینا نیکل یا غیر کینا نیکل ہو نے کا فیصلہ اس بات پر منحصر تھا کہ آیا وہ کتاب مسیح کو پیش کرنا اپنا اعلیٰ مقدس کو پورا کرنے کے لئے عطا فر ما تا ہے ۔ اور وہ مقصد یہ ہے کہ اس کی مرضی جو ہماری نجات سے وابستہ ہے ۔ ہم پر ظاہر ہو جائے جسے یہ تبدیل الفاظ یوں کہنا چاہئے کہ اس کا مسیح جو نجات دینے والا ہے ۔ ہمارے سامنے صاف صاف طور پر لا یا جائے ۔ جو کتابیں اس مقصد کو مد نظر رکھتی معلوم کرتی تھیں انہیں وہ کینا نیکل ماننے کو تیار تھا ۔

اب ایک بات اور ہے جو غور کے قابل ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ وہ صرف اسی اصول کو کینا نیکل خاصیت کے دریافت کرتے وقت کا م میں نہیں لا تا تھا ۔ یہ اس کا آخری معیا ر تھا ۔ اس سے پہلے وہ ایک بات سے کام لیا کرتا تھا ۔ مراد یہ ہے کہ وہ اپنے اس آخری اور فیصلہ کن اصول کو ہر کتاب پر چسپاں نہیں کر سکتا تھا ۔ وہ اسے صرف انہیں کتابوں کے متعلق کام میں لا تا تھا جو آگے ہی سے کینا نیکل مشہور تھیں ۔ اس کا یہ منشا نہ تھا کہ وہ اس اصول کو تمام مسیحی لٹریچر پر لگائے اور جس کتاب کا مرکز مسیح کو پائے اسی کو کینا نیکل نہیں مانتا تھا ۔ گو ان مصنفوں کی کتابوں کے طفیل سے اس کو مسیح نجات کی انمول برکتیں حاصل ہوئی تھیں ۔ انہیں وسیلے سے اس نے اطمینان دلی اور نور قلب اور قوت روح کو پا یا تھا ۔ باوجود اس کے وہ انہیں کینا نیکل نہیں سمجھتا تھا ۔ اور اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ رسولی تصنیفات سے نہ تھیں۔ اس موقع پر بھی یہ کہنا واجب معلوم ہو تا ہے کہ اگر کوئی کتاب اس کے نزدیک رسولی ثابت ہو جا تی تو وہ اسے کبھی رد نہ کرتا خواہ اس کی بہت سی باتیں اس کی رائے کے مطابق ہوتیں یا نہ ہوتیں۔ اور عملی واقعات شاہد ہیں کہ جن کتابوں کو وہ رسولوں کی تصنیف مانتا تھا ۔ ان میں سے اس نے ایک کو بھی رد نہیں کیا ۔ اب اس بیان سے اظہر ہے کہ وہ اصول جسے ہم نے اس کی آخری اور فیصلہ کن اصول کہا ہے در حقیقت ایک ایسا اصول تھا جو ایک اور اصول کی کمی کو پورا کرتا تھا ۔ یا یوں کہیں کہ ایک اور اصول بھی تھا ۔ جس نے کینا نیکل کتابوں کے دائرے کو بہت محدود کر رکھا تھا ۔ اور لوتھر کا آخری اور فیصلہ کن اصول اسی محدود دائرے کے حدود کے اند ر کام کیا کرتا تھا۔ اب سوال بر پا ہو تا ہے کہ وہ عام اصول کیا تھا ۔ جس نے ان کتابوں کے دائرہ کو محدود کر دیا تھا ۔ وہ قاعدہ تھا جس کے بموجب کلیسیا نے ابتدا میں نوشتوں کو جمع کیا تھا ۔ لوتھر نے پہلے اس قاعدہ سے کام لیا۔ یعنی جو کتابیں کلیسیا نے نوشتوں کے مجموعہ میں داخل کر دی تھیں ۔ اس نے پہلے ان کو لیا اور پھر انہیں میں سے ہر ایک کو اپنے معیار سے پرکھا جو طریقہ اس نے اختیار کیا وہ یہ تھا ۔ پہلے اس نے جیروم کی بائبل کو لیا ۔ او اس کے وسیلے سے ان امیدواروں سے واقفیت پیدا کی جو کینن آف سکرپچر مین خل پانے کا استحقاق جتاتے تھے ۔ بعد ازاں ان پر اپنا فیصلہ کن معیار چسپاں کیا ۔ واضح ہو کہ جیروم کے زمانہ تک کلیسیا ان کتابوں میں سے بعض کے متعلق اشتباہ مین چلی آئی تھی اور لوتھر اس بات کو جانتا تھا پس وہ اپنے معیار سے صرف انہیں مشکوک کتابوں کے متعلق کام لیتا ہے ۔ یعنی بڑی آزادی سے انہیں پرکھتا ہے کہ آیا وہ مسیح سے معمور ہیں ۔ یا نہیں ۔ جن کتابوں کی اصلیت پر کلیسیا متفق تھی ان کی نسبت وہ ذرا چوں چاں نہیں کرتا ۔

اس سے ظاہر ہے کہ ایک شخص کا یہ قول بالکل صحیح ہے کہ لوتھر کینن کو کسی خاص زمانہ یاں خاص اشخاصکی تصنیفات کا مجموعہ نہیں سمجھتا تھا۔ ہ اسے ایسی کتابوں کا مجموعہ تصور کرتا تھا۔ جن کی علت غائی خدا کی نظر میں یہ تھی کہ بنی آدم کو ایک خاص قسم کی تعلیم دی جا ئے ۔ پس اس مدعا کے مطابق یہ ضروری امر تھا۔ کہ ہر جدا گانہ تصنیف کی حقیقت پر کھنے کا معیار خود اسی کی تعلیم میں پا یا جائے ۔ مگر جیسا ہم پہلے کہہ چکے ہیں ۔ لوتھر نے اس اصول کو عملی طور پر فقط انہیں کتابوں پر چسپاں کیا جو شرو ع ہی سے رسولوں کی تصنیفات ما نی گئی تھیں ۔ اس کی تصنیفات کی راہ میں یہ بڑی بڑی منزلیں نظر سے گزرتی ہیں ۔ سب سے پہلے یعنی الہام اور الہامی کتابوں پر رائے قائم کرنے سے پہلے اس نے مسیح کو قبول کیا۔ قبل ازیں کہ وہ نوشتوں کے بارے میں کسی طرح کی رائے کو اختیار کرے ۔وہ مسیح پر ایمان لا یا اور جب مسیح پر ایمان ل چکا تو اس نے دیکھا کہ مسیح نے بعض اشخاص کو مقرر کیا ہے ۔ کہ اس کی زندگی او رموت اور قیامت اور نزول روح کے بڑے بڑے واقعات پر گواہی دیں ۔ اب اسی ایمان نے جس کے وسیلے سے اس نے مسیح کو سب سے اعلیٰ اورر افضل جا نا تھا ۔ ہاں اسی ایمان نے جس کی صداقت اس کے نتیجوں سے آپ ہی آپ ثابت ہو جا تی ہے ۔ اس کو مجبور کیا کہ اس بات کو تسلیم کرے کہ جو حکم مسیح نے رسولوں کو اپنے صعود سے پہلے دیا تھا ۔ وہ برحق ہے اور اس سے اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ وہ گواہ ہیں ۔ اور محض انہیں کی تقلید کرنا واجب ہے ۔ اب ہم پر بخوبی ظا ہر ہو گیا کہ لوتھر انہیں رسولوں کی کتابوں کو قبول کرتا ہے ۔ مگر ایسی آزادی کے ساتھ کہ اگر ان میں سے کوئی اس بنیادی ایمان کے ذرا بھی خلاف ہوتی تھی ۔ تووہ فوراً اسے رد کر نے کو تیار ہو جا تا تھا ۔ جن کتابوں کی تصنیف کا سوال مشکوک تھا ۔ اور جو شروع ہی سے کین میں جگہ پانے کا دعوے کرتی آئی تھیں۔ وہ ان کا فیصلہ ان کی ذاتی خصوصیتوں کے مطابق کیا کرتا تھا ۔ اگر وہ رسولی تعلیما ت کے ساتھ مطابقت رکھتی نظر آتی تھیں ۔ تو انہیں قبول کر لیا کرتا تھا ۔ اور اگر مطابقت نہیں رکھتی تھیں تو انہیں رد کر دیا کرتا تھا ۔

مگر اس میں یہ نقص نظر آتا ہے ۔ کہ اس اصول کے مطابق بہت کچھ فیصلہ آدمی کو آپ کرنا پڑتا ہے ۔ اگر کوئی چاہتا تو لوتھر پر یہ اعتراض کر سکتا تھا ۔ ’’میں دیکھتا ہوں ۔ کہ یوحنا کی انجیل بہت سی باتوں میں پہلی تین انجیلوں سے مشابہت یا مطابقت نہیں رکھتی ۔ سو جس طرح تم یعقوب کے خط کو اس بنا پر رد کرتے ہو کہ وہ پولس کے خطوط سے مطابقت نہیں دے سکتا تھا ۔ وہ غالباً یہ کہتا ہے کہ میری رائے میں بہتریہی ہے کہ وہ کسی خارجی سبب سے مجبور ہو کر انہیں قبول کرے ۔ جس احساس سے وہ ان کی صداقت کو اپنے لئے آپ محسوس کرتا ہے ۔ کیو نکہ یہ زیبا نہیں ہے کہ وہ کسی خارجی سے سبب مجبور نہیں قبول کرے ۔ اور ہم دیکھتے ہیں ۔ کہ جس طرح وہ خود نڈر ہو کر اپنی رائے پیش کرتا ہے ۔ اسی طرح بار بار اور صاف صاف طور پر اوروں کی آزادی کو بھی تسلیم کرتا ہے ۔ چنانچہ وہ مکاشفات کی نسبت جسے خود قبول نہیں کرتا یوں رقم کرتا ہے ۔ ’’یہ بات ہر ایک شخص کی مرضی پر منحصر ہے ۔ کہ اگر چاہے تو اسے یوحنا کی تصنیف ما نے اور اگر چاہے تو کسی اور کی مانے ۔ اس کو کسی طرح اپنی آزادانہ رائے رکھنے سے رکنا نہیں چاہئے‘‘۔ اسی طرح یعقوب کے خط پر اپنی رائے پیش کرنے کے بعد یہ الفاظ اضافہ کرتا ہے۔ ’’میں تو اس خط کو انجیل کی خاص کتابوں میں شامل نہیں کر سکتا مگر میں کسی کو یہ بھی نہیں کہتا کہ وہ اسے ان میں شامل نہ کرے یا اس کی تعظیم کرنا چھوڑ دے ‘‘۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر ہم ان آرا میں جو اس نے بعض کتابوں کی نسبت قائم کی ہیں ۔ اس سے متفق نہ ہو ں تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیو نکہ وہ خود جانتا تھا ۔ کہ اس قسم کے تخالف پیدا ہوں گے ۔ اور نہ ہی اس کے اصول پر اس قیاس سے کہ اس کے استعمال سے متخالف نتایج پیدا ہوتے ہیں کسی طرح کا حرف آتا ہے ۔

اب جو دھند لاپن کینن کے مسئلہ کے متعلق لوتھر کی تعلیم میں پایا جا تا ہے وہی کالون کے خیا لات میں نظر آتا ہے ۔ وہ اندرونی شہادت کا قائل ہے ۔ مگر باطنی گواہی بھی اس کام کے لئے فیصلہ کن معیار نہیں کہ اس سے ہر لفظ کی جو خدا کے منہ سے نکلا ہے ۔ تصدیق ہو ۔ اسی بات کو دوسری صورت میں یوں کہہ سکتے ہیں ۔ کہ باطنی گواہی بھی اکیلی کینن کے سوال کے حل کرنے کے لئے فیصلہ کن معیا نہیں ہے ۔ بات اصل یہ ہے کہ کالوے نسٹک مصنفوں کے خیال میں کچھ گر بڑی آ گئی تھی ۔ جو اس بات سے پیدا ہو تی تھی ۔ کہ وہ جب جب نوشتوں کے اختیار کے متعلق بات چیت کیا کرتے تھے ۔ تو سارے نوشتوں کو گو یا ایک ہی نوشتہ سمجھا کرتے تھے چنانچہ جب رومن کتھولک ان سے پوچھتے تھے ۔ تم کس طرح جانتے ہو کہ بائبل منجانب اﷲ ہے؟ تو وہ یہ جواب دیا کرتے تھے ۔ ہم اسے اس لئے منجانب اﷲ مانتے ہیں ۔ کہ خدا کی روح ہمارے اندر گواہی دے رہی ہے ۔ کہ وہ اسی کا کلام ہے ۔ مگر یہ اندورنی گواہی بائبل کے نوشتوں کے کینا نیکل ہو نے کا معیار صرف اسی وقت قرار دی جا سکتی ہے۔ جب کہ بائبل ایک ایسی واحد کتاب ہے جس کے حصص میں تقسیم نہ ہو سکے یعنی اس کا ہر ایک حصہ دوسرے حصہ سے ایسا مربوط ہو کر ایک حصہ کے ساقط ہونے سے دوسرا حصہ بھی گر جائے اور اس کے قائم رہنے سے دوسرا بھی اس کے ساتھ قائم رہے ۔

اب اگر بائبل کی تمام تصنیفات کو کینا نیکل ثابت کرنے کے لئے یہ کہنا کافی ہوتا کہ خد کی روح جو مجھ میں پائی جاتی ہے ۔ بائبل کے بطور ایک واحد کتاب کے خدا کا کلام محسوس کرتا ہوں ۔ تو اس حالت میں روح کی یہ باطنی شہادت کافی ہوتی مگر جس بات کی تلاش میں ہم لگے ہوئے ہیں وہ تر ہے ۔ ہی یہی کہ یہ مختلف حصہ کیو نکر ایک کل میں جمع کئے گئے ؟ یو یاں کہیں کہ وہ اصول کیا تھا جس کی بنا پر کلیسیا نے ایک کتاب کو وہاں سے لیا اور یوں سا ری کتابوں کو جمع کر کے ایک کتاب بنا لی ۔ پس سوال اصل یہ ہے کہ وہ کونسا خاصہ یا نشان ہے ۔ جو ہر ایک حصہ میں پا یا جا تا ہے ۔ جس کے سبب سے مختلف حصص اس وقت جب کہ جداجدا کھنڈے پڑے تھے ۔ کینا نیکل نوشتوں کے اجزا سمجھے گئے ۔ ہاں جو سوال حل کرتے ہیں؟ بحث اس بات پر نہیں ہے کہ ہمارے پاس خد اکا کلام ہے یا نہیں ہے ۔ اور نہ اس عام مجموعہ پر بحث ہے ۔ جس میں ہم اس کلام کو پاتے ہیں ۔ بحث اس بات پر ہے ۔ کہ ہم یہ کس طرح جانتے ہیں ۔ کہ عبرانیوں کاا خط یا یہوداہ کا خط یا کوئی اور کتاب خدا کا کلام ہے۔

ویسٹ منسٹرکنفیشن (اقرار نا مہ ) الہام کو کینانسٹی (مجموعہ صحف میں کسی کتاب کو داخل کرنا) کا معیار قرار دیتا ہے ۔ گو صاف صاف لفظوں میں اس بات کا بیان نہیں کرتا ہے ۔ چنانچہ پرانے اور نئے عہد نا مہ کی کتابوں کے نا م رقم کرنے کے بعد وہ یوں کہتا ہے ’’ یہ سب جو خدا کے الہام سے دی گئی ہیں ‘‘۔ اور تیسری دفعہ میں یہ لکھا ہے۔ ’’وہ کتابیں جو عموماً اپاکر افا کہلاتی ہیں ۔ چونکہ خدا کے الہام سے نہیں لکھی گئی ہیں اس لئے کینن آف سکرپچر کا حصہ نہیں ہیں ‘‘۔ اب اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کتابیں الہامی ہیں ۔ وہ کینا نیکل ہیں اور جو الہامی نہیں ہیں وہ کینا نیکل نہیں ہیں ۔ مگر اصل سوال تو پھر بھی بنا رہا اور وہ یہ کہ کنفیشن نہ تو کچھ لکھتا ہے ۔ بلکہ ہماری توجہ ان الہٰی نشانوں اور علامتوں کی طرف راحبع کرتا ہے ۔ جو ان کتابوں کے اندر مو جو د ہیں ۔ اورر پھر اس کے بعد اس بحث کو ان لفظوں سے ختم کر دیتا ہے ۔ ’’نوشتوں کے بے عیب صداقت اور ان کے الہٰی اختیار کے متعلق ہمارا یقین اور ایمان اس روح کے باطنی کام پر مبنی ہے جو ہمارے دلوں میں کلام کے وسیلے اور کلام کے ساتھ گواہی دیتی ہے ۔

اب صرف دو ہی طریق ایسے ہیں جن کے وسیلے سے ہم یہ دریافت کر سکتے ہیں ۔ کہ فلاں کتاب الہامی ہے یا نہیں ۔ پہلا طریق یہ ہے کہ جس طرح ہم کسی کتاب کو پڑھ کر اس کی نسبت ایک رائے قائم کرتے ہیں کہ آیا وہ حماقت کی پڑیا ہے ۔ یا کسی لائق شخص کی لکھی ہوئی ہے ۔ اسی طرح ہم کسی الہامی شخص کی کتاب کو پڑھ کر اس نتیجہ پر پہنچ جا تے ہیں ۔ کہ اس کا لکھنے والا ہدایت الہٰی سے بہرہ ور تھا۔ یعنی اس کتاب کا مضمون ہی ایسا ہو گا کہ ہم اس سے دو چار ہوتے ہی محسوس کرنے لگ جائیں گے کہ ہم ایک ایسی کتاب پڑھ رہے ہیں ۔ جس کا مصنف خدا بھی ہے ۔ اور انسان بھی ہے ۔ دوسرا طریقہ کسی کتااب کے الہامی ماننے کا یہ ہے کہ ہم مسیح پر ایمان لا نے کے سبب سے اس بات کو مانیں کہ اس نے بعض اشخاص کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اس کے نا م اور اختیار اور روح سے کلام کریں ۔ اور جب ایسے لوگوں کی کتابیں جن کی اصلیت میں کسی طرح کا احتمال نہیں ہو تا ۔ ہمارے ہاتھ میں آتی ہیں ۔ تو ہم بشرطیکہ ہم مسیحی ہوں انہیں قبول کر لیتے ہیں ۔ کہ وہ الہامی ہیں ۔

لیکن بائبل میں تو ایسی کتابیں بھی پا ئی جاتی ہیں ۔ جن کا الہامی ہو نا ان طریقوں میں سے کسی طریقہ سے بھی ثابت نہیں ہو سکتا ۔ ہاں بائبل میں ایسی کتابیں ہیں جن کی نسبت ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی نبی یا رسول یا کسی اور مقرر کئے ہوئے شخص کی لکھی ہوئی ہیں ۔ مثلاً پہلی اور دوسری تواریخ ۔ آستر ایوب اور واعظ کو ئی نہیں جانتا کہ ان کتابوں کو کس نے لکھا ۔ پس الہام کی تحقیق کا ایک طریقہتو ان کتابوں کے متعلق بیکار ہو گیا ۔ باقی رہا دوسرا طریقہ یعنی باطنی گواہی کا طریقہ اس کی نسبت یہ کہا جا سکتا ہے ۔ کہ اگر آستر کی کتاب جان ادون کو بھی کینن کے باہر پڑی ہوئی ملتی تو وہ بھی نہ جان سکتا کہ وہ الہامی ہے ۔ پس ہم آستر جیسی کتاب کا کینن میں شامل کیا جا نا کس بنا پر برحق مانیں کیو نکہ نہ اس کتاب کا مصنف ہی معلوم ہے اور نہ اس کے الہام کے بارے میں اندرونی گواہی ہی بڑی صاف شہادت پیش کرتی ہے ۔

اب یہ کہنا کہ ہم آستر کی کتاب کو اس لئے قبول کرتے ہیں ۔ کہ یہودیوں نے اسے قبول کر لیاتھا ۔ وہی بات ہے ۔ ج رومن کتھولک مانتے ہیں ۔ اور وہ یہ کہ ہم کتب الہامی کے مجموعہ کو فقط کلیسیا کے ہاتھ سے لیتے اور اسی کے حکم سے قبول کرتے ہیں ۔ اور اگر ہم یہ کہیں کہ جن بزرگوں نے ان کتابوں کے مجموعہ کو مرتب کیا وہ ملہم تھے تو ہم ایک ایسے دعوے کو پیش کرتے ہیں ۔ جسے پای ۂ تکمیل تک پہنچانا بڑا مشکل کا م ہے ۔ ہماری رائے میں ایسا دعوے کرنا ایک لغوبات کو پیش کرنا ہے ۔ کیو نکہ ہم جانتے ہیں ۔ کہ پرانے عہد نا مہ کے کینن کے متعلق (۱۸۹۶ء ؁) تک بحث کا بازار گرم رہا ۔ پس ہم اس قسم کی کتابوں کا صحف انبیا ء میں شمار کیا جا نا کچھ کچھ اسی بنا پر درست مان سکتے ہیں ۔ جو بنا لوتھر نے پیش کی تھی ۔اور وہ یہ کہ اگر مکاشفہ کی اصل غرض کے ساتھ ان کتابوں کی مطابقت ہو تو ہم انہیں قبول کریں گے ورنہ رد کر دیں گے ۔ اگر کینا کی کتابوں سے ہماری مراد ایسی کتابیں ہیں جن کے وسیلے سے خدا ہمیں اس کشف کا علم بخشتا ہے ۔ جو اس نے مسیح میں مرحمت فر ما یا ہے ۔ ہاں اگر کینا نیکل صحائف کی نسبت ہمارا یہی خیال ہو اورر اگر ان کتابوں کا ایمان اور عمل کے لئے دستور العمل ہو نا اس قیاس کا ایک لازمی نتیجہ سمجھا ئے تو کینن کی تدوین کے لئے ہمیں ایک وسیع اصول دستیاب ہو جا تا ہے ۔ اور ہم اس میں ا یسی سب کتابیں جو کینا نیکل ہو نے کا دعویٰ لے کر ہمارے پاس آتی ہیں ۔ شامل کر سکتے ہیں بشرطیکہ ان کا تعلق خدا کے اس مکاشفہ کے ساتھ جو مسیح میں بخشا گیا ہے ۔ صا ف صاف طور پر نظر آئے ۔ اگر کوئی ایسا خاص موقع ہماری آنکھوں کے سامنے لاتی ہے ۔ جس میں خدا کے عجائب کا م جو اس نے اپنے بندوں کے لئے کئے مشاہدے سے گزرتے ہیں ۔ یا وہ ترقی نظر آتی ہے جو اس کے بندوں نے ان عجائب کاموں کے بعد کی ۔ اور اگر اس میں کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی جو الہام کے تصور سے نامطابقت رکھتی ہو تو وہ کتاب کینن آف سکرپچر میں داخل کی جا سکتی ہے ۔ یعنی اس کینن میں داخل ہو نے کا دعوے قبول کیا جا سکتا ہے ۔پس ہم یہ کہنے کو تیار ہیں کہ دو باتیں ہیں جن کے سبب سے کوئی کتاب کینن میں داخل ہو نے کے قابل سمجھی جا سکتی ہے اور یہ وہ ہیں ۔

اول :۔اس کا مکاشفہ کے اصل مقدس کے ساتھ مطابقت رکھنا۔

دوم:۔ اس تعلق کا خدا کے مکاشفے کے تاریخی اظہار میں تاریخی تعلق کی صورت میں صاف صاف نظر آنا ۔

اب معترض یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر آستر جیسی کتاب کھوئی جا ئے تو کوئی لازمی جز و کتابم قدس کا تلف نہ ہو گا ۔ یا اگر چند زبور گم ہو جائیں تو اس سے بھی کوئی بڑا ضروری حصہ کھویا نہیں جا ئے گا ۔ لیکن ایسا دعوے ٰ کرنا گو یا یہ کہنا ہے کہ اگر کسی آدمی کی انگلی کا کوئی جوڑ جا تا رہے یا پاؤں کا انگوٹھا کٹ جا ئے ۔ تو اس کا کوئی ضروری حصہ ضائع نہیں ہو گا ۔ اس میں شک نہیں کہ اس قسم کا آدمی جی سکتا ہے۔ اور اپنا کا م بھی کر سکتا ہے۔ مگر اس کا بدن سالم کا کامل نہ رہا ۔ جسم کے بہت سے حصہ ایسے ہیں جنکینسبت یہ بتا نا کہ وہ کیوں اپنی اپنی جگہ پر لگائے گئے ہیں مشکل کا م ہے ۔ اور نہ ہم ان کی بابت یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ کیوں ایسے ہیں ۔ جیسے کہ وہ ہیں ۔ تا ہم یہ صاف ظاہر ہے کہ خدا نے انہیں ان کی جگہ پر لگا یا ۔ اور ان کا وہاں نہ ہو نا جسم کی کج پر دلالت کرتا ہے ۔ یہی حال بائبل کا ہے ۔ ممکن ہے کہ ہم یہ نہ بتا سکیں کہ فلاں فلا ں خاص حصے کا کل کے ساتھ کیا تعلق ہے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ صدق دلی سے ہمارا خیال ہو کہ اگر فلاں فلاں ٹکڑا اس میں سے نکل جا ئے تو اس میں کوئی نمایاں نقص پیدا نہیں ہو گا تا ہم یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ میں اس کینن میں اضافہ کر کے اسے زیادہ عمدہ بنا سکتا ہوں ۔ یا فضول حصوں کو نکال کر اس کو بہتر صورت میں لا سکتا ہوں وہ بڑا کو تہ اندیش اور جلد باز آدمی ہے ۔

اب اس ساری بحث سے ذیل کے خیا لات جمع کئے جا سکتے ہیں۔

۱۔ جب کلیسیائیں اس مضمون پر بحث کریں تو انہیں بڑی احتیاط سے کام لینا چاہئے ۔ کبھی ایسا دعویٰ نہیں کرنا چاہئے ۔ جس سے یہ ظاہر ہو کہ کینن آف سکرپچر ایسی کتابوں کا مجموعہ ہے جن میں سے ہر ایک کی نسبت کلی فیصلہ ہو چکا ہے کہ اس کی نسبت ہر ذرا ذرا سی بات پورے پورے طور پر دریافت ہو چکی ہے ۔ اور یہ کہ چھان بین ایسے صاف صاف اصولوں پر مبنی ہے کہ وہ کتاب غیر کینا نیکل صحائف سے ہر طرح امتیاز کی جا سکتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نئے عہد نا مہ کی بہت سی کتابیں ہمارے پاس ایسی عالمگیر شہادت اور گواہی کے ساتھ آئی ہیں کہ انہیں رد کرنا گو یا مسیح کے اختیار کو رد کرنا ہے مگر چند ایسی بھی ہیں جن کی نسبت ایسا کلی اتفاق قدیم زمانہ میں نہ تھا ۔ پس ہمیں اس بات کے ماننے کے لئے تیار رہنا چاہئے کہ بہت سی کتابیں کینن میں ایسی ہیں جو عالمگیر اتحاد سے قبول کی گئی ۔ مگر نئے عہد نا مہ کی سات کتابوں کی نسبت کسی قدر شک و شبہ نے قدما ء کے خیال میں راہ پائی ۔ ہماری رائے میں چلنگ ورتھ کا خیال جو پراٹسنٹڑم کا بڑا معاون سمجھا جا تا ہے ۔ غور کے قابل ہے ۔ وہ کہتا ہے ۔ کہ ’’میں ان متنازعہ فیہ کتابوں کو بھی رسولوں کی تصنیف اور کینا نیکل مان سکتا ہوں ۔ مگر میں یہ دعوےٰ ان کی نسبت ایسی پختگی کے ساتھ نہیں کر سکتا جیسی پختگی کے ساتھ ان کتابوں کی نسبت کر سکتا ہوں ۔ جن پر کسی طرح کا اعتراض کبھی نہیں ہوا ہے ۔ پس میں کسی شخص پر جو ان پر شک لا تا ہے یا انہیں قبول نہیں کرتا ہے ۔ فتویٰ نہیں دے سکتا ۔ کیو نکہ میرے سامنے ان بزرگوں کا نمونہ ہے ۔ جو آسمان آرام میں داخل ہو گئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اگر چاہوں تو شک کرنے والوں کے شک اور انکار کر نے والوں کے انکار کو مناسب سمجھوں ۔ اور اگر چاہوں تو اس سے در گزر کروں‘‘۔ یہی خیال لوتھر اور دیگر مصلحوں کا تھا اور ہماری دانست میں یہ افسوس کی بات ہے کہ لوگوں نے اس خیال کو اب ترک کر دیا ہے ۔ یہ تو کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے جس کے سبب سے ہمیں نوحہ کرنا چاہئے ۔ بلکہ برعکس اس کے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ کم معتبر کتابوں کو ان کتابوں کے ساتھ ملا دینے سے جو پورے پورے طور پر معتبر سمجھی گئی ہیں یہ نتیجہ پیدا ہو گیا ہے کہ جو لوگ معتبر کتابوں کی تاریخ سے ناواقف ہیں وہ ان کو بھی نا قا بل اعتبار سمجھنے لگ گئے ہیں ۔

۲۔ پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ عام پراٹسٹنٹ لوگوں کو کینن کے سوال کے متعلق کو نسا پہلو اختیار کرنا چاہئے ۔ بعض اوقات رومن کیتھولک لوگ بڑی نا دا نی سے ہم پر طعن کر کے کہا کرتے ہیں کہ ہر ایک پراٹسٹنٹ کو خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا نہ ہو کینن کا فیصلہ اپنے لئے آپ کرنا چاہئے ۔ یہ طعن ایک خادم خیالی پر مبنی ہے ۔ بیشک یہ تو ضرور ہر ایک پراٹسٹنٹ کا حق ہے کہ وہ ان دلائل کو آزمائے جن کی بنا پر ہماری کتابیں کینا نیکل قبول کی گئی ہیں ۔ اور جس قدر زیادہ لوگ اس حق کو کام میں لائیں اسی قدر اچھا ہے ۔ پر اگر یہ حق استعمال نہ کیا جا ئے تو اس سے یہ نیتجہ نہیں نکلتا کہ انہوں نے اپنے حق کو ترک کر دیا ہے ۔ پراٹسٹنٹ لوگ کینن کو اسی طرح قبول کرتے ہیں جنہوں نے تحقیقات کے مرحلوں کو طے کیا ہے ۔ ممکن ہے کہ ہم نے سکندر کے ہندوستان پر حملہ آور ہو نے کی گواہیوں پر خود کبھی غور نہیں کیا ہے ۔ تو بھی ہم اس واقعہ کو ان لوگوں کی شہادت پر جو تواریخی واقعات سے بخوبی واقف ہیں قبول کرتے ہیں ۔ اب کیا اس سے ہمارا حو جو وہ ہم تواریخی واقعات کی چھا بین کے متعلق رکھتے ہیں ہم سے چھین جا تا ہے ۔ نہیں کیو نکہ اگر ضرورت ہو تو ہم اسے کام میں لا سکتے ہیں ۔ سی طرح کینن کے متعلق بھی عام لوگ اصلاح یا فتہ کلیسیا ؤ ں کے فیصلہ کو قبول کرتے ہیں ۔ کیو نکہ ان کو اس بات کا یقین ہے کہ ان مباحثوں اور تحقیقات کے بعد جن میں علما ء کو مصروف ہونا پڑا جو نتائج برآمد ہو ئے وہ مغالطہ وہ نہیں ہیں ۔ مگر اس کے ساتھ ہی وہ اس حق کو بھی اپنے ہاتھ سے جا نے نہیں دیتے کہ اگر ضرورت ہو توخود اس مضمون کی تحقیق کریں ۔ اور نہ وہ ایک لمحے کے لئے یہ خیال کرتے ہیں ۔ کہ کلیسیا کا فیصلہ ہم کو مجبور کرتا ہے کہ ہم بعض کتابوں کو ضرور من عند اﷲ سمجھیں ۔ پس جب کوئی پراٹسٹنٹ کلیسیا کا فیصلہ قبول کرتا ہے تو وہ اسی طرح کرتا ہے جس طرح کہ وہ انجینروں اور ڈاکٹروں اور دیگر اشخاص کا فیصلہ قبول کرلیتا ہے ۔ جو اپنے اپنے کام میں ماہر سمجھے جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مانتا ہے کہ یہ فیصلہ لائق اور قابل اشخاص کے بہت سے غور وفکر کے بعد کیا گیا ہے ۔ مگر رو من کیتھولک اپنی کلیسیا کے فیصلہ کو بمنزلہ ایک حکم یا ایک قانون کے سمجھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ وہ وضع ہی اسی واسطے کیا گیا ہے کہ کلیسیا چاہتی ہے کہ وہ ما نا جائے ۔ پس رومن کیتھولک اسے علما کی تحقیق کا نتیجہ سمجھ کر قبول نہیں کرتا ۔ اس کو کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ کہ وہ کلیسیا کے فیصلہ کی نکتہ چینی کرے ۔ اس کا اعتقاد یہ ہے کہ کلیسیا کو اختیار ہے کہ جس کتاب کو چاہے کینا نیکل بنائے ۔ مگر برعکس اس کے پراٹسٹنٹ یہ ما نتا ہے کہ قطع نظر کلیسیا کے فیصلہ کے ہر ایک کینا نیکل کتاب کے اندر وہ کچھ پا یا جا تا ہے جس کے سبب سے وہ کینا نیکل ہو نے کا استحقاق رکھتی ہے ۔ ان دو واضح اور بین باتوں کو آپس میں غلط ملط کر دینا تو جہالت پر دلالت کر تا ہے ان پر یا بعض پر۔

۳۔ پھر وہ طنزاً ہمیں یہ بھی کہاکرتے ہیں کہ دیکھو ہر شخص کو اختیار دینے سے کیسا برا نتیجہ برآمد ہوا ہے ۔ کہ لوگ کبھی آپس میں متحد نہیں ہوتے بلکہ الہامی کتابوں کی نسبت طرح طرح کی مختلف آرا رکھتے ہیں ۔ ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ اس قسم کے معاملات کو ہر ایک کی تحقیق کے لئے کھلا چھوڑ دینے سے بہت فوائد منتج ہو تے ہیں ۔ کیو نکہ اس سے تحقیق کرنے کی عادت کو اشتعال دیا جا تا ہے اور اس اشتعال کا نتیجہ یقیناًایک دن یہ ہو گا کہ سچائی دنیا کی آنکھوں کے سامنے آپ ہی آپ روشن ہو جائے گی بھلا اس اتحاد سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے ۔ جو لوگوں کی آنکھیں اور منہ بند کر کے وجود میں لا یا جاتا ہے؟ وہی اتحاد فائدہ مند ہے جسے سچائی خود پیدا کرتی ہے ۔ اور اتحاد فقط ایک پر جوش اور پر تعظیم اور سچائی کی تلاش کرنے والی تحقیق سے پیدا ہو تا ہے ۔ ہماری رائے میں لوتھر کا یہ خیال صحیح تھا ۔ کہ بعض کتابوں کی نسبت تو اختلاف آرا ہمیشہ قائم رہے گا ۔ لیکن نئے عہد نا مہ کا بہت سا حصہ ۔ یعنی اناجیل اور اعمال کی کتاب اور پولس رسول کے خطوط اور مقدس پطرس کا پہلا خط اور مقدس یوحنا کا پہلا خط ایسی کتابیں ہیں جن کی نسبت آخر کار کسی طرح کا اختلاف نہیں رہے گا ۔ جیسا کہ قدیم کلیسیا کے زمانہ میں نہ تھا ۔ لوگ شیکسپئیر کی کاب مو سو مہ ہیلمٹ کی تصنیف کے با رے میں کسی طرح کی جحت نہیں کرتے اور۴ نہ اس قدر و منزلت پرچون و چرا کرتے ہیں جو اس کتاب کو حاصل ہے ۔ اب یہی حال کینا نیکل کتابوں کا ہو گا ۔ یعنی لوگوں کی شخصی را ئے اور نکتہ چینی کرنے کی آزادی سے ان کتابوں کے متعلق لوگوں کے درمیان اختلاف رائے پیدا نہیں ہو گا بلکہ جتنا اب مو جو د ہے وہ بھی دور ہو جا ئے گا۔ اور لوگوں کی راہنمائی حقیقی اتحاد کی طرف کی جا ئے گی۔

۴۔ آخری بات قابل غور ہے کہ صحیح پراٹسٹنٹ ترتیب یہ ہے۔ پہلے مسیح پر ایمان ۔ بعد ازاں کلام پر ایمان ۔ ہمارا ایمان جو مسیح پر ہے ۔ وہ ہمارے نوشتوں کے ایمان پر مبنی نہیں ۔ بلکہ برعکس اس کے ہمارا نوشتوں کو ماننے والا ایمان ہمارے اس ایمان پر قائم ہے جو ہم مسیح پر رکھتے ہیں ۔ بے شک ہمارا وہ ایمان جو ہم مسیح پر رکھتے ہیں نو شتوں پر بحیثیت سچی تاریخ ہو نے کے قائم ہو سکتا ہے ۔ نہ کہ اس اعتبار سے کہ وہ الہامی یا کینا نیکل ہیں ۔ وہ جو ایمان کو پیدا کرتا ہے ۔ مسیح سے خواہ وہ ایمان نوشتوں کی تلاوت سے پیدا ہو ۔ خواہ منادی کے وسیلے سے پیدا ہو ۔ یہی قدیم زمانہ میں ہوا اور یہی اب ہو تا ہے۔ وہی شخص سچا پراٹسٹنٹ ہے جو یہ جانتا ہے کہ خدا مجھ سے مسیح میں بو لا اور کہ یہ بات کسی کلیسیا کے مبرا عن الخطا فیصلے پر قائم نہیں اور نہ نوشتوں کے اختیار پر مبنی ہے ۔ ہمیں مسیح کے اعلیٰ اور آخری اختیار کو اس سے لیکر نوشتوں کو نہیں دینا چاہئے۔

تیسرا باب

مکاشفہ

اگر بائبل خدا کا کلام ہے ۔ اگر وہ اس مکاشفہ کا جو خدا نے اپنی ذات و صفات کے متعلق ظاہر فر ما یا ہے ایک وسیلہ اور لکھا ہوا بیان ہے ۔ تو یہ نتیجہ منتج ہوتا ہے ۔ کہ جس قدر ہم لفظ مکاشفہ کا طلب زیادہ دریافت کریں اسی قدر ہم بائبل کو زیادہ اچھی طرح سمجھ سکیں گے ۔ یہ مضمون ایک ایسا مضمون ہے جسے طرح طرح کے مباحثوں نے نہایت مشکل اور سخت پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ مگر شکر ہے کہ اس پر اب زیادہ زیادہ روشنی رفتہ رفتہ گرتی ہے ۔ اس وقت ہم جہاں تک ممکن ہو گا غیر ضروری بحث کی الجھنوں سے بچ کر مفصلہ ذیل باتوں پر غور کریں گے ۔

۱۔ مکاشفہ کا کیا مطلب ہے ؟

۲۔ کیا مکاشفہ ممکن ہے ؟

۳۔ کیا کبھی خدا نے اپنے مکاشفہ سے اپنے بندوں کو ممتاز فر ما یا ہے ۔ اگر اس قسم کا مکاشفہ بخشا گیا ہے تو کہاں ہے ؟

۴۔ کس طریقہ سے وہ مکاشفہ بخشا گیا ہے ؟

۵۔ کس غرض یا مقصد کو پورا کرنے کے لئے بخشا گیا ہے ؟

اول ۔

ہمیں یہ دریافت کرنا چاہئے کہ جب ہم اس لفظ مکاشفہ کو استعمال کرتے ہیں کیو نکہ یہ لفظ مکاشفہ (Revelation) انگریزیزبان میں مختلف معنوں میں استعمال کیا جا تا ہے ۔ بعض وقت اس سے یہ مراد ہو تی ہے ۔ کہ خدا بلا وساطت کسی خارجی وسیلے کے اپنی صداقت اپنے رسول کے دل پر ظاہر کر دیتا ہے ۔ اس کی مثال پولس رسول کا وہ قول ہے جس سے یہ دعوےٰ ٹپکتا ہے کہ اس نے اپنی انجیل یسوع مسیح کے مکاشفہ کے وسیلے پائی تھی ۔ بعض اوقات اس لفظ کا اطلاق کسی ایسے خارجی ظہور یا واقعہ پر بھی ہو تا ہے ۔ جس کے وسیلے سے خدا کا پیغام یا سچائی دل پر منکشف کی جا تی ہے ۔ اٹھارہویں صدی میں نیچر اور مکاشفہ کے مذہب میں جوا متیازکیا جا تا تھا ۔ اس کے سبب سے ایک خاص قسم کے معنی اس لفظ پر چسپاں ہو گئے تھے ۔ یعنی اس سے وہ عرفان الہٰی مراد لیا جا تا تھا جو نیچر کے وسیلے سے نہیں بلکہ فقط خد اکے کسی فوق العادت فعل کے ذریعے حاصل ہو تا ہے ۔ چنانچہ بٹلر صاحب فرما تے ہیں ’’بعض یہ کہہ کر کہ نیچر سے جو روشنی دستیاب ہو تی ہے ۔ وہ کافی ووافی ہے ہر طرح کے مکاشفہ کو قصداً ترک کر دیتے ہیں ۔ گو یا کہ مکاشفہ بذاتہ نا قابل الیقین ہے یا یوں کہیں کہ وہ ایک ایسی شے ہے جو کچھ حقیقت نہیں رکھتی پر یہ صاف ظاہر ہے کہ اگر نیچر کی روشنی اس قدر کا فی ہو تی کہ مکاشفہ کی ضرورت نہ رہتی یا اس کا دیا جا نا فضول ثابت ہو تا تو کوئی مکاشفہ نہ دیا جاتا‘‘۔ اب یہاں ہم دیکھتے ہیں ۔ کہ لفظ مکاشفہ کرسچنیٹی (مسیحیت ) اور یہودی مذہب کا جو مسیحی مذہب کا گو یا ایک دیباچہ تھا ۔ مترادف قرار دیا گیا ہے ۔ یوں اس لفظ کو بائبل پر چسپاں کر کے اس سے یہ مراد لی ہے کہ گو یا با ئبل میں مکاشفہ الہٰی کی جڑ اور تاریخ قلمبند ہے لیکن اس سے اصل خیال میں کسی قدر گڑبڑی پڑ جا تی ہے ۔

ہماری رائے میں اس لفظ کا یہ استعمال بہت وسیع نہیں ہے ۔کیو نکہ اس سے یہ ظاہر ہو تا ہے ۔ کہ خدا نے اپنے تئیں ان لوگوں پر جو حلقہ عیسویت سے باہر ہیں ظاہر نہیں کیا یا یوں کہیں کہ اس نے اپنے تئیں خلقت میں ظاہر نہیں کیا کہ سوائے یہودی اور مسیحی حلقوں کے اس نے اور سب مسیحی حلقوں میں اپنے آپ کو بغیر گواہ کے چھوڑ دیا ہے ۔ ہمارے خیال میں وہ فرق جو مسیحی دین اور دیگر ادیان میں پا یا جا تا ہے ۔ زیادہ اچھی طرح سے ظاہر ہوا۔ اگر ہم مسیحی دین کو کامل مکاشفہ اور دوسرے ادیان کو نا کامل مکاشفہ کہیں ۔ انگریزی الفاظ ریویلڈ (Revealedہو جو ظاہر کیا گیا ہے ) اور نیچرل سے یہ فرق صفائی سے ظاہر نہیں ہو تا ۔ کیو نکہ ہر ایک مذہب کی تہ میں خدا کا کچھ نہ کچھ ظہور یا علم مو جو د ہو تا ہے خواہ وہ علم خفیف نہ ہی سا کیوں نہ ہو۔ اور وہ علم فقط اسی خدا کی طرف سے ملتا ہے جو اپنے آپ کو کسی نہ کسی طرح سے ان میں مذہب کے ماننے والوں پر ظاہر کر چکا ہے ۔ پاسکل صاحب کے الفاظ نہایت پر مطلب اور پر صداقت ہیں ۔ ان سے معلوم ہو تا ہے ۔ کہ گویا خدا فر ما تا ہے کہ ’’تو مجھے ہر گز نہ ڈھونڈتا اگر تو نے ڈھونڈنے سے پہلے مجھے نہ پا یا ہوتا۔‘‘ پس خدا کے وہ تمام تصورات کو مختلف اقوام میں پا ئے جا تے ہیں گو یا اس بات کی گواہی ہیں کہ خدا کسی نہ کسی صورت میں اپنے تئیں ان اقوام پر ظاہر کرتا رہا ہے ۔ پس لازم ہے کہ لفظ مکاشفہ کو اس کے پورے اور ٹھیک معنی دئیے جائیں۔ جن سے ظاہر ہو کہ خدا نے اپنے تئیں انسان پر ظاہر کر دیا ہے ۔ خواہ اس کا یہ کشف انتظام فطرت کے وسیلے ہوا ہو خواہ فوق العادت اظہارات کے وسیلے ہوا ہو ۔ خواہ وہ قائل کرنے والی صفائی کی بہتات کے ساتھ ہوا ہو ۔ خواہ خدا کی حضوری کے دھندلے ظہور وں کے ساتھ ہوا ہو ۔

اٹھارہویں صدی میں ایک اور غلط تصور متعلق مکاشفہ کے پا یا جا تا تھا ۔ لوگ سمجھتے تھے کہ مکاشفہ سے مراد صرف یہ ہو تی ہے ۔ کہ بعض صداقتیں انسان کے ذہن پر ظاہر کر دی جائیں اور بس۔ اس میں شک نہیں کہ الہٰی صداقتیں مکاشفہ کے وسیلے ظاہر کی جاتی ہیں ۔ لیکن سترہویں صدی میں بائبل ڈاگمار(عقیدے یا مسائل ) کے ثابت کر نے کے لئے اسی قدر ٹکسٹ بک (Textbook ) کے طور پر استعمال کی جاتی تھی کہ لوگ یہ سمجھنے لگ گئے تھے کہ بائبل کا کام ہی صرف یہی ہے ۔ اور کبھی یہ دریافت نہیں کرتے تھے کہ آیا کوئی اور اعلیٰ اور بہتر مقصد بھی ہے ۔ جسے بائبل پورا کر سکتی ہے ۔ لوگ بائبل اور الہام دونوں کو ایک ہی بات سمجھتے تھے ۔ اور یہ فرض کر بیٹھے تھے کہ مکاشفہ کا مقصد فقط یہی ہے کہ صرف سچائی (یعنی دینی مسائل یا عقائد ) اس سے ظاہر ہوں حا لا نکہ مکاشفہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ خدا کو ظاہر کرے ۔ لوگوں کے درمیان مکا شفہ کی ضرورت کی بابت اور نیز ان باتوں کی نسبت جن کا مذکور اس میں پا یا جا تا ہے ۔ بہت ہی اختلاف رائے دیکھنے میں آ تا تھا ۔ بعض لوگوں کا گمان تھا کہ بائبل میں ہر طرح کا علم ملتا ہے ۔ کہ ہر طرح کے سائنس اور علم مابعد الطبیعت کے راز اس کے صفحات میں نہاں ہیں بائبل کی ہر بات خواہ وہ کسی معاملہ کے متعلق کیوں نہ ہو الہام ہی سمجھی جاتی تھی ۔ مثلاً کلووی اس کہا کرتا تھا کہ ’’ کون کو پر نی کس کے اختیار کو خدا کے اختیار پر ترجیح دینے کی جرات کر سکتا ہے ؟‘‘ بعض لوگ بائبل کے معلمانہ کام کو محض ان صداقتوں پر محدود کر دیتے تھے ۔ جو خدا اور بقا اور فرائض کے ساتھ علاقہ رکھتی ہیں ۔ ویسٹ منسٹر شار ٹرکیٹی کزم (سوال و جواب کی چھوٹی کتاب جو ویسٹ منسٹر میں تیار ہوئی ) میں اس سوال کا کہ نوشتے خاص کر کیا سکھاتے ہیں ؟ ذیل کا جواب دیا گیا ہے جو مطلب سے پر ہے ۔ ’’نوشتے خاص کر وہ باتیں سکھاتے ہیں جو انسان کو خدا کی نسبت اور ان فرائض کی نسبت ماننی چاہئیں جو خدا اس سے طلب کرتا ہے ‘‘۔ اب اس سے بہتر کوئی جواب سوال مذکورہ بالا کو نہیں دیا جا سکتا ۔ لیکن ان ایام میں نوشتوں کے متعلق یہ سوال سب سے مقدم یا سب سے ضروری نہیں سمجھا جا تا ۔

اگر ہم بائبل پر بخوبی غور کریں تو ہمیں معلوم ہو جا ئے گا کہ بائبل علم الہٰی کی ٹکسٹ بک نہیں ہے اور نہ وہ اس غرض کواچھی طرح پورا کر سکتی ہے ۔ انسان کی ساری تاریخ میں جو الہٰی مکاشفے یا اظہارات بخشے گئے ہیں ۔ ا ن سے خدا کا یہ مقصد نہ تھا کہ انسان علامہ علم الہٰی بن جائے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو بنی آدم پر آشکارہ کرے ۔

ہاں اس کی غرض یہ نہ تھی کہ وہ ہمیں مشکل رازوں اور فعل مختار مرضی ۔ اور برگزیدگی اور آئندہ حالت کے بھیدوں سے کما نیبغی طور پر آ گا ہ کرے ۔ اس کی یہ غرض تھی کہ وہ ہمیں اپنی حضوری اور اپنی پاکیزگی اور اپنی محبت کی واقفیت سے ما لا مال کرتے ۔ پس بائبل کوئی الہامی سوال و جواب کی کتاب نہیں ہے ۔ اور نہ وہ کسی تھیولوجیکل یعنی علم الہٰی کے عقیدے کا رسالہ ہے ۔ وہ ان عظیم الشان باتوں کا ایک طومار ہے ۔ جن کے وسیلے سے خدا نے اپنے آپ کو بنی آدم پر ظاہر فر ما یا ہے ۔ اور چونکہ یسوع مسیح خدا کا وہ کامل مکاشفہ ہے جو دیگر سب مکاشفات کو اپنے میں شامل رکھتا اور ان سے بدرجہا بڑھ کر ہے لہذا مناسب ہے کہ ہم بائبل کو یا تو یسوع مسیح کی تیاری یا اس کا مظہر اور شرح سمجھیں ۔

پس لفظ مکاشفہ بائبل کا مترادف نہیں ہے ۔ اور گرچہ اس کا مطلب اظہار صداقت بھی ہو سکتا ہے ۔ اور لا ریب وہ صداقت کو ظاہر کرتا ہے ۔ تا ہم سب سے اول اور مقدم مطلب اس کا یہ ہے کہ خدا اپنے آپ کو انسان پر ظاہر فر ما تا ہے ۔

۲۔ مکاشفہ کا امکان

مکاشفہ کے امکان پر بحث کر نا غیر ضروری امر ہے ۔ کیو نکہ وہ لوگ جو خدا کی ہستی کے قائل ہیں وہ خواہ کسی فرقے کے کیوں نہ ہوں مکاشفہ کے امکان کا انکار نہیں کر سکتے ۔ وہ خدا کے قائل ہی اسی لئے ہیں کہ وہ دنیا کی تہ میں ایک ایسی روح کو محسوس کرتے ہیں جو زندگی اور مقصد رکھتی ہے ۔ ان کو یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ خدا ہر شے کے وسیلے جس سے ہم اس دنیا میں مس رکھتے ہیں اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے ۔ بے شکپولس یہ کہتا ہے ۔ کہ دنیا نے اپنی دا نا ئی سے خدا کو نہ جا نا مگر اس سے اس کا مطلب نہ تھا کہ دنیا کو خدا کا کسی طرح کا علم بھی حاصل نہیں ہو ا ہے۔ اس کا مطلب فقط یہ تھا کہ دنیا نے اپنی حکمت سے خدا کا وہ کامل علم حاصل نہ کیا جو ہمیں مسیح میں دستیاب ہو تا ہے۔ مگر میکس مولر دوسری طرف یہ کہہ رہا ہے کہ یہودی اور مسیحی دین سے الگ بھی لوگوں نے خدا کا اعلیٰ تصور یا علم حاصل کیا ہے ۔ مگر یہ ایک ایسے شخص کا مبالغہ ہے جس کے دل میں ایک دل پسند مضمون کے مطالعہ کے سبب سے طرفداری پیدا ہو گئی ہے ۔ حقیقت حال یہی ہے کہ دنیا نے مسیح سے لاگ ہو کر کبھی خدا کا اعلیٰ تصور حاصل نہیں کیا ۔ جو کچھ دنیا نے خدا کی نسبت کیا ہے وہ صرف اتنی بات کا اقبال ہے کہ خدا مو جو د ہے اور دنیا میں حاضر و ناظر ہے ۔ ہاں تھی ازم فقط اس بات کے اقرار کا نا م ہے کہ اس دنیا میں ایک مقصد اور اس مقصد کو تجویز کرنے وا لا اور اس کو پورا کرنے وا لا شخص موجو د ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ خدا نے اپنے آ پ کو مطابق دن بدن کھلتا جاتا ہے ۔ اور نیز یہ امر روز بروز روشن ہو جا تا ہے ۔ کہ نیچر کے تمام اجزا ایک ہی مقصد کو پو را کرنے کی طرف مائل ہیں اور تمام معتقدان ہستی خدا اس بات کو مان رہے ہیں کہ فطرت کی اس باہمی مطابقت کا تسلی بخش حل صرف یہی ہو سکتا ہے کہ دنیا میں ایک قسم کا مقصد مسلط ہے ۔ اور اسی طرح وہ جبلی اسرا سج کے سبب سے انسان باوجود طرح طرح کی رخنہ اندازیوں کے اخلاق کے ایک کامل نمونہ کا خیال کبھی نہیں چھوڑتا بلکہ اسے ہمیشہ پکڑے رہتا ہے ۔ اور اس نمونہ کو دیکھ کر اسے یہ یقین ہو تا ہے کہ میں بھی اس نمونہ کی مانند بن جا ؤں گا۔ پس ان باتوں میں یعنی فطرت کی مطابقت اور ترقی میں اور انسان کے ایک کامل اخلاقی نمونہ کے تصور میں ۔ ان دو باتوں میں خاص کر معتقدان ہستی خدا کو اس عقیدے کی کہ خدا نے اپنے تئیں انسان پر ظاہر فرماتا ہے ۔ ایک قاطع دلیل ملتی ہے ۔

برعکس اس کے خدا کے مکاشفے کے امکان کا انکار کرنا گو یا مذہب کے امکان کا انکار کرتا ہے ۔ یا مذہب کوایک دھوکا سمجھنا ہے ۔ پرنسپل فیر برن صاحب فرما تے ہیں ۔ ’’کہ مکاشفے کا تصور ہر مذہب کا ایک لازمی جزو ہے ۔ جو شخص یہ نہیں ما نتا کہ خدا اس ے بول سکتا ہے ۔ وہ کبھی خود خدا سے نہیں بولے گا۔‘‘خدا کی ہستی خواہ کیسی ہی پرراز اور بعد الفہم کیوں نہ ہو اس میں شک نہیں کہ مذہب کا وجود کبھی قائم نہیں ہو سکتا ۔ تاوقتیکہ یہ نہ ما نا جائے کہ خدا ہے اور اس نے اپنے آپ کو ظاہر فر ما یا ہے ۔ ما سوائے اس کے یہ لازمی امر ہے ۔ کہ اس خدا کی عبادت اور بندگی کسی نہ کسی وقت بند ہو جو صم بکم ہو کر نہ تو انسان کی اس آرزو کو آسودہ کرتا ہے ۔ جو رفاقت الہٰی کی مشتاق ہے ۔ اور نہ اپنے عابد کی زندگی اور دل میں کلام یا کام کے وسیلے اپنی حضوری کا احساس پیدا کر تا ہے ۔ پروفیسر ٹیل صاحب خﷺب فر ما تے ہیں کہ ’’ یہ بات ممکن اور دور از قیا س ہے ۔کہ انسان اپنے خدا کے ساتھ اس حالت میں اور دعائیں جو وہ مدد اور ہدایت اور سہارے کے لئے کرتا ہے ۔ آخ الامر اس نیتجہ کو پہنچیں ۔ کہ ’’ احق کے سوائے اور کوئی اپنی دعاؤں کے جواب کا انتظار نہیں کرتا ‘‘۔ وہ دین کو ایک طرفہ دین ہے۔ (یعنی صرف ) انسان کی دینداری ہی کا قائل ہے ۔ مگر خدا کی مدد اورفاقت کامنکر ہے ۔) وہ بالضر ور اس پل کی طرح گر جا ئے گا ۔ جو صرف ایک ستون پر کھڑا ہے ۔ ذلیل سے ذلیل بت پرستی بھی اس خیال سے خالی نہیں کہ کچھ خدا ایک مرضی رکھتا ہے۔ اور اس مرضی کو کسی نہ کسی طرح ظاہربھی کر سکتا ہے ۔ اہل یو نا ن جو صدائے غیب سے مشورت طلب کر تے تھے ۔ اور اہل روما جوغیبی نشانوں اور شگونوں کے منتظر رہتے تھے ۔ اس با ت کے قائل تھے ۔ کہ مذہب یک طرفہ معاملہ نہیں ہے ۔ وہ اس با ت کے معتقد تھے کہ جب انسان کسی راز کا انکشاف طلب کرتا ہے ۔ تو ضرور ہے ۔ کہ اس کا جواب دے ۔ اور واقعی یہ اعتقاد کہ خدا اپنے آپ کو مرضی کو بنی آدم پر ظاہر کر نے کی طاقت اور خواہش رکھتا ہے ۔ ایک کھرا اور سچا اعتقاد ہے ۔

ماسوائے اکے یہ بھی کہا جا تا ہے۔ کہ یہ ممکن نہیں ہے ۔ کہ وہ ارواح آپس میں ہمکلام ہوجو ایک دوسری سے ایسی صحبت اور قر بت رکھتی ہیں ۔ اور ایسا علاقہ رکھتی ہیں ۔ جیسا کہ خدا کی روح اور انسان کی روح میں پا یا جا تا ہے ۔ پیفلیڈر (Pfleidere) صاحب اپنی کتاب فلاسفی آف رلیجین میں کہتے ہیں ۔ کہ جب آدمی دوسرے اآدمیوں کی محبت بھری رفاقت کو حاصل کر سکتا ہے ۔ تو ہم کیو ں کہیں کہ خدا ایسا نہیں کر سکتا ۔ میری دا نست میں وہ انسان کی نسبت اس رفاقت کی زیادہ قابلیت اور طاقت رکھتا ہے ۔ آدمی دوسرے آدمی کے دل کا حال کما حقہ نہیں جا ن سکتا۔ اسی واسطے اس کے دل میں پورے پورے طور پر جا گزیں نہیں ہو سکتا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری محبت نا کا مل رہتی ہے ۔ اورر نا کامل رہتی ہے ۔ ہم اب اپنی جدا گا نہ بشریت کی محدود یت کے سبب سے ایک دوسرے کے دل میں دخل نہیں پاتے ہیں ۔ مگر خدا کے لئے یہ قید نہیں ہے ۔ کیو نکہ اس کے لئے ہم میں سے ایک کا دل ایسا ہی کھلا ہے ۔ جیسا کہ وہ ہمارے لئے کھلا ہے۔ وہ ہمارے دلوں کو پورے پورے طور پر جا نتا ہے ۔ وہ ان میں رہنا اور انہیں اپنی حضوری کی مبارک قدرت اور خیر سے بھرنا چاہتا ہے۔

بعض اشخاص نے شخصیت کی خاصیت سے یوں استد لا ل کیا ہے ۔ وہ خدا جوتشخص کی صفات سے متصف ہے ۔لا زم ہے کہ وہ اپنے تئیں کسی نہ کسی طرح ظاہرفر مائے ۔ چنانچہ مسٹر النگ ورتھ صاحب کہتے ہیں کہ محبت جس سے مراد ایک شخص کا دوسرے اشخاص کے ساتھ بے تکلف راہ و ربط رکھنا ہے ۔ شخصیت کی ایک لا زمی صفت ہے ۔ کہ مسٹر النگ ورتھ صاحب کہ گہری تشریح کے مطابق شخصیت میں تین عنصر پا ئے جا تے ہیں ۔ اول خود شناسی دوم قوت ارادی ۔ سوم وہ صفات جو ہم کو مجبور کرتی ہیں ۔ کہ دوسروں سے رفاقت پیدا کریں ۔ وہ عقل مرضی اور محنت ہیں ۔ ہم طبعاً ایسے بنے ہو ئے ہیں ۔ کہ ہم بے جان اشیاء کو اوراس علم کو جو کسی اور پر ظاہر نہیں کیا گیا ۔ اور اس جذبہ یا خواہش کو جس میں دوسرے شامل نہیں ہو ئے ایک خاص انجام کا وسیلہ سمجھتے ہیں ۔ ہم گو یا اس وسیلے کے ذریعے آگے آگے بڑھتے جا تے ہیں ۔ تا قتیکہ ہم اس حد تک نہیں پہنچ جا تے ہیں ۔ جہاں ہم کو ہمارے جیسے اشخاص ملتے جنکے ساتھ ان چیزوں کا باہمی تبادلہ شروع ہو جا تا ہے ۔ اس وقت ہم اپنے دلوں میں آرام پا تے ہیں ۔ پس ہم اس بات کے محتاج ہیں ۔ کہ ہمیں دوسرے اشخاص میں وہ انجام ملے جس میں ہماری پوری شخصیت آرام پائے ۔ اب اگر خدا بھی شخصیت رکھتا ہے تو اس میں یہ شخصیت کی لازمی صفت ضرور ہو نی چاہئے ۔ پس ضروری ہے امر ہے ۔ کہ وہ بھی دوسرے اشخاص کی مو جو دگی کا خواہاں ہو جن کی ہستی کے وسیلے اس کی ذات کا تفاضا پو را ہو۔ اب وہ اشخاص جو مسٹر النگ ورتھ کے استدلال کی پیروی کرتے ہیں ۔ وہ ان کے اس نتیجہ کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں ۔ کہ ہم کسی شخص کی نسبت یہ قیاس قائم نہیں کر سکتے کہ وہ دوسرے اشخاص کو پیدا کر رہا ہے ۔بغیر اس غرض کے کہ ان کی تخلیق کے بعد انہیں اپنی رفاقت میں لے ۔

معلوم ہو تا ہے ۔ کہ مذکورہ با لا دو نوں اصحا ب اس بات کو ممکن سمجھتے ہیں ۔ کہ خدا کی روح بلا وسا طت کسی ذریعہ کے انسان کی روح کے ساتھ رفاقت رکھ سکتی ہے۔ اور اسے اپنی معموری میں سے معمور کر سکتی ہے ۔ گو یہ بات تجربہ میں بہت نظر نہیں آتی ہے تا ہم نوشتوں میں بہت کچھ پا یا جا تا ہے ۔ جو اس قیاس کی تائید کرتا ہے ۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ انسان اور خدا کے باہمی مکالمہ کا مسلہ وہ مسلہ ہے ۔ جس کے متعلق انسان کی عقل و علم الہٰی کی تحقیقات کی مختلف نواح میں حیران ہو رہی ہے۔

۳۔

تیسرا اصول یہ ہے کہ کیا خد ا نے اپنے تئیں ظاہر فر ما یا ہے اور اگر ظاہر فر ما یا ہے ۔ تو کہاں ؟ اظہر ہے ۔ کہ اس نے اپنے تئیں اپنے کا موں میں ظاہر کیا ہے ۔ جو کچھ اس نے بنا یا اور جو کچھ اس نے کیا ہے ۔ اس سے اس کی سیرت منکشف ہو تی ہے ۔ بعضوں نے اس اظہار کو پہچا نا اور بعضوں نے نہیں پہچا نا ہے ۔ مگر ان کے پہچا ننے اور یا پہچا ننے سے اس صداقت میں فر ق نہیں آ تا جہ خدا نے خلقت میں اپنے آپ کو ظاہر کر دیا ہے ۔ جس طرح تم آدمی کے کاموں کے وسیلے آدمی کی ہستی کو دریافت کرتے اور اس کی سیرت سے واقفیت پیدا کرتے ہو۔ اسی طرح خدا بھی دنیا میں حاضر ہو کر اور اس میں ا پنی قدرت کو کا م میں لا کر اپنی ہستی اور ذات کو آ شکارہ کرتاہے ۔ اگر یہ تمام یونیورس (عالم) جس میں دائمی قوانین اور اٹل طاقتیں مو جو د ہیں ۔ اور جس میں مختلف اقسام کی جا ندان ہستیاں نظر سے گزرتی ہیں ۔ اگر خدا کی تجویز اور خالقانہ قدرت کا نتیجہ ہے تو یہ سب کچھ جو دنیا میں نظر آتا ہے اس کی ذات کی نسبت خبر دینے میں قاصرنہیں ہے ۔ آسمان خدا کا جلال ظاہر کرتے ہیں ۔ بیشک اس عالم میں بہت سی باتیں ایسی ہیں ۔ جن کی تہ تک پہنچنا ہماری رسائی سے با ہر ہے ۔ مثلاً اس میں ظلم ہے ۔اس بھید کوہم نہیں سمجھ سکتے ہیں ۔ تاہم اس گو نا گو عالم سے ہستی کی وسعت ۔ اور وہ طاقتیں کا م آ رہی ہیں ۔ ان کے انتظام کے بے بدل درستی اور قوت کو جس کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتادیکھتے ہیں ۔ اور اس معائنہ کے وسیلے خدا کی بے بیان قدرت اور لا زوال خزانوں کی خبر پاتے ہیں ۔ جس قدر زیادہ لوگ خدا کے اس کشف پر جو بوسیلہ نیچر کے ہوا ہے سوچتے رہے اسی قدر خدا کا تصور ان کے قیاس میں بڑھتا اور پھلتا گیا۔ اس کی ذات کے متعلق طرح طرح کے بے ڈھنگے اور بے ادب خیا لا ت پیدا ہوئے ۔ مگر وہ چند دن دنیا ی ہوا کھا کر مفقود ہو گئے ۔ اور ابھی بہت کچھ باقی ہے جو ہمیں اس اظہار سے جو بوسیلہ ما دیا ت کیا گیا ہے ۔ سیکھنا ہے اور ان کے لئے جو سمجھنے کی طاقت اور لیاقت رکھتے ہیں ۔ ذات الہٰی کا یہ انکشاف صفحہ مو جو دات پر آفتاب کی روشنی کی طرح چمک رہا ہے ۔ کسی شخص نے خوب کہا ہے کہ اگر ہم اس کتاب کی جسے ہم دنیا کہتے ہیں ۔ ورق گردانی کر سکتے تو اس کی حکمت اور فن سے جس نے اسے مرتب کیا ہے ۔ اور جو اس کی اصلاح کرتاہے ۔ واقف ہوجاتے ۔ ہم اس کی قدرت کو جو بے لگام طاقتوں کو رام کر لیتی ہے ۔ اور اس پروردگاری کو جو ہر جگہ کام کر رہی ہے ۔ جا ن جاتے اور اسی طرح اس انصاف سے واقف ہو جا تے جو کسی باغی کو نہیں چھوڑتا۔ لیکن ہم ایسے نا دا ن ہیں کہ بچوں کی طرح رنگین چمڑے کے دیکھنے پر اکتفا دہ کرتے ۔ سہنری ورتوں ہی کو سب کچھ سمجھتے ۔ خوبصورت اور آیزاں فیتوں پر دل لگا ئے بیٹھے رہتے ہیں ۔ اور سب سے اچھی چیزوں کی پروا نہیں کرتے یعنی کتاب کے مصنف کے معنوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور کبھی کسی چیز پر دل لگاتے بھی ہیں ۔ تو وہ تصویریں ہوتی ہیں ۔ جو محض عاشیہ پر پر کھنچی ہو ئی ہو تی ہیں ۔

لیکن عبرانیوں کے خط کے مصنف کے قول کے مطابق خدا نے ہم سے طر ح نطرح کلام کیا ہے ۔ یعنی کئی ۔ صورتوں میں ا پنے آ پ کو ظاہر فر ما یا ہے ان میں سے ایک صورت یہ ہے کہ وہ انسان میں ظاہر ہوا ہے ۔ اور اس میں ہر ایک کی سیرت زیادہ صفائی سے منکشف ہو ئی ہے ۔ نیز اس نے اپنے آپ کو اس حکومت میں ظاہر فر ما یا جو انسان کے متعلق اس کی پروردگاری کے کا موں میں نظر آ تی ہے۔ مثلا! انسان اپنے اس علم سے کہ میں ایک اخلاقی ذات رکھتا ہوں ۔ اور اپنی اس جبلیطاقت سے جس کی بدولت وہ نیکی کو پسند کرتا ہے ۔ اور خو د انکاری کی خوبصورتی کو محسوس کرتا ہے ۔ او نیزن اس ملکہ سے جس کے وسیلے سے ہر ایک خوبصورت شے کی داد دیتا ۔ یہ نتیجہ نکالتاا ہے کہ خدا کی ذات جو ان چیزوں کا سر چشمہ ہے ۔ کیسی ہے ۔ جس قدر انسان خیر اور نیکی میں ترقی کرتا ہے ۔ کرتا جا تا ہے۔ اسی قدر اس کا تصور ۴بہ متعلق ذات الہٰی صاف ہوتا جا تا ہے ۔ وہ دیکھتا ہے کہ جو کچھ مجھ میں اچھا ہے ۔ وہ خد ا میں لا محدود صورت میں پایا جا تا ہے ۔ اور جس قدر وہ خدا کی قدرت اسعہ کے وسیلے ان اخلاقی خوبیوں اور عظیم باتوں کو دیکھتا ہے ۔ جو پہلے اس کی نظروں سے غائب تھیں ۔ اسی قدر اس کے خیا لا ت و تصوات خدا کی ذات کی نسبت وسیع ہوتے جا تے ہیں ۔ یوں انسان اپنی ہی ذات کے وسیلے خدا کو پہچان لیتا ہے ۔ ایک شخص نے اس صداقت کو خوب ادا کیا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ’’جو کچھ خدا مجھ سے طلب کرتا ہے ۔ میں ا سی سے جانتا ہوں ۔ کہ وہ خود کیسا ہے ۔

لیکن وہ الہٰی مکاشفہ میں جس نے اس اظہار الہٰی کے لئے راہ تیار کی جو مسیح میں نمودار ہو اسرائیل کی تاریخ میں نظر آ تا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ بنی اسرائیل نے خدا کا علم ۔ اس کی پروردگاری کے ان کاموں کے وسیلے حاصل کیا جو ان کی تاریخ میں سر زد ہوئے۔ چنانچہ وہ سرعت جس سے بنی آدم کی بعض شاخوں نے خدا کو پہچانا اس سرعت سے ثابت ہے۔ جسسے انہوں نے طوفان سے یہ نتیجہ نکا لا کہ خدا پا ک ہے ۔ ان کی قوت تمیز اس بات سے ٹپکتی ہے ۔ کہ انہوں نے اس تباہ کرنے والی بلا کے وقوع کو اپنے گناہوں سے منسوب کیا۔ گو یا اس واقعہ کے وسیلے خدا نے انسان کے دل پر اس بات کو نقش کر دیا کہ پاکیزگی میری لا زمی صفت ہے ۔ پس طوفان کے وقت ایک ایسا سبق دیا گیا ۔ جس کی بنی آدم کو اشد ضرورت تھی ۔ اور ایسی صورت میں دیا گیا ۔کہ غبی سے غبی آدمی کے لئے بھی اس کا سمجھنا مشکل نہ تھا ۔ اسی طرح اسرائیل کی ساری تاریخ میں کبھی بوسیلہ ان مصائب کے جو بد چلنی کے بعد وقوع میں آئیں ۔ کبھی اس نے عزتی اور کمزوری کے وسیلے جو بیوفائی کے بعد حادث ہو ئی لوگوں نے اس بات کو زیادہ زیادہ صفائی سے پہچان لیا کہ وہ خدا جو ان پر دمسلط ہے ۔ وہ راستی اور فضل کا خدا ہے ۔ یوں وہ ان واقعات کے وسیلے جو خدا نے ان کے تاریخی سلسلہ میں منسلک کر دیئے خدا کو پہچان لیا۔

اس کے متعلق یہ بات خاص طور پر غور کے لائق ہے ۔ کہ خد نے ان کی تاریخ میں ایک دوسرے سے دوسرے تک اپنے تئیں نجات دہندے کی صورت میں ظاہر فر ما یا ۔

اس نے ان پر منکشف کر دیاکہ وہ اپنے لوگوں کی اس دنیا میں ٗحمایت کرتا ۔ ان کی بھلائی کو مدنظر رکھتا ہے ۔ اور ان کے نقصان سے ہر گز ہر گز خوش نہیں ہے ۔ کہ وہ ان کے گناہ معاف کرتا اور نیز ان کے گناہوں کے سبب سے ان کو دھمکاتا اور تنبیہ کرتاہے۔ تا ہم ہر وقت انہیں اپنی قربت اور حضوری میں پھر قبول کرنے کو تیار ہے ۔ ہاں یہی بات ان لوگوں کے دلوں پر جو بنی اسرائیل میں روشن ضمیر تھے ۔ نقش ہو گئی تھی۔ انہوں نے دیکھ لیا تھا۔ کہ یہواہ وہ خدا ہے ۔ جو اپنے لوگوں کی خلاصی چاہتا ہے ۔ اور اپنے اس نجات بخش کا م کو برابر انجام دیتا چلا آیا ہے ۔ مثلاً مزا میر اور صحائف انبیا اس بات کی دائمی شہادت ہیں کہ اسرائیل پر اس بات نے خوب اثر کر دیا تھا۔ کہ خدا نے ہم پر اپنے تئیں نجات دہندہ کی حیثیت میں ظاہر فرما یا ہے ۔

لیکن یہ تاریخ جسے کاشف صفات الہٰی کہنا چاہئے ۔ جس کے وسلسلہ میں خدا کے بندوں کو طرح طرح کے تجربہ نصیب ہو ئے ۔ اور جس میں وہ قسم قسم کے رسوم پا ئے جا تے تھے ۔ جنہوں نے خدا کے اظہار کو جو اس وقت تک بنی اسرائیل کو نصیب ہو چکا تھا ۔ محفوظ رکھا۔ غرض یہ کہ ساری تاریخ جس کے وسیلے سے خدا نے اپنی حضوری اور تعلق سے انہیں آگاہ فر ما یا اس کشف کی تیاری تھی کو مسیح میں کمال کو پہنچا ۔ مسیح میں جو کشف الہٰی میں نصیب ہو اس کی کمالیت کو دو باتیں ثابت کرتی ہیں ۔ (۱)اس کی شخصیت (۲) اس کی نجات بخش تاثیر ۔

۱۔ واضع ہو کہ یہ کشف جو ہمیں مسیح میں نصیب ہوا ہے ۔ شخصیت رکھنے والا ہے ۔ لہذ کامل ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ خد ا نے مسیح میں اپنی صفات کو مثلاًاپنی پاکیزگی ۔ اور محبت سیلف سیکری فائس (Self Sacrifice)کو شخصی اور انسانی کاموں پر اپنے آپ کو بنی آدم سے ربط دیتا ہے کہ اس کا یہ رابطہ انسانی کاموں کے وسیلے ظاہر فر ما یا ہے ۔ یا یوں کہیں کہ اس کا یہ رابطہ انسان کی بخوبی سمجھ جا تا ہے ۔ چنانچہ فقط اسی وقت یہ کہنا ممکن ہوا کہ جس نے مجھے دیکھا ہے اس نے باپ کو دیکھا ہے ۔ جب کہ مسیح ظاہر ہوا قفط اسی وقت لوگ یہ کہنے کے قابل ہو ئے کہ خد اکی ہمددردی وہی ہے ۔ جو ہم یسوع میں دیکھ رہے‘‘

کہ وہ تصدیق ۔ وہ قربانی وہ معافی اور وہ دعوت جو خدا گنہگار وں کے لئے رکھتا ہے وہی ہے ۔ جو مسیح میں نظر آ رہی ہے ۔ پس مسیح کے وسیلے خدا کا ایسا اعلیٰ تصور اس دنیا میں آیا جس کی مانند آگے کبھی انسان کو نصیب نہیں ہو ا تھا ۔ ہاں اس نے ایک ایسا تصور ذات الہٰی کا اس دنیا کو دے دیا ہے ۔ جس سے اور تصورات کا جو اس کی ذات کی نسبت دنیا میں مروج ہیں اب موازنہ کیا جا تا ہے ۔ بعض وقت لوگوں کو یہ خیال گزر تا ہے ۔ کہ کیا جب ہم خدا سے ہر طرح کی نیکی منسوب کرتے ہیں ۔ تو اس وقت اپنے ذہن اور واہمہ سے یا خدا تیار نہیں کرتے ؟ لیکن جب ہم مسیح کی طرف رجوع ہوتے ہیں ۔ تو ہم منکشف ہو جا تا ہے ۔ کہ اس زندگی میں یہ سب باتیں مو جو د ہیں ۔ دو سرے لفظوں میں یوں کہیں کہ جس خدا کی ہم تلاش میں ہیں ۔ وہ ہم کو اس میں نظر آ تا ہے ۔ پراس با ت کی اشد ضرورت تھی کہ اپنے کا مل مکاشفہ کے لئے خدا ایک شص میں اپنے کو ظاہر فر ما ئے ۔

۲۔ پھر یہ منکشف الہٰی نجات کے اعتبار سے بھی کا مل ہے ۔ مسیح نے خدا کی حکمت سے اور پاکیزگی اور محبت کو فقط ذہنی طور پر ظہر نہیں کیا ۔ بلکہ ایسے طور سے کہ جس سے بین ہے ۔ کہ وہ ایک خاص مقصد کی انجام دہی کے لئے ۔ یعنی ہمیں گناہ سے خلاصی بخشنے کے لئے اپنی الہٰی محبت اور قدرت کو صرف کر رہا ہے ۔ اور اس مقصد کو مسیح میں ایسے کامل طور پر انجام دیا ہے ۔ کہ اب کچھ اور کرنے کی ضرور ت نہیں رہی۔ کہ نہ اس میں کوئی اور چیز بڑھائی جا سکتی ہے ۔ اور نہ کسی کمی کو پورا کرنے کے لئے کسی اور شے کے داخل کرنے کی ضرورت ہے ۔ چنانچہ جب اس نے یہ لافاظ اپنی زبان ے نکالے کہ جو کام تو نے مجھے کرنے کو دیا تھا میں اسے کر چکا ہوں تو اس نے ایک سچی حقیقت کو اپنے لفظوں کے وسیلے ظاہر کیا ۔ خدا نے اس میں دنیا کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ خدا کی وہ خواہش جو وہ ہماری نجات کی نسبت رکھتا تھا ۔ کسی اور مکاشفہ سے ایسے زور اور صفائی کے ساتھ ظاہر نہیں ہوتی ۔ اور نہ ہم پھر خدا کی محبت اور قدرت کا اظہار نجات کے متعلق کبھی ایسا دیکھیں گے ۔

اس بات کو مد نظر رکھ کر کہ خد کی روح اور انسانی ایک دوسری کے آس پاس مو جود ہیں ۔ اور کہ انسان اور خدا میں ایک قسم کا رشتہ بھی پا یا جا تا ہے ۔ یہ نتیجہ نکالنا کہ یہ دونوں قدم کی روحیں (یعنی انسانی اور الہٰی ارواح ) آپس میں ایک دوسری کو اپنے خیالات سے آگا ہ کر سکتی ہیں ۔ نادرست نہیں ہے ۔

فلائدڑر (Fleiderer )صاحب اپنی کتاب مو سو مہ ’’فلاسفی آف رلیجین ‘‘ میں یو ں استدلال کرتے ہیں ۔ ’’جب انسان انسان کے ساتھدوستانہ رفاقت رکھ سکتا ہے تو ہم کیوں اس رفاقت کو جو خدا بنی نوع انسان کے ساتھ رکھ سکتا ہے ۔ ناممکن سمجھیں ؟ میری رائے میں انسان کے ساتھ رکھ سکتا ہے ۔ کیو نکہ جس طرح آدمی ادمی کے دل کا حال کما حقہ ‘ نہیں جا ن سکتا اسی طرھ وہ کسی دوسرے آدمی کے دل میں پورے پورے طور پر گھس کر بودوباش بھی نہیں کر سکتا ۔ اسی لئے انسانی محبت نا کا مل ہے او رہمیشہ نا کا مل رہتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ ہم ایک دوسرے کے دل میں بہ سبب اپنی اپنی محدود بشریت کے داخل نہیں ہو سکتے ۔ مگر خدا ان تقیدات سے آ زاد ہے ۔ لہذا جس طرح ہم میں سے ہر ایک کا دل اس کے لئے کھلا ہے۔ جس طرح ہم آئینہ میں سے ایک سرے سے دوسرے سرے تک دیکھ سکتے ہیں ۔ اسی طرح اس کی نگاہ ہمارے دلوں میں سے گزر جا تی ہے۔ وہ ان میں سکونت اختیار کر نا چاہتا ہے ۔ وہ انہیں اپنی پاک قدرت اور برکت سے لبریز کرنے کی آرزو رکھتا ہے ۔

پھر بعض علما نے شخصیت کے خواص سے استدلال کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے ۔ کہ یہ لازمی امر ہے ۔ کہ وہ خدا جو اوصاف تشخص سے متصف ہے ۔ اپنے آ پکو ظاہر فر ما ئے ۔ چنانچہ النگ ورتھ صاحب فر ما تے ہیں ۔ کہ محبت (یعنی دوسے اشخاص کے ساتھ ملنے جلنے کی خواہش ) شخصیت کا ایک ضروری خاصہ ہے ۔ النگ ورتھ صاحب کی توجہ طلب تشریح کے مطابق شخصیت تین اجزا سے مرکب ہے ، اور وہ اجزا یہ ہیں ۔ ذاتی شناخت یعنی اپنی جدا گا نہ ہستی کا ادراک ۔ دو م قوت ارادی یعنی اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے کی طاقت ۔ سوم وہ خواہشات جن کا یہ اقتضا ہو تا ہے ۔ کہ ہم دوسرے اشخص کے ساتھ مکالمے اور رفاقت کا رابطہ پید ا کریں ۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ وہ اجزاء عقل۔ ارادہ اور محبت ہیں۔ النگ ورتھ صاحب فر ما تے ہیں ۔ کہ ہمارے ساخت فطرتاً ایسی واقع ہوئی ہے کہ ہم نے جا ن اشیاء کو اور اپنے اس علم کو جو ہنوز کسی پر ظاہر نہیں کیا گیا اور ان جذبات کو جن میں ابھی اور کوئی شامل نہیں ہوا ۔ ایک خاص مقصد یا انجام کا وسیلہ سمجھتے ہیں ۔ ہاں ہم ان کے وسیلے اپنے جیسے اشخاص کی تلاش میں لگے ۔ رہتے ہیں ۔ اورجب ہم انہیں پالتے ہیں ۔ تو ان باتوں کو ان پر ظاہر کرتے یا یوں کہیں کہ باہم تبادلہ کرتے ہیں ۔ اور یوں ہمارے دلوں کو آرام ملتا ہے ۔ گو یا ہم ان وسائل کے ذریعے ان اشخاص میں جو ہمارے جیسے ہیں ۔ وہ انجام پاتے ہیں ۔ جس میں ہماری شخصیت کو آ را م ملتا ہے ۔ اور اسی کو محبت ک رشتہ کہتے ہیں ۔ ‘‘ اب اگر خدا بھی شخصیت رکھتا ہے ۔ تو لازمی امر ہے ۔ کہ اس میں بھی شخصیت کا یہ خاصہ مو جو دہ ہو۔ پس ضرور ہے ۔ کہ وہ ایسے اشخاص کی ہستی اور مو جو دگی کا خواہاں ہو جن کے وجود دسے اس کی پاک ذات کا یہ تقاضا ئے محبت پو را ہو ۔ اب جو لوگ اس دلیل سے اتفاق رکھتے ہیں ۔ اور النگ ورتھ کے مرقومہ ذیل نتیجہ کے ساتھ پورے پورے طور پر متفق ہیں ۔ وہ نتیجہ یہ ہے ۔ ’’ یہ بات ہمارے قیاس میں نہیں آتی کہ ایک شخص (یعنی خدا ) اور اشخاص (یعنی بنی انسان ) کو پیدا کرے اور ان کی پیدا ئش سے اس کی یہ غرض نہ ہو کہ ان کے اوپر اپنے آپ کو ظاہرکرے اور انہیں اپنی رفاقت سے محفوظ فرمائے ۔

اب ان مذکورہ ب لا دونوں صاحبوں کی دلائل سے یہ ظا ہر ہو تا ہے ۔ کہ خدا کی روح کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ براہ راست انسانی روح کے ساتھ مکالمہ پیدا کرے ۔ یعنی بدون کسی وسیلے یا وسطت کے خدا کی روح انسان کی روح کے ساتھ مس پید کر سکتی اور اس ے اپنی بھر پوری سے ما لا مال کر سکتی ہے ۔ اور اس میں شک نہیں کہ گو عام تجربہ اس دعوےٰ کی بہت تائید نہیں کرتا تا ہم کلام اﷲ میں بہت سی باتیں ایسی پائی ہیں ۔ جو اس تصور کی صحت کی بہت درجہ تک تائید کرتی ہیں ۔ لیکن یہ با ت ہے ہی کچھ اس قسم کی کہ اس کو ثابت کرنا ایک مشکل سا کا م ہے ۔ ہاں خدا اور انسان کے باہمی مکالمہ کا مسلہ واقعی ایک ایسا سوال ہے ۔ جس کے متعلق انسان کی عقل تھیولوجیکل (علم الٰہی ) کی تحقیق کی مکتلف نواح میں اپنے آپ کو متحیر پاتی ہے ۔

۳۔ اب تیسری بات غور طلب ہے ۔ کہ آیا خدا نے آپ کو کسی طرح ظاہر فر ما یا ہے۔ یا نہیں ۔ اگر ظاہرکیا ہے ۔ توکہاکیا ہے ؟ صاف ظاہر ہے ۔ کہ خدا نے اول اپنے تئیں اپنے کاموں کے وسیلے ظاہر فر ما یا ہے ۔ جو کچھ اس نے کل کیا ہے ۔ اور جو کچھ اس نے بنا یا ہے ۔ اس سے اس کی سیرت ظاہر ہو تی ہے ۔ لوگوں کو اس کے اس اظہار کو خواہ سمجھایا نہ سمجھا یہ دوسری بات ہے ۔ مگر اظہا ر کی موجودگی پر کسی طرح کی چون و چرا نہیں ہو سکتی ۔ جس طرح آپ بنی آدم کے افعال کے وسیلے ان کی ہستی کے قائل اور ان کی خووخصلت سے واقفیت پید کرتے ہیں ۔ اسی طرح خدا بھی اس دنیا میں موجود ہو کر اور اپنی قدرت کے کرشمہ دکھا کر اپنی حیات اور صفات کو ظاہر فر ما تا ہے ۔ اگر یہ تمام عالم جس میں طرح طرح کی طاقتیں اور قوانین اور قسم قسم کی اشیا مو جو د ہیں ۔ اسی کی تجویز اور خالقانہ قدرت اور مرضی کے وسیلے و جو د میں آ یا ہے۔ تو لا زم ہے کہ اس دنیا کے نظارے ضرور اس کی ذات و صفات کا کچھ کچھ پتہ تو دیں۔ بیشک آسمان اس کا جلال ظاہر کرتے ہیں ۔ البتہ بہت سی باتیں ایسی موجو د ہیں ۔ جن کا سمجھنا ہمارے حیطہ امکان سے باہر کرتے ہیں ۔ مثلاً اس ظلم اور دکھ کی کنہ تک پہنچنا جو خلقت کے حلقہ میں مو جو د ہے ۔ ہماری بساط سے باہر ہے ۔ تا ہم گو نا گو ہستی کے نظارے اور قدرتی طاقتوں کا باقاعدہ قیام اور ان کا وہ روز جس پر کوئی طاقت غالب نہیں آسکتی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ۔ اور ان چیزوں کو دیکھ کر ہم خدا کے بے زوال خزانوں اور بے قیاس قدرت کا کچھ کچھ اندازہ کر سکتے ہیں ۔ جوں جوں لوگ خدا کے اس اظہار پر جو اس کی دستکاری سے مترشح ہوتا ہے ۔ غورو فکر کرتے گئے ہیں ۔ اسی نسبت سے خدا کا تصور ان کی عقول پر ظاہر ہوتا گیا ہے ۔ ایک وقت تھا کہ خدا کی ذات کے متبغلق نا سزا اور نا مناسب اور اس کی شان پر بٹہ لگانے والے تصورات مروج تھے ۔ مگر اب وہ قریب قریب معدوم ہو گئے ہیں ۔ تا ہم ابھی ہیں اندیکھے خدا کے اس اظہا ر و نکشاف کی نسبت جو مادیات سے ٹپک رہا ہے ۔ بہت کچھ سیکھنا ہے ۔ پس یاد رکھنے کے قابل جو بات ہے وہ یہ ہے کہ اس کی خلق کی ہوئی چیزیں اس کا مظہر ہیں ۔ اور وہ جن کی چشم بصیرت وا ہے اس کے ظہور کا جلوہ اس کی خلقت میں دیکھ رہے ہیں ۔ ایک شخص نے کیا خوب کہا ہے ۔ ’’جسے ہم دنیا کہتے ہیں ۔ وہ ایک خوبصورت کتاب ہے ۔ اگر ہم اس کے جزوں اور ورقوں کوذار گہری نظر سے دیکھیں تو ہمیں اس کے مصنف اور مصحح کی حکمت اور دا نا ئی کے کئی پکے اور صاف ثبوت دکھائی دیں گے ۔ ہمیں اس کی قدرت دکھائی دے گی ۔ جو بڑی بڑی خونخوار طاقتوں کو بھی رام کر لیتی ہے ۔ ہمیں اس کی پروردگاری کر کرشمے نظر آ ئیں گے ۔ جو ہر ایک چیز تک پہنچتی ہے ۔ اور اس کا وہ انصاف معائنہ سے گزرے گا جو مغرور سے مغرور اور زورو آور سے زور آور باغی کو بھی نہیں چھوڑ تا ۔ لیکن ہم ایسے نا د ن ہیں ۔ کہ کو تہ اندیش بچوں کی طرح کبھی اس رنگین چمڑے کو دیکھتے ہیں ۔ جس پر اس عجیب مصنف کی عجیب عبارتیں مسطور ہیں ۔ اور لبھی سنہلے اوراق پر نگاہ لگا کر بیٹھ جا تے ہیں ۔ اور کبھی ان فیتوں کا ملاحظہ کرنے لگ جا تے ہیں ۔ جو اس کتاب میں سے لٹک رہے ہیں ۔ لیکن جو چیزیں در حقیقت قابل غور ہیں ۔ ان پر دھیان نہیں لگاتے ۔ یعنی اس مصنف کے خیا لا ت اور معانی کی تہ تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اگر اتفاق سے کی چیز پر غور کی نظر ڈالتے ہیں ۔ تو وہ فقط کوئی چھوٹی موٹی سی تصویر ہوتی ہے ۔ جو ہمیں متن کے حاشیہ پر کھینچی ہوئی ملتی ہے ‘‘۔

لیکن عبرانیوں کے خط کا مصنف ہمیں یاد دلا تا ہے ۔ کہ خدا نے ہمارے ساتھ ہر طرح کلام کیا ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے طرح بطرح اپنے آ پ کو ہم پر ظاہر فرما یا ہے ۔ ہاں خدا نے ہم پر اپنے تئیں نہ صرف صفحہ فطرت کے وسیلے ظاہر کیا ہے ۔ بلکہ اور صورتوں میں بھی ااپنے ظہور سے ہمیں ما لا ما ل فر ما یا ہے ۔ خدا کا ایک مظہر انسان خود ہے ۔ واقعی اور چیزوں کی نسبت انسان کی ذات کے اور نیز اس انتظام پر وردگاری کے ذریعے جس کے وسیلے خدا انسان پر حکمرانی کرتا ہے ۔ خدا کی سیرت زیادہ واضع طور پر ظاہر ہو تی ہے ۔ آدمی اپنی اخلاقی ذات اور نیکی کو پسند کرنے والی صفات اور خود انکاری کی مردانہ خوبیوں پر فدا ہو نے والی عادات وغیرہ سے یہ جا لیتا ہے کہ خدا کی جو میرا خالق ہے ۔ اور ان سب خوبیوں کا سر چشمہ ہے ۔ ماہیت کیا ہے ۔ جس قدر انسان نیکی میں تر قی کرتا جا تا ہے اسی قدراس کا تصور خدا کی نسبت صاف ہو تا ج تا ہے ۔ ہا ں وہ اپنی ہی ان کوششوں کے وسیلے جو وہ نیکی اور نیکی کے طبعی مذاق کی پیروی میں کرتا ہے ۔ اس بات کو پہچاننے لگتا ہے کہ خدا کیا ہے ۔ وہ دیکھتا ہے ۔ کہ جو کچھ مجھ میں سب سے اچھا ہے ۔ وہ ادھورہ اور ناکا مل ہے قفط خدا میں وہ نیکی یا خوبی جو مجھ میں نا کا مل ہے کامل اور لا محدود خوبصورت پا ئی جا تی ہے ۔اور جو ں جو ں وہ دا کی روشنی بخش تاثیروں کے ماتحت ان اخلاقی خوبیوں اور اعلیٰ صداقتوں کو جو آگے اس کی نظر سے پوشیدہ تھیں دیکھتا جا تا ہے ۔ اسی قدر خد کی ذات وصفات کے وسیع اور صحیح خیالات میں تر قی کرتا جا تا ہے ۔ دھیڑ (Whittier)صاحب کے قول کے مطابق انسان اپنی ہی ذات کے وسیلے خدا کی ذات و صفات کا تصور پیدا کرتا ہے ۔ دھیڑ صاحب فر ما تے ہیں۔ ’’ جو کچھ خدا مجھ سے طلب کرتا ہے ۔ اسی سے میں جان لیتا ہوں ۔ کہ وہ خود کیا ہے اور کیسا ہے ‘‘۔

لیکن ہم اوپر کہہ آئے ہیں ۔ کہ خد اپنے آپ کو اپنے انتظام پروردگاری میں بھی ظاہر فر ما تا ہے ۔ اسے ہم تواریخی اظہار کہیں گے ۔ یہ وہ کشف ربنی ہے ۔ جس کے وسیلے اس نے بنی آدم کو اپنے اس اظہار کے لئے تیار فر ما یا جو بالآخر خدا وند مسیح میں نمودار ہو ا۔ اس تواریخی اظہار کی نسبت ہم یہ عرض کرتے ہیں ۔ کہ خاد کے بندوں نے اپنے خالق کا عرفان ان واقعات کے وسیلے حاصل کیا جو اس کے انتظام پروردگاری کے مطابق ان کی تاریخ اور زندگی میں سر زد ہوئے ۔ ۔ جس سرعت سے بنی آدم کی بعض شاخوں نے خد ا کا تصور اپنے لئے قائم کیا وہ اس سرعت سے ظاہر ہے جس سے انہوں نے طوفان کے وقوعہ سے یہ نتیجہ نکالا کہ خدا یک پاک خدا ہے ۔ ان کے ضمیر کی ھس پر اس بات میں ظاہر ہوئی کہ انہوں نے اس تبا کن وقوعہ کے اپنے گناہوں کا نتیجہ سمجھا۔ ہاں خدا نے اس حادثہ جانکاہ کے ذریعے بنی آدم کے دل پر اس بات کو نقش کر دیا کہ اس کی پاکیزگی اس کی ذات کا ضروری اور لازمی خاصہ ہے ۔ پس ایک نہایت ضروری سبق جو بنی آدم اس وقت سیکھ سکتے تھے سیکھا گیا اور ایک ایسی صورت اور ایسی زبان میں جو اس زمانہ کے مناسب حال تھی ۔ اور جس کے سمجھنے میں غنی سے غیر آدمی بھی کسی طرح کی غلطی نہیں کر سکتا تھا ۔ یہی بات ہم اسرائیل کی ساری تاریخ میں دیکھتے ہیں ۔ کہ لوگوں نے ان مصیبتوں کے وسیلے جو ان کی کسی خطا کے بعد لاحق ہوئیں۔ یا اس نے عزتی او رکمزوری کے ذریعے جو دا سے بیوفائی کرنے کے بعد منتج ہوئی صاف صاف طور پر اس بات کو دیکھ لیا کہ جو خدا ہم پر مسلط ہے ۔ وا راستی اور فضل کا خدا ہے ۔ پس وہ زیادہ زیادہ اس کی خاصیت اورر سیرت سے واقف ہوتے گئے۔ اور یہ عمیق اور وسیع علم اس کی ذات کا انہوں نے ان واقعات سے حاصل کیا ۔ ان کی تاریخ میں واقع ہوئے ۔ اورر جن کے وقوع اور ترتیب میں اس نے اپنے آپ کوظاہر فر ما یا ۔

یہ بات نہایت غور طلب ہے ہ اسرائیل کی ساری تاریخ میں خدائے تعالیٰ اپنے تئیں نجات دہندہ کی صورت میں ظاہر کرتا رہا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں ۔ ہ ان کی تاریخ کے ہر صفحہ سے ہویدا ہے ۔ کہ خد اپنے بندوں کا جو دنیا میں بو دو با ش کرتے ہیں ۔ دو ست ہے ۔ اس کے خیالات ان کی نسبت محبت سے مملو ہیں ۔ وہ ہمیشہ ان کی بھلائی چاہتا ہے ۔ اور ان کی برائی کا خیال کبھی اس کے دل میں راہ نہیں پا تا ۔ وہ ان کے گناہوں کو معاف کرتا ہے ۔ ان کی نادانیوں کے سبب سے ان کو دھمکاتا اور تنبیہ کرتا ہے ۔ مگر آخر کار انہیں قبول کرکے اپنی مہر بانی سے ما لا مال فر ما تا ہے ۔ جن کی چشم بصیرت واتھی ان کے دل پر یہ بات منقوش تھی ۔ کہ یہواہ خدا وہ ہے جو اپنے بندوں کی مخلصی اور نجات کا طالب ہے ۔ اور کہ وہ ہر وقت ہمارے نزدیک ہے ۔ اور نجات کے کام کو زینہ بزینہ چوٹی کی طرف لئے جا رہا ہے ۔ زبور اور امثال شائد ہیں کہ اسرائیل کے دل پر یہ خیال ثبت ہو گیا تھا ۔ کہ خدا اپنے بندوں کا نجات دینے والا ہے ۔ مگر یہ ساری تاریخ جو ایک طرح د کا مظہر تھی جس کے صفحات ان تجربوں سے بھرے پڑے ہیں جو معنوں کو نصیب ہوئے اور جس میں ان متفرق رسوم کا حال قلمبند ہے جن کے وسیلے سے خدا کا وہ علم کو اس کے بندوں کو حاصل ہو چکا تھا تروتازہ رہتا تھا ۔ غرض یہ کہ وہ سب باتیں جن کے وسیلے سے خدا نے اپنی حضوری کا علم عطا فر ما یا ہے ۔ اوریہ جتا دیا کہ میں اپنے بندوں کے لئے کیا چاہتا ہو ں اس اعلیٰ اور کامل مکاشفہ کے متعلق وہ باتیں قابل ذکر ہیں جن سے اس کی کاملیت ظاہر ہوتی ہے ۔

اول اس کی شخصیت ۔ دوم اس کی نجات بخشش تاثیر۔

۱۔ وہ مکاشفہ جو مسیح میں دیا گیا ہے ۔ ایک شخصی مکاشفہ ہے ۔ لہذا کامل مکاشفہ ہے۔ اور جتنے مکاشفات ذات الہٰی کا ظاہر کرنے والے تھے ۔ ان میں اوصاف شخصیت مو جو د نہ تھے ۔ مگر مسیح میں خدا نے اپنے شخصی اوصاف کا ظاہر فر م یا ۔ مثلاً اس کی پاکیزگی ۔ اس کی محبت اور اس کا اپنے آپ کو قربان کرنا جو ایک شخصی اور انسانی صورت میں ظہور پذیر ہوا۔ یہ سب الہٰی صفات کا اظہار ہیں ۔ اب اس طرح خد اپنے آپ کو انسان کے معاملات کے تعلق ایک ایسے رشتہ میں لا کھڑا کرتا ہے ۔ کہ اس رشتہ کا سمجھنا انسان کے لئے مشکل نہیں رہتا۔ چنانچہ جن مسیح ظاہر ہوا ۔ تو صرف اسی وقت یہ کہنا ممکن ٹھہرا۔ ’’جس نے مجھے دیکھا ہے ۔ اس نے باپ کو دیکھا ہے ۔ ‘‘ ہاں صرف اسی وقت ہم یہ بات اپنے منہ سے نکالنے کے قابل ہوئے ’’یہ بات جو ہم مسیح میں دیکھتے ہیں ۔ خدا کی ہمدردی ہے ۔ یہ جان نثاری اورر خود انکاری یہ معاف کرنے کی صفت یہ گنہگاروں کے بچانے کی آرزو جو ہم اس میں پاتے ہیں ۔ وہی ہے ۔ جو خدا میں پائی جاتی ہے ۔ ‘‘ اس سے ظاہر ہے کہ مسیح نے دنیا کو خد کا وہ اعلیٰ تصور دیا جو آگے انسان کو کبھی نصیب نہیں ہوا تھا ۔ اور وہی تصور اب ایک میزان کا کام دیتا ہے ۔ جس سے اور سب تصورات کا وزن کیا جا تا ہے ۔ بعض وقت لوگوں کے دل میںیہ خیال پیدا ہو جا تا ہے کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ جب ہم خدا کی طرف ہر طرح کی خوبی منسوب کرتے ہیں ۔ تو ہم اپنے ذہن اور اپنے تصورات کے مجموعہ سے ایک قیاسی ہستی پیدا کر لیتے ہیں ۔ جس کا نا م خدا ہے ۔ لیکن جب ہم مسیح کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہم پر ظاہر ہو تا ہے ۔ کہ جو اعلیٰ تصورات ہم رکھتے ہیں ۔ وہ ہم نے اسی کے تواریخی اظہار سے پائے ہیں ۔ مسیح میں ہم کو وہ کامل خد جس کی تلاش میں ہم لگے ہوئے تھے نظر آ ت ہے ۔ اسی میں ہم کو ایک شخص کی ضرورت تھی نظر آ تا ہے ۔ اسی میں ہم کو ایک شخصی خدا نظر آ تا ہے ۔ ہاں خدا کو پورے پورے طور پر ظاہر کرنے کے لئے ایک شخص کی ضرورت ہے۔

۲۔ پھر وہ مکاشفہ جو مسیح میں بخشا گیا ہے ۔ نجات کے کام میں بھی کامل ہے مسیح نے خدا کو ہم ہر ایسے طور پر ظاہر نہیں کیا کہ ہم کو صرف اس کی ان صفتوں سے آگاہی ہو کہ وہ دانا او رپاک اور رحیم ہے ۔ بلکہ ایسی صورت میں جس سے ظاہر ہوتا ہے ۔ ہ خدا اپنی ساری الہٰی خوبی اور قدرت کو ایک خاص مقصد کی انجام دہی کے لئے ظاہر کررہا ہے ۔ اور استعمال میں لا رہا ہے ۔ اور وہ مقصد ۴یہ ہے کہ ہمیں بدی کے پنجہ سے رہائی دے ۔ اب یہ کام مسیح نے ایسے کامل طور پر انجام کو پہچایا ہے ۔ کہ اب نہ اس کے دہرانے کی ضرورت ہے ۔ اور نہ اس میں کچھ بڑھانے کی حاجت ہے۔ جب اس نے یہ کلمات اپنی زبان مبارک سے نکالے۔ ’’ جو کا م تو نے مجھے کرنے کو دیا تھا ۔ اس کو تمام کر چکا ہوں ۔ ‘‘ تو گویا اس نے ایک خاص صداقت کو ظاہر فر ما یا ۔ اس میں دا نے دنیا کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ واقعی جس طرح اس کی زندگی اور موت کے وسیلے خدا کی وہ آرزو جو وہ ہماری نجات کے متعلق رکھتا ہے ۔ ظاہر ہوئی ویسی اور کسی طرح ظاہر نہیں ہو سکتی ۔ اور نہ خدا کی طاقت نجات دینے کے معاملے میں اس طرح پھر کبھی ظاہر ہو گی ۔

۳۔ اب ایک اور سوال در پیش ہے جس کا جواب تلاش کرنا ہمارا فرض ہے ۔ اور وہ سوال یہ ہے کہ خدا نے اپنا مکاشفہ ہمیں کس طرح عطا فر ما یا ہے ۔ یاں یوکہیں کہ خدا نے اپنے آپ کو ہم پر کس طریق سے ظاہر کیا ہے ۔ اس سوال کا جواب اس طور پر موقوف ہے جو ہم ذات باری کی نسبت رکھتے ہیں ۔ اگر ہم خدا کی نسبت یہ تصور رکھتے ہیں ۔ کہ وہ دنیا اور انسان کے اندر مو جو د ہے ۔ تو ضروری ہے کہ ہم یہ بھی مانیں کہ خدا اس انسانی احساس یا ادراک کے وسیلے جو انسان روحانیت کے متعلق رکھتا ہے ۔ باطنی طور سے اپنے آپ کو اس پر ظاہر فر ما تا ہے ۔ پر اگر ہم یہ مانتے ہیں ۔ کہ خدا ئے تعالیٰ انسانی اور دنیوی دائرے سے بالکل بلند و با لا ہے ۔ تو اس حالت میں ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ وہ انسان پر خارج سے اثر کر تا ہے ۔ پہلی صورت میں خدا کا مکاشفہ اندرو نی اور فطرتی ہو گا ۔ دو سری حالت میں خارجی اور فوق العادت ۔

واضح ہو کہ خدا کا یہ تصورت کہ وہ انسان کے اندر مو جو د ہے ۔ اس امیتاز کو جو نیچرل اور سو پر نیچرل بھی معلوم ہو نے لگ جاتی ہے ۔ تمام نیچر زندہ خدا کی حضوری اور قدرت سے بھر پور ہے ۔ ’’جس طرح کوئی سوا ئے اس کی قدرت کے اس کی مرضی کو ظاہر نہیں کر سکتا اور ج طرح کوئی مقدس اس کی طاقت کی تاثیر کے بغیر اپنے آپ کو اس کی صورت میں تبدیل نہیں کر سکتا ۔ اسی طرح کوئی سوسن کا چھوٹا سا پھول اس کی قدرت کا ملہ کی تاثیر کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا ‘‘۔ پس اگھر وہ لوگ جو خدا کے دنیا میں مو جو د ہونے کے قائل ہیں یہ کہیں کہ کشف الہٰی ایک طرح سے نیچرل ہے تو ہم اس سے یہ سمجھیں کہ وہ انکشاف الہٰی قدرت کے وساطت کے بغیر وقوع میں آیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا مکاشفہ انسانی ترقی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔ جو طاقتیں اور قوانین انسانی ترقی کو وجود میں لاتے ہیں وہی مکاشفہ پر اثر ڈالتے ہیں ۔ اور یہ تمام قوانین خدا کی ذات کا گو یا ایک پر تو اور اظہار ہوتے ہیں ۔

اس زمانہ میں جو بات توجہ طلب نظر آ تی ہے ۔ سو یہ ہے کہ خواہ ہم خدا کو ایمننٹ (Immenent) مو جو د بالباطن (مانین یا ٹرنسنڈنٹ (Irenscendent) با لا از موجودات ) تصور کریں بہر حال ہمیں اس با ت کو بھولنا نہیں چاہیے کہ وہ ایک طرح ہے اور اس کے سارے افعال کا روحانی ہیں ۔ جب یہ کہا جا تا ہے ۔ کہ وہ موسیٰ سے اور نبیوں سے ’’بولا‘‘ اور اس نے ان کو اس رسم یا اس رسم کے ادا کرنے کا حکم کیا ۔ یا ان کو یہ خبر جسمانی کا ن کے وسیلے سے ملتی تھی ۔ اس کا مطب یہ ہے کہ نبی کے دل اور روح پر ایسا اثر ہو تا تھا ۔ کہ وہ خدا کے مطلب کو جان لیتا تھا ۔ پو لوس نے بہت سے دماغی جد وجہد کے بعد الہٰی چیزوں کی حقیقت کو سمجھنا سیکھا اور ان مشکل حا لا ت کا فیصلہ کرنے کی لیاقت حاصل کی جو عملی زندگی سے وابستہ تھے اور جن کا فیصلہ اس سے طلب کیا جا تا تھا ۔ سبیٹیر (Salratier)صاحب کا یہ قول غور طلب ہے ’’جب خدا نے بنی ا سرائیل کودس احکام دنیا چاہا تو اس نے ان احکام کو پتھر کی تختیوں پر اپنے ہاتھ سے تحریر نہ کیا بلکہ موسیٰ جیسے آدمی کو برپا کر دیا ۔ اس کے روحانی ادراک سے دس احکام پیدا ہوئے ۔ اسی طرح جب اس نے ہمیں رومیوں کا خط دنیاچاہا تو پو لو س کو سنے ۴بٹھا کر لکھوانا پسند نہ کیا ۔ بلکہ تارسیسی ساؤل جیسے شخص کی طبیعت اور لیاقت کے آدمی کو پیدا کر دیا ۔ یہ جا ن کر کہ جب درخت لگ جا ئے گا ۔ تو پھل خود بخود پید ہو جا ئے گا ۔

اعما ل کی کتاب کے تیرھویں باب میں مکاشفہ کی ایک نہایت معنی خیزمثال پا ئی جا تی ہے۔ کہ جب وہ عبادت کر رہے تھے ۔ تو ’’روح القدس نے کہا کہ میرے لئے بر بناس اور ساؤل کو اس کا م کے واسطے مخصوص کر دو جس کے واسطے میں نے ان کو بلا یا ہے ۔ ‘‘ ان لفظوں کو پڑھ کر شاید کوئی بھی یہ خیال نہیں کرے گا کہ ایک آواز ظاہری سناائی دی تھی ۔ جس کے وسیلے سے یہ حکم ان کو پہنچا گیا ۔ (واضع ہو کہ یہ خیال مصنف کا ہے ۔ا گر کوئی شخص جو فو ق العاد ت قدرت کا قائل ہے اس بات کو مانے کہ در حقیقت ایک آواز آئی تو ایسا ماننا اس کے لئے ناممکن نہیں ہے ۔ مترجم )ہر ایماندا ر اس بات کو سمجھتا ہے ۔کہ روح القد س نے پانی مرضی کو زیادہ باطنی اور پر اثر صورت میں ان لوگوں کے دلوں پر نقش کر دیا ۔ اور کس طرح ؟ جواب یہ ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں اپنی آواز پیدا کر کے جو اس کی ہدایت کے جو یہاں تھے پھر ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں ۔ کہ ان لوگوں نے کبھی اس مضمون پر سو چا نہیں تھا اور کہ یہ خیال ان کی اس کو شش کا نتیجہ تھا ۔ جو انہوں نے خدا کی ماہیت کے دریافت کرنے میں مبذول کی ۔ یا یوں کہیں کہ وہ سوچتے تھے کہ ہمیں مو جو د ہ حالات کی مو جو دگی میں کیا کرنا چاہئے ۔ پس بربناس اور سا ؤ ل کی تخصیص گو یا اس غورو فکر کا ایک نتیجہ تھا ۔ وہ اندرونی طور پر اس بات کے قائل ہو گئے تھے ۔ کہ جو کچھ ہم اس وقت کرنے لگے ہیں وہ خدا وند کی مرضی کے مطابق ہے۔ کلیسیا کی ساری تاریخ میں پو لو س اور برنباس کے تقرر سے بڑھ کر اور کوئی کا م نہیں ہوا۔ مگر یہ کا م مسیح کی مرضی کے اس اظہار پر مبنی تھا ۔ جو انہیں اندرونی طورپر حاصل ہو ا تھا ۔ اور وہ اسی واسطے نہایت محفوظ اور مضبوط تھا ۔ وہ لوگ اس بات کے قائل ہو گئے تھے ۔ کہ ہم اسی کی مرضی بجا لا رہے ہیں اور اسی کی آنکھوں سے رہے ہیں ۔یہاں ہم کو الہامی مکاشفہ کی گو یا ایک کنجی ملتی ہے ۔ وہ لوگ جو خدا کے ہمدرد اورہم خیال ہیں وہ اور اس کی مرضی کو سجھ لیتے ہیں ۔ وہ اس کی عدالتوں اور مطلبوں و پہچان لیتے ہیں ۔ اوریوں اس کے مکاشفے کے آلے بن جا تے ہیں ۔

لیکن اس جگہ یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے ۔ کہ اگر انسان کے خیا لات اور خدا کے کشف یا ہدایت میں کچھ تفریق نہیں کی جا سکتی تو پھر یہ کس طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ فلاں بات خدا کی طرف سے ہے ۔ اور فلا ں اس کی طرف سے نہیں ہے؟ وہ الہٰی روح جو انسان کے دل پر سچی الہٰی صداقتیں ظاہر فر ما تی ہے ۔ وہ کونسی روح ہے ؟ اور وہ جھوٹی روح جو بنی آدم کو گمہرا کتی ہے ۔ وہ کونسی روح ہے ۔ خدا کا اپنے آپ کو اور اپنی مرضی کو ظاہر فر ما نا کسے کہتے ہیں ۔ اور اپنے قیاس اور وہم کے ڈھکوں سلوں میں پھنس جا نا کسے کہتے ہیں ؟ اس قسم کے سوالات ضرور برپا ہوتے ہیں ۔ اور ان سوالات کا جواب بخبر اس کے او کچھ نہیں دیا جا سکتا۔ ’’ کہ ہر نبی یا رسول کے نزدیک ان مکاشفات کی اصلیت کی کسوٹی اور کوئی شے نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ پورا یقین رکھتا ہے ۔ کہ مجھے خدا کی رفاقت حاصل ہے ۔ کسی نے کیا اچھا کہا ہے کہ جس شخص نے حق تعالیٰ کی روح کو محسوس کیا ہے وہ اس کی نسبت بہ مغالطہ کھا سکتا ہے ۔ نہ اس پرشک لا سکتا ہے ۔ اورر نہ اس کا انکار کر سکتا ہے ۔ وہ تمام دنیا کی طرف مخاطب ہو کر یوں کہا کرتا ہے ۔ اے دنیا تو اگر انار کرتی ہے ۔ تو کر ۔ تو ایک طرف کھڑی ہو ۔ او ر میں اکیلا دوسری طرف کھڑا ہوں ۔

اور اگر یہ پوچھاجا ئے کہ کیا کلیسیا یا جماعت پر یہ فرض ہے کہ وہ نبی کی باتیں محض اس کے کہنے پر ما ن لیا کرے۔ تو اس کا جواب یہ ہے۔ ہر گز نہیں ۔ کیو نکہ جس طرح نبی اپنے فعلوں کا ذمہ دار ہے ۔ اسی طرح لوگ بھی خدا کے سامنے ذمہ دا رہیں ۔ پس فرض ہے کہ وہ اس نبی کی باتوں کو اس پر تو کے مطابق قبول کرے یا رد کرے جو کہ سچائی اور خدا کے متعلق نبوی پیغام واقعی خدا کی طرف سے ہے۔ اور راستی پر مبنی ہے تو اسے قبول کرے ۔ ورنہ اس سے پہلو تہی کرے۔

واضح ہو کہ کشف الہٰی کا طریقہ اور بھی واضع ہو جا ئے گا کہ اگر ہم تھوڑی دیر کے لئے اور اسی بات پر غور کریں ۔

۴۔ اپنے آپ کو انسان پر ظاہر کرنے سے خدا کی کیا غرض تھی ؟ سا کا جواب عام طور پر دیا جا سکتا ہے ۔ کہ خدا جو کہ محبت کا خدا ہے ۔ یہ چاہتا تھا ۔ کہ وہ ان سب کو جنہیں اس نے اپنی شکل پر پیدا کیا ہے اور اپنی رفاقت کے لائق بنا یا ہے ۔ اپنی بھر پوری میں سے کچھ عطا فرمائے ۔ لیکن اس مکاشفہ پر جو کہ بائبل مقدس میں درج ہے ۔

خاص طور پر غور کرنے سے یہ کہنا پڑتا ہے ۔ کہ شاید اس سے بھی زیادہ خاص مقصد مد نظر تھا۔ کیو نکہ بائبل کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک آدمی کی جو تصویر کھینچی گئی ہے اس سے یہی ظاہرہوتا ہے ۔ کہ اسے نجات کی ضرورت ہے ۔ یعنی اس بات کی ضرور ہے کہ وہ گناہ اور بدی سے رہائی پائے رووع ہی میں انسان کے گر جا نے کا افسوسناک منظر مشاہدے سے گزر تا ہے ۔ خدا کا منکشف جو بنی اسرائیل میں ہوا۔ اور اس کا وہ کامل مکاشفہ جو یسوع مسیح میں ظہور ہوا۔ وہ انسان کے گناہ سے ایک اص واسطہ رکھتا تھا۔ اور پھر یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے ۔ کہ یہ مکاشفہ ایک ایسا مکاشفہ تھا ۔ جس کا علم سب بنی آدم کے لئے ضروری تھا ؛۔ پس ان سب باتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے ۔ کہ خدااپنی ذات کی نسبت بنی آدم کو یہ عرفان عطا کرنا چاہتا تھا ۔ کہ میں تمام بنی آدم کا نجات دینے والا ہوں ۔

لیکن اس مطلب کو پو را کر نے کے لئے فقط اسی ایک بات کی ضرورت نہ تھی کہ خدااپنے آپ کو اسرائیل کی تاریخ اور رسم رواج میں ظاہر کرے یا کہ محض مسیح کے وجود اور زندگی میں اپنا پر تو کھا دے۔ س سے کچھ زیادہ کرنے کی ضرور ت تھی ۔ یعنی اس بات کی بھی ضرورت تھی کہ اس قسم کے لوگ تیار کئے جائیں جو ان اظہاروں کو پہچانیں اور قدر کریں ۔ خدا کی حضوری کے ابتدائی اور بنیادی اظہار سب بنی آدم کے لئے تھے ۔ فقط یہودیوں پر ہی نہیں بلکہ سب بنی آدم پر خدا نے اپنے آپ کو اس صورت میں ظاہر فر ما یا تھا ۔ کہ میں ایک ایسا حاکم ہوں ۔ جو راستبازی کو پسند کرتا ہوں ۔ لیکن جن لوگوں نے اس ابتدئی سبق کو قبول نہ کیا وہ اعلیٰ درجہ کے سبقوں کے لائق ثابت نہ ہو ئے ۔ اسرائیل کے درمیان اس قسم کے لوگ موجو د تھے ۔ جو ان باتوں کے سیکھنے کے قابل تھے جو خدا سکھا نا چاہتا تھا ۔ ان کی طبائع اور ارواح خدا کے ساتھ ہمدردی رکھتی تھیں ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ مکاشفہ کی مضبوطی اور صحت کے لئے الہام کی ضرور ت ہے ۔ یعنی مکاشفہ کے ظہور کے لئے ایسے آدمیوں ضرورت تھی جن میں خدا کی روح اس درجہ تک مو جو د ہو کہ وہا س کے اظہار کو جو نیچر میں تاریخ میں یا مسیح میں ہو پہچان کر نہ صرف اس کی قدر کر سکیں بلکہ اس ے قبول بھی کرسکیں۔ دوسری ضروری بات یہ تھی کہ اگر یہ بھی منظور ہو کہ خد ا کے کشف کا عرفان اور اس عرفان کی قدر جو خدا کے بندوں نے کی تمام بنی آدم کی میراث بن جائے تو اس مکاشفہ کا حال قلمبند کیا جا ئے ۔

اب صاف ظاہر ہے کہ بیان مذکورہ با لا سے دو نتیجے بر آمد ہو تے ہیں ۔ اول یہ کہ اگر مکشفہ کو اپنا مقصد پورا کر نا ہو تو لازمی امر ہے کہ وہ ان کو عطا کیا جا ئے جو اس کے سمجھنے کی لیاقت رکھتے ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر اسے ہمیشہ قائم رکھنا ہو تو ضرور ہے کہ ثبت کیا جائے ۔

دوسرے الفاظ میں یو ں کہیں کہ دو غور طلب خیال پیدا ہوتے ہیں ۔ جن پر کچھ تک بحث کرنا لازمی امر معلوم ہو تا ہے ۔

۱۔ مکاشفہ کا تبدریج ترقی پکڑنا

۲۔ اس کا قید کتاب میں لا یا جا نا۔

۱۔ لازمی امر ہے کہ مکاشفہ بتدریج ترقی کرے کیو نکہ ضرور ہے کہ اس میں اور ان لوگوں کی حالت ہیں جن کو وہ دیا جا تا ہے ۔ ایک قسم کی مطابقت ہو ۔ ان لوگوں کے نزدیک جو ڈی اسٹ کہلاتے ہیں ۔ یہی ایک مشکل تھی جس کا حل کرنا انہیں غیر معلوم ہو تا تھا ۔ وہ کہتے تھے کہ خدا نے پہلے اس اپنے آپ کو مسیح میں ظاہر کیوں نہ کیا۔ اور ہمارے زمانہ میں پرانے عہد نا مہ کے اخلاق اعتراض کیا جا تا ہے ۔ کہ وہ نا کامل ہیں ۔ اور یہ قباحت وہی قباحت ہے ۔ جس نے دوسری صدی میں سر اٹھا یا تھا ۔ جب کہ بہت لوگوں نے جو ناستک کہلاتے تھے ۔ ٹھو کر کھائی اور کہا کہ خدا پرانے عہد نا مہ میں نظر آتا ہے ۔ وہ تو بالکل ایک مختلف قسم کا خدا ہے ۔ لیکن یہ تمام مشکلات ک فقر ہو جا تی ہیں۔ جب ہم اس بات کو پیش نظر رکھتے ہیں ۔ کہ جیسی لوگوں کی حالت ہو تی تھی اسی کے مطابق خدا اپنے منکشف سے اپنے بندوں کو ما لا مال فرماتا تھا۔ یہ ناممکن تھا ۔ کہ بچپن کے زمانہ میں بنی آدم کو وہ عرفان بخشتا جا تا جو جوانی کے لائق تھا ۔

ایک شخص پلاٹینس نا می گزرے ہیں ۔ ان کا قول ہے کہ ’’جوشخص خدا کو دیکھنا چاہے اس کے لئے ضرور ہے کہ وہ خدا کی مانند بنے ۔ ‘‘ اس مقولہ میں وہ اصول مخفی ہے ، جسے اس مسأے کی بنیا د کہنا چاہئے کہا کرتے ہیں ۔ کہ اخلاق موافقت شخصی تعارف کی جڑ ہے۔ کوئی شخص اس سیرت کو سمجھ نہیں سکتا۔ جس کے ساتھ خود اس کی طبیعت کی موافقت نہیں ہوتی ‘‘ جو لوگ ہماری مانند نہیں ہیں۔ وہ ہمارے حا لات و خواص کے مطلق نہیں سمجھ سکتے۔ یہی حال خدا کا ہے ۔ وہ بھی ان لوگوں پر اپنے تئیں ظاہر نہیں کر سکتا جو اس کی الہٰی طبیعت سے کچھ موافقت نہیں رکھتے ۔ وہ شخص جو خود غرضی کی آلائش سے صاف اور محبت کے خیا لا ت سے پر ہے ۔ اگر ایسے لوگوں کے دومیان چلا جا ئے جن کے دلوں کی بدی نے سخت کر دیا ہے ۔ اور جو محبت سے بالکل بے بہرہ ہیں ۔ تو اندیشہ ہے ۔ کہ پہلے پہل وہ اس کی محبت کی باتوں کو ذرا بھی نہ سمجھیں گے۔ وہ فقط رفتہ رفتہ اپنی محبت بھری سیرت سے ان لوگوں کو آگاہ کر سکیں گا شروع شروع میں لوگ اس پر شک کریں گے۔ اس کے خیا لا ت اور ارادت کی غلط ناویل کی جا ئے گی ۔ یہی جلال الہٰی مکاشفہ کا ہوا یعنی جوں جو ں لوگ اس قابل ہو تے گئے کہ خدا کی سیرت کی اعلیٰ اور الہٰی صفات کو پہچانیں اور ان کی قدر کریں تو ں توں خدا ان پر اپنے آپ کو ظاہر کرتا گیا ۔ واضح ہو کہ خدا کی محبت بخوبی سمجھ میں نہیں آ سکتی تھی ۔ جب تک کہ اس کی راستی اور پاکیزگی اچھی طرح سمجھ میں نہ آ جا تی ۔ مسیح کا مرنا نے سود ہو تا اگر بنی آدم اس بات کو نہ سمجھتے کہ پاکیزگی اور راستی خدا کی ذاتی صفات ہیں۔ اور جب یہ بات سمجھ میں آگئی تو اس کی اس محبت کی گہرائی جس نے اسے بنی آدم کے لئے قربان ہو نے کو تیار کر دیا اچھی طرح سمجھ میں آ گئی اور نیز لوگوں نے اس کی بیش بہا عظمت کی قدر کرنا سیکھ لیا۔

یہی خیال پرانے عہد نا مہ کی اخلاقی باتوں پر صادق آتا ہے ۔ یہ ضروری امر تھا ۔ کہ موریلیٹی (اخلاق ) منزل بہ منزل آگے بڑھے اور تمام آرائشوں سے صاف ہو جا تی جا ئے اور اگر ہم یہ در یا فت کر نا چاہیں ۔ کہ آیا وہ باتیں جو پرانے عہد نا مہ میں درج ہیں الہٰی طریق کے مطابق ہیں یانہیں تو ہمیں یہ نہیں پوچھنا چاہئے کہ کشف الہٰی کے طریق کی ابتدائی منازل کیا تھیں۔ بلکہ یہ پوچھنا چاہیے۔ کہ جس طرز اور طریق سے خد انے پرانے عہد نا مہ میں کا م لیا اس کا نتیجہ با ل آخر کیا ہوا؟ اکثر یہ اعتراض سننے میں آتا ہے ۔ کہ بعض بعض اشخاص مثلاً ابرہیم اور دا ؤ د جن کو الہام کی برکت عطا ہو ئی جھوٹ یا دیگر گناہوں کے مرتکب ہوئے ۴۳ہمیں یاد رکھنا چاہئے ۔ کہ یہ ایک ایسی بات ہے کہ جس سے کتاب کی صداقت ثابت ہو تی ہے ۔ نہ کہ مکاشفے کی تکذیب ۔ چونکہ مکاشفہ اسی قدر دیا گیا جس قدر کہ لوگ اخلاق کے ادنےٰ درجہ سے اعلےٰ درجہ تک پہنچ گئے ۔ لہذا الہا م کا تدریجی طریقہ جو خدا نے پرانے عہد نا مہ میں اختیار کیا سر اسر واجب تھا ۔

مگر چونکہ اس بات کے متعلق اکثر غلطیوں کہ مدافعت ہو تی رہتی ہیں اس لئے ضروری معلوم ہو تا ہے ۔ کہ ہما نا غلطیوں کی مدافعت کے لئے چند الفاظ اوراضافہ کریں ۔ پرانے عہد نا مہ میں نہ صرف بد اخلاقیوں کا ذکر آتا ہے ۔ ( اور کا مل اور سچی تاریخ میں ا یسی باتوں کا مذکور ہو نا ضرور ہو گا ) اس میں ایسے واقعات بھی قلم بند ہیں ۔ جن کی اجازت خدا نے اس وقت دی مگر نئے عہد نا مہ میں اس قسم کے افعال پرفتوےٰ لگا یا ہے ۔ مثلاً برد ہ ۔ فروشی کثیر الازواجی ۔ کنعانیوں اور بعل کے کا ہنوں کو قتل کرنا ۔ معصوم بچوں کو ان کے مجرم ماں باپ کے ساتھ ملک عدم کو پہنچا نا بعض بعض دعائیہ زبوروں میں ایسے فقروں اور عبارتوں کا آنا جن سے سختی اور انتقام کی آرزو کی بو آتی ہے ۔ یہ سب عموماً بائبل کے پڑھنے والوں کے لئے ٹھوکر باعث ہو تی ہیں۔

اس کے بر خلاف منکروں کی دلیل بڑی ،مختصر سی ہے ۔ جو کہ یوں ادا کی جا سکتی ہے ۔ ’’یہ کتاب الہٰی الاحاصل ہو نے ک دعویٰ کرتی ہے ۔ مگر جب ہم اس کو پڑھتے ہیں تو معلوم ہو تا ہے کہ یہ ایسے افعال کو جا ئز ٹھہراتی ہے ۔ جو خارج ازودائرہ اخلاق ہیں لہذا یہ کتاب منجانب اﷲ نہیں ہے ۔ پس اس منجانب اﷲ ہو نے کا دعویٰ غلط ہے اور ہمیں اس کی طرف متوجہ نہیں ہو نا چاہئے۔ ‘‘

اس دلیل کے جواب میں ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ یہ دلیل فقط اس زمانہ میں کچھ زور رکھتی تھی جب بائبل کے متعلق وہ دعوےٰ کئے جا تے تھے جو درست نہ تھے ۔ اور نہ وہ طریقے ہی ٹھیک تھے جن کے وسیلے سے وہ دعوے پیش کئے جا تے تھے ۔ لیکن بائبل کے اصل دعوے اور خدا کے مکاشفے کے صحیح تصور کے خلاف اس دلیل کا کچھ زور نہیں چلتا۔ ۔ پرانا عہد نا مہ اس قوم کو ایک سچی تاریخ ہے جو تیار کی جا رہی تھی ۔ کہ خدا کو پہچانے اور راستی کو پیار کرے ۔ عین اس کے مطابق ہمیں ان کی ترقی کی مختلف منازل صاف صاف نظر آتی ہیں ۔ اس قوم کے رہنما خدا کے سچے اور وفا دا ر خدمت گزار تھے ۔ اس کے ساتھ سچی رفاقت رکھتے تھے ۔ مگر انہیں اس کا پورا پورا علم نہ تھا ۔ مگر وہ کامل علم کی طرف جو مسیح کے ظہور کے ساتھ وجود میں آیا ترقی کرتے جا تے تھے۔ وہ خدا کی ذات کے متعلق فقط اسی قدر سمجھ سکتے تھے ۔ جس قدر سمجھنے کی گنجائش ان کی سمجھ میں پائی جا تی تھی ۔ ان کا حال انسانی زندگی کی نشوونما کے قاعدوں کے ساتھ مشابہت رکھتا تھا ۔ جس طرح بچہ جوں جوں پڑھا جا تا ہے ۔ مدارج عمر کے مطابقاپنے باپ کے اوصاف اور خواص کو سمجھتا جا تا ہے ۔ یا یوں کہوکہ جس طرح چھپٹن میں بچہ اپنے باپ کی خصلت کو کلی طور پر نہیں سمجھتا سکتا اسی طرح یہ لوگ بھی خدا کی ذات کی حقیقتوں کو شروع میں پورے طور پر نہیں سمجھ سکتے تھے ۔ ان تمام نقصوں کو جو خدا کے علم میں پائے جا تے ہیں ۔ بائبل جو کہ ایک سچی اور معتبر تاریخ ہے ۔ بلا کم وکالت پیش کرتی ہے ۔ اور ہم اسکے اوراق کے مطالعہ سے سیکھتے ہیں ۔ کہ یہودیوں کے درمیان جو سب سے اچھے اشخاص تھے وہ بھی خدا کے علم میں کا مل نہ تھے ۔ وہ باتیں جو اس علم میں بھدی اور نا زیبا تھیں۔ وہا سی نسبت سے رفتہ رفتہ دور ہو تی گئیں جس نسبت سے یہ لوگ خدا کی شریعت کی تابعداری کرتے ہرے اور اس کی رفاقت کی دھن میں لگے رہے ۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمیں وہ باتیں جو ناقص سی نظر آتی ہیں اور جن کے سبب سے ان کی تیاری کا پہلا حصہ بد نما معلوم ہو تا ہے ۔ دیکھنا نہیں چاہئے۔ جس بات پر ہمیں اپنی توجہ لگانی چاہئے وہ وہ ترقی ہے جس نے تمام نقصوں کو پیچھے چھوڑ کر اپنا قدم کمال کی طرف اٹھا یا اور یوں خدا کے تربیت کرنے والے ہاتھ اور اس کی روح ی حکمت کو راست ثابت کیا ۔ پرانے عہد نا مہ کی تعلیمات کو علم الہٰی اور راستی کی آخری منزل گرداننا اورر اسے تیاری کا پہلا حصہ نہ سمجھنا سخت غلطی میں مبتلا ہو جا نا ہے ۔ ہاں خدا کے کشف کے ہر حصہ کو جد گانہ نظر سے سیکھنا اور اسے ماقبل موبعد کے واقعات اور حٓ لا ت سے علیحدہ کر کے اس پر فتویٰ لگا نا واقعی ایک غلطی میں ڈوب جا نا ہے ۔ اگر ہم الہٰی مکاشفہ یا پرانے عہد نامہ کا صحیح موازنہ کرنا چاہیں ۔ تو اس بات کو نہ بھولیں کہ کشف الہٰی اس نور کی مانند تھا ۔ جو صبح صادق سے شروع ہو کر مہر نیم روز کی کامل روشنی تک پہنچ جا تا ہے ۔ اور کہ گو ان اشخاص میں سے الہام کی ابتدائی منزل میں مو جو د تھے ۔ بہے سے ایسے تھے جو مابعد کے بزرگوں کی طرح خدا پر بھروسہ رکھتے او رکمال وفاداری سے اس کی خدمت نجا لا تے تھے ۔ تا ہم وہ خدا کا عرفان اس درجہ تک نہیں رکھتے تھے ۔ جیسا کہ وہ رکھتے تھے ۔ جو ان کے بعد اس دنیا میں آئے ۔ ابتدائی زمانہ کے بزرگ بعد کے نبیوں کی طرح خدا کی ذات و صفات کا علم نہیں رکھ سکتے تھے۔

پس ظاہر ہے کہ بائبل کے مخالف کی دلیل جب پرانے عہد نا مہ کے صحیح تصور کے سامنے آتی ہے توتاب مقادمت لا کر فرار ہو جا تی ہے۔ وہ منکر جو ایک نہایت بھدے طور پر فقط وہی پرانے عہد نا مہ سے چن لیتا ہے ۔ جن سے ضمیر کو صدمہ پہنچا ہے ۔ اور انہیں ایماندار کے سامنے رکھ کر ظنزاً کہتا ہے ۔ ’’دیکھو یہ ہے تمہارا حدا ۔ جو علامی اور انتقام کو پسند کرتا ہے ۔ ‘‘ وہ کلام الہٰی کے بھید سے واقف نہیں ۔ اور اسی طرح وہ ایماندا ر بھی غلطی پر ہے ۔ جو کسی منکر کی بیہودہ باتیں سن کر اپنے دل میں کہنے لگ جا تا ہے ۔ کا شکہ یہ باتیں کلام میں نہ ہوتیں ۔ خدا کی ذات و صفات کا ایک ایک خال اور ایک ایک خط لوگوں کی سمجھ کی قابلیت کے مطابق ظاہر کرتا رہا ۔ علم کے جس اعلیٰ زینہ تک یہودیوں کو پہنچا نا دا کو منظور تھا اس نے انہیں اس بلندی پر معجزانہ طور پر نہیں پہنچا یا ۔ جو عرفان وہ انہیں ان کی قومی تاریخ کے وسیلے اور نیز اس تاریخ پر غور کرنے کے وسیلے سے پہنچا نا چاہتا ہے۔ اس نے اس عرفان کو بجلی کے شعشہ کی طرح ایک دم میں ظاہر نہیں کیا۔ اس نے اپنے تئیں ان پر ان کی قومی تاریخ کے وسیلے سے ظاہر فر ما یا یعنی بوسیلہ ان سکولوں کے جو وہ ان کے ساتھ ان کی بغاوت اور توبہ کے وقت کر تا رہا ۔وہ ان کے غلط تصورات کے در و کرنے کے لئے عجلت میں نہ تھا ۔ لہذا اس کے وہ بندے اسی قدر اس میں دیکھتے تھے جس قدر دیکھنے کی قابلیت ان میں پیدا ہو گئی تھی ۔ اور اس کو زیادہ جاننے اور دیکھنے کی شرط یہی تھی ۔کہ جتنا علم ان کو حاصل ہو چکا تھا ۔ا س کے مطابق اس کی غلط اور صحیح دونوں طرح کے تصورات مو جو د ہیں تو ہم کس طرح ان میں ا متیاز کریں۔ اور یہ کہیں کہ درست ہے لہہذا ماننے کے قابل ہے ۔ اور یہ نا درست ہے لہذ اسے ترک کر نا چاہیے ۔ اس معاملہ میں مسیح اور مسیح کی تعلیم ہمارے لئے معیار کا کا م دیں گے ۔ وہ کامل مکاشفہ باپ کا جو مسیح میں پا یا جا تا ہے ۔وہ میزان سے جس کے وسیلے سے ہم اس کو جو کامل ہے دریافت کر لیتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ کامل نتیجہ کے وسیلے اس سارے عمل کے ایک ایک حصہ کی کنہ کو جا ن لیتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ نتیجہ پیدا ہو ا ہے ۔ اگر آپ سیٹم انجمن یا نقاشی یا برقیات یا نجوم یا کسی اور علم کی پر غور کریں۔ تو آپ کو معلوم ہو جا ئے گا ۔ کہ ہر علم میں تحقیق قدم بقدم آگے بڑھتی ہے ۔آپ دیکھیں گے ۔ کہ غلطیاں ہمیشہ صحیح تصورات کے ساتھ ساتھ چلتی رہی ہیں۔ جس کے سبب سے اصل نتیجہ با رہا جلدی مو جو د میں نہیں آیا بلکہ اکثر رکا رہا۔ جب کوئی مورخ کسی ایجاد یا دریافت کی لمبی چوڑی تاریخ پر سے عبور کرتا ہے تو وہ سہو غلطی کی طرف بہت متوجہ نہیں ہو تا ۔ وہ اس ترقی کے رشتہ کی پیروی کرتا ہے ۔ جس سے پرانے اور نئے عہد نامہکے محقق مربوط ہو جا تے ہیں ۔ اور سی طرح کوئی زمانہ حال کا منجم ان غلطیوں میں گرفتار ہو نا پسند نہیں کرتا ۔ جو قدیم زمانہ میں آفتاب کی حرکت کے متعلق رائج تھیں۔ اور نہ کوئی ایسا انجئیر ہی ہے جو اس وقت کسی مشین سے کام لے رہا ہے ۔ جو ان خیالوں میں مبتلا ہو رہا ہے ۔ جو زمانہ سلف کے محققین بھاپ کے متعلق مانتے تھے ۔ اور نہ کوئی دا نا شخص دیکھنے میں آئے گا ۔ جو ان لوگوں پر لعن طعن کرتا ہو۔ جو پچھلے ایام میں کسی سائنس پر غور و فکر کرتے تھے ۔ اور ان کے نتیجوں اور خیالوں میں غلطیاں چھپی ہوئی تھیں۔ اس قسم کے پرانے اشخاص ہمارے موجو د علم کے لئے نہایت ضروری تھے۔ البتہ الہٰی حقیقت کے دریافت کرنے کے متعلق ایک طرح کا فرق جو بھی پا یا جا تا ہے ۔ او روہ فرق یہ ہے کہ خدا نے اپنے آپ کو خود انسان پر ظاہر کیا اور انسان کو دریافت کر نے کی زاتی طاقتوں پر نہیں چھوڑا مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی سچ ہے ۔ کہ خدا انسان پر اپنے تئیں اسی قدر ظاہر کر سکتا تھا۔ جس قدر اس میں پہچاننے کی قابلیت تھی ۔ یہ پہچاننے کی قابلیت انسان کی سمجھ کی تواریخی ترقی پر مو قو ف تھی ۔ ۔ پس پرانے عہد نا مہ کے بزرگوں کے خیا لا ت اور افعال کی نکتہ چینی کرنا اور انہیں حقارت سے دیکھنا ایک طرح سے اپنے روحانی آباؤ اجدادکا خون کرنا ہے ۔ا یسا کرنا گو یا اس چٹان کو نظر انداز کرنا ہے ۔ جس میں سے ہم تراشے گئے ہیں یا یوں کہیں کہ ان قدیمی بڑے بڑے پیشواؤں کی حقار کرنا ہے جن کی طفیل سے ہمارے مو جو د ہ علم نے وجود کی صورت دیکھی۔

چونکہ خدا ئے تعالیٰ کا اپنے مکاشفہ سے یہ منشا تھا ۔ کہ بنی آدم کو گناہ اور اس کے نتائج سے نجات بخشے اس لئے اس مکاشفے کی تاریخ کا قلمبند کیا جا نا اگر لازم نہیں تو مناسب تو ضرور ی تھا۔ بیشک بٹلر صاحب نے ایک جگہ کچھ کچھ یوں کہا ہے ۔ کہ ’’ہم فیصلہ نہیں کر سکتے کہ خدا کے مکاشفے کو قلمبند ہو نا تھا ۔ یا بصورت روایت متداول ہو کر نسلاً بعد نسل بنی آدم کو پہنچنا تھا ۔ اور یوں تقرری رویت کے سبب سے اپنی خالقیت کو کھو کر آخر کار مفقود ہو جا نا تھا۔ شا ید کوئی یہ کہے کہ اگر مکاشفہ قلمبند نہ کیا جا تا اور تحریر کے وسیلے بگڑنے سے محفوظ نہ رکھا جا تا تو اپنے مقاصد کو پو را نہ کرتا لیکن میں پوچھتا ہوں ۔ کہ وہ کون سے مقاصد تھے ۔ جو عدم تحریر کی حالت میں اس سے پورے نہ ہوتے ۔ شاید اس حالت میں اس سے وہ اغراض پو ری نہ ہوتیں جو اب ہو رہی ہیں ۔ تاہم اس میں شک نہیں کہ اس سے اور کئی اغراض پوری ہوتیں۔ جس درجہ تک ان ہو رہی ہیں۔ تا ہم اس میں شک نہیں کہ اس سے اور کئی اغراض پو ری ہوتیں یا شاید ہی اغراض پوری ہوتیں جوا ب ہو رہی ہیں۔ گو مختلف اندازہ میں پو ری ہوتیں مگر ہم پہلے ہی سے یہ نہیں کہہ سکتے تھے ۔ کہ ان اغراض میں سے کون سی خد اکی وہ اغراض ہیں جو اس کی عام حکومت کے ساتھ پوری پوری مطابقت رکھتی ہیں۔‘‘ بٹلر صاحب کے خیال کا خلاصہ مطلب ہے ۔ اور یہ خیال ایک طرح بڑافائدہ مند ہے ۔ ہم بڑی عجلت سے کہنے لگ جا تے ہیں۔ خدا کا یہ مقصد تھا اور خدا کا وہ مقصد تھا ۔ اب بٹلر صاحب کے اس بیان سے ہم خدا کے مقاصد پر جلد بازی سے رائے زنی کرنے سے بچ جاتے ہیں۔ اور نیزہم کو اس خیال کے وسیلے یہ روشنی ملتی ہے ۔ کہ مکاشفہ ایک اور بات ہے اور اسے قلمبند کرنا ایک اور بات ہے ۔ اور کہ ممکن ہے کہ کبھی ا یسا کشف الہٰی بھی ہو ا ہو جو کبھی قلمبند نہیں کیا گیا ۔ اور یہ ایک واقعی امر ہے ۔ کہ خدا کی ذات و صفات کا فطرت میں ہو رہا ہے ۔ جو اب تک ہماری سمجھ میں نہیں آیا ہے۔ اور جو کچھ اس کی نسبت اب تک تواریخ میں ظاہر ہواہے۔ وہ بہت ہی کم ہم نے محسوس کیا ہے بلکہ ہمیں یوں کہنا چاہئے۔ کہ جو کشف مسیح کی ذات میں ہوا ہے ۔ وہ بھی پورے پورے طور پر رقم نہیں ہوا ہے ۔ اب گو یہ ساری باتیں ایک طرح سچ ہیں، تو بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگرچہ شروع شروع میں اس بات کی نبوت کرنا کہ بعد میں الٰہی مکاشفہ کا کیا حال ہو گا اپنے حدود سے تجاویز کرنا ہوتا تا ہم اب جبکہ ہم خدا کے مکاشفے کو پورے پورے طور پر لکھا ہوا پاتے ہیں۔ تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے ۔ کہ اس کے قلمبند کئے جا نے سے بہت فائدہ ہوا نا راست نہیں ہے ۔ اس فائدے کی تشریح ویسٹ منسٹر کینفشن میں بہت اچھی طرح کی گئی ہے ۔ چنانچہ اس میں لکھا ہے۔ ’’اگرچہ نیچر کی روشنی اور خلقت کی آفرنیش اور پرروردگاری کے کا م خدا کی رحمت اور حکمت قدرت کو اس درجہ تک ظاہر کرتے ہیں۔ کہ انسان کے پاس انکار کے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہتا ۔ تا ہم ان سے خدا کا اور اس کی مرضی کا وہ علم دستیاب نہیں ہو تا جو نجات کے لئے ضروری ہے ۔ لہذا خدائے تعالےٰ کو پسند آیا کہ متفرق زمانوں میں طرح بہ طرح اپنے آپ کو ظاہر فرما ئے اور اپنی اس مرضی کو جو نجات کے لئے ضروری ہے کلیسیا پر آشکارا کرے۔ پھر اس کو یہ بھی پسند آیا کہ سچائی کی حفاظت اور اشاعت کے لئے ۔ اور کلیسیا کو جسمانی خرابیوں اور شیطان کی عداوت اور دنیا کے کینے سے بچانے کے لئے اپنے مکاشفے کے کل واقعات کو قلمبند کر دے۔ اس سے پاک نوشتوں کا وجود ضروری اور لا بدی بن جا ت ہے ۔ کیو نکہ خدا کے وہ قدیم طریقے جن سے وہ اپنی مرضی کو ظاہر فر ما یا کرتا تھا ۔ اب مفقود ہو گئے ہیں۔ ‘‘ اس طرح ایک شخص(Rothe)نا می کہتا ہے ۔ کہ ’’ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے ۔ کہ مکاشفہ کے متعلق جو بات جو غور طلب ہے وہ یہ نہیں ہے ۔ کہ وہ فقط اسی حلقہ میں اپنی تاثیروں کو محدود رکھتا ہے ۔ قابل دید ہے یہ ہے کہ جو حقیقتیں اس میں پائی جا تی ہیں ۔ وہ ہمیشہ انسان کے عقلی دائرہ میں مو جو د رہیں گی۔ تا کہ بنی آدمم کے تصورات اور تجارت کے گورکھدھندے میں ایک ضروری اصول معلومہ کا کام دیں ۔ مکاشفہ کے وسیلے وہ سچے واقعات جو انسانی دنیا کے لازمی عناصر ہیں دنیا میں داخل ہوتے ہیں ۔ دنیا انہیں خود کبھی دریافت نہ کر سکتی ۔ ‘‘

اب اس سے صاف ظاہر ہے کہ مکاشفہ ان مقاصد کو پورا نہ کر سکتا جو وہ کر رہا ہے ۔ اگر وہ وہ سلک تحریر میں منسلک نہ کیا جا تا ۔ اور اس کی دلیلیں یہ ہیں ۔ اول تو یہ سمجھنا ہی مشکل ہے کہ اگر مکاشفہ تحریر نہ کیا جا تا تو وہ کس طرح کمال کو پہنچتا کیو نکہ الہٰی مکاشفہ جیسا ہم اوپر عرض کر چکے ہیں ۔ ایک تواریخی امرتھا اور یوں لمبے لمبے زمانوں پر چھا یا ہوا تھا ۔ یہ ضرور ی امر تھا ۔ کہ ایک پشت کو بتائے کہ خدا نے کو نسی صداقتیں ظاہر فر ما ئی ہیں۔ اور کونسے کلام کو دارومدار اس شریعت پر تھا ۔ جو پہلے عطا کی جا چکی تھی یا وہ ان تواریخی واقعات کا حوالہ دیتے تھے ۔ جو پہلے وقوع میں آ چکے تھے ۔ اب وہ ایسا کب کر سکتے۔ اگر شریعت اور تاریخ لکھی ہوئی نہ ہوتی ۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں ۔ کہ نئے عہد نا مے کے مصنف تصنیف کے کام میں اس علم سے جو پرانے عہد نا مہ کے متعلق رکھتے تھے۔ بہت سی مدد پاتے تھے ۔ اب سوائے اس کے کہ پہلے مکاشفے قرم کئے جا تے اور کسی طرح مکاشفے کے کام کو متواتر جاری رہنا اور تبدریج ترقی کرنا قیاس نہیں آ سکتا تھا ۔ پروفیسر لیڈر (ladd)صاحب درست فر ماتے ہیں کہ’’بائبل کا مکاشفہ کسی بے ربط صورت نہیں ۔ اس میں تو تواریخی سلسلہ پا یا جا تا ہے ۔ اور یادداشت جس قدر ایک بشر کے لئے ضرور ی ہوتی ہے ۔ اسی قدر بنی آدم کے سارے گروہ کے لئے ضروری ہے ۔ کہ پس یہ بت تواریخی مکاشفہ کے ساتھ شیروشکر کا سا رشتہ رکھتی ہے ۔ کہ خدا کی باتوں اور ہدایتوں کا جمع کیا ہوا۔ (یعنی لکھا ہوا ) سرما یہ مو جو د رہے ۔

دوم یہ بات بھی صاف ہے کہ اگر کلام لکھا ہی جاتا تو جب ہی خدائے نجات دہندہ کا وہ علم جو اس نے عنایت فر ما یا ہے ۔ محفوظ ہرتا اور اشاعت پا تا ۔ اگر کوئی شخص یہ جاننا چاہے کہ خدا انسان سے کیسا رشتہ رکھتا ہے ۔ اور کہ مسیحی مذہب کیا ہے ۔ اور نیز واقعات اور صداقتیں کی ہیں جن پر مسیحی مذہب اور وہ مسائل مبنی ہیں جو مسیحی مذہب کی تعلیمات میں داخل ہیں ۔ یا اگر اس بات پر بحث برپا ہو کہ انسان کو کس بات پر یا کس شخص پر ایمان لا نا چاہئے تو ضرور ہے کہاان باتوں پر روشنی حاصل کرنے کے لئے ہم بائبل کے پاس جائیں ۔ پس ہم عام صورت میں ا ور سچائی کے ساتھ بائبل کو خدا کا مکاشفہ کہہ سکتے ہیں ۔

خلاصہ :۔

جو کچھ اوپر عرض کیا گیا ہے ۔ اس سے بخوبی ظاہر ہو گیا ہو گا کہ خدا ئے تعالیٰ نے اپنے آپ کو ہم پر نجات کے کا م میں ظاہر فر ما یا ہے ۔

جو کچھ خدا نے انسان کو اپنی قربت میں لا نے اور گناہ کے پنجہ سے چھڑانے کے متعلق کیا ہے ہم اسی میں اس کو دیکھتے ہیں ۔اسی میں اس کی سیرت اور مقاصد کا نظارہ ہمیں نصیب ہو تا ہے ۔ خدا کے اس کام کی لکھی ہوئی تاریخ بائبل میں مو جو د ہے یعنی اس میں اس کے نجات بخش اور فضل سے معمور کا م اور مقاصد کا حال قلمبند ہے ۔ بائبل کی نسبت یہ خیال کرنا کہ وہ تعلیمات کا ایک آسان سا مجموعہ یا خلاصہ ہے یا کہ وہ علوم الہٰیات کی ایک ٹیکسٹ بک ہے ۔ اس کی حقیقت کا ایک غلط موازنہ کرتا ہے ‘‘۔ اگر ہم خدا کے متعلق یا خد ا کے اس رشتہ کے متعلق جو وہ انسان کے ساتھ رکھتا ہے ۔ سچائیوں کا کوئی مسلسل سلسلہ اخذ کرنا چاہیں تو ہمیں وہی طریقہ اختیار کر نا چاہئے جو ایک اسٹرا نومر (منجم ) اجرام فلکی سے اسٹرا نومی کی سسٹم قائم کرتے وقت اختیار کرتا ہے ۔یا جس طرح کوئی امبری آلوجسٹ (Emrologist)وہ جو اس وقت بچہ کی حالت پر غور کرتا ہے ۔ جب کہ وہ محض ایک مغضہ کی فطری ترقی کا ملاحظہ کر کے اپنا کامل علم حاصل کرتا ہے ۔خدا نے اپنے تئیں ظاہر کر دیا ہے ۔ او اس کے مکاشفے کی بڑی بڑی صداقتیں ہمارے لئے بائبل میں قلمبند ہیں ۔ اور ان صداقتوں کے وسیلے ہم دریافت کر سکتے ہیں۔ کہ وہ کیا چاہتا ہے ۔ کہ ہم اس کی نسبت جانیں اور سوچیں۔ بائبل کے متعلق ہمیں کبھی یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ وہ ایک ایسی صداقتوں کا مجموعہ ہے جو سوالوں یا مسلوں کی صورت میں قلمبند کی گئی ہیں۔ اور جو خدا نے وقتاً فوقتاً بعض آدمیوں کے کانوں میں پھونک دی تھیں۔ تا کہ وہ انہیں دنیا کے حوالے کریں اور دنیا انہیں ہر زمانہ میں خیال اور زندگی کے بے بدل قاعدے (Formulas)سمجھے۔

اس سے میں الہام کا صحیح مطلب بھی معلوم ہو جا تا ہے ۔ کیو نکہ خدا کے اس مکاشفہ کو فقط وہی لوگ سمجھ سکتے اور وہی اس کی قدر کرسکتے ہیں جو اس کی روح سے ما لا مال ہیں یایوں کہیں کہ مکاشفہ کو قبول کر نے کے لئے ملہم اشخاص کا ہو نا لازمی امر ہے ۔ الہام مکاشفہ کا تکملہ ہے ۔ جس طرح بصارت کو وجود خارجی دنیا کو دیکھنے کے لئے ضروری ہے ۔ اسی طرح الہام کی نظر خدا کی باتوں کو پہچاننے اور قبول کرنے کے واسطے لازمی ہے ۔ انسان میں الہام وہ طاقت ہے جو خدا کے مکاشفے کو محسوس کرتی ہے ۔ ممکن ہے کہ مکاشفہ ایسی جگہ جھلک دکھائے جہاں اس کے محسوس کرنے کے لئے الہام یافتہ اشخاص مو جو د نہ ہوں۔جس طرح کہ سلسلہ نیچر میں بہت سی چیزیں ایسی جگہوں میں مو جو د ہیں جہاں کوئی آنکھ اس کے دیکھنے کو حاضر نہیں ہے ۔ ہاں خدا نے باررہا اپنے آپ کو ظاہر فرما یا مگر اس ظہور کے پہچاننے اور قبول کرنے کے لئے کوئی ملہم شخص مو جو د نہ تھا ۔ اور اسی طرح یہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ کہ خدا کے بہت سے ایسے اظہارات ہو ئے ہیں ۔ جنہیں ملہم لوگوں نے محسوس کیا مگر وہ کبھی قلمبند نہ کئے گئے ۔ بائبل میں ہمارے لئے وہ چیدہ مکاشفات ثبت کئے گئے ہیں جنہیں ملہم اشخاص نے قبول کیا اور پھر رقم کرنا مناسب سمجھا۔

پانچواں باب

الہام

تین باتیں ہمارے دل میں جدا جدا صورت میں اور صاف صاف طور پر نقش ہو جانی چاہئیں۔ اول،خدا کا اپنے آپ کو ظاہر فرمانا۔ دوم،انسان کا اظہار یا کشف کو محسوس کرنا۔ سوم،اس انکشاف محسوسہ کا ہماری بائبل میں قلمبند کیا جانا۔ یہ ناممکن تھا کہ خدا اپنے آپ کو ایسے طور پر ظاہر فرمائے۔ جیسا کہ اس نے مسیح میں ظاہر فرمایا اور اس ظہور کو ادراک کرنے کے لئے کوئی شخص بھی تیار نہ ہو۔ ماسوائے اس کے یہ بات مدت سے انسان کے وتیرہ میں داخل ہوگئی ہے کہ جو اشیاء اور واقعات اس کو موثر کیا کرتے ہیں، وہ عموماً انہیں قید کتابت میں لے آتا ہے۔ لہٰذا یہ بات اس کی فطرت کے عین مطابق تھی کہ وہ اظہارات الٰہیہ کی دید ہی پر اکتفا نہ کرے بلکہ انہیں رقم بھی کروالے۔ اب اگر ہم ان تین باتوں کو اپنے ذہن میں خلط ملط نہ ہونے دیں بلکہ جدا جدا رکھیں تو ہماری بائبل کی خاصیت اور کام کا صاف صاف پتہ لگ جائے گا۔ بائبل کے وجود میں آنے سے پیشتر بھی خدا اپنے آپ کو نجات بخش صورت میں اپنے بندوں پر ظاہر کیا کرتا تھا۔ مگر یہ بات بھی بالکل صحیح ہے کہ وہ اب فقط بائبل ہی کے وسیلے سے اپنی نجات کا علم بنی آدم کو ہپنچاتا ہے۔ خدا نے نئے عہدنامہ کے وجود میں آنے سے کہیں پیشتر اپنے آپ کو مسیح میں ظاہر فرمایا اور بنی آدم کو بچایا۔ مگر اب اپنے اس مکاشفہ اور ظہور کے فوائد وہ اناجیل اور خطوط ہی کے وسیلے سے ایک قائم دائم صورت میں بنی آدم کو پہنچاتا ہے۔ اسی لئے نوشتوں کی نسبت کہا گیا ہے کہ ’’خدا جیسا مسیح میں ظاہر ہوا ہے۔ ویسا ہی انہی میں کلیسیا کے ایمان اور دنیا کی پہچان کے لئے موجود ہے۔ وہ مسیح کی پہچان کو ایسی شخصیت اور ایسی بقا اور ایسی عالمگیری سے ممتاز کردیتے ہیں کہ اس کا علم ہر جگہ اور ہر حالت میں اپنا خالقانہ اور انسان کو اس کی اصل حالت پر لانے والا عمل جاری رکھتا ہے‘‘۔ اب اس سے ظاہر ہے کہ بائبل خدا کا مکاشفہ اس لئے کہلاتی ہے کہ جو کچھ خدانے اپنی ذات و صفات کے انکشاف کے لئے کیا ہے اور جو کچھ خدا کے الہام یافتہ لوگو ں نے خدا کی نسبت دیکھا اور سوچا ہے ہمارے سامنے لکھی ہوئی صورت میں لاتی ہے۔ اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس لیاقت کی نسبت جس سے انسان خدا کے مکاشفہ کو سمجھتا ہے اور رقم کرتا ہے کہ اس لیاقت کی نسبت جس سے انسان خدا کے مکاشفہ کو سمجھتا اور رقم کرتا ہے ہم کچھ زیادہ شرح و بسط کے ساتھ تحریر کریں۔ اس لیاقت کو الہام کہتے ہیں۔ اس جگہ الہام یونانی لفظTheoneostia(تھیونیوستیا) کا ترجمہ ہے۔ نوشتوں کا الہام ہونا مرقومہ ذیل وجوہات کے سبب سے مانا گیا ہے۔ (۱) پہلی وجہ کا ذکر کچھ کچھ اوپر ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے کہ کشف الٰہی کے سمجھنے کے لئے خدا کی روح کا باطن میں موجود ہونا ضروری امر ہے۔ روحانی باتیں روحانی طور پر دریافت کی جاسکتی ہیں۔ اسی لئے ہمارے خداوند نے اور چیزوں کی نسبت روح کے نزول کا ذکر زیادہ خصوصیت اور زور کے ساتھ کیا ہے تاکہ اس کے شاگرد جان لیں کہ خدا نے اس میں کیا کچھ ظاہر فرمایا ہے۔ (۲) دوسری یہ وجہ ہے کہ نئے عہدنامہ میں پرانے عہدنامہ کا الہامی ہونا مانا گیا ہے حالانکہ پرانے عہدنامہ کے مصنفوں میں سے ہر ایک مصنف اپنے ملہم ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ مثلاً ۲۔ تیمتھیس ۳:۱۶ میں نوشتوں کے الہامی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ خواہ ہم اس آیت کے لفظوں کا کچھ ہی مطلب کیوں نہ سمجھیں۔ پھر ہ۔ پطرس ۱:۲۱ میں ہم یہ سیکھتے ہیں کہ نبوت انسان کی مرضی یا خواہش کا نتیجہ نہیں ہے۔ بلکہ آدمی رو ح القدس کی تحریک کے سبب سے خدا کی طرف سے بولتے تھے‘‘۔ پولوس بھی ۱۔کرنتھی ۱۴:۳۷ میں کہتا ہے ’’اگر کوئی اپنے آپ کو نبی یا روحانی سمجھے تو یہ جان لے کہ جو باتیں میں تمہیں لکھتا ہوں وہ خداوند کے حکم ہیں‘‘۔ اور جب وہ اسی خط کے ایک اور حصہ میں(۷:۴۰)۔میں یوں تحریر کرتا ہے کہ’’میں جانتا ہوں(Dokw)کہ خدا کی روح مجھ میں بھی ہے‘‘۔ تو اس سے ایک قسم کی خاکساری ٹپکتی ہے جو اس کے کلام کی سچائی کا ایک اور ثبوت ہے۔ اب اگراور اشخاص جن کی کتابیں بائبل میں پائی جاتی ہیں اس قسم کا دعویٰ نہیں کرتے تو اس سے ہرگز ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ الہام سے بے بہرہ تھے۔

جب ہم اس سادہ سے دعویٰ سے کہ نوشتے الہامی ہیں گزر کر اس سوال پر آتے ہیں کے الہام کیا ہے؟ تو ہمیں لوگوں کی مختلف اور متضاد آراء ہر طرف سے گھیر لیتی ہے۔ ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ خیال تک جتنے تصورات اہم سوال کے متعلق پائے جاتے ہیں ان میں سے ہر ایک کا کوئی نہ کوئی معاون اور حامی موجود ہے۔ چنانچہ اس خیال سے لے کر نوشتوں کے مصنف اسی طرح کا الہام رکھتے تھے جس طرح کا ملٹن یا بنین یا بیتھوون رکھتا تھا اس خیال تک جو یہ مانتا ہے کہ بائبل کا ہر ایک لفظ ایسے طور پر خدا کا کلام ہے کہ اس میں انسانی عنصر کو کچھ بھی دخل نہیں۔ لوگ طرح طرح کے خیالات کے پابند چلے آئے ہیں۔

لوگوں نے الہام کے بارے میں جو قیاسی تصورات قائم کر رکھے تھے اور ان تصورات کے قیاسی نتائج کا جو غلبہ پیدا ہوگیا تھا اس کے لئے بائبل کو اور ایمانداروں کے اعتقاد کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ مثلاً لوگوں نے بارہا اپنے قیاسی استدلال سے رائے زنی کرتے وقت کہا ہے۔ اگر خدا اپنی مرضی لوگوں پر ظاہر کرتا یا کرنا چاہتا تو ضرور تھا کہ وہ اپنے مکاشفے کو اس طرح یا اس طرح جلوہ شہود سے آراستہ کرتا کہ اس کا کلام ہرگز ہرگز مشکل اور دقیق نہ ہوتا بلکہ آسان اور صاف ہوتا اور کہ اس میں کسی طرح کی انسانی غلطی کا دخل نہیں پاتی۔ اسی قسم کے قیاسات پر بعض کا یہ خیال مبنی ہے کہ عبرانی کے اعراب بھی الہامی ہیں کیونکہ وہ الہامی نہ ہوتے تو قرات صحیح نہ ہوتی۔ لیکن خدا کسی طرح کی غلطی یا الہام کو اپنے کلام میں رہنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ بھی کہا جاتا تھا کہ خدا اپنے کلام میں قواعد کی غلطیوں کو کب گھسنے دے سکتا تھا۔ نہ وہ زبان کی بھدی ترقیبوں اور نہ عبارت کے سقموں کو اپنے کلام مید داخل ہونے کی رخصت دے سکتا تھا۔آیات کے نقادانہ ملاحظہ اور موازنہ کو لوگ مخالفت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ کیونکہ وہ خیال کرتے تھے کہ جس طرح دنیوی کتابوں کی نکتہ چینی کی جاتی ہے۔ اس طرح کی نکتہ چینی کے سپرد خدا اپنی کتاب کو ہرگز نہیں کرسکتا ۔ اب یہ تمام خیالات جو لوگوں نے اپنے لئے قائم کرلئے تھے غلط ثابت ہوگئے ہیں۔اور ان سے بشپ بٹلر صاحب کے مرقومہ ذی تنبیہی کلام کی بڑی تائید ہوتی ہے۔ بشپ موصوف فرماتے ہیں ’’ہم اس بات کا فیصلہ شروع ہی میں نہیں کرسکتے کہ خدا کن طریقوں سے اور کس کثر ت سے اپنی فوق العادت روشنی اور ہدایت ہمیں عطا فرمائے گا۔ پس نوشتوں کے مرتبہ اوراختیار کے متعلق جو سوال غور طلب ہے وہ صرف یہ ہے۔ کہ آیا وہ جو کچھ ہو نے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ ہیں بھی یا نہیں پس ہمارا یہ کام نہیں کہ ہم کہیں کہ پاک نوشتوں کو ایسی یا ویسی کتاب ہو نا چاہیے۔ اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں ۔ کہ جس طرح ضیعف العقل انسان چاہتا ہے کہ اس کی اشاعت کی جا ے ایسی ہی اس کی اشاعت ہو ۔ پس اب اس سے صاف ظاہر ہے ۔ کہ نہ عبارت درستی میں اور نہ عبارت کی ظاہر نا درستی ۔ او ر نہ مختلف قراتوں کا وجود ان مصنفوں کے متعلق پرانی بخشش اور نہ اس قسم کی اور باتیں خواہ ان کا شمار موجو د ہ شمار سے کہیں زیادہ کیوں نہ ہو نوشتوں کے رتبہ اورر اختیار کو زک پہنچاتیں البتہ ان باتوں سے اس وقت نوشتوں کے زور کو صدمہ پہنچتا جب کہ نبی رسول او رہماراخداوند کہہ گئے ہوتے کہ الہامی کتاب میں یہ باتیں نہ ہوں گیااور پھر مو جو دہ نوشتوں میں یہ باتیں پائی جاتیں ۔ ‘‘

پس اس سے بائبل ہی سے یہ بات دریافت کر سکتے ہیں ۔کہ الہامی کتاب کسے کہتے ہیں۔ اب اگر ہم اس خیال کو اپنے دل میں رکھیں اور پھر بائبل کا مطالعہ شروع کریں ۔ تو بائبل کی مشکلات سے ہمیں کس طرح کا صدمہ نہیں پہنچے گا ۔ بشرطیکہ ہم اس کے م طالعہ سے پیشتر اپنے پہلے خیا لا ت کو دل سے نکال دیں ۔ یعنی یہ نہ کہیں ۔ کہ الہام کا مطلب میری دانست میں یہ ہے یا وہ ہے۔ کہ اسے یہ کرنا چاہیے یا وہ کرنا چاہیے ۔ ہم اس بات کی تلاش نہ کریں ۔ کہ ہمیں بائبل میں الہام کا وہ رتصوردکھائی دے جو ہمارے دل پر نقش ہو رہا ہے۔ بلکہ ہم اس بات کے لئے تیار ہوں کہ جو تصور الہام کے متعلق بائبل میں پا یا جا تا ہے ۔ اسے دل و جا ن سے قبول کریں ۔ مثلاً اگر بائبل کے ملاحظہ سے یہ بات روشن ہو جا ئے۔ کہ بائبل کی تصنیف میں انسانی لیا قت اور طاقت کوبہت سادہ ہے تو اس میں کہ ہم الہام کے متعلق اپنے خیال کو ایسا وسیع کریں کہ انسانی طاقت کا عنصر اس میں بآسانی سما ئے ۔ اور اسی طرح اگر ایسی مشکلا ت نظر آئیں جن کی نظبیق بظاہر ناممکن معلوم ہو تو وہ بھی الہام کی تعریف وضع کرنے میں ہماری مدد کریں ۔

پروفیسر بون صاحب نے ایک چھوٹی سی کتاب لکھی ہے۔ جس کا نا م ’’کرسچن ریویلشن‘‘ ہے ۔ اس کتاب میں پروفیسر صاحب فر ما تے ہیں ۔ ’’الہام کا وجود کتاب میں جلوہ نما ہے ۔ مگر الہام کے مطلب یا مقدار کا فیصلہ فقط قیاسی استد لال سے نہیں کیا جا سکتا ۔ کیو نکہ وہ کیا کرتا ہے ۔ ان کتابوں کی خاصیت کا فیصلہ الہام کے تصور سے نہیں کرنا چاہئے ۔ بلکہ الہام کی خاصیت کا فیصلہ کتابوں کے وسیلے کرنا چاہئے۔ ‘‘

الہام کے متعلق سب سے اہم اور حل طلب سوال یہ ہے کہ الہٰی کلام میں الہٰی اور انسانی مداخلت کا باہمی تعلق کیا اور کیسا ہے ۔ کہاں تک اس میں الہٰی طاقت کا دخل ہو تا ہے اور کہاں تک انسانی طاقت کا ۔ اس معاملے میں طرح طرح کے خیا لا ت مروج ہیں ۔ مگر سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ بعض کے مطابق کلام الہٰی میں انسان کی طاقت کا دخل زیادہ ہو تا ہے ۔ اور بعض کے مطابق کم ۔ پس ان مختلف درجوں کے مطابق جو اس خصوص میں الہٰی اثر یا طاقت سے منسوب کئے جا تے ہیں۔ ذیل کے خیالات مروج ہیں ۔

۱۔

وہ خیال جو انگریزی زبان میں مکینکل (Mechanical)یا ڈکٹیشن (Dictation)تھیوریہ کے نا م سے مو سو م ہے ۔ اس میں انسان محض کاٹھ کے پتلے کی طرح بے حس و حرکت ہو تا ہے ۔ خدا لکھواتا جا تا ہے اور وہ لکھتا جا تا ہے ۔ اس خیال میں الہٰی عنصر درجہ غایت پر نظر آتا ہے ۔ اور انسانی طاقت برائے نا م دکھائی دیتی ہے ۔ انسانی خواص اور قوائد دب جاتے ہیں ۔ اور خدا جو انسان کے اندر داخل ہوتا ہے ۔ اس کے اعضا کو گو یا بغیر اس کی رضا کے اپنے کا م میں لا تا ہے ۔ آدمی خدا کی آواز بن جا تا ہے ۔ اور اپنی زبان سے وہ کلمات نکالتا ہے ۔ جن کے مفہوم سے واقف ہونا یا نہ ہونا اس کے لئے ضروری امر نہیں ۔پس وہ ایسے خیالا ت لو گوں سپرد کرتا ہے جنہیں اس کی عقلی طاقتوں نے خود گردفت نہیں کیا ہے ۔ وہ ایک ایسے دماغ اور ایک ایسی مرضی کا محکوم ہو جا تا ہے ۔ جو اس کی اپنی نہیں ہو تی ۔

اس خیال کی قدر غیر مسیحی اقوا م میں بہت کی جاتی تھی ۔ مگر مسیحیوں میں بہت کم غیر اقوام کے درمیان حقیقی الہام کا نشان ہی یہی ما نا جا تا تھا کہ انسان از خود رفتہ ہو جا ئے ۔ وہ لوگ پو لوس کے اصول کو جو یہ تلقین کرتا ہے ۔ کہ نبی کی روح نبی کے تابع ہو نی چاہئے ۔ قابل وقعت نہیں سمجھتے تھے ۔ بلکہ ان کے نزدیک یہ اصول زیادہ معقول تھا ۔ کہ زیادہ الہام پانے کی حالت میں ہو تا ہے ۔ اسی قدر کم اپنے اوپر قابو رکھتا ہے ۔ پس اس وارفتگی کی حالت کو پیدا کرنے کے لئے وہ لوگ کبھی طرح طرح کی ادویات کو سونگھتے اور استعمال کرتے تھے ۔ اور کبھی بے تحاشا رقص و سرو د کے وسیلے اس حالت کو پیدا کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے ۔ اور فریقہ اور دیگر مشرقی ممالک میں یہ حرکات اب تک دیکھی جا تی ہیں ۔ اسی طرح یہ بھی ما نا جا تا تھا اور ما نا جا تا ہے ۔ کہ لوگ غش کی حالت میں وہ کچھ دیکھتے ہیں ۔ جو عقلی اور دماغی قواء کے بر جارہنے کی حالت میں نظر نہیں آتا ۔ اسی لئے خواب وغیرہ خدا کی مرضی کے اعلان یا اظہار دسمجھے جاتے ہیں ۔ اب اس عقیدے کی نسبت یہ خیال نہیں کرنا چاہیے۔ کہ یہ محض عام بت پرستوں کی زود اعتقادی کا نتیجہ تھا ۔ نہیں ان بڑے بڑے عالم بھی اس بات کو مانتے تھے ۔ مثلاً افلاطون ٹیمیس ( Timaeus)میں کہتا ہے ’’ خدا نے پو شیدہ رازوں کے جاننے کی طاقت حکمت کو نہیں بخشی ۔ بلکہ یہ طاقت انسان کی بیوقوفی کو عنا یت کی ہے ۔ مثلاً کو ئی شخص اس وقت جبکہ اس کی عقل بر جا ہو تی ہے ۔ نبوی سچائیوں اور الہامی صداقتوں کو نہیں جان سکتا کیو نکہ جب کبھی اسے الہامی کلام بخشا جا تا ہے ۔ اس وقت اس کی عقل کو یا تو عالم خواب اڑالے جا تا ہے یا کسی طرح کی دماغی خرابی دبا لیتی ہے۔ ‘‘ پھر فیڈرس میں وہ دیوانہ پن کی چار صورتیں بیان کرتا ہے ۔ جو یہ ہیں ۔ نبوت ۔ الہام شاعری ۔ اور عشق ۔ اور پھر کہتا ہے ۔ کہ وہ شخص جو خود پر قابو رکھتا ہے ۔ ان کا مظہر یا مورد نہیں ہو سکتا ہے ۔

اس انسانی حالت کو جو الہامی باتوں کے قبول کر نے کے لئے ضروری سمجھی جا تی تھی ۔ ادا کرنے کیلئے ایک خاص یو نا نی لفظ استعمال کیا جا تا تھا ۔ وہ (Ekcppwv)(ازخود رفتہ ) تھا۔ مثلاً افلاطون کے ’’آئیون ‘‘ (Ion)میں یہ الفاظ آئے ہیں ۔ (Evoeosiekai ckcp pwv(اور پھر پلو ٹارک کے تھیمس ٹاکلیز (Cxxvi. 2)میں ایک اتالیق کا ذکر ہے ۔ جس کا نام او لیباس تھا ۔ وہ ایک دم الہام پانے والی حالت میں آ گیا ۔ اس کی حالت ان لفظوں میں ادا کی گئی ہے ۔ (Ekcppwv yevouevos kdiqeopopmtos)پھر ورجل چھٹی اینئیڈ میں ایک عورت کا ذکر کرتا ہے ۔ جو کہانت کا کا م کیا کرتی تھی ۔ وہ کوشش کو رہی تھی کہ دیوتا کو اپنے پاس نہ آنے دے۔ چنانچہ اس کی تاثیر سے بچنے کے لئے اس نے بہت جد وجہد کی ۔ مگر آخر کار اس کے قابو میں آ ہی گئی ۔

اب اس سے ظاہر ہے کہ یہ لوگ اس بات جو مانتے تھے۔ کہ انسانی طاقتیں عقیدہ تھا کہ جب تک انسان کی عقل اور سمجھ اپنا کام کرتی رہتی ہے ۔ تب تک خدا کو اپنی مرضی کے ظاہر کر نے کا پورا پورا موقع نہیں ملتا ۔ لیکن جب یہ طاقتیں کچھ عرصہ کے لئے بند ہو جا تی ہیں ۔ تو خدا اپنی مرضی کو اچھی طرح ظاہر کرتا ہے ۔ اسی لئے اس تعلق کو واضح کر نے کے لئے جو الہام بخشنے والے خدا اور الہام پانے والے انسان میں پا یا جا تا ہے ۔ وہ لوگ دو مثالیں دیا کرتے تھے ۔ پہلی مثال بر بط اور بربط نوازکی تھی اور دوسری لکھنے والے اور اس کے قلم کی تھی ۔ یعنی وہ کہا کرتے تھے کہ جو رشتہ بربط نواز اور بر بط میں پا یا جا تا ہے اسی طرح کا رشتہ الہام دینے والے اور خدا اور الہام پا نے والے انسان میں مو جو د ہے ۔ پس ان کے نزدیک انسان محض ایک کامل کی مانند تھا ۔ اور جو کام اس کے وسیلے سے کیا جا تا تھا ۔ اس میں اس کی عقل اس کے جذبات اور اس کی مرضی کو کچھ بھی دخل نہ تھا ۔ جو کچھ اس سے لکھوایا یا کہلوایا جا تا تھا وہ پورے پورے طور پر خدا سے منسوب کیا جا تا تھا ۔ یاں یوں کہیں کہ اس کا ایک لفظ خدا کا کلمہ تصور کیا جا تا تھا ۔

یہ خیال اگر ان دنوں ما نا جا سکتا ہے تو بہت ہی بدلی ہوئی صورت میں ما نا جا سکتا ہے۔ گو اس میں کو ئی شک نہیں کہ تھوڑا ہی عرصہ ہوا کہ یہ خیال بہت ہی مروج تھا اور واقعی قدامت جس قدر قدرو منزلت کسی بات کو دے سکتی ہے ۔ وہ اس کو حاصل ہے ۔ کیو نکہ بعض قدیم مسیحی آبا بھی بربط اور گز کی مثال استعمال کیا کرتے تھے اور ایسے طور پر کہ ان کے الفاظ کو پڑھ کر یہ شبہ گزتا تھا کہ شاید وہ بھی اس مکینکل خیال کو ما نتے تھے ۔ چنانچہ انتھا گورس نبیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’جب وہ وجد کی حالت میں ہو تے تھے اور ان کی عقل کی طاقتیں کافو ر ہو جا تی تھیں۔ اس وقت وہ وہی باتیں کہا کرتے تھے ۔ جو ان سے کہلوائی جا تی تھیں ۔ روح انہیں آلہ کے طور پر استعمال کرتی تھی۔ ہاں اس طرح جس طرح کہ بنسری بجانے والا بنسری کا استعمال کرتا ہے ۔ ‘‘ فیلو بھی جو بڑا عالم اور فاضل کے یہ مانتا تھا ۔ کہ الہام ایک قسم کا وجد ہے ۔ اور ملہم اشخاص بمنزلہ آواز کے ہوتے ہیں ۔ کیو نکہ جن باتوں کو وہ اپنے منہ سے نکالتے ہیں ۔ ان پر انہوں نے اپنی سوچ اور فکر کو صرف نہیں کیا ہوتا۔ وہ فقط خدا کے کلام کو اپنے لبوں سے ادا کیا کرتے ہیں۔

یہی وجہ تھی کہ یہودی لوگ نوشتوں کے ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف کو متبرک سمجھتے تھے ان کے درمیان یہ روایت متدا ول تھی کہ جب موسیٰ پہاڑ پر گیا اس وقت اس نے دیکھا کہ خداوند خداآپ تو ریت کی کتاب خوبصورت حروف میں لکھ رہا ہے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ انہوں نے ہر ایک کتاب کے الفاظ اور حروف گن ڈالے ۔ اورمقدس کتاب کی بالکل خارجی اور عارضی باتوں میں بھی بڑے بڑے پر راز مطالب بھر دئیے۔

دوسری صدی میں مانٹینزم نے اس عقیدے کو اور بھی مضبوط کر دیا جس کی مخالف ملیٹا ڈیز نے بڑی صفائی اور صراحت سے کی ۔ لیکن اس عقیدے نے جو گرفت مسیحیوں کے خیالات پر حاصل کر لی تھی اور اس کا زور ہم اس وقت اچھی طرح ظاہر ہو تا ہے ۔ جب ہم یہ دیکھتے ہیں ۔ کہ ریفامیشن کے بعد بھی یہ عیقدہ مروج رہا ۔

اب جس خیال یا عقیدے کا منقطی نتیجہ یہ ہو ۔ جو ہم بیان کر آ ئے ہیں ۔ وہ نوشتوں کی تعلیم کے مطابق صحیح قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ لہذا وہ ماننے کے قابل نہیں ہے ۔ نوشتوں کا مطالعہ ایک دگرگوں صورت ہمارے سامنے لا تا ہے ۔ مثلاً جو تیاری لوقا نے اپنی انجیل کے لکھنے کے لئے کی جس کا ذکر وہ ا پنی انجیل کے شروع میں کرتا ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ لو قا کسی دوسرے شخص کے خیالات کو ادا کرنے کا ایک االہ تھا ۔ اسی طرح اگر وہ تائبا نو حے اور خوشی بھری ہوئی شکرگزاریاں اور حمد و سپاس ے معمور غزلیں جو ہم مزامیر میں پاتے ہیں ۔ فی الحقیقت انسانی غم اور انسانی سوچ اور تجربہ کا پھل نہیں ہیں تو وہ بالکل بے مغز ہیں ۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے۔ کہ گندم اور نمائی اور جو فروشی کی مثال ہیں ۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی یا یہ کہیں کہ نبیوں کو کل کے طور پر کا م میں لا نا اور اس سا رے تجربے اور علم کے بر خلاف ہے جو ہم خدا کے کاموں کے متعلق رکھتے ہیں ۔

اور اس فرضی طریقہ کا فرضی نتیجہ بھی اسی طرح خدا کے معمولی طریقوں سے بعید ہے ۔ جس طرح کہ الہام دینے کا فرضی طریقہ بعید ہے ۔ اب وہ فرضی نتیجہ کیا ہے ۔ وہ وہ کتاب ہے جو بائبل کہلاتی ہے ۔ اور جس کا ہر ایک لفظ گویا ایسا ہی خدا کے منہ میں کا نکلا کلمہ سمجھا جا تا ہے۔ جیسا کہ اس وقت سمجھا جا تا تھا ۔جب کہ خدا بغیر انسانی وساطت کے براہ راست ہم سے کلام کرتا ۔

بموجب اس خیال کے کسی طرح کی سہو کے لئے جگہ نہیں رہتی ۔ لہذا ہر ایک تواریخی اور سائنٹفک اور کرونموجیکل (شمار اوقات ) کے بیان کا ایک ایک نقطہ اور شوچہ صحیح ہے ۔ ضرورت نہیں کہ ہم اس خیال کی تمام مشکلات اور باہمی اختلافوں کا ذکر کریں ۔ یہی کہنا کافی ہے ۔ کہ یہ خیال ایسی مشکلات پیش کرتا ہے ۔ جن کارفع کرناآسا ن کا م نہیں ہے ۔ یہ ہم سے طلب کرتا ہے ۔ کہ ہم یہ مانیں کہ بائبل ایک ایسی کتاب ہے جس میں کسی طرح کی سہو کبھی نہیں آ سکتی اور جس کی ہر ایک کتاب ایسے ہی الہام سے پر ہے ۔ یہ خیال ہم کو مجبور کرتا ہے ۔ کہ ہم تمام اختلافات کا حل پیش کریں ۔ اور ہم کہتے ہیں ۔ کہ اگر اس قسم کی بائبل ہمارے لئے ضروری ہوتی تو اس کے پیدا کرنے کا انتظام خدا ضرور کرتا ۔ مگر حقیقت حال یہ ہے کہ ہمارے پاس اس وقت ایک ہی بائبل مو جو د ہے۔ جوہر ایک امر میں اس سے جو شروع میں لکھا گیا ہو۔ پوری مطابقت نہیں رکھتی ۔ نسخوں میں کچھ نہ کچھ سہو کتابت سے ابتر جدا ہو گئی ہے۔ ترجمے پورے پورے طور پر مطلب کو ادا نہیں کرتے ہیں ۔ ہمارے پاس سوائے ان کے اور کچھ نہیں ہے ۔ پس یہ مکینل یا مبرا عن الخطا ہو نے والا مسلہ در حقیقت ہمیں کوئی مبرا عن الخا بائبل نہیں دیتا بلکہ برعکس اس کے اس قسم کی بائبل کو ہمارے ہاتھ سے چھین لیتا ہے ۔ اگر ہر طرح کی غلطی سے آزاد آور بری ہونے کا دعویٰ کیاجا سکتا ہے ۔ توصرف ان نسخوں کی نسبت کیا جا سکتا ہے ۔ جو ملہم رسولوں اور نبیوں کے قلم سے شروع میں نکلے تھے ۔ مگر و ہ اس وقت ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں ۔ پس اتنا کہنے میں کوئی عیب نظر نہیں آتا ہے کہ اگر ہماری نجات کے لئے بائبل میں لفظی صحت کی ضرور ت ہو تی تو خدا اس میں سر وفرق نہ آنے دیتا ۔ اگر یہ لازمی امر ہو تا ہے کہ ہم خاص انہیں لفظوں سے واقف ہوں جو ابتدا میں ہر نبی اور رسول کے قلم سے نکلے تو ہم اس وقت خدا کے کلام کے فوائد سیت سراسر محروم رہتے ۔ کیو نکہ سپچوریمنٹ اور عبرانی عہد عتیق کے درمیان کئی قسم کا لفظی اور ترتیبی تفاوت نظر سے گزرتا ہے ۔ اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ان دونوں میں سے کونسا متن اصل کے زیادہ قریب ہے ۔

نوشتوں کے متعلق دوباتیں میں وربل انسپائریشن (Verbal Inspirationلفظی الہام) کے برخلاف ہیں ۔

(الف) اول یہ طریقہ ہے جس کے مطابق پرانے عہد نا مہ سے نئے عہد نا مہ میں اقتباسات درج کئے گئے ہیں۔ ایسے اقتباسات شمار میں ۲۷۵ ہیں ۔

ان میں سے صرف ۳۵ ایسے ہیں ۔ جن میں عبرانی اور سپچوریجنٹ (یونانی ) اور نیا عہد نامہ لفظ بلفظ متفق ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے ۔ کہ ان مقامات میں سپچوریجنٹ نے عبرانی کا یو نا نی ترجمہ لفظی عاریت کو مد نظر رکھ کر کیا ہے۔ اور اس کو نے عہد نا مہ کے مصنفوں نے اسی طرح اقتباس کیا ہے ۔

پھر ۱۰۔ ایسے اقتباس ہیں جن میں گویا مصنفوں کو سپچوریجٹ کی یو نا نی کی تصیح کر کے اسے عبرانی کے مطابق کر دیا ہے ۔

۳۷۔ ایسے ہیں جن میں سپچوریجٹ کے ترجمہ بھی کر لیا ہے ۔ گو اس میں اور اصل عبرانی میں کچھ کچھ تفاوت مو جو د ہے ۔

۲۔

ہمارے خدا وند کے اقوال اناجیل میں ہمیشہ ایک ہی الفاظ میں بیان نہیں ہو ئے۔ چنانچہ خوداخدا وند کی دعا کے جملے متی اور لوقا کی اناجیل میں کسی قدر متفرق ہیں ۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر لفظی الہام کو مانیں تو اس اختلاف کی وجہ کیا ہو گی ۔ اس کی تو کوئی گنجائش نہ رہے گی ۔

البتہ ۱۔ قرنتی ۲باب میں پو لس یہ کہتا ہوا۔ معلوم ہو تا ہے ۔ کہ میرے الفاظ بھی روح القدس کے سکھائے ہو ئے الفاظ ہیں ۔ ’’ہم ان چیزوں کو ان الفاظ میں نہیں بیان کرتے جو انسانی حکمت نے ہم کو سکھائے ہوں ۔ بلکہ ان الفاظ میں جو روح بے سکھائے ہیں ۔ ‘‘ لیکن غور سے پڑھنے سے یہ واضح ہو جا تا ہے ۔ کہ پولس یہاں تعلیم کے دو طریقوں کا مقابلہ کرتا ہے ۔ جن میں سے ایک دنیا وی اور ایک روحا نی ہے ۔ اور کہ میرا طریقہ روح کا سکھایا ہوا طریقہ ہے ۔ جس خاص طرز اور عبادت میں اس نے اپنے پیغام کو پیش کیا اس کی وہ حمایت کرتا ہے ۔ اور یہ کہتا ہے۔ کہ دنیا ایک خاص طرح سے علم سکھاتی ہے ۔اور روح خدا ایک دوسرا طریقہ استعمال کرتی ہے ۔

لفظی الہامج کا خیال اس پر مبنی ہے کہ خدا ملہم شخص کے دل میں ایک خاص تعلیم ڈال دیتا ہے ۔ جس کا اس کے عقلی اور جسمانی قوےٰ ولوازمات سے کچھ علاقہ نہیں ہو تا ۔ اس لئے جن الفاظ میں وہ تعلیم ظاہر کی جا تی ہے ۔ ا ن کو بھی منجا نب اﷲ ما ننا پڑتا ہے ۔ لیکن بائبل ایسے خیال کی تصدیق نہیں کرتی ۔ اصل بات پر ہے ۔ کہ جس شخص کے دل میں ایک خاص تعلیم ڈال دیتا ہے ۔ جس کا اس کے عقلی اور جسمانی قوےٰ ولوازمات سے کچھ علاقہ نہیں ہوتا ۔ اس لئے جن الفاظ میں وہ تعلیم ظاہر کی جاتی ہے ۔ ان کو بھی منجانب اﷲ ماننا پڑتا ہے ۔ لیکن بائبل ایسے خیال کی تصدیق نہیں کرتی ۔اصل بات یہ ہے جس شخص کو الہام ملتا ہے ۔ وہ محض جا دو منتر کے طور پر نہیں بلکہ اس سے شخص کے سارے عقلی اور روحانی قویٰ الہام سے موثر ہو کر روح القدس کے اوزار بن جا تے ہیں ۔ تا کہ اس کے مقصد کو پو را کریں

۴۔

بعض عالم یہ سمجھتے ہیں ۔ کہ الہٰی تاثیر سے انسانی قویٰ معطل و بیکا نہیں ہو جا تے بلکہ دونوں مل کر کام کرتے ہیں ۔ یہودی ربیوں کے ذریعے یہ رائے کلیسیا میں آئی ،۔ ان کا خیال یہ تھا کہ الہام کے مختلف درجے ہیں ۔ شریعت کا الہام سب سے اعلیٰ اور اٖضل ہیں ۔ انبیا کا کچھ اس سے کم درجہ ہو ۔ اور کتوبیم کا ان سے کم درجہ ہو ۔ چنانچہ متکلمین نے الہام کے چار درجے بتا ئے ہیں ۔

۱۔انگراں ( ) جو غلطی سے بچا تا ہے ۔

۲۔ ہادی ( ) جو خیالات کو اعلیٰ بنا تاہے ۔

۳۔ ہادی ( ) جو ملہم شخص کو بتا تا ہے ۔ کہ کیا لکھے اور کیا چھوڑے ۔

۴۔ مدرک ( )جو خیالات اور الفاظ دونوں کو موثر کرتا ہے ۔ بعض صاحب یہ سمجھتے ہیں ۔ کہ ان درجوں وغیرہ کے جھمیلے میں پھنسنے سے بہتر تو یہ ہے کہ ہم اتنا جانیں کہ خدا نے خیالات بذریعہ الہام دئیے ہیں ۔ مہ کہ الفاظ ۔ پلوٹارک (Plutorch)نے اس مسلہ پر خوب بحث کی ہے اگر یہ الہامات دیوتاؤں کی طرف سے ہیں۔ تو کیوں یہ صریح عبارت میں نہیں دئیے جا تے بلکہ اکثر اوقات دو معنی ہو تے ہیں ۔ جن سے مختلف معنی نکل سکتے ہیں ۔ اس کا دوہرا جواب ہے ۔ (۱) اگر پائی تھیا (Agarpother)جس کے وسیلے الہام ملتا ہے ۔غار میں جاتے وقت ارغوانی لباس نہ پہنے اور عطریات سے اپنے تئیں معطر نہ بنائیں تو پھر بھی وہ دیوتا کا اوزاری الہام دینے کا وسیلہ ہے لباس فاخرہ کی کمی اس کے اوزاراور وسیلہ بننے میں کمی واقع نہیں کرتی ۔ کیونکہ وہ بے جذبہ اور پاک دیوتا ان ظاہری باتوں کا لحاظ مہیں کرتی ۔ کیو نکہ وہ بے جزبہ اور پاک دیوتا ان ظاہری باتوں کا لحاظ نہیں کرتا۔

۲۔ دیوتا الہام دیتا ہے ۔ لیکن جن الفاظ میں ہمیں وہ الہام دیا جا تا ہے ۔ وہ ملہم نبیہ کے ہیں مثلاً اگر اس کو حکم ملتا ہے کہ اس الہام کو بذریعہ زبان ظاہر کرنے کے احاطہ تحریر میں لا ئے تو وہ تحریر وہ دستخط تو دیوتا کا نہیں ہو گا ۔ اور کیا ہم یہ اعتراض کریں گے کہ چو نکہ اس کا خط شاہی فرمانوں سے کہیں ادنےٰ ہے ۔ اس لئے یہ الہام دیوتا کی طرف سئے نہیں ؟ اس طرح نبیہ کی آواز ۔ طرز تحریر اور وزن جس میں وہ الہام منکشف ہوا دیوتا کے نہیں بلکہ دیوتا نے تو ریت عطا کی اور نبیہ کی روح کومنور کیا اور آیندہ کو اس پر ظاہر کیا ۔ یہ الہام ہے ‘‘۔

اس رائے کو ڈینامک (Dinamic)کہتے ہیں اور اس میں بھاری رائیں داخل ہیں جن کا کالب لباب یہ ہے کہ جو تعلیمات کتاب مقدس میں آئی ہیں۔ وہ تو منجانب اﷲ ہیں لیکن جو نقص اور کمزوریاں ہیں وہ انسانی ہیں اگستس نے اس رائے کو ان الفاظ میں ظاہر کیا کہ ’’مصنف تو ملہم ہے لیکن عبارت انسانی ہے ‘‘۔

ایک رومن کیتھالک مصنف کی تحریر سے اس کی زیادہ تشریح ہو سکتی ہے :۔ ’’الہام کے با رے میں موحدانہ درست خیال یہ ہے کہ ہمہ دان اور قادر مطلق خدا نے ایسے وسائل چنے اور ان کو تحریک دی کہ جن کے افعال عین اس کی مرضی کے مطابق تھے۔ وہ ایسا نہیں کرتا کہ بربط کا کا م بانسلی سے اور بانسلی کا نرسنگوں سے لے ۔ ان کے انسانی قوےٰ کو اس نے محظوظ رکھا۔ اس لئے وہ جو کچھ وہ کہتے تھے اسے جانتے تھے ۔ اگر چہ اس کا پورا مطلب ان کی رسائی سے پرے ہو ۔ پو پ لیو سیز دہم نے یہ حکم جا ری کیا کہ ’’جو لو گ یہ مانتے ہیں کہ مقدس نوشتوں کے کسی مقام میں غلطی کا امکان ہے ۔ وہ الہام کے کیتھالک معنوں کو بگاڑتے ہیں ۔ اور خدا کو اس غلطی کا بانی ٹھہراتے ہیں۔ ‘‘الغرض یہ رائے بھی کتاب مقدس پر عائد نہیں ہو سکتی ۔

مذکورہ با لا را ئے کو بعضوں نے دوسرے الفاظ میں یو ں ظاہر کیا ہے کہ خدا نے الہام ایک خاص غرض و مقاصد کے لئے دیا ۔ اس لئے جو کچھ اس مقصد و غرض کے لئے ضرور تھا ۔ اس کی اس نے حفاظت کی ۔ اور جو غیر ضرور تھا ۔ اس میں ان کو آزاد رہنے دیا ۔ ابراسمس ۔ گروٹیوس ۔ بیکسٹر پیلی اور بعض دیگر جرمن علما کی یہی رائے تھی ۔

لیکن اس رائے سے بھی ہمیں پوری تشقی حاصل نہیں ہو تی ۔ اور اس کی تشریح نہیں کرتی کہ کیسے یہ ہو سکتا ہے ۔ کہ ملہم ایک فقرہ کے لکھتے وقت تو فوق العادت علم سے مزین ہوں اور دوسرا فقرہ لکھتے وقت وہ اس سے بالکل مرا ہوں کہ تعلیمی مسائل میں تو وہ لا غلط ہو ۔ لیکن تاریخی معاملات پیش کرنے میں وہ بھٹک جا ئے ۔ اور اس سے اس رشتہ کی تشریح ہو تی ہے جو الہٰی اور انسانی روح میں پیدا ہو تا ہے ۔ جس سے یہ نتائج نکلتے ہیں ۔ الغرض یہ رائے امور واقعی کو تو پیش کرتی ہے ۔ لیکن ان کی تشریح کچھ نہیں کرتی ۔ اس کا فتویٰ یہ ہے کہ ضروری امور میں کتاب مقدس لا غلط ہے لیکن غیر ضروری امور میں وہ محض انسانی ہے ۔ اب سوا ل یہ رہ جا تا ہے ۔ کہ ہم کتاب مقدس میں اس امر کو کس طرح دریافت کریں ۔ کہ یہ ضری ہے یا غیر ضروری ہے ۔

اس لئے کوئی سالم رائے تو نہ ٹھہری جس سے الہام کی تعریف کر سکیں ۔ لیکن ایک یا دو باتوں کا ذکر کر نا ضروری ہے ۔ جو الہام کی تعریف میں خوا ہ کسی طرح سے کی جا ئے ضرور ہو نی چاہئے۔

۱۔ اول الہام کے با رے میں یہ یاد رکھئیے کہ الہٰی روح کی حضوری اور تاثیر اس میں ہے ۔ اگر چہ کوئی شخص اور کوئی شے اور مقام الہٰی روح کی تاثیر اور حضوری سے خالی نہیں لیکن ملہم شخص میں وہ روح خاص طور سے اپنی تاثیر اور حضوری کو ظاہر کرتا ہے ۔

۲۔ الہام کا خاص تعلق انسانی سیرت سے ہے ۔ جس روح حق کا وعدہ شاگردوں سے ہوا تھا ۔ وہ قدسیت کی روح تھی ۔ جو خدا کے مقاصد کے ساتھ سب سے زیادہ ہمدرد اور قدسیت کی روح سے معمور تھے ۔ انہیں کو مکاشفات دیکھنے اور بیان کرنے کی نعمت ملی۔ ایسے شخص روح کے خالص اوزار اور وسائل بن گئے ۔ اس لئے جو کچھ وہ دیکھتے تھے ۔ وہ مستند طور سے بیان کرتے تھے ۔ یہ جا ن کر کہ ہم اپنی مرضی نہیں بلکہ خدا کی مرضی بیان کر رہے ہیں ۔ یہ ممکن ہے کہ ملہم شخص تاریخی واقعات غیر ملہم شخص سے بہتر نہ جا نتا ہو ۔ لیکن وہ خدا کو تاریخ میں دیکھتا حا لا نکہ غیر ملہم شخص کو وہاں محض انسانی جذبات ہی نظر آتے ہیں ۔

الہام دراصل ایک روحانی انعام ہے ۔ اور بعد ازاں ایک عقلی انعام ملہم شخص کے عقلی قوےٰ پر جو اثر ہو تا ہے ۔ وہ اگرچہ براہ راست نہیں تو بھی وہ کچھ کم نہیں پر جو شی کی طرح یہ عقل کو روشن کر تا اور اسے اعلیٰ بنا تا ہے ۔ اور محبت کی طرح یہ قوت حافظہ کو وسیع کر دیتا ہے ۔ اور خلوص قلبی کی طرح یہ خرد و فہم کو منور کر تا ہے ۔ بعض اوقات یہ ایک پولس جیسے ذی عقل اور لا ئق فائق شخص کواپنے ہاتھ میں لا تا ہے ۔ لیکن با ئبل سے اتنا تو ظاہر ہے ۔ کہ الہام کے ذریعے کسی کو جسے پہلے حاصل نہ تھی فہم کی تیزی تو عطا نہیں ہو ئی اور جہاں معمولی تحقیقات سے کچھ امر دریا فت ہو سکتا تھا ۔وہاں فق العات علم تو دیا نہیں گیا۔ مثلا! لو قا کو اپنی انجیل کے مضامین لکھنے کے لئے بڑی چھا بین سے کا م لینا پڑا ۔ محض فوق العادت علم سے وہ سا رے ماجرے اس نے انجیل میں قلمبند نہیں کئے ۔ اور چو نکہ اس کا بیا ن بعض امور میں مرقس کے بیا ن سے متفرق ہے اس لئے الہام کا مقصد محض لفظی مطابقت کا نہ ہو گا ۔ بلکہ کچھ اور ۔ یہی حال خلقت کی پیدا ئش کے بیان میں پا یا جا تا ہے ۔وہاں الہام کا منشایہ نہ تھا ۔ کہ سائنس کی باریکیاں ا میں پائی جائیں ۔ بلکہ یہ کہ خلقت میں خالق کا پتا دے ۔ اس لئے سارے پرانے عہد نا مہ میں لفظ پر زور نہیں بلکہ روح پر ۔ چنانچہ جن تاریخی واقعات کا بائبل میں ذکر ہے ان سے بجائے نفع کے بہت نقصان پہنچتا ہے ۔ اگر وہ کسی مختلف روح سے لکھے جا تے جو بدی میں خوشی ۔ نفس پرستی میں شاد اور شیطان سے دل بستہ ہے ۔ لیکن چو نکہ وہ ملہم اشخاص کے تحریر کردہ ہیں ۔ اس لئے ہر جگہ خدا کو پیش کیا ہے اور بدی کو خطرناک بتا یا ہے ۔

۳۔ مختلف کتابوں کے پڑھنے سے ظاہر ہے کہ اگر چہ ایک ہی مقصد اور روح سے وہ لکھی گئیں لیکن ان کا طرز تحریر یکساں نہیں ۔ یسعیاہ یا پولس کا الہام امثال کی کتاب کے مولف یا تواریخ کی کتابوں کے مصنف سے متفرق ہے ۔ اسی طرح مفید ہو نے کے لحاظ سے بھی وہ مختلف ہیں جس قدر فائدہ ہم زبور کی کتاب یوحنا کی انجیل اور خطوں سے نکال سکتے ہیں ۔ اس قدر احبار کی کتاب وغیرہ سے نہیں نکال سکتے۔ یہی حال ہمارے بدن کا ہے ۔ بعض اعضا ایسے ہیں جن کے بغیر بدن کی زندگی قائم رہ نہیں سکتی اور بعض اعضا ایسے ضرور نہیں ۔

۴۔ اب ہم یہ ذکر کیا چاہتے ہیں ۔ کہ الہام کا مقصد کیا ہے ۔ یہ فضول انعام نہیں کہ جس کا کچھ خاص مقصد نہ ہو یا محض انسانی عقل سے بلا انعام وہ مطلب نکل سکتا ہو ۔ غرض الہام کی یہ معلوم ہو تی ہے کہ خدا کے مظہر ات کو انسان سمجھ سکے اور انسانی عقل اور انسانی ضروریات کے تقاضے کو پو را کر سکے۔بائبل میں یہ غرض پوری ہو تی ہے ۔کیونکہ اس میں خدا کے مکاشفے اور اس کی مرضی کا معتبر بیان ہے ۔کہ اس معنی میں ہم کہہ سکتے ہیں ۔ کہ اس کے شو شہ میں الہامی ہیں یعنی جس مقصد کے لئے وہ لکھی گئی اس مقصد میں سے ایک ذرہ بھی فوت نہیں ہو تا ۔

لاغلط

اناجیل پر نکتہ چینی

اس امر میں علما نے جو تحقیقات زمانہ حا ل میں کی ہے اس کا مفصل بیان کرنے کی یہاں گنجائش نہیں مثلاً ایبٹ سینڈے ۔ کارپنٹر ۔ رائیٹ وغیرہ صاحبان کی تحقیقات سے زمانہ واقف ہے کہ انہوں نے کیا کچھ دریافت کیا اور کس طرح سے دریافت کیا ۔ اور ہم سب کم و بیش اس پر اتفاق کر چکے ہیں ۔ کہ اناجیل میں سے وہ بیان سب سے پہلے لکھا گیا ۔ جو پطرس سنا یا کرتا تھا ۔ اور جسے شاید کچھ تبدیلی سے مرقس نے اپنی انجیل میں قلمبند کیا۔ اور وہ رسالہ جو لو گیا کے نا م سے مشہور ہے جس کو متی اور لوقا نے بہت کچھ اپنی انجیلوں میں ا ستعمال کیا اور خود ہماری تحقیقات نے اس تحقیق جد ید کی بہت کچھ تصدیق کر دی ہے ۔ کہ ان اناجیل کا باہمی رشتہ اور الگ الگ خواص کیا ہیں ۔ مثلاً یہ کہ متی اور لوقا نے بہت کچھ مرقس کی انجیل کو اتعمال کیا ۔ اور متی نے اپنی انجیل یہودیوں کے لئے لکھی تا کہ ان کو ہمارے خدا وند کی مسیحیت کا یقین دلا ئے ۔ اور اس مقصد کے لئے وہ حسب حال واقعات اور تقرریں چن لیتا ہے ۔ لوقا مرقس کے سادہ بیان کو ذرا رنگین کر دیتا ہے ۔ اور چونکہ وہ ایک ایک تعلیم یافتہ غیر قوم کو تعلیم دینا چا ہتا ہے ۔ اس لئے وہ اس قسم کے مناسب واقعا ت کو مندرج کر تا ہے ۔

اس نکتہ چینی کے چند نتائج

اناجیل کا چشمہ ۔ سیرت اور باہمی رشتے دریافت کرتے کرتے کئی ایک اور باتیں بھی دریافت ہو گئیں ۔ جن کا کچھ ذکر ہم یہاں کیا چاہتے ہیں ۔ البتہ جو بڑے بڑے نتائج نکلے ہیں ۔ ا کو بالفعل نظر انداز کرتے ہیں ۔ یاد رکھئیے کہ اگر اس مضمون کی تحقیق کے وقت کسی کے دل میں یہ تعصب بیٹھا ہوا ہو کہ معجزے نا ممکن ہیں تو خدا وند مسیح کی زندگی کی صورت بالکل بدل دی جا ئے گی اور انجیل نویس ناقص اور نا قا بل اعتبار مصنف سمجھے جائیں گے ۔ کوئی علمی یا تاریخی نکتہ چینی اناجیل کی ایسی کتر بیونت نہیں کر سکتی جیسے اس متعصب مزاج نے کی ہے ۔ لیکن معجزوں کی حمایت کا یہاں موقع نہیں ہم اناجیل کے متعلق صرف ان امور کا ذکر کریں گے ۔ جن کے باعث کلیسیا کے بعض ممران کا ایمان معرض خطرہ میں ہے ۔ اگر چہ وہ مسیح کی زندگی کو کسی نہ کسی طرح سے اعجازی ما نتے ہیں ۔

یہ نکتہ چینی اناجیل کے لفظی طور پر لا غلط ہو نے کو رد کرتی ہے ۔ اج کل علما کاا س امر ہپر اتفاق ہے کہ نہ تو پرانے عہد نا مہ کی نسبت اور نہ نئے عہد نا مہ کی نسبت یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان میں کوئی لفظی غلطی واقع نہیں ہو ئی ہے ۔ زمین کھود نے سے جو قدیم تحریریں غیر فلسطینی قوموں کی حال ہی میں دسیتاب ہوئی میں ان سے یہ تو بخوبی پا یہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے ۔ کہ عبرانی تاریخ بحیثیت مجموعی درست اور راست ہے ۔ البتہ انہیں جد ید در یافتوں سے بعض سنوں کی اور چند چھوٹی چھوٹی تفصیلوں کی غلطیاں بھی ظاہر ہو گئی ہیں ۔ اگر ہم صرف نئے عہد نا مہ اور اس میں صرف اناجیل پر نظر کریں تو معلوم ہو گا ۔ کہ ہمارے خدا وند کے بعض اقوال اور افعال جو یہاں چا رو ں اناجیل میں ہو اہے ۔ اس میں بعض اختلافات ایسے ہیں کہ ہم قطعی فیصلہ نہیں کر سکتے کہ ان میں اس سے کو نسان بیان زیادہ قابل اعتبار ہے ۔ مثلاً صلیب پر جو لقب ہمارے خدا وند کا لکھا گیا اس کے با رے میں کوئی سی انجیلیں متفق نہیں ۔ اور نہ مسیح کے جی اٹھنے کے بعد اس کے ظہوروں کے با رے میں اتفاق ہے ۔ مرقس اور لوقا کی انجیلو ں میں تویہ ذکر ہے کہ جب خدا وند کے بدن کو قبر میں رکھے دو را ت اور ایک دن ہو گئے تھے ۔ تب عورتیں خوشبو اور مصالح لے کر گئیں ۔ لیکن یوحنا کی انجیل میں مذکور ہے ۔ کہ یوسف ارمیتا اور نکودیمس نے قبر میں رکھنے سے پیشتر اس کے بدن پر خوشبو وغیرہ ملی تھیں ۔ مرقس اور لوقا اور یوحنا کے بیان میں آ یا کہ عورتوں نے قبر پر جا کر پتھر کو ڈھلکا یا ہوا حا لا نکہ متی بیان کرتا ہے ۔ کہ فرشتوں نے عورتوں کے سامنے اس کو ڈھلکایا اور دیگر واقعات بھی جو مسیح کے جی اٹھنے کے بعد متی کی انجیل میں مذکو رہیں ۔ وہ باقی اناجیل کے ساتھ مطابق نہیں ۔ یہاں تک کہ آخری عشا اور صلیب کے دن کے با رے میں بھی اختلاف ہے ۔ یہی حال اقوال مسیح کا ہے ۔

ایسے اختلافات کی تشریح کے تین طریقے ہیں ۔ اول یہ کہ اس قسم کا کو ئی اختلاف اور کسی قسم کی غلطی پائی نہیں جا تی۔

دوم اس امر قسم کی غلطیوں کو ما ن کر بائبل کو اعتبار ٹھہرانا اور کہنا کہ یہ غلط نہیں ۔

سوم۔ با وجو د ا ن اختلافات کے یہ کہنا کہ بائبل لا غلط ہے ۔

پہلی رائے پر اصرار کرنے سے با ئبل کی حقیقت کی طرف سے آنکھیں بند ہو جا تی ہیں اور نقصان اور بے اعتقادی پیدا ہو تی ہے ۔ دو سری رائے نا دا نی پر مبنی ہے۔ یا یہ کہو لا غلط کی نسبت غلط فہمی پر موقوف ہے ۔ تیسریرا ئے پختہ معلو م ہو تی ہے ۔ اور لا غلط کے با رے میں صحیح خیال پیدا کرتی ہے ۔ چنانچہ پروفیسر سیٹونس نے خوب فر ما یا ہے ۔ کہ ’’بائبل کے متعلق مباحثوں کے اور اس پر حملوں کے با وجود مسیحی شخص کے دل میں پو را اطمینان رہے ۔ کہ با ئبل کی لا ثانی سیرت مسیح کی شخصیت کی طرح بے داغ اور بے لوث ہے ۔

آ ج کل بعض یہ سمجھنے ہیں کہ علم جرح ( ) نے بائبل کا اعتبار کھو دیا ہے ۔ پار جات کہنہ کی طرح یہ صدیوں تک تاریخی میں محفوظ رہی اور مقصد سمجھی گئی ۔ لیکن جو نہیں دن کی روشنی انہیں لگی ۔ وہ پا رہ پارہ ہو کر خاک میں مل گئے ۔ لیکن با ئبل اور اس لاغلط ہو نے کی نسبت غلط فہمی سے اس قسم کا خیال پیدا ہوا ۔ حالانکہ تحقیقات جد ید نے اور زمانہ حال کے حملوں نے بائبل کی صداقت کو اور بھی ظاہر کر دیا ہے ۔ لفظی صحت اور لا غلط کے ایک ہی معنی نہیں ۔ کیو نکہ اگر ایک ہی معنی لئے جائیں تو ایک مو ہو م اور معدوم لا غلطی بائبل سے منسوب کی جا ئے گی لیکن بائبل کے لاغلط ہو نے کے صحیح معنی ظاہر ہو گئے ہیں اس لئے اب یہ صفت بائبل سے علیحدہ نہیں ہو سکتی ۔

بعض علم الہٰیات یہ کہتے ہیں کہ بائبل کا ہر بیان بالکل صحیح اور غلطی سے منزہ ہے خواہ سائنس کا ذکر ہو خواہ تاریخ یا جغرافیہ کا وہ سرا سرلا غلط ہے ۔ چنانچہ ڈاکٹر ہاج اور ڈاکٹر وارفیلڈ کی یہ رائے تھی کہ خدا نے ان مصنفوں کی مقدس نوشتوں کی تصنیف میں ا یسی نگرانی کی کہ کوئی غلطی کی گنجائش نہ رہے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر بائبل میں ایک غلطی ثابت ہو جا ئے تو نہ صرف ہماری تعلیم کے خلاف ہو گا ۔ بلکہ بائبل کے دعا وی کے بھی اور بائبل کے الہام پر شک پیدا ہو گا ۔ اور بعض تو یہاں تک ما نتے تھے ۔ کہ ان کی نجات ہی اس امر پر موقوف ہے کہ پیدا ئش کی کتاب لے کر مکاشفہ کی کتاب تک کوئی لفظی غلطی نہ ہو ۔ لیکن شکر کی بات ہے ۔ کہ نجات اس قسم کی باتوں پر منحصر نہیں بلکہ ایک زندہ شخص پر ۔

بعضوں نے چند اختلافات دیکھ کر عجیب تشریحیں پیش کی ہیں ۔ مثلاً اگر ایک انجیل میں یہ ذکر ہے کہ یسوع نے یریحو میں داخل ہو تے وقت ایک اندھے کو شفا دی اور دوسری انجیل میں یہ ہے کہ یریحو سے نکلتے ہو ئے وہ اندھوں کو شفا دی تو وہ یوں مطابقت دینا چاہتے ہیں ۔ کہ دراصل تین اندھوں کو شفا ملی ۔ ایک کو یریحو میں داخل ہوتے وقت اور وہ کو وہاں سے نکلتے وقت ۔

اور بعض ایسے اختلافات کو سہو کاتب سے کئی لفظی غلطیاں نامزد تعداد وغیرہ میں داخل ہو گئیں لیکن ہر ایک اختلاف کو سہو کاتب سے منسوب نہیں کر سکتے ۔

ہمارے خیال میں اس قسم کے اختلاف سے وہ کتابیں ہماری نظروں سے نہیں کر جا ئے گی اگر کسی امر میں پو لس اور پطرس کا اختلاف الرائے ہو تو کیا اس اختلاف سے ان کی عزت گھٹ جائے گی ۔

الہام اور اس کے نتائج کی نسبت غلط فہمی نے اکثر دلوں پر یہ اثر کیا ہے کہ وہ مقدس نوشتوں کے مصنفوں کو لا غلط ما ننے لگ گئے ۔

الہام روح اﷲ کا دل میں بسنا ہے ۔ سب مسیحی ما نتے ہیں کہ روح ہم میں بستا ہے ۔ لیکن وہ اپنے تئیں لا غلط نہیں سمجھتے ۔لاور بعض اشخاص جو مسیح کی روح سے پو رے طور پر معمور تھے ۔ بالکل بے علم تھے ۔ پس ہم پہلے سے یہ نہیں جا ن سکتے کہ الہام کا کیا اثر مقدس نو شتوں کے مصنفوں میں ہو گا ۔ صرف ان کی تصنیفا ت سے در یافت ہو سکتا ہے ۔ کہ خارجی اشیا اور غیر ضروری امور میں کہانت تک ان کو صحیح علم بذریعہ الہان حاصل ہوا۔ اور اعلیٰ درجہ کا الہام جیسا پولس کو حاصل ہوا مسیح کی عین قربت میں پہنچا دیتا ہے ۔ اور مسیح کے ساتھ شراکت رکھنے سے اس کو صحیح علم اس بات کا قائل ہوا کہ روح کا صحیح ازلی رشتہ مسیح سے کیا ہے ۔اور اسی علم کے باعث وہ دوسروں کے لئے مستند استاد ہو گیا ۔ لیکن روح القدس کا پولس یا سٹینفنس جیسے اشخاص میں بسنا یہ معنی نہیں رکھتا کہ ہر سنہ یا تاریخ یا چھوٹی چھوٹی تفیلوں کے بیان کرنے میں ان سے چوک نہ ہو ۔

الغرض مقدس نوشتوں پر غور کرنے سے یہ واضح ہو جا تا ہے ۔ کہ الہام اور شے ہے۔ لاغلط ہو نا شے دیگر ہے ۔ یہ ما نی ہوئی بات ہے ۔ کہ سلاطین اور تواریخ کی کتابوں کے مصنف ملہم تھے ۔ گو ان میں کہیں کہیں اختلافات ہو ئے ۔ اسی طرح اگر یہوداہ نے حنوق کی اپوکر فک کتاب سے اقتباس کیا جس کی تو اس سے یہوداہ کے الہام پر کچھ حرف نہیں آتا۔ بعض دیگر مصنف نئے عہدنا مہ کی یہ توقع رکھتے تھے کہ مسیح جدل آنے والا ہے ۔ حالانکہ ہم اب تک اس کی آمد کے منتظر ہیں تو کیا ایسے قبل از وقت انتظار کے باعث ہم ان کے الہام کو رد کریں ۔

الغرض جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مقدس نوشتے لاغلط ہیں ۔ تو ہمارے یہ معنی ہو تے ہیں کہ جو ظاہر اختلافات نظر آتے ہیں ۔ وہ بہت خفیف ہیں ۔ اور ان مصنفوں کی عام صحت اور راستی پر شک پیدا نہیں کرتے ہیں ۔ اور روز افزوں تحقیقات نے ان کی صحت اور سند پر مزید روشنی ڈال دی ہے ۔ چنانچہ کچھ عرصہ گزرا کہ یہ اعتراض عموماً سنا جا تا تھا ۔ کہ چوتھی انجیل کے مصنف نے مقامات کے با رے میں بڑی غلطی کی ہے ۔ لیکن فلسطین کی سیاحت اور دریافت نے اس اعتراض کو غلط اور بے بنیا د ثابت کر دیا ۔ اور آج تک کوئی یہ اعتراض نہیں کرتا اور وہ برف میں وہ خفیف دراروں کی مانند ہیں ۔ جوچوٹی تک جا نے والے کو سدراہ نہیں ہوتیں ۔ لیکن اگر کسی شخص خواہ مخواہ جا ن بوجھ کر اپنا پاؤں ان دراروں میں زور سے ڈالے تو ضرور اس کا ٹخنا مڑ ہو ئے گا ۔

پس جب کبھی ایسے اختلافات کا ذکر کر نا پڑتا ہے تو اس کی ایک تو یہ وجہ ہے کہ ہم بائبل کے با رے میں صحیح رائے ریھکیں دوم اس امر کو ظاہر کر نے کے لئے کہ وہ کیسے خفیف اور ہلکے ہیں اور نیز حقیقی اور جعلی لاغلطی کی امتیاز کے لئے ۔

لاغلط رہنما کی آرزو

مقدس نوشتوں کی نسبت حقیقی لاغلطی ثابت کرنے سے پیشتر ہم دکھا نا چاہتے ہیں کہ دین میں لا غلط رہنما کی تلاش کیوں بائبل میں کی جاتی ہے ۔ اس کی دو وجوہات ہیں ۔

اول تو یہ ہے کہ عوام الناس خود ذمہ دا ری کا بوجھ اٹھانے سے جھجکتے ہیں اور طرح طرح سے اپنا بوجھ دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں مثلاً قرعہ ڈالنا۔ دیوتاؤں سے مشورت لینا ۔ اتفاقات زمانہ سے سبق سیکھنا کسی سکہ کو پھینک کر اس کے الٹے سیدھے سے یا کسی دوسرے پر ڈالی جا ئے ۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ مباحثوں میں کسی ثالث اور مصنف کی ضرورت عام طور پر محسوس کی جا تی ہے ۔ جب تک کوئی شخص صرف بائبل ہی کو خدا کی راہ دریافت کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے تب تک کوئی ضرورت اسے محسوس نہیں ہوتی کہ لاغلطی کے بارے میں کوئی رائے گھڑنی چاہئے وہ توخدا کی تلاش کرتا ہے ۔ اور وہ خدا کو پا لیتا ہے ۔ لیکن جب وہ اپنے خیا لات دوسروں کو منوانا چاہتا ہے ۔ اور حیران ہو تا ہے کہ ان کے ما ننے میں وہ کیسے سست اور کاہل ہیں تب وہ ایسی سند کو پیش کر تا ہے جس کے آگے سر خم ہو جا ئے اور چون و چرا کر جگہ نہ رہے ۔ لیکن اس کی تہ کم اعتقادی ہے ۔

علم کے دوسرے صیغوں میں لو گوں نے نہایت بیش قیمت وقت اور عمریں خرش کیں تاکہ سچ جو جھوٹ سے علیحدکریں ۔انہوں نے غلطیاں بھی کیں اور ان غلطیوں کے نتائج بھی دیکھے اور ہزاروں جانیں ان غلط رائیوں کا شکار بھی ہو گئیں ۔ لیکن شاید کوئی کہے کہ مذہب کا معاملہ ایسا سنجیدہ اور اہم نتائج سے پر ہے کہ یہاں انسان کو شک میں رہنا نہیں اکثر حصہ انسان کا تاریکی میں رہا اور خدا کی ہستی او راحسان کی شہادتیں ایسے لوگوں کو ملیں جو تلاش اور چھان بین کرنے غور و فکر کرنے اور عمل میں لا نے کے لئے تیار تھے ۔
ہر طرح کی غلطی کے امکان سے اور اپنی عاقبت کے لئے فیصلہ کرنے کی ذمہ داری سے بچنا نا ممکن ہے ۔ خواہ ہم کلیسیا کو اپنا لا غلط ہادی مانیں یا مقدس نوشتوں یا خود مسیح کو یہ ہمارے انتخاب اور ہمارے فیصلے پر مو قوف ہے ۔ اپنے ارادہ اور فیصلہ کے سوا کوئی دوسرا ہمارے لئے فیصلہ نہیں کر سکتا ۔ جب تک ہمارا اپنا کانشنس مسیح کی شخصیت اور الفاظ کو قبول نہ کرے ہم اس کو اپنے لئے اعلیٰ سند نہیں مان سکتے ۔ دوسروں کی شہادت ہماری مدد کر سکتی ہے ۔ اناجیل کی ضرور ت ہے ۔ کہ وہ ہم کو دکھائیں کہ وہ کیا ہے اور اس کی حقیقی صورت کو اور اس کے دعادی کو ہمارے لئے محفوظ رکھیں ۔ لیکن یہ ہمارا کا م ہے کہ ہم اپنے لئے فیصلہ کریں ۔ کہ آیا یہ شخص ایسا ہی ہے جیسا کہ وہ دعوے ٰ کرتا ہے ۔

لاغلط ہو نا کیا ہے۔

ا ب ہم مطلب پر آئے کہ یہ کس قسم کی لاغلطی ہے جو ہم مقدس نوشتوں اور خاص کر اناجیل سے منسوب کرتے ہیں ؟ کیا صرف و نحو میں لا غلطی ۔ یا طرز بیان یا تاریخ یا سائنس یا کسی اور شے میں لا غلطی ؟ یا د رکھئے کہ یہ لا غلطی کتاب کے مقصد پر موقوف ہے جب ہم یہ کہتے ہیں ۔ کہ یہ گھڑی لا غلط ہے تو وہ وقت کے بتانے کے لحاظ سے ایسی ہے ۔ نہ اس میں کہ اس کا شیشہ یا پشل وغیر ہ بے نقص ہے ۔ یا یہ کہ وہ کل کے بارے میں موسم وغیرہ کے بتانے میں لا غلط ہے ۔ جہاز ان کے لئے اس کا نقشہ لا غلط ہے ۔ کیو نکہ وہ ٹھیک ٹھیک بتا تا ہے۔ کہ یہاں لا ئٹ ہاؤس ہے ۔ وہاں پانی تھوڑا ہے ۔ یا بہت ۔ یا اس جگہ چھپی چٹان ہیں وغیرہ لیکن وہ نقشہ وقت وغیرہ کے بارے میں کچھ نہیں بتا تا ۔ یہی حال بدرقہ کا ہو تا ہے ۔ کہ وہ آپ کو دشواگزاروں اور پہاڑوں میں ٹھیک جگہ پر لے جا ئے ۔ا گرچہ اس کو سوائے اپنی زبان کے دوسری زبان نہ آتی ہو ۔ اور سوائے اپنی پہاڑی کے دوسرے پہاڑوں کا علم بھی نہ ہو ۔

پس ہمیں اول یہ دریافت کرناچاہیے ۔ کہ بائبل کا مقصدکیا ہے؟ اس کا مقصد یہ ہے کہ مسیح کو منکشف کرے ۔ چنانچہ خود ہمارے خدا وند نے یہی کہا ۔’’ یہ وہی ہیں جو میری گواہی دیتے ہیں ۔ ‘‘ ان نوشتوں کے ذریعے خدا کی نجات بخش محبت کا علم دنیا کو پہنچا یا جا تا ہے ۔ خدا کا منشا یہ نہ تھا۔ انسان بہت کچھ یہ جاننا چاہتے ہیں ۔ بلکہ اس کا مقصد یہ تھا ۔ کہ انسانوں کے سامنے مسیح کو زندگی بخش فضل اورعظمت سے معمور پیش کرے اور زمین پر اس علم کو مداومت بخشے۔ مسیح میں ہم کو خدا کا نہایت اعلیٰ مکاشفہ ملا ہے اور اگر مقدس نوشتے مسیح کا کافی علم ہم کو بخشتے ہیں ۔ تو اس کا مقصد پورا ہوا۔چنانچہ لوتھر نے ٹھیک کہا تھا کہ ہم اس کو نوشتہ نہیں کہتے جو مسیح کو ظاہر نہیں کرتا ۔

مقدس نوشتوں کے بارے میں جب یہ رائے صاف ہو گئی ۔ تو فوراً یہ معلوم ہو جا ئے گا۔کہ جو اختلافات انجیل میں یا بائبل کے دوسرے حصوں میں ہو ں وہ بلحاظ اس مقصد کے کہ بائبل کا بیان کرتی ہے ۔ کچھ وقعت نہیں رکھتے اور نہ اس مقصد میں ہارج ہیں ۔ ہر انجیل میں سے مسیح کا تصور نکالنے میں کبھی کوئی دقت نہیں ہوئی ۔ جب تک کہ عام مقصد میں کچھ نقصان نہیں ہو تا اختلافات اور لفظی غلطیاں نوشتوں کے لاغلط ہو نے میں ہرج نہیں ڈالتیں اور اس کے وہ سبب ہیں :۔

اول۔

تفصیل میں غیر ضرور غلطیوں سے کبھی کسی مورخ کے اعتبار کو بٹا نہیں لگا۔ یہ قانون کہ جو ایک بات میں غلط ہے وہ ساری باتوں میں غلط ہے عدالتوں میں ایسے گواہ پر صادق آتا ہے۔ جب کسی گواہ سے سچ سچ بولنے کی قسم لی گئی اور وہ فریب دینے کے ارادہ سے سچائی کو چھپا رکھتا اور بگاڑتا ہے ۔ لا کلام اس کی ساری شہادت نا قابل اعتبار ہو گئے ۔ لیکن قانون زندگی کے روز مرہ اموریا تاریخ نویسی پر عائد نہیں ہو سکتا ۔ کون بشر ایسی غلطیوں سے مبرا رہا ۔ ٹے سی ٹس مورخ نے غلطی کھائی لیکن اس سے ہم اس کی ساری تاریخ کو رد نہیں کر دیتے اور شاید کوئی تاریخ نویس ایسا نہ نکلے گا ۔ جس نے کچھ نہ کچھ غلطی نہ کی ہو ۔ لیکن اتفاقی بلا اور غیر ضروری امور میں غلطی کرنا عام صحت اور درست بیابانی کے سامنے نظر انداز اور فراموش ہو جا تا ہے۔

دوم:۔

شاید کوئی کہے کہ جب الہٰی تعلیم اور بدکاری امور کا ذکر ہے وہاں ہر ایک غلطی اہم ہے ۔ خفیف نہیں ۔ جواب یہ ہے کہ نہیں ۔ ورنہ خدا ایسا انتظام کرتا کہ کسی قسم کی کوئی غلطی وقوع میں آ ہی نہ سکتی ۔ جب کسی غلطی سے عام مقصد میں نقصان واقع نہیں ہو تا تو وہ غلطی خفیف اور غیرضروری ہے۔ جب تک کسی عبارت کے معنی صاف ہوں ۔صرف ونحو کی غلطی کا مضائقہ خدا کا ہوا ہے ۔ اس کے علم کے محفوظ رکھنے میں نقصان پہنچائے تب تک وہ غلطی خفیف سمجھی جا ئے گی ۔ سوال ہمیشہ یہ رہے گا ۔ کہ آیا بائبل اپنا مقصد پورا کرتی ہے ۔ اور اس کا مقصدیہ تھا کہ ہم خدا کو مسیح میں پہچانیں اور اس تک پہنچیں ۔ اس میں کلام نہیں کہ بائبل نے انسان کو مسیح کی طرف ہدایت کی ہے ۔ اس لئے مسیح نے جو فر ض اس کا ٹھہرایا اس کو انہوں نے پورا کیا ۔ انہوں نے انسان کے سامنے مسیح کو پیش کیا جس میں خدا ملتا ہے ۔

بائبل پر شہادت

شاید مذکور بالا بیان کی تصدیق میں ایک دو شہادتوں کو پیش کرنا خالی از فائدہ ہو گا ۔ گزشتہ صدی میں ایک مشہور عالم آزاد طبع گزرا ہے ۔ جو دوسروں کی راؤں اور عقیدوں میں پابند نہ تھا ۔ وہ یہ کہتا ہے ۔ کہ ’’ جس سے خدا کھو گیا ہے وہ اسے پھر اس کتاب میں پا سکتا ہے ۔ اور جس نے کبھی اسے جا نا ہی نہ تھا وہ الٰہی کلام کا سانس یہاں محسوس کر سکتا ہے ۔ ‘‘ جب ڈاکٹر مارنیٹو اناجیل سے اپنے ہاتھ دھو چکا تو بھی یہ کہنے پر مجبو ر ہوا ’’کوئی ناواقف ہو نے کا بہانہ نہیں کر سکتا کہ مسیح کی تھا۔جو کچھ اس کا بیان ہمار ے پاس پہنچا ہے ۔ اس سے اس کی شخصیت صاف نظر آتی ہے ۔ کہ کوئی تاریخ یا فسانہ بھی ایسا نہیں دکھاسکتا ۔ رابرٹسن سمتھ صاحب کہتے ہیں ۔ کہ ’’جب تک ہم بائبل کے پاس خدا کو اور اس کی نجا ت بخش محبت ایمان کی آنکھوں سے ڈھونڈ ھنے جائیں گے ہم یقین رکھیں اس کے ہر حصہ میں لا غلط تعلیم اور شہادت ملے گی ۔ اور اس کے سوا اور کچھ نہ ملے گا ۔ چو نکہ بائبل کا مقصد اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ ہمیں پیغام پہنچائے اور جب اس کے ساتھ روح کی اندرونی شہادت شامل ہو تو یہ بائبل اپنے تئیں خدا کا لا غلط کا م ظاہر کرتی ہے ۔ اس لیے عملی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں ۔ کہ بائبل خدا کا لا غلط کلام ہے ۔

بائبل کا معیا ر

ہم کیوں بائبل کو خدا کا کلام ما نتے ہیں ؟ کیا اس لیے کہ کلیسیا خود لا غلط نہیں اور جیسا دیگر امور میں اس نے غلطی کی ہے شاید اس امر میں بھی کی ہو ۔ یا اس لئے کہ بائبل خود اپنے لا غلط ہو نے کا دعویٰ کرتی ہے ؟ لیکن بائبل تو ایسا دعویٰ نہیں کرتی اور اگر ایسا دعویٰ کرتی تو میں کیسے جا نتا کہ اس پر ایمان لا ؤ ں ۔ نبیوں نے خدا کے رسول ہو نے کا دعویٰ کیا لیکن وہ جھوٹے ثابت ہو ئے ۔ صرف ایک ہی قطعی دلیل بائبل کو کلام اﷲ ما ننے کی ہے وہ یہ ہے کہ جو سچائی کی تعلیم یہاں دی گئی اس میں کچھ ایسی بات ہے کہ مجھے یقین دلاتی ہے ۔ کہ خدا اس کا مصنف ہے یعنی انسان کی اپنی تمیز اور کانشس کا یہ فیصلہ ہے کہ اس میں خدا اس سے ہمکلام ہے ۔ اگر مسیح میں اور اس کے مکاشفہ میں یہ فی البد یہ قوت نہ ہو تو اور کوئی شہادت مل نہیں سکے گی ۔

اکثر مسیحی اب تک اس کے سمجھنے میں قاصر رہے ہیں ۔ کہ مسیح کی صداقت اور سند علم جرح کے دائرے سے باہر ہے ۔ وہ اپنی شہادت خود ہے ۔ اور یہ شہادت مقدس نوشتوں کے الہام یا لاغلط ہو نے کی کسی رائے پر منحصر نہیں مسیح نے خدا کا ایسا اعلیٰ تصور ہمیں عطا کیا ہے کہ کبھی کسی زمانے میں کسی کو حاصل نہ تھا ۔ اور جب کانشس کا اس سے تعلق آ پڑتا ہے ۔ تو اسے سر تسلیم خم کر کے یہ اقرار کرنا پڑتا ہے ۔ کہ اس سے اعلیٰ شخص اور مرد خدا اور کہیں مل نہیں سکتا ۔ اناجیل میں اس کا تصور صاف صاف نقش کیا گیا ہے ۔ اور وہ تصور ان مصنفوں کی لیاقت اور علم سے کہیں اعلیٰ اور افضل ہے۔ جو کوئی اناجیل کا مطالعہ کرتا ہے ۔ اس کو خدا کا یہ علم حاصل ہو تا ہے اور یہ علم ہمیشہ کی زندگی ہے۔

الغرض گو بائبل لفظی طور پر لا غلط نہ ہو لیکن روحانی ہادہ ہو نے کے بارے میں تو لا غلط ہے ۔ ہم جو اس جو خدا کا کلام ما نتے ہیں ۔ وہ اس لئے نہیں کہ اس میں کوئی لفظی غلطی نہیں بلکہ اس لئے کہ ہم اس میں خدا کی آرزو محسوس کرتے ہیں ۔ زندہ خدا ہماری نجات کا خدا ان نوشتوں میں ہم سے مسیح کا ذکر کرتا ہے ۔ کوئی انسان مصنف کیوں نہ ہو اس نے اپنا دل اور ہاتھ اور اپنے آپ کو اس کی خدمت میں مخصوص کر دیا ۔

بعض یہ سوال کرتے ہیں ۔کہ جب بائبل کو لفظی طور پر لا غلط نہیں کہہ سکتے تو کیو نکر مان سکتے ہو کہ وہ بلا غلطی مسیح کی طرف ہم کو لے جائے گی۔ اگر ہمارے پاس کوئی لا غلط تحریر نہیں تو لا غلط مسیح کا بھی یقین نہیں ۔ اس کا جواب گزر چکا ہے ۔ کہ ہم بائبل کو کس معنی میں لا غلط کہتے ہیں ۔ ایک جہاز ران جس نے کبھی جہاز کا نقصان نہیں اٹھا یا یا جہاز رانی میں علمی طورپر لا غلط کہلا سکتا ہے ۔ اگرچہ وہ کئی ایک عجیب دریائی جانوروں کا یقین رکھتا ہو جو کبھی مو جو دہی نہ ہوں ۔ یا جس نے کبھی کرامویل ۔ملٹن یاواشگٹن جیسے مشہور اشخاص کا ذکر بھی نہ سنا ہو ۔ اور شاید یقین رکھتا ہو کہ برانڈی ہر بیماری کا علاج ہے ۔

بعضوں نے اکثر یہ سوال کیا کہ اگر بائبل میں ذرا بھی غلطی ہو تو ہم کیسے دریافت کریں کہ یہ سچ ہے ۔ اور یہ غلط ہے ۔ جواب میں صرف اتناکہنا کافی ہے کہ ہر شخص جو بائبل کا مطالعہ کرتا ہے ۔ وہ یہی کر رہا ہے ۔ خروج کی کتاب کو پڑھیںیا احبار کی کتاب کو کون ہمارے ساتھ رہتا ہے ۔ جو ہمیں بتا تا جائے کہ اس میں کونسا مضمون دائمی ہے ۔ اور کونسا صرف موسیٰ کے زمانہ کے لئے تھا ۔ یا جب ہم پیدائش کی کتاب یا سلاطین کی کتاب پڑھتے ہیں ۔ کو ن ہمارے کا ن میں پھسپھساتا ہے ۔ کہ یہ قابل نمونہ نہیں وغیرہ ۔ جب یہ حال نہیں تو ہم کیوں نا دان سے نادان کے ہاتھ میں بائبل دیکر کہتے ہیں ۔ کہ اپنے لئے روحانی غذا نکال ۔ پولس نے اس مشکل کو یوں حل کیا ہے ۔ ’’روحانی شخص (یعنی جس میں مسیح کی رو ح ہے ۔ ) سب باتوں کو پرکھ لیتا ہے ۔ پس یہ کسوٹی اور مقدس نوشتوں کا حقیقی معیار ہے جس کے ذریعے ساری چیزیں پرکھی جا تی ہیں ۔ ایک مسیحی عالم نے کر دیا ہے ۔ اور یہی روح ہے جس سے سچائی کو بائبل میں مجسم کر دیا ہے ۔ اور یہی روح مسیحی شخص میں سچائی کی محبت پیدا کر دیتی ہے ۔ اور اس میں کچھ ایسی کشش مقناطیسی ہے ۔ کہ جہاں سچائی ملتی ہے ۔ روح خود بخود اس کی طرف کھچ جاتی ہے ۔ اور حقیقی متلاشی آخر کار ایسی ساری سچائی بائبل میں پائے گا ۔

الغرض جو شخص صدق سے تلاش حق کے لئے بائبل کو پڑھے گا ۔ بائبل اس کو کبھی گمراہ نہ کرے گی۔ انسان روحا ی ہادی کا متلاشی ہے ۔ اور تم بائبل بلا شک و شبہ اس کے سپرد کر سکتے ہو اور اگر کوئی شخص علم ارض یا فلسفہ وغیرہ سیکھنا چاہتا ہے ۔ اور بائبل میں اس کی تلاش کرتا ہے ۔ تو وہ دوسری کتابیں پڑھتے لیکن اگر وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ مسیح کے لئے تاریخ دنیا میں کیسے تیاری ہوئی تو وہ بائبل کو پڑھے۔ اگر کوئی جاننا چاہے کہ خدا کا جہان سے اور اس کی زندگی سے کیا رشتہ ہے ۔ تو وہ دیگر کتابوں کا مطالعہ کرے لیکن اگر وہ مسیح کو جاننا چاہتا ہے اور اس کے وسیلے باپ کو تو وہ اناجیل کو پڑھے پس جو کوئی خدا کے پاس پہنچنے کے لئے لا غلط ہادی کی تلاش کرتا ہے ۔ تو بائبل ایسا ہادی ہے ۔ بائبل سائنس اور تاریخ کی کتاب نہیں بلکہ دینی ترقی اور خدا کی پہچان کی کتاب ہے اور وہ ان صفحوں میں لا کلام ملتی ہے ۔

چھٹا باب

اناجیل کا معتبر ہو نا

چونکہ آج کل تحقیقات کا نیا طریقہ اختیار کیا گیا ہے اور جدید دریافتوں کا مزید سامان مہیا ہو گیا ہے اس لئے مناسب معلوم ہو تا ہے ۔ کہ اس جدید طریقے جسے آج کل ہائر کرٹی سزم(Higher Criticism)کہتے ہیں ۔ اور جدید دریافتو کے وسیلے اناجیل کو پر کھیں ۔ یہ طریقہ دراصل نیا تو نہیں لیکن ان دنوں اس کا چرچا بہت ہو گیا اوراس پر بہت زور دیا جا تا ہے ۔ اور یہ طریقہ بہت درست ہے اور اگر اس کے بارے میں کچھ تعصب ہے تو اس کی حقیقت اور مقاصداور اسباب کی نسبت غلط فہمی کے ذریعے ہے ۔ بعض لوگ تو اسے مسیحی دین کا دشمن کہتے ہیں۔ لیکن یہ اس کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔ طریقہ برا نہیں ۔ یہ باقاعدہ دستہ ہراول کی طرح ہے۔جو آگے آگے جا کر ہر طرح کے نشیب و فراز سے آگاہ کرتا اور راہ راست کا پتا لگاتا ہے ۔ اس لئے ہم اسکو مرض متعدی سمجھ کر اس سے دور نہ بھاگیں ۔ بلکہ صحت و آرام کی جگہ کے طور پر اس کا خیر مقدم کہیں ۔ کیو نکہ تا وقتیکہ سچائی کی تحقیق کا یہ نہایت پسندیدہ طریقہ ہے ۔ اور ہر متلاشی حق کم و بیش اس کی دستگیری کا خواہاں ہے ۔ ہر شخص کسی نہ کسی معیار کو رکھتا ہے۔جس کے ذریعے وہ اپنی شنید اور مطالعہ کو پرکھتا ہے ۔ اوراس کے ذریعے فیصلہ کرتا ہے ۔ کہ آیا میں اس کو مانوں یا نہ مانو ں ۔ اگر کوئی ملاح آنکر کہے کہ قطبنن پر جہاں بارہ مہینے یخ بستہ رہتی ہے ۔ بارنگیاں پیدا ہوتی ہیں ۔ تو ہم فوراً کہیں گے کہ یہ غلط ہے کیو نکہ اس کے بارے میں جو علم ہم کو حاصل ہے وہ اس کے خلاف ہے ۔ ویسے ہی اگر کوئی کتاب یہ دعویٰ کرے کہ میں ملکہ این (P. Anne)کے وقت کی تصنیف ہوں اور برقی روشنی ۔ ٹیلی فون یا فو نو گرافی وغیرہ کا بلاروک ٹوک ذکر کرے ۔ تو ہم فوراً کہیں گے کہ اس کا دعویٰ غلط ہے ۔ الغرض ہر شخص بالاذاتہ علم جرح رکھتا ہے ۔ اور علم جرح سائنس کی حیثیت میں ان سارے معیاروں کی جمع کرتا اور استعمال کرتا ہے ۔ جس کو تجربہ نے بہم پہنچا یا ہے ۔ کہ فلاں کتاب کی تاریخ کیا ہے ۔ سیرت کیا ہے کہاں تک وہ معتبر ہے ۔ اور اس میں کون سے بیان کو صحیح اور تاریخی سمجھیں اورکون سے بیان کو جعلی اور تصرف قرار دیں ۔ اس لئے بغیر علم جرح کے ہم اناجیل یا دیگر قدیم کتابوں کے بارے میں ٹھیک تحقیقات نہیں کر سکتے ۔

لیکن سا ما ن جدید اس نئے طریقہ سے بھی زیادہ دلچسپ ہے ۔ ماضی کے علم کے بارے میں جو سامان ہم کو اس وقت مہیا ہو گیا ہے ۔ وہ ہمیں کبھی حاصل نہ تھا ۔ علم عمارت قدیمہ ۔ تاریخ ۔ علم انسان وغیرہ نے اس مضمون پر بہت روشنی ڈال دی ہے ۔ عمارات قدیم کے کھو د نکالنے سے بہت پرانی باتوں کا علم حاصل ہو گیا ہے۔ قدیم کتبوں ۔ یادگاروں مدفون شہروں کے ملنے اور مصری کاغذوں سے ہزاروں نسخے دستیاب ہونے ( ) اور دریائے فرات کی وادی میں سے اینٹوں کے کتب خانے ہاتھ لگنے کے ذریعے بھی روشنی حاصل ہو ئی کہ پہلے کبھی حاصل نہ ہو ئی تھی ۔ پیدائش کی کتاب کے بیان کے مشابہ بہت قدیم قصے ملے ہیں ۔ جن سے اس کتاب کے سمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے ۔ قدیم معدوم شدہ قوموں کے پتے لگنے سے بھی مقدس نوشتوں کے علم کی زیادہ توضیح ہو گئی ہے۔

اناجیل کے مطالعہ میں اب ہم ان باتوں کا ذکر کریں گے ۔ گو یا تو حال ہی میں پہلی دفعہ معلوم ہو ئی ہیں ۔ اور یا ان کا جواب تک نظر انداز ہوتی رہی تھیں۔ مسلہ ارتفاع معجزوں کا نیا دشمن پیدا ہوا۔ کیو نکہ اس مسلہ کا مقنفےٰ یہ ہے کہ دنیا میں کوئی واقعہ نہیں جس کے اسباب پہلے سے موجو د نہ ہوں ۔علت معلول کے سلسلہ میں کوئی مداخلت نہیں ہو سکتی اور باہر سے کوئی شے داخل نہیں پا سکتی ۔ مقدسوں اور بانیان دین کی سوانح عمریاں پڑھنے سے اس انکار معجزات کی تردید ہوتی ہے ۔ کیو نکہ معجزے نہ صر ف یسوع اور اس کے شاگردوں سے منسوب کئے گئے بلکہ بدھ ۔ باب ٹامس آبکٹ اور فرانس آسیسی اور دیگر لوگوں سے بھی منسوب ہو تے ہیں ۔ ان مدعیاں معجزات کے دعادی کی تحقیقات شروع ہوئی اور مزید ثبوت کی ضرورت پڑی ۔

بعض علما کہتے ہیں ۔ کہ تہذیب کے ایک خاص زمانہ میں کل بیماریاں آسیب جن بھوت سے منسوب کی جاتی تھیں اور جب تہذیب نے کچھ اور ترقی کی تو صرف خاص خاص بیماریاں مثل فالج اور جنون کے آسیب سے منسوب ہو ئیں اور بعض ممالک میں اب تک لوگ جادو کیا کرتے ہیں ۔ ہم صرف نہ کہہ کر ان امور سے کنارہ نہیں کر سکتے کہ جن دیوروزگا ن کا ذکر اناجیل میں آیا ہے۔ وہ مختلف قسم کے ہیں ۔

دیگر مذاہب کی مقدس کتابوں کی اشاعت کے ذریعہ لوگوں پرایک خاص اثر ہو ا کیو نکہ ان کتابوں میں بائبل کی نسبت الہامی اور لا غلط ہو نے کے بارے میں زیادہ زور سے دعویٰ کیا گیا ہے ۔ اور یہ سوال معقول طور سے پو چھا جا تا ہے ۔ کہ ان مذہب کے ان دعادی کو ہم کیسے رد کریں ۔ کوئی ایسی دلائل پیش کریں جو الٹ کر ہم ہی پر عائد نہ ہوں ؟

اب یہ سوال پیدا ہو تا ہے ۔ کہ کیا مسیحی کتابیں ویسی ہی غیر معتبر سوانحہ عمریاں ہیں جو بعض بڑے بڑے نامی اشخاص کی مبالغہ کے ساتھ لکھی جا تی ہیں ۔ یا جیسے بدھ اور باب کے کارناموں اور تعلیموں کے تذکرے ہیں ۔ یا ان میں ایسی راستی اور صحت پائی جاتی ہے ۔ کہ خواہ مخواہ ان کا اعتبار ہمارے دلوں میں پیدا ہو تا ہے ۔ اگر ہر لفظ کا نہیں تو کم سے کم اس تصویر کا جو یسوع کی انہوں نے کھینچی ہے۔

یہ درست نہ ہو گا کہ ہم یہ کہہ کر اس ساری تحقیقات کو بند کردیں کہ یہ کتابیں الہامی ہیں اس لیے ہر طرح کی غلطی سے متبرا ہیں ۔ اگر وہ صحیح اور لا غلط ہیں تو تحقیقات سے جھجکنا نہیں چاہئے۔ لیکن جو ابا انجیل کن وسائل سے حاصل کئے اور ان کے بارے میں اس نے کیسی تحقیقات سے کام لیا۔ لیکن بالفرض اگر ہر انجیل میں لکھا ہوتا ہے کہ میں الہامی ہوں تو بھی ہمارے سوال کا جواب اس سے حاصل نہ ہو تا ۔ روح اﷲ کا کسی کے اندر بسا اس کو ہمہ دان نہیں بنا دیتا ۔ بلکہ انسانی تاریخ یا سائنس کا علم بھی میں نہیں دیتا ۔ یہ صرف اناجیل کی تحقیقات ہی کے ذریعہ دریافت ہو سکتا ہے ۔ کہ وہ کہاں تک معتبر ہیں ۔ محض الہام کے دعوے پر ایسی تحقیقات کو ترک کرنا بے سود کوشش ہے ۔ وہ زمانہ جا تا رہا ۔ اب ایسا نہیں ہو سکتا ۔ لوگ خود تحقیقات کریں گے ۔ اور اناجیل کی صحت کو پرکھیں گے ۔ کیو نکہ وہ حق کی تلاش کیا چاہتے ہیں ۔ خدا کا جہاں تر قی کا جہان ہے ۔ سیلاب چڑھ رہا ہے ۔ اور جو آگے نہیں بڑھتا ۔ اور اپنی جگہ ضد سے کھڑا رہتا ہے ۔ ضرور رقاب ہو گا ۔ہمیں چاہیے کہ خدا کی بلاہٹ کو قبول کریں اور جہاں حق ہم کو ملے جا نا چاہتا ہے ۔بے خو ف و خطر چلے چلیں ۔

الہامی کتاب کی قدرو منزلت اس کے دو نتائج پر مشتمل ہے ۔

۱۔

یسوع کے کا م کا ذکر اسی روح سے لکھا گیا ہے ۔ جس میں کہ وہ عمل میں آیا تھا اور وہ بھی ایسے اشخاص نے قلمبند کیا ہے جو اس کی طبیعت اور ارادہ سے ہمدرد تھے ۔ اس لئے ہمیں یقین ہے۔ کہ اناجیل میں اس کی زندگی کے انہیں امور پر زور دیا گیا ہے۔ جنہیں وہ خود اس قابل سمجھتا تھا۔ اس کا کچھ ذکر نہیں کہ اس کے باتوں کا رنگ کیا تھا ۔ کہ وہ کیسے کپڑے پہنا کرتا تھا ۔ اور اس کے بدنی خال و خط کا بھی ذکر نہیں ۔ اور وہ مصنف یہ دیکھ کر حیران ہو ئے کہ آج کل لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر کیسا زور دیتے ہیں ۔ لیکن ان کا الہام ہمیں اس امر کا یقین دلاتا ہے ۔ کہ اگر یسوع ہی مسیح تھا ۔ تو وہ ظاہر کرنا چاہیے اور اگر ان سے گناہ سے مخلصی دینے کا دعویٰ کیا تو اس کو درج کرنا چاہئے۔ اور

۲۔

وہ ہمیں اس کا بھی یقین دلا تا ہے کہ ان کے بیان میں کوئی غلطی عمداً داخل نہیں ہو تی ۔ جیسا وہ مسیح کو مانتے تھے ۔ ویسا انہوں نے اس کا بیان کیا ۔ اس میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے۔ لیکن جا ن بوجھ کو تو انہوں نے غلط بیانی سے کام نہیں لیا۔ جب یہ مصنف جانتے تھے ۔ کہ کیسا اعلیٰ مضمون نے اپنی نسبت بہت ہی کم لکھا ہے ۔ جس سے ظاہر ہے کہ وہ اپنے تئیں عوال الناس کے فرضدار سمجھتے تھے ۔ اور اپنی اس ذمہ داری کو انہوں نے لائق طور سے سر انجام دیا ۔

آج کل زمانہ تحقیقات اور نکتہ چینی کا زمانہ ہے ۔ نہ صرف دینی کتابوں کی چھان بین کی جاتی ہے ۔ بلکہ دیگر قدیم کتابوں کی بھی لیکن اس تحقیقات میں دو باتوں کی خبر داری کرنی چاہئے ۔

۱۔

آج کل کے محقق جن کا بڑا اثر پبلک رائے پر ہے وہ بھی کبھی انوکھی باتوں کو پیدا کرنے کا شوق ظاہر کرتے ہیں ۔ یا ممکنات کو ظنون غالبہ کا درجہ دیتے ہیں ۔ اور ظنون غالبہ کو یقین کا درجہ

۲۔

آج کل کے نکہ چین یہ سمجھ بیٹھے ہیں ۔ کہ قدیم لوگ تحقیقات کے قوانین سے بالکل ناواقف تھے اور شہادت کے قوانین سے بے بہرہ ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے ۔ کہ ہم قدیم تصنیفات کی تحقیقات تعصب سے کرتے ہیں ۔ اور یوں پورا انصاف نہیں کر سکتے ۔ اس لئے ہم اس قبل از تحقیق تعصب سے خبردار ہیں ۔

لیکن جو لوگ ارسطو کی تصنیفات اور ڈیما ستحصنیز کی تقریروں سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں ۔ کہ مصنفوں کے لئے یہ ہدایات ہیں کہ وہ اتفاقی شہادت چشم دید شہادت اور محض قیاس کے مابین امتیاز کریں اور یونا ن اور روم کی عدالتوں میں یہ قوانین برتے جا تے تھے ۔ اور ہماری اناجیل کی تصنیف سے دو سو برس پہلے مورخ اس سے واقف تھے کہ تحریر کا اعتبار کس امر پر مبنی ہے ۔ چنانچہ پو بی بی اس (Proylris) نا می اپنی کتاب کے دیباچہ میں بیان کرتا ہے ۔ کہ میں یہ تاریخ ۲۲۰ء ؁ قبل از مسیح سے شروع کرتا ہو ں ۔ کیو نکہ اس زمانہ کا کچھ حصہ تو میرے والدین کے ایام میں پڑے گا۔ اور کچھ میرے ایام میں اور یوں کچھ تو میں خود بینی گواہ کے طور پر بیان کر سکوں گا اور کچھ عینی شہادت کے زور پر۔ اس سے پرے جا ن اور رپورٹ کی رپورٹ لکھنا ایسی حدیثوں کو نقل کرنا جو سنی سنائی ہیں تسلی بخش نہیں ۔ نہ تو ان سے کسی امر کی وضاحت ہوتی ہے ۔ اور نہ صحیح بیان نکلتا ہے ۔ پولی بی اس کی تاریخ پڑھنے سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ اس نے کیسی دانائی اور روشن ضمیری سے کا م لیا اور مو رخوں کے جا لوں اور پھندوں سے کیسے بچا اور کن کن وسائل سے اس نے مصالح حاصل کیا ۔ چنانچہ اس نے اپنے سے پہلے دو مو رخوں کے بارے میں یہ لکھا ہے ۔ ’’میں یہ نہیں کہتا کہ ان مصنفوں نے ارادتاً غلط بیان کیا ۔لیکن میری رائے میں وہ اسی حا لت میں تھے ۔ جس میں ایک عاشق ہو تا ہے ۔ طرف داری اور ماقبل تعصبات کے باعث (Philinus) فلی نس نے اہل کا ر تھج کے سارے اعمال کو حکمت شجاعت اور عزت سے منسوب کیا اور اہل کارتھج کے سارے اعمال کو اس کے برعکس سمجھا نے بی اس نے اس سے الٹا نتیجہ نکا لا ۔ زندگی کے دیگر کا روبار میں اس قسم کے خیالات کو آدمی ملامت نہیں کرتا کیو نکہ نیک لوگوں کو چاہیے کہ اپنے دوستوں سے وفادار ہوں اور محب وطن ہوں تحسین اور نفرت میں دوستوں کے ساتھ ان کا اتفاق ہو ۔ لیکن جو ہیں کوئی شخص مورخ ہو نے کی خدمت اختیار کرتا ہے ۔ تو اسے ایسے خیالات کو بالکل بالائے طاق رکھنا چاہئے ۔ جیسے کسی جانور کی آنکھیں نکالنے سے وہ جا نور بیکار ہو جا تا ہے ۔ویسے ہی ۔ اگر تاریخ سے صداقت کو جدا کر و تو وہ گپ شپ سے زیادہ رتبہ نہیں رکھتی ۔

پس محقق خبردار ہے ۔ اور حال و ماضی کے طریقوں کے درمیان نا معقول فرق نہ کرے اور یہ تعصب اس کے دل میں نہ ہو کہ ان انجیل نویسوں نے بلا تحقیقات اور امتیاز جو کچھ سنا وہ لکھ دیا۔ لیکن تیسری اور چوتھی انجیل کے مصنف چشم دیدی شہادت کی قدر کرتے ہیں ۔ اور نہ صرف خود اس کی وقعت دیتے بلکہ مسیحی جماعت اس کی قدر کرتی تھی ۔ بس اناجیل کی تحقیقات سے پیشتر یہ تعصب دل میں نہ ہو نا چاہیے ۔ کہ ان کے مصنف زود اعتقاد اور نا قابل تھے ۔کہ جو کچھ سنا لکھ دیا اور جس سے ان کے استاد کی عزت بڑھ سکتی تھی اس کو نقل کر دیا ۔

اس تحقیقات میں ہم یہ یاد رکھیں کہ انا جیل کے اعتبار سے ان کی لفظی صحت مراد نہیں بلکہ اس ارادہ کی تکمیل کہ مسیح کی صحیح تصویر کا نقشہ کھینچیں ۔ اور ہم نے شروع سے یہی دعویٰ اناجیل کے لئے کیا ہے کہ ان میں اس کی صحیح تصویر جس کی خدمت کا وہ بیان کرتی ہیں ۔ یہ تصویر کوئی ہم سے چھین نہیں سکتا ۔ کسی آیت پر شک ہو تو کسی واقعہ میں کوئی مشکل ہو تو ہو لیکن اس تصویر میں کچھ کلام نہیں ۔ اور ان اناجیل کا مقصد یہی ہے کہ اس تصویر میں کچھ کلام نہیں ۔ اور ان نا جیل کا مقصد یہی ہے کہ اس تصویر میں کو محفوظ رکھیں ۔ تصویر فو ٹو گراف کے ذریعہ سے ہو سکتی ہے ۔یا ہاتھ کے ذریعہ سے لیکن اس سے یسوع کی وہ تصویر حاصل ہو تی ہے ۔ جو اس کے رفیق سمجھتے تھے ۔ تو یہ ہمارے لئے کا فی ہے ۔

ان اجیل میں جو کچھ لکھا ہے۔ اس کو لفظ بلفظ ما ننا تو ان علما کے لئے مشکل ہے ۔ لیکن اس کا مطلب نہیں ہے۔ کہ ہم خلوص دلی سے تحقیقات نہ کریں ۔ اس امر میں جن مشکلات سے سامنا پڑتا ہے ۔ ان کو ہم چار حصوں پر تقسیم کر سکتے ہیں ۔

۱۔

زبانی روایات کا صحیح سالم دوسروں تک پہنچنا عموماٍ مشکل ہے ۔

۲۔

کسی بہادر اور خاص کر مسیح کی تاریخ میں کسی قسم کے افسانہ کو داخل کرنے کی طرف میلان ۔

۳۔

اس امر کا اندیشہ اور امکان کہ مصنف کی اپنی رائے سے اس کی بیان میں کچھ حاشیہ بڑھایا جا ئے۔

۴۔

یہ بھی دیکھا گیا کہ پہلی تین اناجیل کئی باتوں میں اختلاف رکھتی ہیں ۔ نہ صرف چھوٹی باتوں میں بلکہ بعض باتوں میں بھی مثلاً مسیح کی قیامت کے بعض بیانات میں اختلاف پا یا جا تا ہے۔

۱۔

پہلے تو ہم اس امر کو لیں کہ روایات جو ایک سے دوسرے تک زبانی پہنچتی ہیں ۔ ان میں رفتہ رفتہ کچھ رزاید مصالح مل جا تا ہے۔ یہ تو واضح ہے ۔ کہ جن واقعات کا ان اناجیل میں ذکر ہے ۔ ان کے واقعہ ہو نے سے تقریباً ایک پشت بعد وہ لکھے گئے ۔ اور اس اثنا ء میں یسوع کا بیان زبانی ایک سے دوسرے تک پہنچتا رہا ۔ اگر یہ بیان اس پشت میں کلیسیا کی مشترک میراث رہا ۔ اوراگراس عرصہ میں ہر شخص اپنے پڑوسی سے اپنے حسب علم اور خیال یہ مضمون بیان کرتا رہا۔ والدین اگر اس ٹھوس خوراک کو بچوں کے حسب حال نرم کرتے رہے اور واعظ اپنے سامعین کی حسب ضرورت اس کو شکل دیتے رہے تو کیا یہ ظن پیدا نہیں ہو تا کہ انتائے راہ میں اس روایت میں کچھ ملاوٹ مل جا ئے ۔ اور جیسا کہ اور یلوکوں (Drella Cone)نے کہا کہ یہ مانتا یسوع کی روایت جو ایک مقررہ صورت اختیار کرنے سے پیشتر بہت ہاتھوں میں گزری اس میں کچھ کمی بیشی نہ ہوئی نا قابل اعتبار ہے ۔ اس قسم کا دعوی سن کر پہلے تو دل گھبرانے لگتا ہے ۔ لیکن ذرا غور کرنے سے تسلی حاصل ہوتی ہے ۔

۱۔

جو عرصہ واقعات اور ان کے قلمبند ہو نے کے درمیان گزر ااس میں لوگ بہت مبالغہ کرنے لگ جا تے ہیں ۔ دوسری پشت کا کبھی ایسا ذکر آیا ہے۔ کہ گویا وہ یک لخت آپہنچی اور ایک ہی دن میں پہلی پشت کو معزول اور متروک کر دیا جیسے پہرہ کی چوکی دوسری چوکی کو بدل دیتی ہے ۔ یا جیسے دن کے بعد فوراً رات شروع ہو جا تی ہے ۔ بہت لوگ جنہوں نے یسوع کو یروشلم یا گلیل میں دیکھا ہو گا ۔ اس صدی کے آخر تک زندہ رہے ہو ں گے ۔ اور بہت لوگ ایسے بزرگ ہوں گے ۔ کہ وہ انجیل نویسوں کے بیان میں کسی فسانہ یا خیالی قصہ کو دیکھ کر فوراً بول اٹھتے کہ یہ درست نہیں اور اگرچہ ہماری اناجیل کچھ عرصہ تک لکھی نہ گئیں ۔ لیکن جن چشموں سے وہ تیار ہوئیں وہ تو بہت عرصہ پہلے ان میں مروج تھیں ۔ علاوہ ازیں عرصہ کی امتداد اور زمانہ کی درازی بہت وقعت نہیں رکھتی اگر واقعہ غیر ممکن الوقوع نہ ہو اور جس تاریخ میں اس کا ذکر ہے۔ اس کے مطابق ہو ۔ دنیا وی تاریخ کا مورخ ایسی شہادت کو قبول کرلیتا ہے ۔ جو واقعہ سے بہت دیر بعد بھی حاصل ہو ئی ہو ۔ مثلاً اس بیان میں کہ لیڈی تلیسن کمرہ سے چلی گئی جب نیلسن نے پیاری لیڈی ہملٹن کا ذکر تعریف کے ساتھ کیا ۔ مورخہ ماھن (Mahan) کہتا ہے کہ اگرچہ یہ واقعہ بہت دیر بعد احاطہ تحریر میں آیا (پنتالیس سال کے بعد )تو بھی یہ اس قسم کا واقعہ ہے ۔ جو یادداشت میں نقش ہو جا تا ہے۔ اور غالباً بحیثیت مجموعی اسی طرح واقعہ ہوا۔ اور ایک دوسرے واقعہ کے بارے میں وہی مورخ لکھتا ہے ۔ یہ خفیف واقعہ اگرچہ تقریباً ستر سال کے بعد پہلی دفعہ ظاہر ہوا تو بھی یہ اپنی شہادت آپ رکھتا ہے ۔‘‘ اور آکسفورڈ کے پرنسپل ڈرمنڈ صاحب خوب تحریر فر ما تے ہیں ۔ ’’اگر ہم یہ مان لیں کہ پہلی تین اناجیل میں مسیح کے بعد چالیس اور ساٹھ سال کے عرصہ کے در میان لکھی گئیں ۔ تو بھی وہ قدیم مصالح پر مبنی تھیں۔ اور یہ ناممکن نہیں کہ چالیس سال کے بعد بھی مسیح کے قول ان کے دلوں میں ایسے ہی نقش ہوں جیسے کہ شروع میں تھے ۔ میری یادداشت تو بہت عمدہ نہیں لیکن میں بہت قول سنا سکتا ہوں ۔ جو چالیس یا پچاس سال پہلے کہے گئے تھے ۔ اور بعض حالتوں میں تو وہ سارا نظارہ میری آنکھوں کے سامنے پھر جا تا ہے۔

۲۔

ایک اور عام غلطی رواج پا گئی ہے ۔ وہ یہ ہے ۔ چونکہ یہ اناجیل واقعات سے ایک پشت بعد لکھی گئی اور تقریباً چالیس سال تک زبانی روایتوں کے طور پر چلی آئیں اور زاویوں کے ذریعہ سے کئی ایک تبدیلیاں وغیرہ بھی اس میں داخل ہو گئیں ۔ لوقا اس غلطی کی تر دید اپنی انجیل کے دیباچہ ہی میں کر دیتا ہے ۔ کہ کیسی احتیاط سے کا م لیا گیا اور کیسے معتبر اشخاص کی شہادت قبول کئے گئے ۔ یہی ہم مرقس کی انجیل کے با رے میں کہہ سکتے ہیں ۔ اس میں عام روایت مندرج نہیں جو سینہ نہ سینہ چلی آ ئی ہو ۔ بلکہ پطرس کے وعظوں اور بیا نا ت کا تذکرہ ۔ الغرض یہ دعوےٰ جو بعض لوگ کرتے تھے ۔ درست نہیں کہ چونکہ فلاں انجیل (فرض کرو) ۷۰ ؁ تک لکھی نہ گئی تھی ۔اس لئے اس میں اس زمانہ کی عام روایت اور بگڑی تاریخ مندرج ہے بلکہ برعکس اس کے ایسی عام غلطی کی اصلاح کے لئے یہ غالباً لکھی گئی ہو ۔

۳۔

یا د رہے کہ کم سے کم ایک انجیل میں تو یہ صاف دعویٰ درج ہے کہ میں عینی گواہ کے ذریعہ لکھی گئی ہوں ۔ تاریخی واقعات کی صحت دریافت کرنے میں عینی گواہ کی شہادت اور چشم دیدواقعات کا بیان بہت ہی قابل اعتبار سمجھا جا تا ہے۔ یہ ممکن ہے۔ کہ موقعہ کا گواہ کچھ پریشان خاطر ہو جا ئے ۔ جبکہ ملکی امور میں یا کسی بڑی بڑائی میں ۔ یا کہ اسے کچھ تصب ہو یا اس کی یادداشت دھوکا دے جا ئے یا واقعات کے محض درج کرنے کے سوا اس کی کچھ اورغرض ہو۔ پس گو موقعہ کا گواہ غلطی کر سکتا ہے۔ تو بھی ظن ہمیشہ ان کا طرفدار ہے۔ اور سب اس کے بیان کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو تے ہیں ۔ جب تک کہ وہ غلط ثابت نہ ہو ۔ جس سوانح عمری کا ذکر پیشتر ہو اس سے میں ایک اور مثال پیش کرتا ہوں ۔ مسٹرسنٹ جارج یعنی صدر استف ٹرینچ کی والدہ ما جدہ اپنے رو زنا مچہ میں تحریر کرتی ہیں ۔ کہ ایک موقعہ پر میں نے نیلسن کو شراب کے نشہ میں دیکھا۔ اور اس تحریر پر نیلسن کا مورخ یہ رائے لگا تا ہے ۔ ’’خواہ کیسے ہی افسوس کی بات ہو ایسا وقوعہ اس قدر نا ممکن نہیں کہ موقع کے گواہ کی شہادت کو توڑ ڈالے خاص نیلسن جیسے شخص کی معاملہ میں بھی کو اپنی معتاد پر پرہیز گاری کے باعث مشہور تھا ۔ اور جو اس کی صحت کے لئے نہایت ضرور تھا ۔ ‘‘

اب دیکھے کہ ایک انجیل نویس صاف لکھتا ہے ۔ کہ یہ واقعات اس کے قلم سے نکلے ہیں۔ جس نے ان کو دیکھا اور جن میں اس نے خود حصہ لیا ۔ چوتھی انجیل میں ا یک خاص عجیب واقعہ کے بارے میں موقعہ کے گواہ کی نہ صرف پختہ شہادت مو جو د ہے ۔ (یعنی مسیح مصلوب کی پسلی سے خون اور پانی کا نکلنا۔ جس نے یہ دیکھا ہے ۔اس نے گواہی دی ہے ۔ اور اس کی گواہی سچی ہے۔ )بلکہ ضمیہ سے صاف پتہ لگتا ہے۔ کہ ساری انجیل کا لکھنے والا موقعہ کا گواہ تھا ۔ ’’یہ وہی شاگرد ہے۔ (جسے یسوع پیار کرتا تھا) جو ان باتوں کی گواہی دیتا ہے ۔ اور جس نے ان کو لکھا ہے ۔ اور ہم جا نتے ہیں ۔ کہ اس کی گواہی سچی ہے۔ ‘‘ میں تو جرات نہیں رکھتا کہ ایسی صاف گواہی کو ٹال دوں ۔ آیا اس انجیل میں واقعا ت کی ترتیب ٹھیک ہے ۔ یا نہیں آیا ۔ مسیح کی تقریریں من وعن ویسی ہی درج ہوئیں جیسے کہ وہ سنائی گئی تھیں ۔ یا ما بعد لوگوں نے مضون میں کچھ تصرف کیا ۔یہ مقدم سوال نہیں ۔ مقدس سوال یہ ہے کہ جنہوں نے پہلے انجیل کو شائع کیا وہ جا نتے تھے ۔ کہ رسول یوحنا کی تصنیف ہے۔اس کے با رے میں کچھ شک نہیں ۔ البتہ یہ تو ہم تحقیق طور پر نہیں بتا سکتے کہ کب اس نے اسے لکھنا شروع کیا ۔ اس خیمہ کا یہ مقصد ہے ۔ کہ یوحنا رسول روایت مندرجہ انجیل کا نہ صرف چشمہ اور محافظ تھا بلکہ خودا س نے اسے تحریر بھی کیا ۔ پس جو اس صاف بیان کو ٹال دینا چاہتے ہیں۔ہم ان کی طرف زیادہ متوجہ نہیں ہو سکتے ۔

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس انجیل میں جس مسیح کا ذکر ہے وہ متفرق مسیح ہے ۔ پہلی تینوں اناجیل کا مسیح نہیں ۔ لیکن کلیسیا جا مع نے اس رائے کو بالکل رد کیا اور بتا دیا ہے ۔ کہ چاروں اناجیل سے ایک پوری تصویر مسیح کی نکلتی ہے ۔ بعضوں نے یہ اعتراض بھی کیا ہے ۔ کہ اس انجیل کا مصنف کوئی فلاسفر معلوم ہو تا ہے ۔ نہ کہ ایک مچھوا ۔ کیا مچھلی پکڑنے والے کے سوا کوئی اور ہمیں یہ بتا سکتا تھا کہ ۱۵۳ مچھلیاں جا ل میں آئیں ۔ ڈاکٹر یبٹ صاحب بھی خیال کرتے ہیں کہ اس تعداد میں ایک مخفی اشارہ کلیسیا کی طرف جو شریعت اور روح سے پیدا ہوئی۔ وغیرہ ۔کیا ڈاکٹر یبٹ کسی مچھوے کو بتا سکتے ہیں ۔ جو اپنے جال کی مچھلیوں کو نہ گنتا ہو اور اگر بڑی تعداد مچھلیوں کی ہو تو زور سے اس کا بیا ن نہ کرے ؟ کشتی والوں کے سوا ہمیں اور کو ن ان کشتیوں کی ترتیب بتا سکتا تھا ۔ جو اس انجیل کے چھٹے باب میں مذکور ہے جب کہ ہمارے خداوند کے سامعین جھیل کے ایک کنارہ سے دوسرے پر منتقل ہو گئے ۔ ایسے انتقال کے ذکر کرنے کا کوئی اور مقصد نہیں ہو سکتا سو اے اس کے مصنف واقعات کا بیا ن کیا چاہتا تھا نہ کہ دل سے ان کو گھڑناچاہتا تھا ۔

۴۔

ہم نے ما نا کہ واقعات کے وقوع ہونے اور ان کے قلمبند ہو نے کے درمیان کچھ عرصہ گزرا۔ لیکن ہمیں یہ بھی ما ننا چاہئے کہ واقعات مندرجہ کیسے عجیب اور قابل یاد ہیں ۔ سب لوگ تسلیم کرتے ہیں ۔ کہ یسوع کی سیرت ایسی لا ثانی اور موثر تھی کہ اس کے رفیق اگر پورے طور سے اس کا بیان نہ کر سکتے تو بھی ان کے دلوں میں اس کی بعض خاص باتیں تو ضرور نقش ہو گئی ہو ں گی ۔ نیپولین کی زندگی کے بارے میں اس کے جر نیلو ں اور شتہ داروں اور مصاحبوں نے مختلف بیان کئے ہیں ۔ لیکن ان سب سے اس کی سیرت کا جو نقشہ کھینچا جاتا ہے ۔وہ ایک ہی ہے ۔ ہمارے خدا وند کے بارے میں اس کا ظن غالب تھا ۔ کہ ایک نا قابل نقشہ کھینچا جا ئے لیکن اس کا ظن یہ تھا کہ ایک غلط نقشہ کھینچا جا ئے۔ اور اس کی زندگی کے اکثر واقعات اور حا لا ت کے بیان پر بھی یہی صادق آتا ہے ۔ ایسے امور دلوں پر نقش کا لحجر ہو تے ہیں ۔ جس نے اس مفلوج کو چھت میں سے نیچے لٹکایا جاتا اور اچھا ہو تا دیکھا کیا وہ اس کو کبھی بھول سکتے تھے ؟ اور جب مسیح کی ساری زندگی ایسی عجیب اور اس کی موت ایسی لا ثانی اور موثر قسم کی تھی تو عام معمولی واقعات کی طرح اس میں غلطی واقع ہو نے کا چنداں گمان نہیں ہو سکتا۔

جیسا پیشتر ذکر ہوا کہ خاص کر ہم مسیح کی شخصیت اور اس کے کام کو جاننا چاہتے اور جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور اس لئے اس شخصیت کیا س موثر اور دل میں گڑ جا نے والی صفت کا خاص لحاظ کرنا چاہتے ہیں ۔ ڈاکٹر یبٹ نے بہت کوشش کی کہ ٹامس ابیک (Thmoas A. Bachet)کی زندگی اور وفات کے بیانات کی طرح اناجیل کے بیانات کو بھی غیر معتبر ثابت کرے۔ اس شخص کی زندگی کے بعض واقعات اس کی شہادت کے پانچ سال کے پانچ سال کے اندر اندر لکھے گئے اور بہت سے معجزے جو اس کتاب میں د رج ہوئے وہ وقوع ہو نے کے عین بعد ہی احاطہ تحریر میں آئے ۔ تو بھی کچھ شک نہیں کہ بقول ڈاکٹر ایبٹ ’’ سخت جھوٹ ‘‘ اس میں داخل ہو گئے اور موقعہ کے گواہ بھی کبھی کبھی سخت غلطی میں پڑ جا تے ہیں ل۔ اورڈاکٹر پر سی گارڈنر (Dr . Percy Gardner)اسی قسم کے ایک اور واقعہ کی طرف توجہ دلاتا ہے ۔ کہ سنٹ فرانسس اوف آسیسی (St. Francis Assise)کی وفات سے پچاس سال کے عرصہ میں اس کا قصہ پڑھنے اور بدلنے لگا اورعجیب عجیب کرامات اور معجزے اس سے منسوب ہو نے لگے جس سے فرانسسکن سو سا ئٹی (Franciscan Soceity)کی قسمت کھل گئی ۔

لیکن ان دلیلوں سے یہ ظاہرہو تا ہے ۔ کہ یہ قصے کیسے کمزور ہیں اور جو نقشہ اس آدمی گا لوگوں کے دلوں میں بیٹھا تھا ۔ جس کے گرد یہ قصے جمع ہو گئے اس کو وہ دھندلا نہیں کر سکتے ۔ با وجو د اس قصہ و کہانی کے طو ما ر کے بیکیٹ اور فرانسسن کی سیرئیں زیادہ نمودار اور درخشاں ہیں ۔ تو کتنا زیادہ یسوع کی زبردست اور موثر سیرت کا نیتجہ ہو گا ۔ جو اثر اس سیرت کا یسوع کے رفیقوں پر ہوا وہ لا ثانی تھا اور ایسے اثر کو امتداد زمانہ ضائع نہیں کر سکتا اور یہ اثر نہ ایک دو پر بلکہ بہتوں پر ہوا تھا ۔

ایسے معاملہ میں ہم ان لوگوں کی سیرت اور حا لا ت کو بھی مد نظر رکھیں جن پر یہ اثر ہوا ۔ یہودی صدر مجلس کے ممبروں کی طرح آج تک بھی بعض یہ اعتراض کرتے رہتے ہیں ۔ کہ وہ جاہل اور ان پڑھ لوگ تھے لیکن اسی وجہ سے کہ وہ ایسے لوگ تھے ان کے دلوں پر ایک خاص اور بے طرفدارانہ نقشہ جم سکتا تھا ۔ کیو نکہ جن لوگوں کی رائے پک چکی ہیں ۔ اور جو پہلے سے تصور باندھ چکے ہیں ۔ ان پر ایسا نقشہ جمنا نا ممکن یا کم سے کم بہت محال تھا۔ وہ مثل شیر خواز بچوں کے تھے جن کے سادہ کورے دلوں پر یسوع اپنی تاثیر کو نقش کر سکتا تھا ۔

جیسا ایک فصیح مصنف نے کہا ہے ۔ ’’ جو لوگ غل غپاڑہ میں زندگی بسر کرتے ہیں ۔ ان کے دلوں میں نقشہ پر نقشہ جمتا جا تا ہے۔ اور آخر کار سب غلط ملط اور بے معنی ہو جا تا ہے ۔ لیکن کسانوں کی زندگی میں تاثیریں ایسی کم ہو جا تی ہیں۔ کہ وہ صفائی سے یاد رہ سکتی ہیں ۔ جن لوگوں کو مسیح سے زیادہ واسطہ پڑا وہ اس قسم کے تھے ۔ ان کی زندگی میں جو پہلا موثر موقعہ تھا ۔ و ہ اس وقت تھا جب مسیح پہلی دفعہ ان سے متکلم ہوا ۔ اور اکثر صورتوں میں مسیح کے ساتھ ان کی ملاقات کے وقت کچھ نہ کچھ عجیب موثر واقعہ ہوا تھا ۔ جسے وہ بھول نہ سکتے تھے ۔ مثلاً والدین میں سے کسی کی موت کا اندیشہ ۔ کسی دوست کا بیماری میں سے بحال ہو نا ۔ کسی دیوزدہ بچے کا ہو ش میں آ نا ۔ یہ عجائبات ان اشخاص کی زندگی پر دن بھر یا رات بھر جھومتے رہے ان کے دل اور تصور کے رعجب حرکت دی گئی تو پھر کس طرح وہ ان کو بھول سکتے تھے ۔

دوم چونکہ مشہو ر اور بہادر لوگوں کی زندگی میں عجیب عجیب قصے کہانیاں دی جا تی ہیں ۔ اس سے شبہ پیدا ہو تا ہے ۔ کہ شاید اناجیل میں بھی ایسا ہی کیا گیا ہو ۔ چنانچہ یہ کہا جا تا ہے ۔ کہ یسوع کی زندگی کے بیانا ت میں وہ سب حیرت انگیز صفات اور حا لا ت ملا دئیے گئے جو عہد عتیق میں مشہور لو گوں سے منسوب تھے ۔ اور جن باتوں کا ذکر نبیوں نے آ نے والے مسیح کے بارے میں کیا تھا وہ سب سمجھ لیا گیا کہ یسوع میں پو را ہو گیا ہے ۔ چو نکہ یسوع مسیح تھا ۔ اس لئے ضرور وہ ساری باتیں اس میں ظاہر ہوئی ہوں گی ۔ چنانچہ ڈاکٹر پاسی کا ڈنر اپنی کتاب میں بیا ن کرتے ہیں ۔ کہ ’’ جب پہلے مشنری یہودیہ کے شہروں میں منادی کرنے گئے تو یسوع کے مسیح ہو نے کے دعوے پر جو عام اعتراض ان پر کئے گئے ہو ں گے وہ اس قسم کے ہوں گے ۔ کہ ان کے استا د کی زندگی ۔ اس کی پیدائش اور اس کی موت نبیوں کی پیشن گوئیوں کے مطابق نہیں ۔ کیسے ہو سکتا تھا کہ مسیح گلیل میں پیدا ہو۔ کیسے ہو سکتا تھا ۔ کہ وہ داؤد کے خاندان سے نہ ہو ۔ چاہئے تھا کہ وہ اس بادشاہ کی طرح کا ذکر زکریاہ نبی کی کتاب میں ہے گدھے پر سوار ہو کر آئے ۔ اس کے کپڑوں کا اتا را جا نا اور اس کے دشمنوں کے درمیان بانٹا جا نا ضرور تھا ۔ جیسا کہ ۲۲ مزمور میں لکھا ہے ۔ چاہیے تھا کہ اس کی قبر دولتمندوں کے ساتھ ہو وغیرہ ۔ ایسے اعتراضات کے جواب دینے کا یہ سب سے آسان طریقہ ہے کہ ہم کہیں ’’بے شک ۔ ہمارے خدا وند کا یہی حال تھا ۔ ‘‘ پس بہت قصے خواہ کسی طرح سے وہ بر پا ہوں جن میں یہ خوبی تھی کہ وہ ہمارے خدا وند یسوع کی زندگی کو پیشن گوئی کے مطابق بنائیں ان میں یہ طبعی میلا ن تھا کہ وہ زمانہ کے ہاتھ سے معدوم نہ ہو جا تے ۔ اور جو ان کو ان تاریخوں میں جگہ دیتے جنہیں سو سائٹی نے قبول کیا تھا ۔

اب اس اعتراض پر ہم غور کریں اس پر تو شک نہیں کیا جا تا کہ یسوع رو حا نی شان و شوکت کا مسیح تھا ۔ جس کی تصویر عہد عتیق کے منشر اشاروں سے کہیں اعلیٰ تھی اگر کسی انجیل نویس پر یہ اعتراض کیا جا تا کہ یسوع عہد عتیق کی تصویر کے مطابق نہیں اور اگر وہ اس آزمائش میں پڑ کر اس امید کے مطابق اس کو بنا نا چاہتا تو وہ صرف چند خفیف بیرونی امور میں کر سکتا تھا۔

اور یہ بھی مخفی نہ رہے کہ اس قسم کی جھوٹی ساخت اور داخت یہودیوں کے سامنے منادی کرنے ہی میں پیدا ہو سکتی تھی خاص کو جنہوں نے مسیحی پیشن گوئیوں کا مطالعہ کیا تھا ۔ سب جا نتے ہیں کہ ان کی کیسی مختصر تفسیریں کی جاتی تھیں ۔ غیر قوم کلیسیا پہلے پہلے ان باتوں میں کچھ مذاق نہ رکھتی تھی ۔ یہ تو ہو سکتا ہے۔ کہ کوئی یہودی ایسا سوال کرے یا شاید کسی نے ایسا سوال کیا کیو نکہ یہ ضرور تھا ۔ کہ یسوع اور مسیح کے بار ے میں پیشن گوئیوں کے درمیان مطابقت ہو لیکن انجیل نویس کا ایسی غلطی میں پڑنا جو معترض اور محیب دونوں کو بخوبی معلو ہو ایسا قابل اعتبار نہیں ۔ مثلاً ہم وہی مثال لیں جو ڈاکٹر گارڈنر نے پیش کی ہے ۔ یعنی جو یسوع کا مسیح کے خاندان سے پیدا ہونا ۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ خاص بات تھی مسیح کے بارے میں ’’ کیا کتاب مقدس نہیں کہتی کہ مسیح دا ؤد کی نسل سے اور بیت لحم کے شہر سے آتا ہے ۔ جہاں کا داؤد تھا ۔ اور انجیل نویس نے اس تقاضا کو پو را کیا لیکن کس طرح سے ؟ نہ محض دعوے کے ذریعے کہ ایسا تھا بلکہ نسب نا مہ کو درج کرنے کے ذریعے ۔ تا کہ اگر کسی کو شک ہو تو تحقیق کر لے کیو نکہ یہودی نسب نا مے بخوبی پر کھے جا سکتے تھے ۔

لیکن اصل بات یہ ہے کہ کوئی شہادت ہم تک نہیں پہنچی جس سے ثابت ہو کہ پہلے شاگرد عموماً ایسے امور کی نسبت بڑی فکر کرت تھے پو لس جیسا شخص شاید ایسی مطابقتوں سے کوئی دلیل پیدا کرے ۔ لیکن وہ بھی اپنے ایمان کا دارو مدار زیادہ اصولی اور بنیادی باتوں پر رکھتا ہے اور یوحنا نے جو پہلے شاگردوں کے انس کا ذکر کیا ہے ۔ جو وہ یسوع سے رکھتے تھے اگر اس کو معتبر سمجھیں تو ہم بآسانی معلوم کر سکتے ہیں ۔ کہ وہ ایسی باتوں پر بہت کم زور دیتے تھے ۔ معترض کہتا ہے کہ ’’کیا کوئی اچھی چیز ناصرت سے نکل سکتی ہے۔ ‘‘ جواب یہ ملتا ہے ۔ کہ’’ آ کر دیکھ لے ۔ ‘‘نہ ڈاکٹر گارڈنر کی طرح یہ جواب دیا جا تا ہے ۔ کہ ’’ اس کا تعلق ناصرت سے نہیں بلکہ بیت الحم سے ہے ‘‘ ۔

۳۔

شاید کوئی خیال کرے کہ نجیل نویسوں کی اپنی رائیوں نے ان کے بیانات پر بہت کچھ رنگ چڑھایا ۔ جس زمانہ میں کہ اناجیل قلمبند ہوئیں کئی مشکل سوال کلیسیا میں پیدا ہو گئے تھے اور بعض ایک کی تائید کرتے اور بعض دوسرے کی ۔ بعض مسیح کے اقوال کواپنی رائے کی تائید میں پیش کرتے اور بعض ان سے بالکل متفرق معنی نکالتے اور یہ بشریت کا خاصہ نہیں کہ کوئی مصنف جو کسی امر کے بارے میں پختہ رائے رکھتا ہو اور وہ انجیل لکھنے بیٹھے اور اپنے تئیں ظاہر نہ کرے ۔ کہ وہ کس فریق سے تعلق رکھتا ہے ۔ چنانچہ ہولٹ زمن (Holtzmaunصاحب نے یہ صاف طور سے کہہ دیا کوئی انجیل نویس ہیرو ڈوٹس کی طرح تاریخ نہیں لکھتا کہ جو کچھ اس نے سنا ہے محض اس کا بیان کر دے وہ سب کم و بیش کسی مذہبی رائے کے مقلد ہیں ۔ ‘‘ شخصی خاصیت تحقیق ہو سکتی ہے جیسا کہ آلیورونڈل ہالمس صاحب نے اپنے طور پر یہ لکھا ہے ۔ کہ ’’ سمتھ تم کو سمتھی سچائی بتا تا ہے ۔ اور براڈن براڈنی حقیقت ظاہر کرتا ہے ۔

مگر اس مشکل پرزیادہ زوردینے کی ضرورت نہیں ۔ آج کل یہ اعتراض اٹھ گیا ہے ۔ بلکہ اس کے خلاف رائے پیدا ہو گئی ہے ۔ چنانچہ شمیڈل(Sehmiedial)صاحب نے بھی اتنا ما ن لیا ہے کہ ’’بحیثیت مجموعی ایسا میلان طبع اناجیل کے صرف چند ہی حصوں میں آشکارہ ہوتا ہے۔ ‘‘ انجیل نو یسوں نے اپنے مختلف مقاصد کے مطابق مضامین کا نتخاب کیا ۔ مثلاً متی نے بعض امور کو نظر انداز کیا جس کا دوسری انجیلوں نے مفصل بیا ن کیا ہے ۔ کیو نکہ متی کا عام مقصد یہی ہے کہ مسیح کے اقوال کو دریافت کر کے قلمبند کرے ۔ مصنف کے مزاج تعلیم اور مقصد کا بڑا طرز رتحریر پر پڑتا ہے۔ اور اس قسم کا امتیاز اناجیل میں ظاہرہو تا ہے ۔ لیکن اس کا کبھی گمان بھی نہیں گزرا کہ مصنف غرض یا کسی یک طرفہ رائے نے اس کی تحریر پر اثر ڈالاہو۔

۴۔

بعض سمجھتے تھے ۔ کہ جب کسی واقعہ کے بیان میں ا نجیل نویسوں کا اختلاف ہے تو ان باتوں کا اعتبار گھٹ جا تا ہے ۔ چنانچہ شمیڈل صاحب نے ’’قیامت ‘‘ پر جو مضمون ان سائکلوپیڈیاببلکا (Encyclopedia Bibbica)میں دیا ہے ۔ اس میں اسی اعتراض پر بڑا زور دیا گیا ہے ۔ اس اعتراض کے بارے میں پیلی صاحب کا جواب درک کرنا کافی معلوم ہو تا ہے ۔ پیلی صاحب کا جواب درج کرنا کا فی معلوم ہو تا ہے ۔ پیلی صاحب لکھتے ہیں ۔ کہ’’میں اس سے زیادی اور جلد باز اور نا معقول فہم سے واقف نہیں جو کسی قصہ کے بیان کو محض اس بنا پر رد کرے کہ جن ماجروں کا اس سے تعلق ہے ۔ ا ن کا مختلف طورپر بیان ہوا ہے۔انسانی شہادت کی معمولی کیفیت اصلی سچائی ہے ۔ جو ماجروں کے اختلاف میں ظاہر ہے ۔ عدالتوں میں یہ روز مرہ کا تجربہ ہے ۔ وکیل اس قسم کے اختلافات پر بہت زور دیا کرتے ہیں ۔ لیکن اکثر ان سے ججوں پر بہت اثر نہیں ہو تا بلکہ برعکس اس کے شہادتوں میں لفظی اور تفصیلی مطابقت سازش اور فریب کا شک پیدا کرتی ہے ۔ اور جب تحریری تاریخیں اسی قسم کا بیان کرتی ہیں ۔ تو اسی قسم کا بیان کرتی ہیں ۔ تو اسی قسم کا خیال ان کی نسبت پیدا ہوتا ہے ۔ بعض اوقات تاریخوں میں تفصیل کے متعلق بہت اختلاف ہو تا ہے ۔ بلکہ بیانات تقیخ معلوم ہو تے ہیں ۔ لیکن اس سے عام اعتبار واقعہ کا جا تا نہیں رہتا ۔ مثلاً یہودیوں نے جو ایلچی کلودیوس کے حکم کے خلاف کہ ہیکل میں بت نصب کیا جا ئے روم کو بھیجا اس کی نسبت وفائلو کہتا ہے کہ وہ فصل کے موسم میں بھیجا گیا ۔ حا لا نکہ یوسیفس کہتا ہے۔ کہ وہ بیج بو نے کے وقت بھیجا گیا حا لا نکہ دونوں ہمعصر مصنف ہیں ۔اور کسی نہیں ہو تا ۔ انگریزی تاریخ ایسی مثالوں سے خا لی نہیں ۔ مثلاً ما ر کوئس آف آرگل کی وفات جو چارلس دوم کے زمانہ میں ہوئی اس کی نسبت بہت اختلاف ہے ۔ لا رڈ کلیر نڈن کا بیان ہے ۔ کہ ان کو پھانسی کا حکم ہو ا اور اسی دن اس حکم کی تعمیل بھی ہو گئی ۔ لیکن برعکس اس کے برنٹ وغیرہ دیگر مورخ لکھتے ہیں ۔ کہ سینچر کو اس پر فتویٰ ہوا اور اتوار کو اس کی تعمیل ہو ئی کیا کوئی شخص سے اس یہ نتیجہ نکا لے گا ۔ کہ ما ر کوئس آف آرگل کو پھانسی نہیں ہوئی ۔ پھر انا جیل میں ایسے تفصیلی اختلا فا ت کے باعث عام بیان کی تر دید نہیں ہو سکتی ۔

علا وہ ازیں اناجیل کے بیانات کے معتبر ہو نے کے بارے میں کئی مزید شہادتیں ہیں جن کو نظر انداز نہ کرنا چاہئے۔

۱۔

یسوع کے اقوال بڑی صحت سے محفوظ رہے ہیں ۔ ان میں سے بعض زمانہ کی دستبرد سے بذات خود محفوظ تھے ۔ اور فراموش نہ ہو سکتے تھے ۔ البتہ جن تعلقات میں وہ کہے گئے تھے ۔ ان سے وہ جدا ہو گئے ہوں تو ہو گئے ہوں لیکن وہ خود محفوظ رہے ۔ سڑاس (Straus)خود یہ کہتا ہے۔ کہ ’’یسوع کے موزوں اور معقول اقوال زبانی روایت کے طو فا ن میں غرق نہیں ہو سکتے تھے ۔ البتہ وہ اپنے اصلی تعلقات سے بعض اوقات جدا ہو گئے اور مشابہ سیلاب زمانہ نے چٹان کے ٹکڑوں کی طرح ان کو وہاں جا لگا یا جس سے وہ فی الحقیقت تعلق نہ رکھتے تھے ۔ ‘‘ یہی وجہ تھی کہ بعض انجیل نویسوں نے ان اقوال کو اکٹھا جمع کر دیا جوان کے مطلب کے مواقف تھے ۔ بلا لحاظ اس کے کہ وہ کس قرینے میں استعمال ہو تے تھے ۔ چنانچہ متی کی انجیل میں ایسے اقوال کا مجموعہ ہے جو مختلف موقعوں پرخدا وند یسوع کی زبان سے نکلے تھے ۔

تمثیلوں کو پڑھتے وقت کوئی یہ نہ کہے گا ۔ کہ وہ من و عن صحت کے ساتھ بیان ہوئی ہیں ۔ ان کا طرز بیان اور طریقہ سب یہ شہادت دیتے ہیں ۔ کہ ان میں کسی طرح کی ملاوٹ یا تحریف نہیں ہوئی ۔ کیسے وہ ایسی حالت میں محفوظ رہیں ۔ یہ ایک معما ہے ۔ لیکن محفوظ تو رہی ہیں ۔ البتہ ڈاکٹر پرسی گارڈنر یہ کہتا ہے ۔ کہ ’’یسوع کے کوئی اقوال ایسے نہیں جو بالکل احاط اعتراض سے خارج ہوں‘‘۔ اس کی طرح ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں ۔کہ ’’شکیسپیئر کا کوئی ڈراما احاط اعتراض سے خا رج نہیں ۔ ‘‘ کیو نکہ بعض دیوانہ عالم کبھی یہ بھی کہہ دیتے ہیں ۔ کہ وہ بیکن کی تصنیف ہیں ۔

۲۔

ایک عجیب شہادت ملتی ہے ۔ کہ انجیل نویسوں نے خدا وند یسوع کے وہ نا م اور لقب استعال کئے جو دوسری صدی میں متروک ہو چکے تھے ۔ اس صدی میں یسوع نا م کی بجائے مسیح کا لقب مروج ہو گیا تھا ۔ مسیح اس کا نا م ہو گیا ۔ جس کا وہ عہدہ تھا ۔لیکن اناجیل میں وہ نا م یسوع استعمال ہو تا ہے ۔ اسی طرح ’’ ابن آدم ‘‘ کا لقب دوسری صدی میں غیر مستعمل تھا ۔لیکن انجیل نو یس برابر اسے یسوع کی زبان سے صادر ہوا محفوظ رکھتے ہیں ۔ اور ایسی ہی بہت مثالیں پیش کر سکتے ہیں ۔

۳۔

انجیلی بیان کی صحت کا ایک مزید ثبوت یہ ہے کہ اس صاف دلی سے بارہ رسولوں کی کمزوریوں اور قصوروں کا اقرار ہے ۔ مثلاً تمثیلوں کے معنی سمجھنے میں شا گر دوں کا قاصر رہنا اور نازک موقعوں پر ان کے ایمان کی کمزوری ۔ ان کے خیالوں میں دنیا دا ری ۔ ایک دوسرے کے ساتھ انکار تکرار کرنا ۔اپنے خدا وند کو صلیب کے وقت چھوڑ جا نا ۔ یہ سب صاف صاف بیان ہے ۔ جیسے کچھ واقع ہوا ایسے انہوں نے درج کر دیا بلا لحاظ اس کے کہ اس سے ان پر حرف آئے گا ۔ یا نہیں چنانچہ پروفیسر فشر صاحب اپنی ایک کتاب میں اس دلیل کی یوں تشریح کرتا ہے ۔’’ کسی قصہ کی صحت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔ کہ آدمی اپنی کمزریوں اور غلطیوں کا اور ان پر جو زجرو تو بیخ ہوئی اس کا صاف صاف اقرار اور بیا ن کرے ۔ جب بوسول (Boowell)لکھتا ہے۔ کہ جانسن نے اسے گھر کی نظر سے دیکھ کر کہا ’’ جناب میں تمہاری نسبت ڈیوڈ گارک کو زیادہ عرصہ سے جا نتا ہو ں اور تمہارا کوئی حق نہیں کہ اس کے بارے میں مجھ سے کچھ کہو ‘‘ یا جب ہوئیمصنف کہتا ہے کہ اسے یہ کہا گیا ۔’’جناب اپنے دل کو کینہ سے پاک کرو ۔ تو کوئی شک نہیں کر سکتا کہ مصنف صحیح قصہ بیان کر رہا ہے ۔ کیو نکہ کوئی شخص اپنی ہتک کے لئے کوئی کتاب نہیں لکھتا اور جب کبھی کوئی مصنف ایسا کرتا ہے ۔ تو ظن اس کی عام صحت کا پیدا ہو تا ہے ۔ ‘‘

یسوع کی جو تصویر انجیل نے کھینچی ہے ۔ اس کی صداقت کی بیرونی مضبوط شہادت پو لس کے خطوط ہیں ۔ یہ یقینی امر ہے کہ اس نے ان اناجیل میں سے کسی کو اپنے اس عقیدہ قائم کرنے سے پیشتر نہ دیکھا تھا ۔ لیکن جو نقشہ مسیح کا پو لس نے کھینچا ہے ۔ وہ وہی ہے ۔ جو اناجیل میں ملتا ہے ۔ وہی شخص ان میں مسیح ما نا گیا ہے ۔ وہی انسانی سیرت کا کمال یہاں نظر آ تا ہے ۔ اس کی الوہیت کا ویسا ہی اقرار سب جگہ پا یا جا تا ہے ۔ اس کی موت اور قیامت کا ذکر برابر وہی ہے ۔ مگر پولس اناجیل کے وسیلے مسیح کو جا نتا تو نہ معلوم کس قسم کی تبدیلی اس کے بیان میں ہوتی ۔ و ہ حقیقی مسیح جو اس پر ظاہر ہو تا ہوا جسے اس نے اپنے تجربہ سے پہچانا اور جس کا حال اس نے ان سے سنا جو خدا وند مسیح سے واقف تھے وہ کسی امر میں اس مسیح سے متفرق نہیں جس کا ذکر اناجیل میں آ یا ہے ۔ الغرض جس مسیح کا ذکر انا جیل میں ہے وہ وہی مسیح ہے جس پر پہلے شا گر د ایمان لا ئے اور جسے وہ اپنا خدا وند مانتے تھے ۔ اور اسی بنیاد پر کلیسیا قائم ہوئی ۔ یہ تصویر مسیح کی ایسی نہیں جسے ما بعد پشتوں کے مصوروں نے رنگ چڑھایا ہو ۔

ہم نے ما نا کہ یہ معترض انا جیل کے بیانات کو ہر امر میں صحیح تسلیم نہیں کرتے ۔ بلکہ کسی ایسی کسوٹی کی تلاش کر تے ہیں ۔ جس پر لگاتے سے ہر میل کچیل دور ہو جا ئے اور اصل حقیقت باقی نہ جا ئے ۔ یہ امر نہ صرف اقوال مسیح پربلکہ سب ماجروں پر صادق آتا ہے ۔ جن کا ذکر اناجیل میں آیا ہے۔ جہاں پہلی تین اناجیل مسیح کے کسی قول کو مختلف طور سے بیان کرتی ہیں ۔ وہاں اکثر فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس قول کی اصلی صورت کیا تھی ۔

پس وہ کسوٹی کیا ہے ؟ چنانچہ شمیڈل صاحب نے ان سایکلوپیڈیا ببلکا میں ایسی کسوٹی کا ذکر کیا ہے ۔ جس کے ذریعے اس کی رائے میں معتبر کو غیر معتبر سے امتیاز کر سکتے ہیں ۔ اور اس کسوٹی کا اس طرح سے ذکرکیا ہے۔ جب کوئی دنیوی مورخ کسی تاریخی نسخے کو دیکھتا ہے ۔ جس میں کسی ایسے شخص کی تعظیم کا ذکر ہے ۔ جس کا پتا ہے جو محض اس کی عبادت سے منتج نہیں ہو تے اور وہ محض اس سا دہ اور کافی دلیل کے زور پر یہ کرتا ہے ۔ کہ وہ اس بیان میں مذکور نہ ہو تے اگر مصنف ان کو ایک مسلمہ حدیث تسلیم نہ کرتا ۔ اگر ہم جو ایسے امور ملیں ۔ خواہ وہ تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں وہ نہ صرف اپنی صداقت کو قائم کریں گے ۔ بلکہ بہت کچھ زیادہ ۔ کیو نکہ ایسی صورت میں ہم ان ساری باتوں کو نا قابل اعتبار ما ن سکتے ہیں ۔ جو سیر ت میں ان سے مطابق ہیں اور کسی وجہ سے شک کے قابل نہیں ۔ اور فی الحقیقت بے طرفدار مورخ اسے اپنا فرض منصبی سمجھے گا ۔ کہ وہ دریافت کرے کہ کن وجوہات سے یسوع کے شاگرد اسے ایسی رتعظیم دینے لگے اور وہ ان باتوں کو صحیح تسلیم کر ے گا۔ اول کہ یسوع عوام الناس پر رحم کیا کرتا تھا ۔ اور کہ وہ قدرت کے ساتھ وعظ کرتا تھا ۔ اور نہ فقہیوں کی طرح ‘‘ ۔ اس کسوٹی سے جو خفیف نتائج نکلے اس سے اس کی از سر نو تحقیق کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ شیمڈل صاحب بخوف زہر خوری کے اپنے تئیں فاقہ مارتا ہے ۔ وہ غسل کے وسیلے پانی کے ساتھ بچہ کو بھی پھینک دیتا ہے ۔وہ مسیح کلیسیا کے پانی کو محض ایک مہربان شخص اور ایک اچھا واعظ قرار دیتا ہے۔

یہ نتائج نہ صرف اس کسوٹی پر شک ڈالتے ہیں ۔ بلکہ اس کا نقص صاف طور سے ظاہر کر دیتے ہیں ۔ کسی بیان میں ان سارے امور کو بلا ئے رکھنا جو شخص ممدوح کی عبارت سے صادر ہوتے ہیں ۔یہ معنی رکھتاہے کہ جو کچھ اس بیان میں ضروری ہے ۔ اس سب کو بر طرف کریں اور بسم اﷲ ہی غلط ہوگی ۔ یہ اصول کسی دیگر ممدوح شخص کے تذکرہ پر چسپاں کریں ۔ نیلسن کی وفات کے وقت قوم نے یہ گیت گا یا ۔

امن کا بدن چین سے آرام کرتا ہے ۔ لیکن اس کا نا م ابدآلآباد زندہ ہے ۔ ‘‘

اب اس امر کے دریافت کرنے کے لئے کہ کیوں اس کا نا م ایسا زندہ رہتا ہے ۔ میری رائے میں شمیدل یہ کہے گا کہ نیلسن متکبر شخص تھا اور بہت خوشامد پسند اور۴ لیڈی ہملٹن کی تعریفوں نے اس کا دماغ خراب کردیا ۔ اور جب وہ سمندر پر جا تا تو ہمیشہ بیمار ہو جا تا تھا ۔ اگر یہ حال ہو تو نیلسن نے جو معرکے دریائے نیل اور لڑافلگرپر مارے ان کا کیا ٹھکا نا ۔ پس میں ان واقعات سے شروع کرنا چاہیے جس کے باعث اس کی یہ تعظیم ہو نے لگی ۔

پس انا جیل کے پرکھنے کے لئے یہیں سے شروع کرنا چاہئے اور ان کے اعتبار کا یہی حقیقی معیار ہے۔ انہیں سے مسیحی کلیسیا کی ہستی کی تشریح ہو سکتی ہے۔ یہ کنجی اس قفل کو ٹھیک لگتی ہے ۔ کیا اناجیل ہمارے سامنے ایک مستند شخص کاذکر کرتی ہیں ۔ جو خدا کو ہم پر منکشف کرتا ہے ؟ یہ اسی واقعہ پر مبنی ہے کہ یسوع نے مسیح ہو نے کا دعوےٰ کیا کہ میں زمین پر خدا کا وکیل ہو ں اور اپنے دعویٰ کی تصدیق اپنی زندگی اور موت اور قیامت کے ذریعے کی کہ میں خدا کے مکاشفہ کا مستند وسیلہ ہوں۔ اس واقعہ کے ذریعے کلیسیا کی تشریح ہو تی ہے ۔ مسیح کی یہی تصویر اناجیل پیش کرتی ہیں ۔ جو کچھ اس دعوے کے مطابق اور مناسب ہے وہی قابل اعتبار ہے۔ کسی عینی گواہ کی شہادت اس وقت قبول کی جاتی ہے۔ جب وہ کسی قابل اعتبار واقعہ کا ذکر کرتا ہے ۔ اور ایسے گواہ کی شہادت جو واقعہ سے نصف صدی کے بعد گزرا اسی صورت میں ،معتبر سمجھی جائے گی ۔ اگر وہ واقعہ جس کا وہ بیان کرتا ہے۔ باقی معلوم شدہ واقعات کے مطابق ہو ۔ پس شہادت کا معیار قابل اعتبار ہو نا ہے ۔ اور قابل اعتبار ہو نے کا معیار یہ ہے ۔ کہ وہ واقعہ اس کے متعلق معلوم شدہ واقعات کے مطابق ہو ۔ بعض باتیں ہیں کہ اگر وہ ایک شخص کے بارے میں بیان ہوں تو وہ ان پر کوئی شک نہیں کرے گا ۔ لیکن اگر دوسرے شخص کے بارے میں وہی بیان ہوں تو ان پر شک کیا جا ئے گا ۔ اور یسوع نے جو دعویٰ کیا کہ میں مسیح ہوں ۔ اس کے شا گر دو ں اور کلیسیا نے ایسا ہی اسے مان لیا یہی وہ کسوٹی ہے۔ جس کے ذریعے اناجیل کو پرکھنا چاہیے۔ یہی اصل واقعہ ہے جس کے ذریعہ سے اس کے معجزوں اور قیامت کے بیان کو ماننے کے لئے تیا ر ہو تے ہیں ۔ اگر یسوع زمین پر خدا کا وکیل تھا اوراگر وہ اس کی خود تصدیق کرتا ہے۔ تو ہم نے نظیر واقعات کو بھی مان سکیں گے جو کہ معمولی انسانی تجربہ سے باہر ہوں اس کے خاص خاص ظہوروں پر کوئی شک ڈالے تو ڈالے لیکن اس کے مسیح ہونے کی دلیل پر اس کی زندگی کے عام واقعات پر جو اناجیل میں مندرج ہیں ۔ یقین لا سکتے ہیں ۔ اس شخص مسیح کے بارے میں یہ باتیں ما ن سکتے ہیں ۔ اور کسی کے بارے میں نہیں ۔

اب رہا یہ سوال کہ ان اناجیل میں ایک قابل اعتبار مسیح ہمارے سامنے پیش کیا گیا ہے ؟ جو تصویر انہوں نے پیش کی ہے کیا وہ مسیح کی سچی تصویر ہے ؟لا کلام ضروری امور میں یہ ایسا ہی ہے۔ اناجیل میں پیش کردہ مکاشفہ کا ذکر ہے۔ جو باقی سب مکاشفوں سے اعلیٰ ہے۔ یا یہ کہوکہ خدا جسم میں ظاہر ہے۔

شاید پھر بھی کوئی یہ کہے کہ یہ تصویر شاگردوں کی ساخت ہے ۔ اس اعتراض کو المن صاحب نے بخوبی اڑایاہے۔ اور شاید کوئی کہے کہ کلیسیا نے یہ نقشہ کھینچا اور مسیح کو خلق کیا یا مسیح نے کلیسیا کو خلق کیا ۔ یہ تصویر مسیح کی یہودیوں کے مروجہ خیا لات کے بالکل برعکس تھی ۔ یہاں تک کہ یوحنا بپتسمہ بھی اس کی نسبت غلطی کھا نے کو تھا ۔ جب یہ حال ہو تو چند نے علم شخصوں کی کیا حیثیت کہ ایسی تصویر کھینچتے ۔ یہاں سٹوارٹ مل سے اقتباس کرنا کا فی ہو گا ۔ وہ کہتا ہے۔ کہ ’’ یہ کہنا فضول ہے کہ جس مسیح کا اناجیل میں ذکر ہے وہ تاریخی نہیں ۔ اس کے شا گر دوں اور مریدوں میں سے کون ایسا شخص تھا جو ان اقوال کو پیدا کر سکتا جو مسیح سے منسوب ہیں ۔ یا اس زندگی یا سیرت کو منکشف کرے ۔ جس کا ذکر اناجیل میں ہے ۔

مشہور اشخاص کے خواص عوام الناس سمجھ سکتے ہیں ۔ گو ان کی پیدائش وغیرہ کا ٹھیک حال ان کو معلوم نہ ہو ۔ سب لوگ جا نتے ہیں کہ کلائیو نے ہندستان میں سر کا ری انگریزی کی حکومت کی بنیاد ڈالی اور ولنگٹن نے نیپولین کی طاقت کو توڑ ڈالا ۔ اور واٹ (Watt)نے دخانی انجن کو تکمیل دی اور یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ یسوع وہی المسیح تھا ۔ حکام کا اس کو صلیب دنیا اس کے اس دعویٰ کا ثبوت ہے۔ اس کی تفصیل کہ کن وسائل سے اس نے یہ دعویٰ ثابت کیا مختلف شخصوں کو مختلف طور سے سمجھ میں آئی لیکن اس میں کوئی تعجب خیز امر نہ تھا ۔

پس ہم اس سب سے کیا نتیجہ نکالیں ۔ اناجیل کی نسبت یہ کہناممکن نہیں کہ ہر ایک بات جس کا ان میں ذکر ہے ۔ وہ ٹھیک ٹھیک ایسی ہی واقع ہوئی جیسا ذکر ہے ۔ ‘‘ اس کی ایک کافی دلیل یہ ہے۔ کہ خود انجیل نویسوں نے بعض واقعہ کو مختلف طور سے پیش کیا ہے ۔ بعض واقعات مثلاً مسیح کا بے باپ پیدا ہو نا وغیرہ پر ایمان لا نا بہت کچھ ماقبل خیا لا ت پر موقوف ہے۔ اور اگر کوئی ان کا قطعی ثبوت طلب کرے تو مشکل ہے۔ اسی طرح گدرنیوں کے دیوانہ کے واقعہ میں یا تو کوئی غلط فہمی ہے یا کوئی بات ایسی چھوٹ گئی ہے جس کے بغیر بیانا ت کو تطبیق دینا مشکل ہے ۔ لیکن اس سے واقعہ پر شک نہیں ہو سکتا ۔ جہاں تک ہمارا ایمان مسیح پر ہے ۔ اس میں کچھ نقص پیدانہیں ہو تا کہ آیا اس نے یریحو میں ایک اندھے کو اچھا کیا یادو کو آیا اس نے شہر میں داخل ہو تے ہوئے اچھا کیا یا شہر سے نکلتے ہو ئے ۔ ہم اناجیل میں کس امر کی تلاش کرتے ہیں ؟ مسیح کے علم کی تلاش ۔ اس کی پہچان کی تلاش ۔ اناجیل میں مسیح کی زندگی کا خاکہ کھینچا ہے اور اس کے اقوال کو صحیح طور پر درج کیا ہے جس سے ہم اس کی تعلیم کا ٹھیک اندازہ لگا سکتے ہیں ۔ یہ انا جیل کا مسیح ہے ۔ جس نے لاکھوں کروڑوں کا دل فریفتا کیا اور خدا کا جلال ظاہر کرنے کا وسیلہ بنے اور اس سے ایک شمہ بھر بھی ہمارے دل ان عالموں کی نکتہ چینیوں کے ذریعے پھٹ نہیں سکتے ۔ ایسی نکتہ چینی کا خطرہ یہ ہے کہ لوگوں کا دل خاص بڑے واقعات سے ہٹا کر تفصیل کی طرف رجوع کر دے ۔ امی ایل (Amiel)نے جو آگاہی دی وہ یہاں بھی صادق آتی ہے۔ ’’ یہ بھی ایک طریقہ ہے کہ سچائی کے ذریعے سچائی کا خون کریں ۔ اس بہانہ سے کہ اس کا ہم زیادہ تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا چاہتے ہیں ۔ ہم تصویر کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں ۔ یہ ایسی بیہودگی ہے جس کے ہم اپنے علمی گھمنڈ میں اکثر مرتکب ہو تے ہیں ۔

ساتواں باب

اناجیل میں معجزوں کا ذکر

یسوع مسیح کے افعال اور اقوال سے ظاہر ہے ۔ کہ شفائے امراض اس کے کا م کا نہ صرف ضروری بلکہ حقیقی جز تھا ۔ اور انجیل نویس بار بار یسوع کے کا موں کو دیکھ کر یہ اقرار کرتے ہیں۔ کہ انہوں نے ہر ایک شفا کے معجزے کو درج نہیں کیا اور وہ اکثر ایسے مجمل بیان پر اکتفا کرتے ہیں ۔ جیسے لوقا ۴: ۴ میں مذکور ہے ۔ ’’ اور سورج کے ڈوبتے وقت وہ سب لوگ جن کے ہاں طرح طرح کی بیماریوں کے مریض تھے انہیں اس کے پاس لا ئے اور اس نے ان میں سے ہر ایک پر ہاتھ رکھ کر انہیں اچھا کیا ۔ ‘‘ جسمانی شفا کے واقعات سے جو ایسے نمودار ہیں ۔ یہ اندیشہ تھا ۔ کہ کہیں مسیحائی عہد ہ اسی شفا ئے امراض پر محدود نہ سمجھا جا ئے ۔ تو بھی اسے کئی بار مجبور اً ااپنے ان کاموں کی طرف لوگوں کوتوجہ دلا نا پڑا اور اس نے جتا یا کہ اس کا مقصد کیا تھا ۔ جب لوگوں نے ہیردیس کی دھمکی کا ذکر یسوع سے کیا تو اس کے جواب سے تقریباً ایسا ظاہر ہو تا تھا ۔ کہ گویا اس کا کل کا م یہی ہے ۔ ’’ دیکھ میں آج کل اور بد روحوں کو نکالتا اور شفا بخشنے کا کا م انجام دیتا رہوں گا ۔ اور تیسرے دن کمال کو پہنچوں گا ‘‘۔چنانچہ بدروحو ں کے نکالنے کی ایک وجہ اس نے یہ بیان کی تھی کہ وہ بہادر شخص جو اپنے گھرکی حفاظت کرتا ہے۔ یعنی شیطان ضرور ہے ۔ کہ پہلے باندھا جا ئے پیچھے اس کے گھرکو لوٹ سکتے ہیں ، شیاطین کا نکالنا اس بہادر شخص کا باندھنا تھا یہ ابتدائی کا م تھا کہ انسان کی روح کو ساری شیطانی تاثیروں سے پاک کر کے اپنے ہاتھ میں لا ئے اور یہ اس امر کا نشان تھا کہ خدا کی سلطنت یا حکومت فی الحقیقت آدمیوں کے درمیان شروع ہو گئی ہے ۔ (لوقا ۲: ۲۰)

مگر آ ج کل یہ خیال لوگوں کے دلوں میں سما یا ہے ۔ کہ اگر اناجیل میں سے اعجازی بیان کو نکال دیں تو مسیحی دین کی طرف مائل ہیں ۔ وہ معجزوں کو نہیں ما نتے ہیں اور نہ ان کو ضروری سمجھتے ہیں ۔ چنانچہ میتھو آرنلڈ (Mathews Arnald)صاحب کہتے ہیں جس شخص یا کتا ب کو میں عزت کی نگا ہ سے دیکھتا ہوں ۔ اس میں میری یہ آرزو ہے کہ وہ اعجازی بیان سے معرا اور مستغنی ہو ۔ اور ہارنک صاحب (Harnak)جو جرمن عالموں میں شہرہ آفاق ہے وہ مسیحی دین کی حقیقت بیان کرتے وقت معجزوں کو بالکل بالاے طاق رکھتا ہے ’’ہمیں یا تو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو ایک غیر مستقل اور غیر استوار بنیاد پر قائم کریں جس پر آئے دن نوبہ شکوک عائد ہوں یا ہم اس بنیاد کو بالکل ترک کریں اور اس کے ساتھ ہی معجزوں کے دعوے کو‘‘ ۔

اور پھر وہ یہ کہتا ہے۔ کہ ’’ہمیں پختہ یقین ہے کہ زمان و مکان میں جو کچھ واقع ہو تا ہے۔ وہ حرکت کے قوانین عامہ کے تابع ہے اوراس معنی میں تر تیب فطرت میں خلل اندازی کے لحاظ سے کوئی ایسا واقعہ نہیں ہو سکتا۔ جسے ہم معجزہ کہہ سکیں ۔

نہ صرف ان مسلمہ غیر مسیحی علما کا یہ دعوے ہے بلکہ بعض ایمان دار بھی اسی حالت اضطراب میں ہیں ۔ چنانچہ ڈاکٹر رشدل صاحب (Rashdall )جوبڑے لائق فلاسفر موجد ہیں ۔ گو یہ مانتے ہیں کہ جی اٹھنے کے بعد مسیح محض خیالی یا تمثلی طور پر شا گر دوں کو دکھائی نہیں دیا ۔ ‘‘ لیکن معجزوں کے بارے میں وہ بڑے زور سے یہ کہتے ہیں ۔ کہ ’’ جن لوگوں نے اناجیل جو تاریخی روشنی میں مطالعہ کیا ہے ۔یا جو لوگ اس تاریخی تحقیقات کے باعث شک کی حالت میں ہیں ۔ جب کو آجکل سکپ ٹک (Skpecitc)کہتے ہیں ۔ ان کے نزدیک نہ کوئی مذہبی عقیدہ بالمعموم یا دیگر مذہبی مسلہ ایسے خلاف فطرت واقعات پر موقوف ہو سکتا ہے ۔ جو کسی گزشتہ زمانہ میں واقع ہو ئے تھے۔ ‘‘ زیادہ شہادتوں کو پیش کر نا ضرور نہیں ۔ہر شخص آ ج کل جا نتا ہے ۔ کہ بہت لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اناجیل کے معجزے ہمارے خدا وند کی زندگی کی سادگی اور خوبصورتی پر داغ لگاتے ہیں ۔ اور کبھی ان کا کچھ مقصد ہوتو ہو یہ شکیہ امر ہے ۔ کہ آج کل تو جتنا کم ان کا ذکر کیا جائے اتنا بہتر ہے ۔ چنانچہ برائننگ (Braoning)انہیں ان خشک ٹہنیوں سے تشبیہ دیتا ہے۔ جو کسی پھول کے نئے پودے کے گرد حفاظت کے لئے لگائی جا تی ہیں تا کہ کوئی چرند پرند است کھا نہ جا ئے ۔ لیکن جب پودابڑھ گیا اور اس جھاڑی سے بھی مضبوط اور بلند ہو گیا تو ان لکڑیوں کو کوڑے کرکٹ میں ڈال دیتے ہیں ۔

یہ لوگ کہتے ہیں ۔ کہ مسیح دین کی اخلاقی تعلیم اگر معجزوں سے الگ کر دی جا ئے تو وہ سب سے اعلیٰ اور سب کو موہنے والی ثابت ہو گی ۔ اور جن تک ہمارے خداوند کے معجزے اس کے مکاشفہ کا اصلی جز نہ سمجھے جائیں وہ ایمان میں بجا ئے مدد کے رکاوٹ کا باعث ہو ں گے ۔ لیکن معجزوں کے باعث حالت اضطراب میں ہے اور سمجھتا ہے کہ ان کو ہم رد کر سکتے ہیں ۔ وہ ان کو اسی نظر سے نہیں دیکھتا جن سے ہمارا خدا وند دیکھا کرتا تھا ۔ پس یہ دریافت کرنا نہایت ضرور ہے۔ کہ ہمارا خداوند معجزے کو کیا سمجھتا تھا ۔

کسی نے حال ہی میں خوب کہا ہے کہ اگر مسیح نے زمین پر اپنی خدمت کے قلیل عرصہ میں شفا کے جسمانی معجزات کے لئے وقت صرف کرنا مناسب جا نا تو کس قدر مناسب ہمارے لئے ہے کہ ہم اس امر کو شکر گزاری کے ساتھ قبول کریں اور بے کم و کاست ان کو دوسروں تک پہنچائیں کہ کس طرح سے اس نے اپنی مہربانی سے انسانی ضرورت کے وقت مدد دی اور بار بار انسانی ایمان ان سے طلب کیا ۔

خاص امور غور طلب ہیں ۔ جب ہم یہ کہتے ہیں ۔ کہ یسوع نے معجزہ کا دعویٰ کیا تو ہم یسوع کے بارے میں کیا طلب کرتے ہیں ۔ کیا محض ایمان سے شفا دینے یا کسی اعلیٰ قدرت کے ہم مدعی ہیں ۔ خود مسیح نے معجزوں کو کیا رتبہ دیا اور کیا مقصد ان سے منسوب کیا ۔اور یسوع کے سارے کام کے ساتھ جس میں اس نے باپ کا مکاشفہ ہمیں عطا کیا معجزوں کا کیا تعلق تھا ۔ ان امور پر غور کرنے کے بعد ایک یا دو عام اعتراضوں کا ذکر بھی ہم کریں گے ۔

۱۔ اولاً اناجیل کا دعویٰ یہ ہے کہ یسوع میں محض بیماروں کی شفا کی قدرت نہ تھی بلکہ اس سے کہیں اعلیٰ ۔ ایسی قدرت جسے وہ اور ہم اعجازی کہتے ہیں ۔ یہاں اس بات کی تو چنداں ضرور ت نہیں کہ معجزہ کی کوئی خاص محدود تعریف کی جا ئے ۔ لیکن تشریح کے لئے ایک دو جملوں کی ضرور ت ہوگی ۔ نئے عہد نا مہ میں اس کے لئے چار لفظ استعمال ہو تے ہیں ۔ یعنی عجیب، نشان، کا م اور قدرت ۔ لفظ معجزہ صرف پہلے نا م کے مطابق ہے ۔ اور باقی تین نا موں کی حقیقت اس سے ظاہر نہیں ہو تی ۔ معجزہ محض ایک عجیب کا م نہیں جس سے کہ لوگوں کی توجہ اس طرف مغطف ہو یا جیسے جان فاسٹر صاحب(John Foster) نے کہا کہ یہ ’’جہان کے گھٹنے کا بجانا ہے‘‘۔ بلکہ یہ کسی روحانی حقیقت اور سچائی کو ظاہر و منکشف یا مشرح کرتا ہے۔اور یہ ایک احسان اور مہربانی کا کام ہے اور اس فرض کا جز ہے جو باپ نے بیٹے کو پورا کرنے کے لئے دیا تھا۔ علاوہ ازیں معجزہ ایک قدرت ہے جو انسانی طاقت سے باہر اور انسانی ضرورتوں کو رفع کرنے کے لئے ایک اٹل طاقت ہے۔

پس جب ہم یسوع کے معجزوں کا ذکر کریت ہیں تو ہم مفصلہ ذیل امور کو یاد رکھیں۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی شے کی تعریف کے بغیر ہم اس کو بہتر جان لیتے ہیں۔لیکن اگر ایسی تعریفوں کی ضرورت ہو تو ٹرنچ اور موزے وغیرہ علماء کی کتابوں میں کثرت سے مل سکتی ہیں۔ معجزوں کی دو دلچسپ تشریحات کی گئیں۔ ایک تو یہ ہے کہ ایک اعلیٰ قانون سے کام لیا گیا جس سے کہ ہم ناواقف ہیں۔ دوم یہ کہ معجزہ الٰہی ارادہ کا ایک بلاواسطہ فعل اور عمل ہے۔ کارلائل صاحب نے پہلی تشریح کی بہت تاکید کی ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ بہت لوگ یہ پوچھا کریت ہیں کہ کیا حقیقی معجزہ قانون فطرت کو توڑتا نہیں۔ ان کو میں یہ جواب دیتا ہوں کہ تم قوانین فطرت کسے کہتے ہو۔میرے نزدیک مردوں میں سے جی اٹھنا قوانین فطرت کی خلاف ورزی نہیں بلکہ ان کی تصدیق ہے کہ شاید کوئی نیا اعلیٰ قانون داخل ہوا ہے جسے روحانی طاقت نے اپنی مادی طاقت کے ساتھ ہر پر ظاہر کیا ‘‘۔ لیکن یہ رائے تحقیق کے درجے تک نہیں پہنچی اور نہ پہنچ سکتی ہے۔

معجزے کو الٰہی ارادہ کا بلا واسطہ عمل اور فعل سمجھنا اس کی تسلی بخش تشریح ہے۔ اس کا ہم خود ثبوت ہیں کیو نکہ ہم میں روح بلا واسطہ ما دہ پر اثر کرتی ہے۔ ہمارا ارادہ جو غیر محسوس اور رو حانی ہے۔ ہمارت ہاتھ پاؤں اور دیگر اعضا کو حرکت دیتا ہے۔ اور ہم نہیں جا نتے کہ یہ کیسے عمل میں آتا ہے۔ یہاں روح بلا واسطہ ما دہ پر اثر کرتی ہے۔ اس تجربہ سے وارقف ہو کر یہ غیر ممکن معلوم ہو نا کہ الٰہی ارادہ بلا واسطہ مادی جہان پر اثر کرے اور ایسے نتائج پیدا کرے جو ایسے ارادہ کے داخل ہو نے کے بغیر پیدا نہ ہو سکتے تھے۔

ہمارے خدا وند کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ معجزے وہ کام ہیں جو مجھے باپ کی طرف سے کرنے کو ملے ہیں۔ اس میں تو کچھ شک نہیں کہ یہ معجزے یسوع کی مرضی سے وقوع میں آئے لیکن اس کی پشت پر الٰہی ارادہ تھا۔ اس لئے اس نے یہ بیان کیا کہ جو کوئی خدا پر ایمان لا تا ہے اسے معجزے کرنے کی طاقت مل سکتی ہے۔ ’’ تمہاری کم اعتقادی کے باعث۔ کیو نکہ میں تمہیں سچ کہتا ہو ں کہ اگر تم میں دائی کے دانہ کے برابر ایما ن ہو گا تو تم اس پہاڑ سے کہو گے کہ تو اکھڑا ہو جا اور سمندر میں جا پڑ تو یہ ہو جا ئے گا۔ اور تمہارے لئے کچھ نا ممکن نہ ہو گا۔ ‘‘ پطر س کو یہ یقین دلا یا گیا تھا۔ کہ اگر تجھ میں کا فی ایمان ہو گا تو تو بھی پانی پر چل سکے گا۔ یہ یسوع کی کوئی علیحدہ طاقت نہ تھی۔ اور نہ اس کی شخصیت کا یہ جا دو تھا۔ بلکہ باپ کے ساتھ قربت رکھنے پر یہ طاقت موقوف تھی۔ جیسے اس نے اس نو جوان کو جس نے اس کو نیک کہا تھا۔ جھڑکا اور کہا کہ کوئی شک نہیں بلکہ ایک ویسے وہ اپنے معجزوں کے بارے میں کہہ سکتا تھا کہ کوئی خدا کے سوا قادر نہیں۔ یہ قابل لحاظ ہے۔ کہ ہمارے خدا وند نے اپنے ان کاموں کو خدا کی مرضی سے منسوب کیا۔ اس امر کے ذریعے اس میں غور طلب روحانی یا ایمان کے ذریعے شفا دینے والوں میں امتیاز ہو جا تا ہے۔ ہم اس کا انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ ہمارے خدا وند کے بعض معجزے بیماروں کی شفا کے دوسرے لوگ بھی بذریعہ ایمان کر سکتے ہیں۔ ہمارے زمانہ میں ایسے شفا کے کا موں کی حقیقت پر شک کرنا بے سود ہے۔ بلکہ ان کی حقیقت کو بھی ظاہر کیا ہے۔ کئی عالموں نے اپنی تصنیفات میں ا س ا مر کو خاص طور سے ثابت کر دیا ہے۔ کہ بعض بیماریوں کی شفا میں شفا پا نے کی تو قع بڑی ممد ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر کا رنیٹر اپنی ایک تصنیف میں لکھتا ہے۔ کہ ’’ شفا پانے کی پوری امید نہایت یقینی وسیلہ اس شفا پا نے کا ہے۔ اور ایسی حالتوں میں بھی اس کا زور ظاہر ہوا ہے۔ جہا ں طبی علاج نا کا میاب رہا۔ اور یہ عام نتائج مختلف زبانوں اور مختلف اشخاص کی تحریر میں آچکے ہیں۔ البتہ ہم اس کا انکار نہیں کرتے کہ بعض صورتوں میں بعض بیماروں نے یہ سمجھ لیا کہ ہم اچھے ہو گئے حا لا نکہ فی الحقیقت ان کو شفا حاصل نہ ہوئی تھی تو بھی کثرت سے ایسی مثالیں پائی جا تی ہیں۔ اور معتبر شہادت سے ثابت ہے۔ کہ پوری شفا حاصل ہوئی اور دوسرں نے اس کی تصدیق کی کہ سوائے ایمان اور پوری توقع شفا کے اور کسی وسیلہ سے ان کو یہ شفا نہیں ملتی۔ ‘‘

علم طب کی اس تصدیق کو کہ محض شفا پا نے کی امید سے شفا حاصل ہوئی بعضوں نے مسیح کے معجزوں کی تشریح میں قبول کر لیا ہے۔ وہ شفا یا بیاں در حقیقت عمل میں آئیں۔ اور ان سے دوسرے اعلیٰ معجزوں کی طرف لو گوں کی طرف توجہ ہوئی۔ یہ شفا بیاں آج کل قوانین فطرت کے عین مطابق سمجھی جا تی ہیں۔ لیکن ہمارے خدا وند کے دنوں میں وہ اعجازی ما نی جاتی تھیں۔ اور جب ایک دفعہ معجزہ کا دروازہ کھل گیا بیشمار لوگ بلا جا ئز پروانہ را ہ گزری کے اس میں گھس آئے۔ ہر اہل فکر کو یہ تشریح پسند آئے گی۔ لیکن اس تشریح سے ہم کو وجو ہا ت ذیل تشفی نہیں۔

۱۔

گو بعض امور میں یہ علاج طب روحانی یا ایمانی علاج سے مشابہ ہیں۔ لیکن دیگر امور میں وہ بالکل متفرق ہیں۔ وہ اس امر میں تو مشابہ ہیں۔ کہ ان کے لئے مریض میں ہمیشہ ایمان کی ضرورت ہے اور جہاں مریض میں ایمان کی کمی تھی وہاں خدا وند قدرت کے کا م نہ کر سکا۔ بعض موقعوں پر وہ ایمان صرف شفا یا بی کی توقع تھی۔ ایک عام پروسوا س جا ہلانہ توقع لیکن ہمارا خدا وند مریض کے ایمان کو شفا یا بی کلیہ واحد شرط نہیں ٹھہراتا۔ اس کا اپنا ایمان ہمیشہ اعلیٰ الٰہی ارادہ پر تھا۔ لعزر کو جلانے سے پیشتر اس نے دعا مانگی۔ اس نے یہ بھی بیان کیاکہ ایک خاص قسم کی پھو نک دعا کے ذریعہ حاصل ہو سکتی ہے۔ ایک طرف تو وہ مریض کے ساتھ اپنے تئیں ایسی ہمدردی کے رشتہ میں منسلک کر دیتا ہے۔ کہ اس کی نسبت یہ کہہ سکتے تھے کہ ’’ اس نے ہماری کمزوریاں لے لیں اور ہماری بیماریاں اٹھا لیں۔ ‘‘ اور دوسری طرف وہ باپ کی مرضی کا خالص وسیلہ ہو گیا۔

محض ہاتھ کے اشارہ یامحض ایک منتر یا جملہ کے وسیلہ شفا نہ ملتی تھی۔ کہ اس طرح سے کہ ایک طرف تو اپنے تئیں مریض کا قائم مقام بنا دیتا تھا۔ اور دوسری طرف خدا کی مرضی کے ساتھ عین مطابقت رکھتا تھا۔

کہیں یہ اعتراض کر سکتا ہے۔ کہ ہمارے خدا وند کی یہ غلطی تھی۔ کہ اس نے یہ سمجھ لیا کہ ان علاج کی توقع بلا لحاظ ایسی مداخلت کے بعض بیماریوں میں عجیب نتائج پیدا کرتے تھے۔ ہم تو ایسی نا دا نی اپنے خدا وند سے منسوب نہیں کر سکتے۔ لیکن ہر حا لت میں یہ امر تو قائم رہتا ہے۔ کہ وہ خدا کی مرضی کے عین مطابق ہو نے سے واقف تھا۔ اور اس لئے اس کے ہاتھوں میں یہ کا م انسانوں کے لئے خدا کی رضا مندی کا اظہار تھے۔

۲۔

لیکن علاوہ اس کے یہ محض نسوں کے متعلق ہی بیماریا ں نہ تھیں۔ جن کو اس نے چنگا کیا۔ اس نے کوڑھیوں کو شفا دی بخار دور کئے اور دیگر مر ضو ں کو شفا دی۔ بعض موقع پر دور ہی سے جہاں چھونے کا موقع ہی نہ تھا اس نے مریض کا اچھا کر دیا اور مردوں کو جلایا اور طوفان و اندھی کو موقوف کیا۔

دریا پر چلا۔ اور لا کلام ان کا ثبوت ہمارے اس علم پر موقوف نہیں کہ یسوع کی طاقتیں معمولی انسانوں کی طاقتوں سے مشابہ ہیں۔ بلکہ اس تصویر پر جس میں وہ اوروں سے ممیز تھا۔ اگر ہم اس کا یہ دعویٰ مان لیں کہ وہ مو عود مسیح تھا اور کہ وہ خدا سے ایک کا مل غیر منقطع تعقل اتحاد رکھتا تھا۔ تو ہمیں اس بات کے ماننے میں کچھ دقت نہ ہو گی کہ غیر معمولی کام اس کے زمانہ میں ظاہر ہو ں۔

۳۔

اور یہ بھی یاد رہے کہ امور فطرت پر اس کے جو معجزے بیان ہو ئے ہیں ان کے لئے ویسی ہی شہادت ہے جیسے اس کے شفا ئے امراض کی شہادت یہ دلیل ہم کو ان کے ماننے پر مجبور تو نہیں کرتی لیکن یہ تو بیان کر نا پڑے گا۔ کہ اناجیل میں وہ کیوں درج کئے گئے۔ عموماً ان کی نسبت معترض یہ کہتے ہیں۔ کہ جس دوسری پشت میں یہ انا جیل لکھی گئیں ان کی رایوں کا بہت کچھ دخل ہوا۔ لیکن یہ رائے بالکل بے بنیاد ہے کیو نکہ اس پشت میں مسیح کے معجزوں کا بہت کم ذکر ہوا۔ نہ تو پولوس کے خطوں میں اس کا ذکر ہے اور نہ اعمال کی کتاب ایک دو دفعہ کے سوا ان کی طرف اشارہ ہے۔ اور ڈاکٹر چیس (Dr. Chase)نے بخوبی ظاہر کردیا ’’ کہ یہ مضبوط تاریخی دلیل اس دعویٰ کے خلاف ہے۔ کہ جن دنوں میں اناجیل لکھی گئیں۔ ان دنوں میں مسیحیوں کے در میان یہ میلان طبع تھا۔ جس کی وجہ سے خدا وند کی سوانح عمری میں فسانہ آمیز معجزے داخل کئے گئے۔

اگر ہمیں معجزہ کو قبول کر نا ہے۔ تو ہمیں پہلے یہ دریافت کر نا چاہئے کہ اس کا منشا و مقصد کیا ہے۔ یعنی مسیح کے کل کا م سے اس کا تعلق کیا ہے۔ معجزے کرنے میں ہمارے خدا وند کا مقصد کیا تھا ؟ جواب یہ ہے کہ اس نے معجزے اس غرض سے نہیں کئے کہ لو گوں کو اپنے مسیح ہو نے کا یقین دلائے۔وہ مو عود مسیح خدا کا رسول اور ایلچی تھا۔ اور چونکہ وہ خدا کی محبت کی ایسی پہچان اور خدا کے ساتھ ایسی کا مل شراکت رکھتا تھا۔ اس لئے وہ مسیح تھا۔

اس نے معجزے اس غرض سے نہیں کئے کہ لوگوں کو اپنے مسیح ہو نے کا یقین دلائے۔ شروع سے یہ اس کی عام آزمائش تھی۔ کہ لوگ یہ توقع رکھتے تھے کہ کسی بڑے عجیب نشا ن کے ذریعے مثلاً ہیکل کے کنگورو ے سے کود پڑنے کے ذریعہ وہ اپنے تئیں مسیح ظاہر کرے۔ چونکہ ایسا نسان اس کے کا م کے روحا نی پہلو سے بالکل متفرق تھا۔ اس لئے اس نے ایسی درخواست کو فوراً ردکر دیا۔ اور نہ اس نے یہ عجیب کا م لو گوں کو اپنی طرف مائل کر نے کے لئے کئے تھے۔ ان کا مقدم منشایہ تھا کہ مصیبت کو کم کرے۔ وہ اس لئے آیا تھا۔ کہ آدمیوں کے در میان خدا کی سلطنت کو مشتہر اور قائم کرے یعنی خدا کی حضوری اور محبت کو ظاہر کرے۔ یہ مقصد اس کی تعلیم کی نسبت شفا کے معجزوں کے ذریعہ زیادہ موثر طور سے پو را ہو ا۔ انہیں معجزوں کے ذریعہ لوگوں کے دلوں پر خدا کے رحم کا نقشہ بٹھا یا۔ یہ معجزے باپ کی ہمدردی کا مکاشفہ تھے۔ مسیح نے محسوس کیا کہ یہ بیماریاں خدا کی سلطنت کے ساتھ مطابق نہیں ہو سکتی۔ اور اس نے جا ن لیا کہ اگر مجھے وہ سلطنت لوگوں کے سامنے

ظاہر کرنی ہے۔ تو نہ صرف روحانی طور پر بلکہ طبعی طبقہ میں بھی اس کو آشکارہ کرنا چاہئے۔ اور جب کبھی بیماری یا موت پر اس کی نظر پڑتی تو اپنے دل میں بہت غم کھاتا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ خدا نہیں چاہتا کہ یہ جہان ایسی ہی حالت میں رہے۔ اور جہاں تک وہ آدمیوں کی مصبیتوں کو دور کر سکتا تھا۔ اس نے کیا یہ شفا یا بیاں وہ کا م تھے۔ جس کو باپ نے کرنے کے لئے اسے دیا تھا۔ وہ خدا کی محبت کا مکاشفہ تھے۔کیو نکہ وہ محض ترس اور رحم کے باعث باپ کے نا م سے اور با پ کی قوت سے اس نے سر انجام دئیے۔ جیسے خدا کی قدرت اسے اس نے وہ علاج کئے ویسے ہی خدا کی محبت اس نے یہ کا م کئے اور اس لئے وہ یہ کہہ سکتاتھا۔ ’’اگر میں خدا کی انگلی سے دیوتاؤں کو نکا لتا ہوں تو خدا کی سلطنت تمہارے نزدیک آپہنچی۔ ‘‘ یہ کا م خدا کی حضوری کے موافق تھے۔ اور ایسے نتائج پیدا کئے جن سے وہ سلطنت نمایاں ہوئی۔

چونکہ معجزوں کا مقدم مقصد یہ تھا۔ کہ خدا کی رحمت کا اظہار کرے۔

اور نہ یہ کہ ہمارے خدا وندکے مسیح ہو نے کو ثابت کرے۔ اسی لیے ہم ان کو اس امر کی شہادت کے لئے پیش کر سکتے ہیں۔ کہ یسوع ہی مسیح تھا۔ شاعر نظم بناتا ہے۔ اس لئے کہ وہ بھی شاعر نبے نہ اس لئے کہ وہ دنیا کو قائل کرے۔ کہ میں شاعر ہوں تو بھی اس کی ایسی تحریر دنیا کو قائل کر دیتی ہے۔ کہ وہ شاعر ہے۔ فیاض شخص ٹھیک ایسا ہی کرے گا۔ جیسے مسیح نے کیا تھا۔ جب اس نے ایک شخص کو شفا دی اور اسے حکم دیا کہ کسی سے اس کا ذکر نہ کرے۔ اورجس شخص کو یہ علم حاصل ہو جا تا ہے۔ وہ ایسے شخص کو ضرور سخی اور مہربان جا نے لگا لیکن جب کوئی کا م اس لئے کیا جا تا ہے۔ کہ اس کے باعث لو گ اسے بہادر یا رحیم وغیرہ سمجھیں تو بجائے ایسی سیرت پیدا ہو نے کے ظاہر داری اور دکھاوے کی طبیعت پیدا ہو جا تی ہے۔ کہ وہ خدا کی محبت کا اظہار کرے۔ اس لئے ان معجزوں سے یہ ثابت ہو تا ہے۔ کہ وہ خدا کا وکیل اور نئی سلطنت کا سلطان تھا۔ اور اسی لیے یسوع مسیح کبھی کبھی اپنے معجزوں کی طرف تو جہ دلا تا ہے۔‘‘ اور پھر یہ کہ’’ گو میرا یقین نہ کرو مگر ان کا موں کا تو یقین کرو۔‘‘

مقدس متی نے (۱۶باب ۱۔۴) اس مضمون کے متعلق ایک گفتگو کا ذکر کیا ہے۔ جو ہمارے خدا وند اور فریسیوں اور صدوقیوں کے مابین ہوئی۔ یہ لوگ اس کے پاس آن کر اس سے ایک آسمانی نشان طلب کرتے تھے۔ اور یہ کہہ کر اسے آزما نا چاہتے تھے۔ کہ اگر تم ایسا قطعی نشان دکھا دوگے تو تمہارے مسیح ہو نے کے بارے میں کوئی شک نہ رہے گا۔ اس درخواست کا جواب یہ دیا گیا۔’’ شام کو تم کہتے ہو۔ کہ کھلا رہے گا۔ کیو نکہ آسمان لا ل ہے۔ اور صبح کو یہ کہ آج آندھی چلے گی۔ کیو نکہ آسمان لا ل اور دھندلا ہے۔ تم آسمان کی صورت میں تو تمیز کر نی جانتے ہو۔ مگر زبانوں کی علامتوں میں تمیز نہیں کر سکتے ‘‘ تم فطرت کے نتائج کو تو جا نتے ہو اور تمہیں معلوم ہے کہ فلاں فلاں کا نتیجہ ہمیشہ یہ یا وہ ہوا کرتا ہے۔ لیکن تم روحا نی نتائج کو نہیں دیکھ سکتے۔ تم سمجھ نہیں سکتے کہ ایک حیرت افزا کام یا فوق العادت عجوبہ جس کو دیکھ کر لوگوں کی عقل حیران ہو۔ مسیح کی سلطنت کی برکتوں سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا۔ اور تمہاری سمجھ میں یہ آتا ہے۔ کہ تمہارے بیچ میں ایسے شخص کی مو جو دگی جو خدا سے کا مل اتحاد رکھتا اور انسان کی بہبودی دل و جا ن سے چاہتا ہے۔ وہ ایسے موسم کو پیدا کر دے گی جو روحانی جہاں میں بالکل نیا ہو۔ تم دیکھ نہیں سکتے کہ ایک کا مل انسان کو جہاں پر واردہو نا۔ یعنی خدا کا انسانی صورت الٰہی محبت اور قدرت کو انسانی احتیاجات کے رفع کرنے میں صرف ہو سو رج کو بادل سے چھپا دوں یا پہاڑوں کو اپنے حکم سے ایک جگہ سے دوسری جگہ سرکادوں یا ہیکل کے کنگرہ سے چھلانگ ما ر کر صحیح سلامت صحن میں آگروں تو ایسے عجیب فعل کا کیا تعلق انسانوں کے درمیان خدا کی سلطنت کے قائم کرنے سے ہو گا۔ یا گناہوں سے مخلصی پا نے کے ساتھ اس کا کیا ضروری رشتہ ہو گا ایسے ماجرے کو دیکھ کر تم کچھ نہیں بتا سکتے کہ کیا واقع ہو گا۔ لیکن اگر تم وقتوں کے نشانوں کو سمجھ سکو تو تم بلا شبہ یہ کہہ سکتے ہو کہ اگر کوئی ایسا شخص جس کا کا مل اتحاد خدا کے سا تھ ہو۔ جہاں میں داخل ہو تو ممکن نہیں کہ نوع انسان کو اس سے غیر محدود اور لا زوال فوائد حاصل ہو ں۔

چوتھی انجیل میں بار با ر اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ یسوع کی شخصی عظمت پر جو لوگ ایمان لاتے ہیں۔ ان کا ایمان ان لوگوں کے ایمان سے زیادہ مضبوط تھا جو معجزے دیکھ کر ایمان لائے۔لیکن ہم یہ نہیں کہتے کہ معجزے دیکھ کر کسی میں ایمان پیدا نہیں ہو تا۔ چنانچہ ہمارے خدا وند نے نکودیمس کو کہا کہ خد ا کی سلطنت روحا نی سلطنت ہے اور وہی لوگ اسے پہچان سکتے ہیں۔ جو روح سے پیدا ہوتے ہیں۔ صرف وہی اس میں داخل ہو سکتے ہیں۔ جو روحانی رشتوں سے کھچ کر اس کی طرف آ تے ہیں۔ اہل بصارت ہی اس کے دعادی کو تسلیم کر تے تھے۔ یعنی جو لوگ الٰہی انسان کو پہچا ن سکتے اور الٰہی جلال کو محسوس کر سکتے تھے۔ جو فروتنی اور سب کا خا دم ہونے میں پا یا جا تا ہے۔ لیکن معجزے ایسے لوگوں کے لئے اشیائے سبق کا کا م دیتے تھے۔ جو رو حا نی امور کے سمجھنے میں بہت تیز فہم نہ تھے۔ جب اس نے اندھوں کو بینائی بخشی تو اس نے ظاہر کیا کہ خدا رو حا نی اندھا پن کو دور کر نا چاہتا ہے۔ جب اس نے بھوکوں کو کھا نا کھلا یا تو اس نے ظاہر کیا کہ تمہا را آسمانی باپ تمہاری بردداشت کرتا اور تمہیں محتاج دیکھنا نہیں چا ہتا۔ جب اس نے نا تواں کو توانائی بخشی تو اس سے اس نے صاف دکھا یا کہ میں چاہتا ہو ں کہ تم ابدی زندگی حاصل کرو۔ پس معجزے اس مکاشفہ کا جائز اور ضروری جز تھے۔ جو با پ نے مسیح کے وسیلے ہمیں بخشا۔

جو شخص یہ سمجھتے ہیں۔ کہ مسیح کے معجزوں کا خاص فائدہ شہادت دینا تھایا یہ کہ اس کا منشا مطلق شہادت دنیا نہ تھا۔ وہ غلطی کرتے ہیں۔ اور جو لوگ ان میں ممد ہو نے کی بجائے ایمان میں رکاوٹ خیال کرتے ہیں وہ بھی خطا کرتے ہیں۔ بلکہ انجیل میں ان کا اس قدر طوالت کے سا تھ مذکور ہو نا اور مسیح کی زندگی میں ان کا ایک بڑا مقصد پو را ہو تا تھا۔ وہ مقصد یہ تھا۔ کہ باپ کی محبت کو انسان کی خستہ حا لت کے ساتھ علاقہ دے۔ معجزے صلیب سے دوم درجہ پر خدا کی محبت کے اظہار کا اعلیٰ وسیلے تھے۔

انجیل کے معجزوں پر جو اعتراض کئے جا تے ہیں۔ وہ عموماً دو ہیں۔ اول یہ کہ وہ ثابت نہیں ہو سکتے۔ دوم یہ کہ وہ گو ثابت بھی ہو جائیں بے سود ہیں۔

یہ اعتراض کو کبھی کیا جا تا تھا۔ کہ معجزے احاطہ امکان سے باہر ہیں۔ آج کل بہت نہیں کیا جاتا (Spinuza)سپائی نوزا کے وقت سے جس نے یہ کیا تھا۔ کہ ’’معجزہ خواہ خلاف فطرت ہو خواہ فوق الفطرت محض بیہودگی ہے ‘‘۔ اب را ئے میں بہت کچھ تبدیلی واقع ہو گئی ہے۔ جس دلیل سے وہ اس نتیجہ تک پہنچا وہ دلچسپ اور تعلیم بخش ہے۔ وہ دلیل یہ تھی۔قوانین فطرت کے الگ فطرت کچھ واقع نہیں ہو تا۔ اب قوانین کا دا ئرہ ایسا وسیع ہے کہ جو کچھ خدا کے دل میں گزرتا ہے۔ وہ بھی اسی قانون میں داخل ہے۔ اور فطرت کی رفتار مقررہ اور بے تبدیل ہے۔ پس یہ لفظ معجزہ انسانوں کی رائے سے تعلق رکھتا ہے۔ کہ جس کا سبب عام فہم مثال سے معلو م نہ ہو سکے اس کو وہ معجزہ کہنے لگ جا تے ہیں۔

میں البتہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ معجزہ وہ ہے جس کا سبب ہماری فطری فہم کے ذریعہ فطرت کے اصولوں سے دریافت نہ ہو سکے۔

اس دلیل کا لب لباب بعض دیگر سائنس دانوں کی تصنیفات میں بھی پا یا جا تا ہے۔ یعنی یہ کہ چونکہ ساری فطرت مع اس کے قوانین کے الٰہی ارادہ کا اظہار ہے۔ا گر کچھ ان قوانین کے خلاف واقع ہو گا۔ لیکن اس دلیل میں ایک بڑا مغالطہ ہے یہ دائرہ میں دلیل لا نا ہے۔ یعنی جس امر کو ہم نے ثابت کر نا ہے۔ اسی کو وہ پہلے مسلم قرار دیتا ہے۔ کیا فطرت میں خدا کی پوری مرضی کا اظہار ہے ؟ دراصل سپائی نوزا کی اس دلیل سے یہ نتیجہ نکلتا ہے۔کہ معجزوں کے امکان کا سوال دراصل یہ سوا ل ہے۔کہ کیا خدا فوق العادت ہے ؟ یہ یہ مان کر بھی کہ الٰہی حیات ساری فطرت میں ساری ہے۔ یہ سوا ل پیدا ہو تا ہے۔ کہ کیا کوئی اعلیٰ مرضی کو بھی ہے جو فطرت کے قوانین کی مقید نہیں۔اور بعض موقعوں پر بلا لحاظ ان قوانین کے اپنے تئیں ظاہر کر سکتی ہے؟ یا دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ کیا خدا اور فطرت ایک ہی امر ہے۔ یا خدا فطرت سے متفرق اور اس سے اعلیٰ ہے۔

لیکن اب یہ دلیل متروک ہو گئی ہے۔ پروفیسر ہیکسلے (Husocley)نے بڑے زور سے اس کی تردید کی۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں۔ کہ ’’ مجھے اب تک معلوم نہیں کہ کسی شے پر ناممکن کا نام آ سکتا ہے۔سوائے ان اصطلاحات کے جو صدین ہوں منطقی نا ممکنات تو ہیں۔ لیکن طبعی نا ممکنات نہیں۔ مثلاً مدور مربع۔ حال مرضی دو متوازی خطوط جو ایک دوسرے کو قطع کرتے ہوں۔ وغیرہ نا ممکنات میں سے ہیں۔ کیو نکہ جو تصورات ان اصطلاحات مدردو حال۔ اور قطع کرنے سے پیدا ہو تے ہیں۔ وہ ان تصورات کی ضد ہیں۔ جو الفاظ مربع۔ ماضی اور موازی سے پیدا ہو تے ہیں۔ لیکن پا نی پر چلنا۔ یا پا نی کا ئے بنا دینا۔ یا نر کی بلاوساطت اولاد کا پیدا ہو نا یا مردوں کا زندہ ہوناناممکنات نہیں ہیں۔ البتہ اگر ہم فطرت کے سارے ممکنات سے واقف ہو گئے ہو تے تو شاید ہم یہ کہہ سکتے ہیں۔ کہ فلاں شے نا ممکن ہے لیکن ہم تو ابھی متبدی ہی ہیں۔ منتہی نہیں بنے۔ اور ہماری قابلتیں ایسی محدود ہیں۔ کہ ہم شاید کبھی بھی فطرت کے سارے کا رو با ر اور کائنات کے عجائبات پر قادری اور حا وی نہ ہو سکیں گے۔ جو کچھ واقع ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے۔ ہم تو صرف اسی سے وا قف ہیں۔ اور جو کچھ واقع ہو نے وا لا ہے۔ اس کی نسبت صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں۔ کہ ایسی توقع اور امید ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اور اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ جو تجربہ زمانہ ماضی میں ہو چکا ہے۔ اس سے یہ امید نکلتی ہے۔ کہ آیندہ کو ایسا یا ویسا ہو گا۔ اس عبارت میں پروفیسر صاحب نے الٰہی ارادہ کو دخل نہیں دیا اور اس لئے اناجیل کے معجزوں کو بھی وہ نہیں چھوتا۔ فطرت میں ہمارے لئے بہت عجائبات ہیں لیکن ہم تو تجرنہ ہی سے ہدایت پا سکتے ہیں۔ کہ آیندہ کے لئے ہم کو کیا توقع رکھنی چاہئے۔ الغرض اس کے نزدیک کسی واقعہ کی نسبت جو قا نو ن فطرت کے خلاف ہو نا ممکن ثابت کر نا نا ممکن ہے۔

پس آج کل یہ تو اصرار نہیں ہو تا کہ معجزے بذات خود نا ممکن ہیں لیکن اس پر زور دیا جا تا ہے۔ کہ اس کا ثبوت ملنا نا ممکن ہے۔ اور ہیوم کے اس اعتراض پر زور دیا جا تا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے۔ کہ ’’ تاریخ عالم میں کوئی ایسا معجزہ پا یا نہیں جا تا کہ جس کی تصدیق ایسے آدمیوں کے معقول گروہ نے کی ہو۔ جس کے چلن اور تعلیم اور علم پر کوئی دھبہ نہ ہوا اور جس سے ہم کو یقین ہو جا ئے کہ انہوں نے کسی قسم کا دھو کا نہیں کھا یا۔ اور جن کی دریافت اور راستی ایسی اعلیٰ و افضل ہو کہ کوئی نہ کہہ سکے کہ وہ کسی قسم کا فریب دینا چا ہتے تھے۔ کہ وہ لوگ ایسے معتبر اور معزز ہو ں کہ جن کا راز افشا ہو جانے سے ان کی عزت کو سخت بٹا لگے۔ اور ساتھ ہی وہ کا م ایسے عام طریقہ سے واقع ہو ئے ہوں اور جہان کے ایسے مشہور حصہ میں دھو کے اور فریب کا امکان با قی نہ رہے۔ اور آدمیوں کی شہادت میں ہمیں ان سارے اموک کا یقین ہو جانا چاہئے۔ انجیل کے معجزوں پر ایسے اعتراض کا کیا اثر ہو گا ڈاکٹر راشڈل (Rashdall )کی تحریرسے ظاہر ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔ ’’ طبعی قا نون کا معطل ہو نا بذات خود نا قابل اعتبار نہیں لیکن چونکہ ایسے امر کا قانون کامان لینا ہر طرح کے معیار کو خواہ وہ سائنٹفیک ہو یا تاریخی مندھے کر دیتا ہے۔ قانون کے معطل ہو نے کومان لینا مشکل ہے جب تک کہ اس امر کی شہادت کا فی نہ ہو۔ لیکن زمانہ ماضی کے واقعات کی ایسی شہادت ملنا دشوار ہے۔ پس زمانہ گزشتہ میں ایسے واقعات کے بارے میں جو فطرت کے ہموار قوانین میں گو یا شگاف ہیں کافی شہادت کا حاصل کرنا نہایت محال سمجھا گیا ہے۔ اور قوانین فطرت کے مزید علم اور سائنس کی تحقیقات جدیدہ نے اس مشکل کو اور بھی بڑھادیا ہے۔ اورمزید ثبوت اور اعلیٰ شہادت ایسے امور کی طلب کی جا تی ہے۔

علاوہ ازیں تاریخ کے مطالعہ نے ہم کو اس قابل کر دیا ہے۔ جن معزوں کا دعویٰ کیا جا تا ہے۔ ان کا مقابلہ کریں۔ اور تب محقق میتھوآرنلڈ ( Methew Arnold)کے ان الفاظ پر صادر کریں گے۔ ’’ اب ایسا وقت آ گیا ہے۔ کہ انسان انجیل کے معجزوں کے دیگر معجزوں سے ایک الگ قسم میں شمار نہیں کرتے اور جس لخط سے یہ وقت شروع ہو تا ہے۔ اور جس لخط سے مختلف مذاہب کے معجزوں کا مقابلہ کیا جا تا ہے۔ شر وع ہو تا ہے۔ اسی وقت سے بائبل کے معجزوں کی فوقیت کا فور ہو جا تی ہے۔ ‘‘ یہ مطالعہ معجزوں کے مقابلہ کرنے کا اب بڑی سرگرمی سے شروع ہو گیا ہے۔ ظاہر ہو گیا ہے۔ کہ بدھ اور باب اور ٹاس آیبکٹ اورفرانسس ساکن آسیسی کو فوق العادت قوتیں حاصل تھیں۔ اور یہ کہا جا تا ہے۔ کہ یسوع کے معجزے دیگر بانیان دین کے معجزوں سے ایسے مشابہ ہیں۔ کہ اگر ہم ایک کے معجزوں کو رد کریں تو دوسروں کے معجزوں کو بھی رد کرنا پڑے گا۔ چنانچہ پر سی گاڈنر (Percy Gradner)صاحب نے اپنی ایک کتاب میں یہ لکھا ہے کہ ’’خواہ ہم گزشتہ زمانہ کی تاریخ کی چھان بین کریں خواہ زمانہ حال کے کم غیر مہذب ممالک کی طرف اپنی توجہ پھیریں تو ہم معلوم کریں گے۔ کہ مذاہب کے بر پا ہو نے اور ترقی کرنے میں جتنا معجزوں نے حصہ لیا ہے۔ اتنا کسی اور امر نے نہیں لیا۔نبی کی بات کوئی نہیں سنتا۔ جب انسان کہ اس کے پیرو اس سے معجزوں کی قوت منسوب نہ کریں۔ اور انسانی فطرت کا یہ اٹل قانون معلوم ہو تا ہے۔ کہ معجزے مقدسوں کے نقش پا کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ‘‘ پروفیسر کا رپنٹر (Carpanter) صاحب بھی یہی خیال پیش کرتے ہیں۔ ’’ اصل بات یہ ہے کہ گزشتہ پشت کے مطالعہ نے یہ امر روشن کر دیا ہے۔ کہ وحشی قوموں سے لے کر اعلیٰ مہذب قوموں تک سب میں معجزوں کا ذکر پا یا جا تا ہے۔ ‘‘

اب یہاں دو مشکلات ہمارے سامنے پیش آتی ہیں۔ اور یہ کوئی وہمی اعتراض نہیں بلکہ جو شخص معقول ایمان کی تلاش کرے گا اسے یہ مشکلات بھی پیش آئے گی۔ جو معجزے یسوع سے منسوب ہیں۔ وہ فطرت کے معلومہ قوانین کے خلاف ہیں م۔ اور بانیان دین اور مقدسوں سے عموماً معجزے منسوب کئے گئے ہیں۔ اور میرے نزدیک یہ دونوں مشکلات رفع ہو سکتی ہیں۔ اگر ہم اناجیل میں مندرجہ معجزوں کے موقعہ ان کی حقیقت اور ان کے کر کسنے والوں پر غور کریں۔ تب ایک ایسے معجزے لے لئے کہ سورج ٹھہرا گیا۔ زیادہ مضبوط شہادت کی ضرورت محسوس ہو تی ہے۔ کیو نکہ موقع اس معجزہ کا یہ تھا کہ زیادہ فاحش شکست ہو اور ہم شاید یہ بھی خیال کرتے ہیں۔ کہ جس کے عجیب معجزہ کا ذکر مقدس متی نے کیا اس کی کافی شہادت ہیں کہ مقدسوں کے مردہ بدن اپنی اپنی قبروں سے نکل کر لوگوں کو دکھائی دئیے اور بلا مطلب۔ لیکن شفا کے معجزے اور مسیح کے جی اٹھنے کا معجزہ ایسا نا قابل اعتبار معلوم نہیں دے گا۔ جب ہم ان امور پر غور کریں گے۔ کہ موقعہ کیسا اہم تھا اور وہ معجزے کیسے با معنی تھے۔ اور ان معجزوں کا کرنے والا کیسا لا ثانی شخص تھا۔

شاید پروفیسر ہیکسلے کی طرح ایک مثال لے کر انجیل کے معجزوں سے اس کا مقابلہ کرنا زیادہ مفید ہو گا وہ بڑے فخر سے یہ پوچھتا ہے۔ کہ اگر کوئی ہم سے یہ آن کر بیان کرے کہ میں نے ایک جانور کو جس کا آدھا دھڑ انسان کا اور آدھا گھوڑے کا تھا۔ شہر کی فلاں گلی میں چلتے دیکھا تو کیا کوئی شہادت ایسے واقعہ کو ہمارے نزدیک قابل اعتبار ٹھہرادے گی۔ اس مثال سے صاحب موصوف کی بہت دانائی تو ظاہر نہیں ہو تی لیکن معجزوں کے مقابلہ کرنے میں اس قسم کی مثال سے ہمیں کچھ مدد ملتی ہے۔ دو طرح سے یہ مثال اناجیل کے معجزوں سے کچھ مشابہت نہیں رکھتی۔

۱۔

ایسا جا نو ر بذات خود ایک عجیب الخلقت ہے۔ حا لا نکہ اناجیل کے معجزے فطرت کے دائرہ میں ہیں۔ بھوکوں کو کھا نا کھلا نا۔ بیماروں کو شفا دینا۔ مردوں کو جلانا۔ یہ سب ان رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں۔ جن سے فطرت کا اپنا مقصد پورا نہیں کر سکتی۔ یعنی یہ کہ فطرت انسان پر خدا کے احسان کا کامل اظہار ہے۔ لیکن بھوک اوربیماری وغیرہ ایسے اظہار کو دھندلا بنا دیتے ہیں۔ وہ ایسی کامل حالت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جو فطرت کو ایک اور حاصل ہو گی۔ پس متحصوآرنلڈ کا وہ مقولہ جو پہلے بیان ہو چکا ہے۔ ہر گز راست ثابت نہیں ہو تا۔ بلکہ برعکس اس کے بیان کے جب ہم یسوع کے معجزوں کا مقابلہ یو نا ن اور رو م اور وسطی زمانہ کے حیرت افزالیکن ہنسی پیدا کرنے والے کاموں سے کرتے ہیں۔ تب ہم شاید پہلی دفعہ خدا کی انگلی کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اور مسیح کے کاموں میں فطرت کے خدا کا مکاشفہ پا تے ہیں۔

۲۔

اور خاص کر یہ عجیب المخلوقات ایک انتہا واقعہ ہے۔ جس کا نہ آغاز ہے نہ انتہا ہے اور نہ اس کا کچھ مقصد ہے۔ کچھ اس سے مراد ہے نہ یہ کچھ اس معنی رکھتا ہے۔ نہ کسی سے کچھ رشتہ ہے۔ اور نہ قابل اعتبار ہے۔ پروفیسر ہیکسلے کی یہ بے تکی مثال ہم کو آگاہ کرتی ہے۔ کہ ہم خوا ہ اپنے لئے جا نچ پڑتال کریں۔ اور یہ اس امر کی بھی مثال ہے کہ بڑے بڑے علما بھی ایسے معاملات میں بعض اوقات سرسری تحقیقات پر قناعت کرلیتے ہیں۔ اناجیل کے معجزوں کا کرنے والا ایک لا ثانی شخص تھا۔ یعنی ایسا شخص جس نے خدا کو منکشف کیا۔ اور جہان کی تو جہ خدا کی طرف پھیر ی۔ وہ معجزے اس مکاشفہ کا جزو تھے۔ اور ان کے ذریعہ لو گوں کو دلوں میں خدا کی نسبت یہ یقین پیدا ہو گیا کہ خدا رحیم اور مہربان ہے۔ اور یہ اس ظہور کا نتیجہ ہیں۔ جس کی تیاری صدیوں سے ہو رہی تھی۔ اور جن کا انتظار پشتوں سے چلا آتا تھا۔ ایسے معجزوں کا ہیکسلے کے عجیب املخلوقات سے مقابلہ کرنا کیسا بعید الفہم ہے۔ کہاں یہ عجیب المخلوقات اور کہاں وہ معجزے جو فوق العادت تاریخ کا جزا اور واقعات سے ایسے مطابق اور جس کا تعلق قدیم تاریخ سے پا یا جائے۔

الغرض یہاں آن کر وہ سارے اعتراضات ٹوٹ جا تے ہیں۔ جو مسیحی معجزوں کے خلاف کئے جا تے ہیں۔ سب سے بڑی مضبوط شہادت ان کی تائیدمیں یہ ہے کہ وہ اس شخص کی سیرت کے مطابق ہیں جس سے وہ سر زد ہوئے۔ اور اس مکاشفہ کے مطابق جس کے تعلق میں وہ ظاہر ہو ئے۔ اور اس شہادت کو اکثروں نے نظر انداز کر دیا ہے۔ اس لحاظ سے متھیوآرنلڈ کا یونا ن اور روم کے شعبدوں سے مسیحی معجزوں کا مقابلہ کر ناویسا ہی نا معقول ہے جیسے ہیکسلے صاحب کا عجیب المخلوقات سے ان کا مقابلہ کرنا۔ اس میں تو کچھ شک نہیں کہ ہمیں یہ ماننا تو مشکل ہو گا کہ نیرو یا ترا جا ن مردوں میں سے جی اٹھا۔ لیکن جب کوئی ایسا عجیب شخص ہے۔ کہ جو بے گناہ ہی کے لحاظ سے بذات خود معجزہ ہے۔ جس کے جی اٹھنے پر جہان کی امید کا انحصار ہے۔ تو میرے لئے ایسے شخص سے معجزوں کا صادر ہو نا نا قابل اعتبار نہیں رہتا۔ کیا اس سے ہمارے خدا وند کے معجزوں کی تائید نہیں ہو تی کہ وہ جہان میں ایک اعلیٰ مقصد کے پو را کرنے کو دکھائے گئے۔ اور کیا اس سے اس کا اعتبار دو با لا نہیں ہو جا تا کہ وہ باتعلق۔ با معنی۔ مطابق اور ضروری تھے ؟ یہ معجزے مسیح کے معجزے ہیں۔ اس لئے وہ دوسرے معجزوں سے متفرق ہیں۔

مختلف مذاہب کے معجزوں کا مقابلہ کرنے میں ہمیں اس امر پر قناعت نہ کرنا چاہیے کہ فلاں مذہب میں کثرت سے معجزوں کا ذکر آتا ہے۔ اور کہ مسیح کے معجزوں کا وہی پا یہ ہے جو بیکٹ (Backet) بلکہ باب کے معجزوں کا ہے۔ بلکہ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان میں کیا کیا مشابہتیں اور کیا کیافرق ہیں۔ اور خاص کر ہمیں ان معجزوں کے واقعے حقیقت اور ان کے کرنے والے کا لحاظ کر نا چاہیے۔ اور اس سے ان کے وقوع کا ظن غالب کم و بیش ظاہر ہو گا۔ایسا لحاظ کر نے سے فوراً ہم کو معلوم ہو جا ئے گا۔ کہ دیگر بانیان دین کے معجزوں سے مسیح کے معجزے بالکل متفرق اور دیگر قسم کے ہیں۔

اناجیل کے معجزوں پر یہ اعتراض بھی بعض لوگ کیا کرتے ہیں۔ کہ بالفرض اگر وہ ثابت بھی ہو سکیں تو بھی وہ فضول اور بے سود ہیں۔ تعلیم معجزے کو ثابت کرتی ہے۔ نہ کہ معجزہ تعلیم کو۔ چنانچہ ڈاکٹر راش ڈل صاحب (Dr. Rashdall)کہتے ہیں ’’ بذات خود یہ خیا لات قیاسی نہیں کہ تاریخ عالم کے سارے دور میں معمولی طریقے سے ایک بھی مستثنیٰ نہ ہو لیکن اخلاقی طور پر یہ بالکل خلاف قیاس ہو گا کہ روحانی ضروری نتائج ایک ایسے تاریخی واقعہ میں ایمان لا نے پر موقوف ہوں۔ جو سلسلہ کائنات میں ایک مجرد مستثنےٰ ہو۔

متھیوآرنلڈ نے اس اعتراض کا یوں ذکر کیا ہے۔ ’’البتہ کوئی یہ کہہ سکتا ہے۔ بالفرض اگر میں یہ اعجازد کھاﺅں کہ میری قلم بدل کر قلم تراش بن جا ئے تو کیا اس سے میری تحریر زیادہ صادق ٹھہرے گی۔ یا زیادہ قائل کرنے والی بن جائے گی۔ اگرچہ فی الحقیقت ایسا ہو بھی تو بھی عوام الناس کا کچھ اور خیال ہو گا۔ اگر میں آشکارہ طور پر جس کا کوئی انکار نہ کر سکے قلم کوبدل کر قلم تراش بنادوں تو عوام الناس کے نزدیک نہ صرف جو کچھ میں لکھا رہا ہوں وہ کامل طور سے درست اور قابل یقین قرار دیا جا ئے گا۔ بلکہ عام تجربہ اور معمولی واقعہ کے خلاف باتوں کو بھی وہ مجھ سے منسوب کریں گے۔

آرنلڈ صاحب کا ہر دوست یہ آرزو رکھے گا۔ کہ کاش اس جملہ کے لکھنے سے پیشتر اس کی قلم بدل کر قلم تراش بن گئی ہوتی۔ کیو نکہ اس سے ظاہر ہے۔ کہ اس نے نئے عہد نا موں کے معجزوں کی حقیقت اور مقصد کے بارے میں غلطی کھائی۔ یہ کہنا عوام الناس کی ہتک کرنا ہے کہ اس ادنیٰ جیسے فعل سے جس کا ان باتوں سے کچھ تعلق نہیں وہ موثر ہو ں گے۔ ہم مسیح کے معجزوں کو اس لئے قبول کر تے ہیں کیو نکہ ان میں وہی بات دا خل ہے۔ جسے وہ ثابت کر نا چاہتے ہیں۔ معجزے۔

بے موقعہ۔ فضول اور بے تعلق استاد ہیں۔ بلکہ وہ بذات خود پر تعلیم اور کا شف ہیں۔ وہ اس قسم کے اسناد نہیں کہ ان کو پڑ تال کر سکتے اور منظور کر سکتے اور پھر ان کو با لا ئے طاق رکھ کر جس غرض کے لئے وہ تھے۔ اس غرض کی تحقیقات شروع کرتے۔ وہ اس مہر کی مانند نہیں کو کسی خط پر لگا ئی جاتی ہے۔ اور جس وقت ہم سر نمبر خط کو لے لیتے ہیں تو مہر توڑ کر پھینکتے ہیں۔ تا کہ خط کے لکھنے والے کو منکشف کرتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ وہ اس قمتی عطیہ کی طرح ہیں جس سے معلوم ہو جا تا ہے۔ کہ ایک ہی شخص ایسا عطیہ بخشنے والا ہے۔

اور جب ہم یہ مانتے ہیں کہ ہمارے خدا وند نے بیماروں کو شفا دی۔ قوت فطرت پر اختیار ظاہر کیا اور مردوں میں سے جی اٹھنا سب سے بڑا معجزہ اس کی ذات سے پیوستہ تھا اور ہمیشہ کامل انسانیت خدا سے اور انسان سے کامل رشتہ اس نے ظاہر کیا۔ اسی امر نے اور نہ کسی بیرونی معجزے نے اس کے پہلے شاگردوں کو اس کی طرف کھینچا۔ کیو نکہ مسیح کو دیکھ کر انہوں نے خدا کو دیکھا اور روز بروز اپنے خیال سے کہیں بڑھ کر اس کو افضل و اعلیٰ دیکھتے چلے گئے۔

اس اعجاز سے بچنے کے لئے یسوع کی بے گناہی کا انکار کر نا ایک افسوسناک حیلہ ہے۔ اس کی بے گناہی تو سارے معجزوں کا سر تا ج تھی اور اسی کے باعث دوسرے معجزوں کا اعتبار قائم ہوا۔ اسی لا ثانی معجزے کے ذریعہ وہ دوسرے انسانوں سے متفرق ہے۔ اور یہی معجزے ہمیں یقین دلا تے ہیں کہ وہ سارے انسانی تجربہ سے اعلیٰ اور انسانی قیاس و اندازہ سے کہیں افضل ہے۔ کیا رو حانی جہان کا معجزہ طبعی جہان کے معجزے سے ادنے ٰ ہو گا یا اعلیٰ۔ ان میں سے کون علوی صفت ہے۔ پا نی کو مے بنانا۔ یا کا مل سیرت جس میں نا پا ک خیال و خواہش کو بھی دخل نہ ہو ؟ یہ تو لاثانی اور بیرون از قیاس ہے۔

مسیح کی شخصیت ہی کے زور پر بعض مسیح کے معجزوں کا انکار کرتے ہیں۔ لیکن در حقیقت اس کی شخصیت بھی ان معجزوں کو وقابلِ اعتبار ٹھہراتی ہے۔ (آمین )۔